دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

چھ کروڑ 'لکھ پتی دیدی' کے قومی ہدف کے حصول کے لیے حکمت عملی اور روڈ میپ کی تیاری کے مقصد سے دو روزہ علاقائی ورکشاپ کا انعقاد

प्रविष्टि तिथि: 16 JUL 2026 6:12PM by PIB Delhi

 حکومت ہند کی دیہی ترقی کی وزارت نے بہار دیہی زندگی کو فروغ دینے سے متعلق سوسائٹی (بی آر ایل پی ایس-جیویکا) کے اشتراک سے بہار انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (بی آئی پی اے آر ڈی)، گیا جی میں "6 کروڑ لکھ پتی دیدی: زرعی و غیر زرعی روزگار، ایم آئی ایس حکمت عملی اور روڈ میپ" کے موضوع پر دو روزہ علاقائی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ کا اختتام 2026-27 کے سالانہ ایکشن پلان، جامع حکمت عملی اور روڈ میپ کی تیاری کے ساتھ ہوا، جس کا مقصد 6 کروڑ لکھ پتی دیدی کے قومی ہدف کو حاصل کرنا ہے۔

 ورکشاپ سے حکومت ہند کی دیہی ترقی کی وزارت کے سکریٹری جناب روہت کنسل نے ورچوئل خطاب کیا۔ اس موقع پر حکومت بہار کے محکمہ دیہی ترقی کے پرنسپل سکریٹری جناب پنکج کمار، بی آئی پی اے آر ڈی، گیا جی کی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر صفینہ اے این، وزارت دیہی ترقی کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ سواتی شرما، بی آر ایل پی ایس-جیویکا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب ہمانشو شرما، ایڈیشنل چیف ایگزیکٹو آفیسر محترمہ اننیا سنگھ، اروناچل اسٹیٹ رورل لائیولی ہڈ مشن کی چیف ایگزیکٹو آفیسر محترمہ سنگیتا ییرانگ، وزارت دیہی ترقی کی ڈائریکٹر (دیہی روزگار) محترمہ راجیشوری ایس ایم، گیٹس فاؤنڈیشن کے جناب انجنی کمار سنگھ سمیت ملک بھر کے ریاستی دیہی روزگار مشنوں کے چیف ایگزیکٹو افسران، ایڈیشنل چیف ایگزیکٹو افسران، نمائندوں، ترقیاتی شراکت داروں، تکنیکی ماہرین اور دیہی روزگار کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔

دو روزہ ورکشاپ کے دوران شرکاء نے زرعی اور غیر زرعی روزگار، ڈیجیٹل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایم آئی ایس)، مختلف محکموں کے درمیان اشتراک، دیہی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور دیہی خواتین کی آمدنی میں طویل مدتی اضافے کے لیے حکمت عملی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

ج

افتتاحی اجلاس کا آغاز قومی گیت، شمع روشن کرنے کی رسم اور معزز مہمانوں کے استقبال سے ہوا۔ شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے بی آر ایل پی ایس-جیویکا کی ایڈیشنل چیف ایگزیکٹو آفیسر محترمہ اننیا سنگھ نے ریاستی دیہی روزگار مشنوں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور کامیاب روزگار ماڈلز کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے کی اہمیت پر زور دیا۔وزارت دیہی ترقی کی ڈائریکٹر (دیہی روزگار) محترمہ راجیشوری ایس ایم نے لکھ پتی دیدی مہم کو دیہی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کی ایک قومی تحریک قرار دیا۔بی آئی پی اے آر ڈی کی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر صفینہ اے این نے دیہی خواتین کو بااختیار بنانے اور روزگار سے متعلق نتائج کو پائیدار بنانے کے لیے مسلسل صلاحیت سازی، ادارہ جاتی استحکام اور علم کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیا۔حکومت بہار کے محکمہ دیہی ترقی کے پرنسپل سکریٹری جناب پنکج کمار نے کہا کہ مختلف محکموں کے درمیان اشتراک، اختراع اور بازار پر مبنی روزگار کے مواقع 6 کروڑ لکھ پتی دیدی کے ہدف کے حصول کی بنیاد ہیں۔

 افتتاحی اجلاس کے بعد شرکاء نے تین متوازی تکنیکی اجلاسوں میں شرکت کی، جن میں زرعی روزگار، غیر زرعی روزگار اور مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایم آئی ایس) شامل تھے۔ ان اجلاسوں میں زرعی اور غیر زرعی کاروباری سرگرمیوں، ویلیو چین، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ڈیٹا مینجمنٹ اور مختلف ریاستوں کے کامیاب روزگار ماڈلز پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ان مباحثوں سے حاصل ہونے والی سفارشات کو دوسرے دن پیش کی گئی حکمت عملی اور سالانہ ایکشن پلان کی بنیاد بنایا گیا۔

 ورکشاپ کے دوسرے دن تینوں موضوعاتی شعبوں سے موصول ہونے والی سفارشات کو یکجا کرتے ہوئے 2026-27 کے لیے حکمت عملی، روڈ میپ اور سالانہ ایکشن پلان پیش کیا گیا۔

کارروائی کا آغاز وزارت دیہی ترقی کی ڈائریکٹر (دیہی روزگار) محترمہ راجیشوری ایس ایم کی جانب سے پہلے دن کی اہم سفارشات کے جائزے سے ہوا۔ اس کے بعد وزارت دیہی ترقی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جناب رمن واڈھوا نے نیشنل مشن مینجمنٹ یونٹ (این ایم ایم یو) کے ساتھ مل کر زرعی اور غیر زرعی روزگار سے متعلق اسٹریٹجک فریم ورک پیش کیا، جس میں پالیسی اصلاحات، ادارہ جاتی استحکام کے اقدامات اور پائیدار روزگار کے فروغ میں تیزی لانے کے لیے ترجیحی مداخلتوں کا خاکہ پیش کیا گیا۔

 ایم آئی ایس حکمت عملی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے جناب شانتنو بوہی اور نیشنل مشن مینجمنٹ یونٹ (این ایم ایم یو) کی ٹیم نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی، حقیقی وقت کی نگرانی (ریئل ٹائم مانیٹرنگ) اور ریاستوں کے درمیان مربوط ڈیٹا نظام کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

بی آر ایل پی ایس-جیویکا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب ہمانشو شرما نے کہا کہ اختراع، ادارہ جاتی ذمہ داری اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی خواتین کی آمدنی میں اضافے اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

ورکشاپ کے دوران "فوسٹرنگ پاتھ ویز فار رورل ٹرانسفارمیشن" کے عنوان سے کتاب کا اجرا کیا گیا۔ اس کے علاوہ بی آر ایل پی ایس-جیویکا اور اروناچل اسٹیٹ رورل لائیولی ہڈ مشن (اے آر ایس آر ایل ایم) کے درمیان ایک مفاہمت نامے پر بھی دستخط کیے گئے، جس کا مقصد ادارہ جاتی تعاون، معلومات کے تبادلے اور سیکھنے کے باہمی عمل کو فروغ دینا ہے۔

وزارت دیہی ترقی کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ سواتی شرما نے "لکھ پتی دیدی: اب تک کا سفر اور آئندہ کا لائحہ عمل" کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے ڈی اے وائی-این آر ایل ایم کے تحت خواتین کی آمدنی میں اضافے اور کمیونٹی اداروں کے استحکام کو نمایاں کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشن کے اگلے مرحلے میں کاروباری سرگرمیوں میں تنوع، ویلیو ایڈیشن، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے زیادہ استعمال، مارکیٹ سے روابط، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ روزگار اور مختلف محکموں کے اشتراک پر توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی اپنائیں، ڈیجیٹل نظام کا مؤثر استعمال کریں اور لکھ پتی دیدی کی صلاحیت سازی کے لیے سنٹر آف ایکسیلنس قائم کریں۔

انہوں نے "6 کروڑ لکھ پتی دیدی کی تشکیل" کے موضوع پر بھی پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے 3 کروڑ لکھ پتی دیدی کے قومی ہدف کے حصول، اس سے حاصل ہونے والے تجربات اور آئندہ مرحلے کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی اور ریاستوں سے اختراع، اشتراک اور نتائج پر مبنی عمل درآمد کی اپیل کی۔

وزارت دیہی ترقی کے سکریٹری جناب روہت کنسل نے ورچوئل خطاب میں 3 کروڑ لکھ پتی دیدی کا سنگ میل حاصل کرنے پر تمام ریاستوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی خواتین کے اپنی مدد آپ گروپوں، مضبوط کمیونٹی اداروں اور ریاستوں کے مؤثر نفاذ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ پہلے مرحلے کے تجربات، اختراعات اور تکنیکی پیش رفت 6 کروڑ لکھ پتی دیدی کے اگلے ہدف کے حصول میں بنیاد ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی، بازار پر مبنی کاروبار، مالی شمولیت، اشتراک اور اختراع دیہی تبدیلی کے اہم محرک ہوں گے۔ انہوں نے معروف شاعر میتھلی شرن گپت کے اشعار "ہم کون تھے، کیا ہو گئے ہیں اور کیا ہوں گے ابھی" کا حوالہ دیتے ہوئے تمام ریاستوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

اختتامی اجلاس میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندوں نے پینل مباحثے میں شرکت کی، جس میں زرعی، غیر زرعی اور ایم آئی ایس شعبوں سے موصول سفارشات کو یکجا کرتے ہوئے مشترکہ ایکشن پلان، ترجیحی اقدامات اور آئندہ برسوں کی مدتِ عمل پر اتفاق رائے قائم کیا گیا۔ اس موقع پر محترمہ سواتی شرما نے لکھ پتی دیدی ڈیش بورڈ کے باقاعدہ استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جہاں ضرورت ہوگی، وہاں متعلقہ ڈیجیٹل ایپلی کیشنز کی ریفریشر ٹریننگ بھی فراہم کی جائے گی۔

ورکشاپ کا اختتام تمام موضوعاتی شعبوں کی سفارشات کی پیش کش، آئندہ کے لائحہ عمل اور عمل درآمد کی مدت پر تبادلۂ خیال کے ساتھ ہوا۔ تمام شریک ریاستوں نے پائیدار روزگار، مضبوط کمیونٹی اداروں، ڈیجیٹل اختراع اور دیہی خواتین کی آمدنی میں اضافے کے ذریعے 6 کروڑ لکھ پتی دیدی کے قومی ہدف کے حصول کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دو روزہ علاقائی ورکشاپ نہ صرف تجربات اور کامیاب ماڈلز کے تبادلے کا مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوئی بلکہ پالیسی مکالمے، اختراع، بین الریاستی تعاون اور مشترکہ منصوبہ بندی کے فروغ کا بھی اہم ذریعہ بنی، جس سے ڈی اے وائی-این آر ایل ایم کے تحت لکھ پتی دیدی مشن کو نئی رفتار ملی۔

 

 

************

 

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :  40)


(रिलीज़ आईडी: 2285527) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: हिन्दी , Tamil , English