سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سی ایس آئی آر-سنٹرل روڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی) نے آج اپنی پلاٹینم جوبلی تقریبات کا سال بھر جاری رہنے والا سلسلہ شروع کرتے ہوئے ملک بھر کے 16 شہروں/ مقامات پر جدید دیسی سڑک بنیادی ڈھانچے کی ٹیکنالوجیز کے پہلے مرحلے پر مبنی ملک گیر نفاذ کا آغاز کیا


مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے دیسی سڑک ٹیکنالوجیز کو تجربہ گاہوں سے شاہراہوں تک پہنچانے کے لیے صنعت کے ساتھ وسیع تر شراکت داری پر زور دیا

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایم ایس ایس+ اسمارٹ مکس پرو پلانٹ کا افتتاح کیا، دیسی سڑک ٹیکنالوجیز کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے کے لیے صنعت کے ساتھ مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا

سی ایس آئی آر-سنٹرل روڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے نئی نسل کی سڑک ٹیکنالوجیز پیش کیں اور ان کے وسیع پیمانے پر نفاذ کے لیے صنعت کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا

प्रविष्टि तिथि: 16 JUL 2026 6:12PM by PIB Delhi

سی ایس آئی آر-سنٹرل روڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے آج اپنی پلاٹینم جوبلی تقریبات (16 جولائی 2026 تا 16 جولائی 2027) کا سال بھر جاری رہنے والا سلسلہ شروع کرتے ہوئے ملک کے 16 شہروں/ مقامات پر جدید دیسی سڑک بنیادی ڈھانچے کی ٹیکنالوجیز کے پہلے مرحلے پر مبنی ملک گیر نفاذ کا آغاز کیا۔ یہ اقدام صنعت اور نفاذی اداروں کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی کی تیار کردہ جدید، پائیدار سڑکوں کی تعمیر اور دیکھ بھال کی اختراعی ٹیکنالوجیز کے عملی مظاہرے اور بڑے پیمانے پر ان کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

تقریبات کا افتتاح سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، محکمہ جوہری توانائی اور محکمہ خلا کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سائنسی اداروں، صنعت اور ریاستی حکومتوں کے درمیان مزید مضبوط تعاون قائم کیا جائے تاکہ ملک میں مقامی طور پر تیار کردہ ٹیکنالوجیز کو کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر نافذ کیا جا سکے۔

تقریبات کے افتتاح سے قبل ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ٹیکنالوجی نمائش کا دورہ کیا اور سائنس دانوں، محققین اور صنعت کے نمائندوں سے تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے سڑک انجینئرنگ، پیومنٹ ٹیکنالوجیز، ذہین نقل و حمل کے نظام، سڑک تحفظ اور پائیدار تعمیراتی مواد کے شعبوں میں سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی کی تیار کردہ مختلف دیسی ٹیکنالوجیز کا جائزہ لیا۔ وزیر موصوف نے آٹومیٹک موڈیفائیڈ مکس سیل سرفیسنگ (ایم ایس ایس+) اسمارٹ مکس پرو مکسنگ پلانٹ کا بھی افتتاح کیا، جو سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی کی تیار کردہ دیسی موڈیفائیڈ مکس سیل سرفیسنگ ٹیکنالوجی کے بڑے پیمانے پر نفاذ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے سڑک بنیادی ڈھانچے کے جامع جائزے کے لیے مصنوعی ذہانت سے لیس نیٹ ورک سروے وہیکل کا افتتاح بھی کیا اور گڑھوں کی مرمت کی ٹیکنالوجی کو ملک کے نام وقف کیا، جس سے ادارے کی زیادہ ذہین، محفوظ اور ماحول دوست سڑک بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔

اس پروگرام میں سی ایس آئی آر کی ڈائریکٹر جنرل اور ڈی ایس آئی آر کی سکریٹری ڈاکٹر (محترمہ) این کالائی سیلوی، سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر روی شیکھر، ادارے کے سابق ڈائریکٹرز، سینئر سائنس دان، ماہرین تعلیم، صنعتی رہنما، پالیسی ساز، انجینئر، مرکزی اور ریاستی سرکاری اداروں کے نمائندے اور ٹیکنالوجی شراکت دار شریک ہوئے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت میں بنیادی ڈھانچے کی بے مثال توسیع نے سائنسی اداروں کے لیے سڑکوں، پلوں اور نقل و حمل کے نظام کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز فراہم کرنے کا ایک اہم موقع پیدا کیا ہے۔ انہوں نے ملک میں شاہراہوں، ہوائی اڈوں، ریلوے اور شہری بنیادی ڈھانچے کے تیزی سے پھیلتے ہوئے نیٹ ورک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقی اداروں کو مسلسل ایسی اختراعی، کم لاگت اور پائیدار ٹیکنالوجیز پیش کرنی چاہئیں جو بھارت کی بڑھتی ہوئی بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ سائنسی تحقیق اپنے حقیقی مقصد کو اسی وقت حاصل کرتی ہے جب ٹیکنالوجی تجربہ گاہوں سے نکل کر عملی میدان تک پہنچے۔ انہوں نے صنعتی شراکت داروں سے کہا کہ وہ ٹیکنالوجی کی تیاری کے ابتدائی مرحلے ہی سے اس عمل کا حصہ بنیں، تاکہ اختراعات عملی ضروریات کے مطابق فروغ پائیں اور ان کی تجارتی سطح پر تیز تر توسیع ممکن ہو سکے۔ انہوں نے متعلقہ شعبوں میں کام کرنے والے سائنسی اداروں کے درمیان مزید ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ تحقیق کو معاشی اور سماجی فوائد میں تبدیل کرنے کے لیے متعلقہ فریقوں تک وسیع پیمانے پر رسائی ناگزیر ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اسٹیل سلیگ سڑکیں، موڈیفائیڈ مکس سیل سرفیسنگ، بایو بائنڈر، ایکو فکس، ریجوپیو (RejuPave) اور دیگر پائیدار پیومنٹ ٹیکنالوجیز جیسی دیسی اختراعات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ سائنسی جدت کس طرح بیک وقت بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا سکتی ہے، ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دے سکتی ہے اور ویسٹ ٹو ویلتھ، سرکلر اکانومی اور آتم نربھر بھارت جیسے قومی مشنوں کو تقویت پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ٹیکنالوجیز جو صنعتی فضلے کو پائیدار بنیادی ڈھانچے میں تبدیل کرتی ہیں، پائیدار ترقی کا مستقبل ہیں۔

نفاذ کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ کامیاب ٹیکنالوجیز کو ریاستی حکومتوں اور نفاذی اداروں میں زیادہ وسیع پیمانے پر فروغ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ریاستی سڑک سکریٹریوں اور چیف انجینئروں کے ساتھ منظم تبادلۂ خیال کی تجویز دی تاکہ آزمودہ دیسی ٹیکنالوجیز کو پورے ملک میں زیادہ سے زیادہ اپنایا جا سکے۔ انہوں نے سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی کو باقاعدگی سے صنعت کے ساتھ تبادلۂ خیال کے پروگرام منعقد کرنے کی بھی ترغیب دی تاکہ سائنسی اختراعات زمینی ضروریات کے مطابق ترقی کرتی رہیں اور زیادہ تجارتی قدر پیدا کر سکیں۔

ادارے نے سی ایم ایس پی ایل اور این آئی سی ایم اے آر کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر بھی دستخط کیے، جبکہ HanuAI، TechFAB اور ٹیرا کلائمیٹ کے ساتھ مفاہمتی معاہدے (ایم او اے) کیے گئے، جس سے ٹیکنالوجی کی تیاری، تجارتی فروغ اور عملی نفاذ کے لیے تحقیقی اداروں اور صنعت کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا۔

ادارے کے سائنسی خدمات کے 75 سالہ سفر کی یاد میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی پلاٹینم جوبلی لوگو کی رونمائی کی اور پلاٹینم جوبلی پلانر (جولائی 2026 تا جولائی 2027) اور سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی سالانہ رپورٹ 2025–26 جاری کی۔ وزیر موصوف نے ایشیا بک آف ریکارڈز کے اعزاز یافتگان کو بھی اعزاز سے نوازا اور تحقیق، اختراع اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں ادارے کی خدمات کو سراہا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی گزشتہ سات دہائیوں کے دوران سڑکوں، پلوں، پیومنٹ انجینئرنگ اور نقل و حمل کی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں بھارت کا صفِ اول کا ادارہ بن چکا ہے، جس نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں تقریباً 91 ہزار کلومیٹر پر مشتمل قومی شاہراہوں کا نیٹ ورک بڑھ کر آج تقریباً 1.47 لاکھ کلومیٹر ہو چکا ہے، جبکہ ہوائی اڈوں، ریلوے اور شہری بنیادی ڈھانچے میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی جیسے اداروں کا کردار دیسی، پائیدار اور عالمی معیار کی مسابقتی ٹیکنالوجیز فراہم کرنے کے لیے مزید اہم ہو گیا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ترقی کے اگلے مرحلے میں توجہ آزمودہ ٹیکنالوجیز کو صرف پائلٹ منصوبوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں بڑے پیمانے پر نافذ کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے۔ مختلف ریاستوں میں اسٹیل سلیگ سڑکوں کی کامیاب تعمیر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی اپنی افادیت ثابت کر چکی ہے اور اب اسے پورے ملک میں وسیع پیمانے پر اپنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے ریاستی حکومتوں اور نفاذی اداروں میں زیادہ آگاہی پیدا کرنے پر بھی زور دیا تاکہ بھارتی سائنس دانوں کی تیار کردہ اختراعی ٹیکنالوجیز ملک بھر کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا لازمی حصہ بن سکیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کے تحقیقی نظام کو ہر نئی ٹیکنالوجی کے آغاز ہی سے صنعت کے ساتھ قریبی شراکت داری میں کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اس سے تحقیقی ادارے ایسی ٹیکنالوجیز تیار کر سکیں گے جو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ، تجارتی طور پر قابلِ عمل اور فوری نفاذ کے لیے موزوں ہوں، جبکہ تجربہ گاہوں سے عوامی استعمال تک ٹیکنالوجی پہنچنے کا وقت بھی کم ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صنعت اور نفاذی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ ٹیکنالوجی کی تجارتی منتقلی کو مزید مضبوط کرے گا اور عوامی فنڈ سے ہونے والی تحقیق سے زیادہ معاشی قدر پیدا ہوگی۔

پائیدار تعمیراتی مواد کے حوالے سے ادارے کے کام کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ اسٹیل سلیگ، فضلہ پلاسٹک، بایو پر مبنی بائنڈرز اور دیگر صنعتی ضمنی مصنوعات پر مبنی اختراعات فضلے کو قیمتی قومی اثاثوں میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اثرات کو بھی کم کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجیز آتم نربھر بھارت کے حقیقی جذبے اور پائیدار و وسائل کے مؤثر استعمال پر مبنی بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے لیے حکومت کے عزم کی عکاس ہیں۔

اپنے خطاب میں سی ایس آئی آر کی ڈائریکٹر جنرل اور ڈی ایس آئی آر کی سکریٹری ڈاکٹر (محترمہ) این کالائی سیلوی نے کہا کہ سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی کی ٹیکنالوجیز ملک بھر میں 1,200 کلومیٹر سے زائد سڑکوں پر نافذ کی جا چکی ہیں، جن میں تقریباً 280 کلومیٹر اسٹیل سلیگ سڑکیں شامل ہیں، جبکہ ادارے کی ایم ایس ایس+ ٹیکنالوجی کو بھی متعدد ریاستوں میں بڑے پیمانے پر اپنایا گیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ادارے کا طویل مدتی ہدف یہ ہے کہ بھارت کے مجموعی سڑک نیٹ ورک کا کم از کم ایک تہائی حصہ سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی کی ٹیکنالوجیز سے مستفید ہو، جس کے لیے صنعت کے ساتھ مضبوط شراکت داری اور ریاستوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر نفاذ ضروری ہوگا۔

پلاٹینم جوبلی تقریبات نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی حکومت، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بناتے ہوئے محفوظ، پائیدار، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اور ٹیکنالوجی پر مبنی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو فروغ دیتا رہے گا۔ مسلسل اختراع، ٹیکنالوجی کی تجارتی منتقلی اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ادارہ وکست بھارت 2047 کے سفر میں مزید مؤثر کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

 

************

ش ح۔ ف ش ع

 U: 43


(रिलीज़ आईडी: 2285530) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil