شہری ہوابازی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

شہری ہوابازی کے مرکزی وزیر جناب رام موہن نائیڈو نے ترمیم شدہ اُڑان اسکیم پر شراکت داروں کی ورکشاپ کا افتتاح کیا


جناب رام موہن نائیڈو نے وگیان بھون میں ہوا بازی کی صنعت کے نمائندوں کو ترمیم شدہ اُڑان اسکیم کے رہنما خطوط پیش کیے

 

प्रविष्टि तिथि: 16 JUL 2026 5:43PM by PIB Delhi

شہری ہوابازی کی مرکزی وزارت نے نئی دہلی کے وگیان بھون میں اُڑان اسکیم کے اگلے مرحلے کے موضوع پر ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس میں ہوا بازی کے شعبے سے وابستہ اہم شراکت داروں نے شرکت کی اور ملک میں علاقائی فضائی رابطے کے مستقبل کے لائحۂ عمل پر تبادلۂ خیال کیا۔ ترمیم شدہ اُڑان اسکیم کا آغاز وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 4 جولائی 2026 کو جودھ پور ہوائی اڈے سے کیا تھا۔

ورکشاپ کا افتتاح مرکزی وزیر شہری ہوابازی جناب رام موہن نائیڈو کنجاراپو نے کیا۔ اس موقع پر شہری ہوابازی کے وزیر مملکت جناب مرلی دھر موہول، شہری ہوابازی کی وزارت کے سکریٹری جناب سمیر کمار سنہا اور ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی) کے چیئرمین جناب وپن کمار بھی موجود تھے۔

تقریب کا آغاز اُڑان اسکیم پر مبنی ایک ڈیجیٹل نمائش کے افتتاح سے ہوا، جس میں ملک بھر میں علاقائی فضائی رابطے کے فروغ میں اسکیم کی کامیابیوں اور انقلابی اثرات کو پیش کیا گیا۔ افتتاحی اجلاس کے دوران اُڑان اسکیم کی کامیابیوں پر مبنی ایک مختصر فلم بھی دکھائی گئی۔

اپنے کلیدی خطاب میں جناب رام موہن نائیڈو کنجاراپو نے اُڑان اسکیم کے اگلے مرحلے کا تعارف کراتے ہوئے حکومت کے اس وژن کا خاکہ پیش کیا، جس کا مقصد علاقائی فضائی رابطے کو وسعت دینا، متوازن علاقائی ترقی کو فروغ دینا اور ملک کے ہر گوشے تک ہوابازی کے فوائد پہنچانا ہے۔

انہوں نے کہا، "2001 میں بھارت میں 65 ہوائی اڈے تھے۔ 2014 تک یہ تعداد بڑھ کر 74 ہوگئی، یعنی 13 برس میں صرف 9 ہوائی اڈے بنے۔ لیکن گزشتہ 12 برسوں میں ہم نے 90 نئے ہوائی اڈے شامل کیے۔ 55 غیر فعال اور غیر استعمال شدہ ہوائی پٹیوں کو بحال کرکے فعال ہوائی اڈوں میں تبدیل کیا گیا۔ وزیر اعظم کے دوراندیش اُڑان وژن کی بدولت بھارت آج دنیا کی تیسری بڑی گھریلو اے ویے شن منڈی بن چکا ہے۔ دس برس پہلے فضائی آمدورفت زیادہ تر صرف چھ بڑے ہوائی اڈوں تک محدود تھی اور ٹیئر-2 و ٹیئر-3 شہروں کو مناسب سہولت حاصل نہیں تھی، لیکن 2016 کی قومی شہری ہوابازی پالیسی نے اس منظرنامے کو مکمل طور پر بدل دیا۔"

اُڑان اسکیم کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا، "وزیر اعظم کی دور رس قیادت میں ملک میں ہوابازی کے بارے میں عوام کا نظریہ بدل گیا ہے۔ دس بیس برس پہلے لوگ صرف طیارہ دیکھنے کے لیے ہوائی اڈے کی دیواروں کے باہر کھڑے ہوتے تھے، لیکن آج وزیر اعظم کے 'ہوائی چپل سے ہوائی جہاز' کے وژن کے تحت متوسط اور نو متوسط طبقے کے لوگ اعتماد کے ساتھ ہوائی اڈوں تک پہنچ رہے ہیں اور ملک کے دور دراز علاقوں تک فضائی سفر کر رہے ہیں۔ ہم نے ہوائی اڈوں پر اُڑان یاتری کیفے بھی شروع کیے ہیں، جہاں 10 روپے میں چائے اور 20 روپے میں ہلکے ناشتے جیسی سستی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔"

بھارت کے ہوا بازی کے شعبے کی مضبوطی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود بھارت میں روزانہ تقریباً پانچ لاکھ گھریلو مسافر فضائی سفر کر رہے ہیں۔ مئی کے مہینے میں بھارت نے ایک ماہ میں ایک کروڑ 50 لاکھ سے زائد گھریلو مسافروں کی خدمات انجام دے کر نیا ریکارڈ قائم کیا۔"

اُڑان اسکیم کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "پہلے دربھنگہ کے لوگوں کو پرواز پکڑنے کے لیے 150 کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا تھا، جبکہ آج دربھنگہ کی شاہی لیچی دبئی جیسے عالمی بازاروں تک پہنچ رہی ہے۔ اسی طرح کشن گڑھ میں 2017 سے پہلے ہوائی اڈہ نہ ہونے کے باعث سنگِ مرمر کی صنعت مشکلات کا شکار تھی، لیکن اب برآمدات کے لیے براہِ راست فضائی رابطہ دستیاب ہے اور ہر سال تقریباً دو کروڑ زائرین پشکر مندر اور اجمیر درگاہ پہنچ رہے ہیں۔ کیشود، دیوگڑھ، جھارسگوڑا اور ناندیڑ سمیت کئی شہروں کی کامیابیاں اُڑان اسکیم کی مؤثر مثالیں ہیں۔"

اس موقع پر وزیرِ موصوف نے شراکت داروں کو ترمیم شدہ اُڑان اسکیم کی مختلف دفعات پر مبنی ایک پریزنٹیشن بھی دی اور موجودہ اُڑان اسکیم کے مقابلے میں نئی اسکیم کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔

 

Scheme Provision

Existing UDAN scheme

Modified UDAN Scheme

  1. Affordable Airfare for Passengers
  • Removal of RCS Seat Caps
  • RCS airfare caps on 50% seats subject to maximum of 40 seats per flight.
  • RCS airfare caps on 50% seats with removal of maximum seat cap for larger aircraft (> 80 seats).
  • Aatmanirbhar Bharat Aircraft Acquisition under UDAN
  • No provision
  • 2 HAL Dhruv helicopters for PHL and 2 HAL Dornier aircraft for Alliance Air
  1. Viability Gap Funding for Airlines
  • Extension of VGF support to airline operators for 4th and 5th year
  • Tenure of VGF support is limited to 3 years
  • 5-year funding support with tapered funding mechanism from Year 3 onwards:

Year 3 – 75% of awarded VGF

Year 4 – 50% of awarded VGF

Year 5 – 25% of awarded VGF

  1. Aerodrome Development
  • Time-bound development of Aerodromes
  • Airlines choose routes using a pool of aerodromes, and the selected aerodromes are developed.
  • Aerodromes will be prioritized for development and inclusion in the Scheme for bidding post Challenge Mode.
  • Airlines to follow a market-based approach to select aerodromes & create routes
  • Funding for Aerodrome Development
  • Aerodromes (incl. Heliports) developed or being developed through a fixed budgetary support of INR 5,500 Cr. since 2017.
  • Budgetary support for identified airports. ~INR 12,159 Cr (inflation adjusted) to develop 100 airports @100 Cr per airport in the next 10 years, aligned with Viksit Bharat by 2047.
  • To develop 200 modern helipads in HINER States and Aspirational districts.

@15 Cr per modern helipad, INR 3,661 Cr (inflation adjusted) is required to develop 200 helipads

  • Funding for Operation and Maintenance of Aerodromes
  • No Provision
  • 3 Year O&M support for manpower salary costs at Aerodromes developed under RCS @ up to 3.06 Cr per year per airport & @ up to 0.9 Cr for Heliport/Water Aerodrome
  1. Sustainability of Routes
  • Allocation of Slots at Metro/Major airports for RCS flights
  • No Provision
  • Efforts will be made to allocate slots in metro/major airports for RCS operations at viable times
  • Definition of Underserved Airports
  • Aerodromes with >7 actual departures per week in the last DGCA schedule considered as served
  • For priority areas, this is >14 actual departures per week
  • Aerodromes, in the last 1 year before Scheme publishing, with:
  1. > 14 scheduled actual departures per week on average AND
  2. Connectivity to > 2 city pairs on average, AND
  3. > 40,000 total passengers (in the last 1 year)

shall be considered as “Served”.

  • In Priority Areas, this shall be (1) >21 scheduled actual departures per week on an average AND (2) AND (3) as above
  • Prioritized award of pre-determined routes
  • Market-driven mechanism, wherein airlines propose the routes based on their assessment and such routes are considered for award.
  • MoCA will include a list of State-recommended routes in the scheme that will be prioritized during award. Airlines to integrate these routes in their networks to holistically enhance regional connectivity.
  • Ensuring timely operationalization of routes
  • Currently, airlines can bid without an AOP – to promote new entrant airlines.
  • At times, such airlines bid on many routes and networks beyond their capabilities.
  • Airlines not holding an AOP will not be allowed to bid on routes.
  • Award of routes will be based upon the business plan and aircraft availability with the airline.
  • If the airline fails to commence the route within the stipulated timeframe, re-bidding of the route will be conducted, while barring the original bidder.

 

مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے شہری ہوابازی کے وزیر مملکت جناب مرلی دھر موہول نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک بھر میں، خصوصاً دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں اور دور دراز علاقوں کے شہریوں کے لیے فضائی سفر کو سستا اور آسان بنایا جائے گا۔

ورکشاپ کی ایک اہم خصوصیت اُڑان اسکیم دستاویز کا اجرا تھا، جس میں اسکیم کے اگلے مرحلے کے وژن، مقاصد اور نفاذ کے خاکے کو پیش کیا گیا ہے۔ اس دستاویز میں علاقائی فضائی رابطے کو مضبوط بنانے، ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنے اور ہوا بازی کے شعبے میں ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل پیش کیا گیا ہے۔

ورکشاپ میں فضائی کمپنیوں، ہوائی اڈوں کے آپریٹروں، ریاستی حکومتوں، صنعتی اداروں اور ہوا بازی کے دیگر شراکت داروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس دوران اسکیم کے نفاذ کی حکمت عملی، بنیادی ڈھانچے کی تیاری، مختلف شراکت داروں کے درمیان تال میل اور علاقائی ہوا بازی کے شعبے کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اُڑان اسکیم کے آغاز کے بعد سے اس نے فضائی سفر کو عوامی سطح پر زیادہ قابلِ رسائی بنانے، کم سہولت یافتہ اور غیر مربوط علاقوں کو فضائی رابطے سے جوڑنے، سیاحت کے فروغ، تجارت کو آسان بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسکیم کے اگلے مرحلے کا مقصد انہی کامیابیوں کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے بھارت کے ہوا بازی کے شعبے کی ترقی کو نئی رفتار دینا ہے۔

 

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :  38)


(रिलीज़ आईडी: 2285520) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Tamil