کیمیکلز اور فرٹیلائزر کی وزارت
کابینہ نے آتم نربھر بھارت کے لیے یوریا سے متعلق قومی سرمایہ کاری پالیسی 2026 (این آئی پی یو-2026) کی منظوری دی
प्रविष्टि तिथि:
15 JUL 2026 3:35PM by PIB Delhi
وزیراعظم جناب نریندر مودی کی زیر صدارت منعقدہ اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی نے آج محکمہ کھاد کی جانب سے پیش کردہ آتم نربھر بھارت کے لیے یوریا سے متعلق قومی سرمایہ کاری پالیسی 2026 (این آئی پی یو-2026) کی تجویز کو منظوری دے دی۔
فوائد:
یہ پالیسی ملک میں گیس پر مبنی یوریا تیار کرنے والے نئے کارخانوں کے قیام کے لیے یوریا کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ اس سے یوریا کی پیداوار میں خود انحصاری کے ہدف کے حصول میں مدد ملے گی۔اس کے علاوہ، این آئی پی-2012 کے مقابلے میں اس نئی پالیسی میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن میں زیادہ شفافیت کے لیے مقررہ اورمتفرق اخراجات کو الگ کرنا، حصص یافتگان کے سرمائے پر منافع کی قابل عمل شرح مقرر کرنا، جس کی کم از کم حد 12 فیصد اور زیادہ سے زیادہ حد 16 فیصد ہوگی، نیز چار سال بعد موجودہ زرِ مبادلہ کی شرح کے مطابق مقررہ لاگت کو ہندوستانی روپے میں تبدیل کرکے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے خدشات کو کم کرنا شامل ہے۔ان اقدامات کے نتیجے میں اندازہ ہے کہ این آئی پی یو-2026 کے تحت قائم ہونے والے ہر نئے یوریا پلانٹ میں این آئی پی-2012 کے مقابلے میں 250 کروڑ روپے سے زائد کی بچت ہوگی۔
نفاذ کی حکمت عملی اور اہداف:
آتم نربھر بھارت کے لیے یوریا سے متعلق قومی سرمایہ کاری پالیسی 2026 (این آئی پی یو-2026) کے تحت ملک میں یوریا تیار کرنے والی نئی یونٹوں کاقیام کا احاطہ کیا جائے گا۔
پس منظر:
یوریا کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے محکمہ کھاد نے 2012 میں یوریا کے شعبے میں سرمایہ کاری کی ایک پالیسی تیار کی تھی، جس میں موجودہ کارخانوں کی جدیدکاری، توسیع،بحالی/تعمیر نو اور گرین فیلڈ پروجیکٹوں کے قیام کو شامل کیا گیا تھا۔نئی سرمایہ کاری پالیسی 2012 (این آئی پی-2012) کے تحت مجموعی طور پر 6 نئے یوریا یونٹ قائم کی گئیں، جن میں 4 یونٹ نامزد سرکاری اداروں کے مشترکہ منصوبہ جاتی کمپنیوں کے ذریعے جبکہ 2 یوریا یونٹ نجی کمپنیوں کے ذریعے قائم کی گئیں۔این آئی پی-2012 کے تحت نئی سرمایہ کاری کی میعاد اکتوبر 2019 میں ختم ہوگئی تھی۔
فی الحال ملک میں یوریا تیار کرنے والی33 یونٹ فعال ہیں، جن کی مجموعی نظرِ ثانی شدہ/نصب شدہ پیداواری صلاحیت 269.42 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی)ہے۔ تاہم، ملک میں مقامی سطح پر یوریا کی پیداوار میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مقامی سطح پر یوریا کی پیداوار اور مانگ کے درمیان موجود خلا کو یوریا درآمد کرکے پورا کیا جاتا ہے۔
محکمہ کھاد کو ملک میں نئے یوریا کارخانے قائم کرنے کے لیے مختلف تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ اس کے پیش نظر یوریا سے متعلق قومی سرمایہ کاری پالیسی مرتب کرنا ضروری سمجھا گیا۔
*******
) ش ح –م ش- ش ہ ب )
U.No. 9972
(रिलीज़ आईडी: 2284870)
आगंतुक पटल : 12