ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
مستقبل اُن ہی لوگوں کا ہے جو سیکھتے ہیں، نئی چیزیں اپناتے ہیں اور اختراع کرتے ہیں: ورلڈ یوتھ اسکلز ڈے 2026 کے موقع پر جناب جینت چودھری کا اظہار خیال
ہنرمندی ترقیات اور صنعت کاری کی وزارت نے بھارت کے مستقبل کے لیے تیار ہنرمندی ایکو سسٹم کو مضبوط کرنے کے لیے نئی پہل قدمیوں کا آغاز کیا
प्रविष्टि तिथि:
15 JUL 2026 7:50PM by PIB Delhi
کوشل بھون، نئی دہلی میں ہنرمندی ترقیات اور صنعت کاری کی وزارت(ایم ایس ڈی ای) کے زیر اہتمام ورلڈ یوتھ اسکلز ڈے 2026 تقریب کے دوران ہنرمندی ترقیات اور صنعت کاری کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر مملکت برائے تعلیم، حکومت ہند، جناب جینت چودھری نے کہا کہ ’’مستقبل ان ہی لوگوں کا ہے جو مسلسل سیکھتے ہیں، نئی چیزیں اپناتے ہیں اور اختراع کرتے ہیں۔ بھارت کے نوجوانوں کو نہ صرف آج کے روزگار بلکہ آنے والے کل کے مواقع کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔‘‘
اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ہنرمندی کو تاحیات جاری رہنے والے سفر کے طور پر دیکھا جانا چاہئے، وزیر موصوف نے کہا، ’’ انڈیا اسکلز، سینٹرز آف ایکسی لینس، اپرنٹس شپس اور مضبوط صنعتی شراکت کے ذریعے، ہم ایسے راستے تیار کر رہے ہیں جو نوجوانوں کو بھارت اور دنیا بھر میں مواقع سے مربوط کرتے ہیں۔ ہمیں مزید خواتین کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ وہ غیر روایتی شعبوں میں داخل ہوں اور ہر نوجوان ہندوستانی کو جمود کو چیلنج کرنے، تبدیلی کو قبول کرنے اور وکست بھارت میں تعاون دینے کے قابل بنائیں۔‘‘
تقریب کے دوران، محترم وزیر نے انڈیا اسکلز کمپٹیشن 2026-27 کے رہنما خطوط جاری کیے ، اور صنعت سے متعلق ہنرمندی کے 63 زمروں میں بھارت کے فلیگ شپ ہنرمندی مقابلوں کے لیے روڈمیپ کو اجاگر کیا ۔ حصہ لینے کے خواہش مند ملک بھر کے امیدواروں کے لیے اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب پر رجسٹریشن کا عمل شروع ہوچکا ہے۔
ورلڈ اسکلز انڈیا چیمپئنس کلب بھی انڈیا اسکلز اور ورلڈ اسکلز چیمپئنس کو بطور سرپرست اور سفیروں کے ساتھ لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ یہ پہل قدمی ماضی کے چیمپئنس کو خواہشمند امیدواروں کی حوصلہ افزائی کرنے، پیشہ ورانہ مہارتوں میں عمدگی کو فروغ دینے اور ہنر مند افراد کی آئندہ پیڑھی کی مدد کرنے کے قابل بنائے گا۔
گلوبل اسکلز چیلنج آسٹریلیا 2026 اور تائی پے کیپٹل کپ 2026 میں بھارت کے تمغہ جیتنے والوں کو تین گولڈ میڈل، تین سلور میڈل، ایک کانسی کا تمغہ اور تین میرٹ ایوارڈز حاصل کرنے پر مبارکباد دی گئی، جس سے عالمی سطح پر ہندوستان کی بڑھتی ہوئی مسابقت کو تقویت ملی۔
وزارت نے اسکل انڈیا کے تحت عمدگی کے مراکز کے قیام کے رہنما خطوط کی بھی رونمائی کی۔ ان رہنما خطوط کا مقصد عالمی معیار کی ترقی میں معاونت کرنا ہے، صنعت سے منسلک تربیتی سہولیات جو جدید بنیادی ڈھانچہ، جدید تکنالوجیوں اور مضبوط صنعتی شراکت داریوں سے آراستہ ہیں۔
مرکزی بجٹ 2026-27 کے اعلان کے مطابق 1.5 لاکھ دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کو ہنر مند بنانے کے لیے پی ایم کے وی وائی کے تحت کثیر ہنر مند نگہداشت کرنے والوں کے لیے تربیتی پروگرام کا آغاز ایک اہم بات تھی۔ ان میں سے 1.3 لاکھ امیدواروں کو ایم ایس ڈی ای ایکو سسٹم کے ذریعے تربیت دی جائے گی، جس سے حفظانِ صحت، جیریاٹرک اور گھریلو نگہداشت کے لیے پیشہ ورانہ تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کی جائے گی، خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع واشگاف ہوں گے۔
اس تقریب نے شمال مشرقی خطے میں این اے پی ایس کے تحت اپرنٹس شپ مشغولیت کے پائلٹ پروجیکٹ کی توسیع کو بھی نشان زد کیا، جس کا مقصد کام کی جگہ پر مبنی سیکھنے تک رسائی کو بڑھانا اور پورے خطے میں صنعت کی شرکت کو مضبوط بنانا ہے۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ہنرمندی ترقیات اور صنعت کاری کی وزارت کی سکریٹری، محترمہ دیباشری مکھرجی نے کہا، ’’ گزشتہ 11 برسوں میں، اسکل انڈیا ریاستوں، صنعت اور تربیتی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ایک مربوط قومی ماحولیاتی نظام میں تبدیل ہوا ہے، جس نے چھ کروڑ سے زیادہ نوجوانوں کو بااختیار بنایا ہے۔ جیسے ہی ہم آئندہ مرحلے میں داخل ہوں گے، ہماری توجہ پیمانے سے معیار، مطابقت اور نتائج کی طرف بڑھنی چاہیے۔’مشترکہ مستقبل کے لیے ہنر‘ کا موضوع ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کو ہندوستان کی ترقی کی کہانی میں مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔‘‘
ایم ایس ڈی ای نے ہنرمندی ایکوسسٹم میں خواتین کے زیر قیادت ترقی کو صنفی قومی دھارے میں شامل کرنے پر ایک کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا۔ وزارت کی ڈویژنوں، شراکت دار اداروں اور متعلقہ وزارتوں کو قریب لاکرکمیٹی، رابطہ کاری، نقل و حرکت، تربیت، اپرینٹس شپ، نوکری دلانے، برقرار رکھنے اور کریئر میں رفتہ رفتہ ترقی سمیت ہنرمندی سے روزگار کے راستے میں موجود رکاؤٹوں کو دور کرنے کے لیے مشن موڈ میں کام کرے گی۔
وزارت خواتین کے لیے مہارت اور روزگار کے حوالے سے بہترین طریقوں کے ایک مجموعے کے لیے بھی درخواستیں مدعو کرے گی۔ اس کا مقصد ایسے ثبوتوں پر مبنی ماڈلز کو دستاویزی شکل دینا ہے جنہوں نے خواتین کی مہارتوں، روزگار، کاروباری صلاحیتوں اور شمولیاتی کام کی جگہوں تک رسائی کو بہتر بنایا ہے۔ سرکاری محکموں، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں ، صنعتوں، تربیتی اداروں، سی ایس آر تنظیموں اور سول سوسائٹی کی شرکت کے لیے درخواستوں کا آغاز 20 جولائی 2026 سے ہوگا۔
ایک اور اہم پہل قدمی کا اعلان کیا گیا جو کہ مجوزہ 'اسکلز آؤٹ کمز فنڈ' ہے۔ یہ تقریباً 530 کروڑ روپے کا نتائج پر مبنی مالیاتی پلیٹ فارم ہوگا جو دو لاکھ سے زائد نوجوانوں کو صنعت کے تقاضوں کے مطابق مہارتوں، روزگار اور ذرائع معاش کے مواقع فراہم کرنے کے لیے سرکاری فنڈز، سی ایس آر کے تعاون اور فلاحی سرمائے کو یکجا کرے گا۔
پہلے وزارت کے زیرِ سرپرستی این ایس ڈی سی کے اندر اس فنڈ کے قیام کے لیے ایم ایس ڈی ای اور این ایس ڈی سی کے درمیان ایک مفاہمت نامے کا تبادلہ کیا گیا۔ بعد ازاں، 'انڈیا اسکلز آؤٹ کمز پلیٹ فارم' کی تیاری کے لیے این ایس ڈی سی اور برٹش ایشین انڈیا فاؤنڈیشن کے درمیان ایک اور مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئے۔ اس پہل قدمی کے تحت فنڈز کی فراہمی کو آزادانہ طور پر تصدیق شدہ مراحل جیسے کہ سند ملنے، نوکری لگنے اور ملازمت پر برقرار رہنے سے جوڑا جائے گا، جس سے جوابدہی، جدت طرازی اور صنعت کے ساتھ مطابقت کو مضبوطی ملے گی۔
اس تقریب میں مجوزہ مجسمے کے ڈیزائن کی رونمائی بھی کی گئی، جس کا عنوان "ہنرمند بھارت، بااختیار بھارت - ایک اجتماعی ترقی کی داستان" ہے، اور اسے 'کوشل بھون' میں نصب کیا جائے گا۔ یہ مجسمہ کاریگروں، مزدوروں، پیشہ ور افراد، جدت طرازوں اور کاروباری شخصیات کی نسلوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے جن کی مہارتوں نے ہندوستان کی ترقی کو نئی شکل دی ہے۔
چودھری اجیت سنگھ سینٹر آف ایکسی لینس فار ڈیزائن اینڈ فیشن ٹیکنالوجی، باغپت (اتر پردیش) سے تعلق رکھنے والی ہنرمند خواتین طالبات کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی۔ اس مرکز نے ایڈوانسڈ سیونگ مشین آپریٹرز کے طور پر 50 خواتین کے اپنے پہلے بیچ کو صنعت کے تقاضوں کے مطابق تربیت فراہم کی ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجیز، آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی تعلیمی حل اور جدید مینوفیکچرنگ کے طریقے شامل ہیں۔ یہ اقدام یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح مستقبل کی ضروریات کے مطابق ہنرمندی ذرائع معاش کو مضبوط بنا رہی ہے، روزگار کے امکانات کو بڑھا رہی ہے اور خواتین کی اقتصادی خودمختاری کو فروغ دے رہی ہے۔
اس تقریب میں ڈی جی ٹی کے ڈائرکٹر جنرل جناب دلیپ کمار؛ ایم ایس ڈی ای کے ایڈشنل سکریٹری جناب نرنجن کمار سدھانشو؛ ایم ایس ڈی ای کی سینئر اقتصادی مشیر، محترمہ منیشا سین شرما؛ این ایس ڈی سی کے سی ای او جناب ارون کمار پلئی کے ساتھ ساتھ صنعتی قائدین، ریاستی اسکل مشنوں اور سیکٹر اسکل کونسلز کے نمائندوں، تربیتی شراکت داروں، ورلڈ اسکلز چیمئنس، طلبا اور اسکل انڈیا ایکو سسٹم کے دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔












**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:01
(रिलीज़ आईडी: 2285202)
आगंतुक पटल : 6