سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
برک-ٹی ایچ ایس ٹی آئی نے تیسری انڈسٹری میٹ 'ایس وائی این سی ایچ این 2026 کی میزبانی کی
प्रविष्टि तिथि:
15 JUL 2026 11:08AM by PIB Delhi
ٹرانسلیشنل ہیلتھ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ (ٹی ایچ ایس ٹی آئی)، جو کہ بائیوٹیکنالوجی ریسرچ اینڈ انوویشن کونسل (برک)، محکمہ بائیوٹیکنالوجی، حکومتِ ہند کا ایک ادارہ ہے، نے آج فرید آباد میں واقع این سی آر بائیوٹیک سائنس کلسٹر کیمپس میں اپنی تیسری سالانہ انڈسٹری بزنس میٹ، ایس وائی این سی ایچ این 2026' (صحت کی دیکھ بھال میں اختراع کے عمل میں باہمی تعاون) کی کامیابی کے ساتھ میزبانی کی۔ اس تقریب نے عالمی صحت کے ممتاز رہنماؤں، بائیوٹیکنالوجی کے ماہرین، سرمایہ کار کمپنیوں، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک جگہ جمع کیا تاکہ ہم آہنگی کے تعلق سے خلا کو دور کیا جا سکے اور لیب بنچ سائنس کو تجارتی پیمانے پر مریضوں کے لئے حل میں منتقل کرنے کے لیے ایک ٹھوس لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔
مہمانِ خصوصی بائیوکون کی ایگزیکٹو چیئرپرسن ڈاکٹر کرن مجمدار شا نے ورچوئل خطاب کیا، جس میں انہوں نے عالمی صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو بدلنے والی گہری تکنیکی تبدیلیوں کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘میرا ماننا ہے کہ 21 ویں صدی تیزی سے بیالوجی اور بائیوٹیکنالوجی کی صدی بنتی جارہی ہے جس کی قیادت مصنوعی ذہانت(اے آئی) کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ہندوستان نے عالمی معیار کے سائنسی ادارے قائم کیے ہیں، لیکن ہمارا چیلنج کبھی بھی سائنس نہیں رہا بلکہ اس کا عملی استعمال رہا ہے۔ ایک ایسا ایکو سسٹم تیار کرنا جو اختراع کو دریافت سے لے کر تجارتی بنانے تک آسانی کے ساتھ لے جائے، یہی وجہ ہے کہ ٹی ایچ ایس ٹی آئی جیسے جدید ادارے اور ایس وائی این سی ایچ این جیسے پلیٹ فارمز انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اہمیت صرف اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب سائنسی مہارت باہمی اعتماد اور تعاون کے ذریعے عملی مہارت سے مطابقت رکھتی ہو۔’’
مندوبین کا استقبال کرتے ہوئے ٹی ایچ ایس ٹی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر گنیشن کارتھیکیان نے سربراہ اجلاس کی اسٹریٹجک پیش رفت کا خاکہ پیش کیا اور بتایا کہ جہاں 2024 میں ' ایس وائی این سی ایچ این ' کے پہلے ایڈیشن میں ارادے سے متعلق 13 مکتوب پر دستخط ہوئے تھے، وہیں 2025 میں اس کے دوسرے ایڈیشن میں 19 پابند اسٹریٹجک معاہدوں کا ایک مضبوط سنگِ میل عبور کیا گیا۔ پروفیسر کارتھیکیان نے محض کاغذی نتائج کے بجائے حقیقی نتائج کے لیے ٹی ایچ ایس ٹی آئی کی جوابدہی کا اعادہ کیا اور تجارتی بنانے کے عمل میں خطرات کو کم کرنے اور اکیڈمی و انڈسٹری کے درمیان مستقل مذاکرات کو فروغ دینے کے ادارےکی جدید ترین سہولیات اور تحقیقی مہارت کا یقین دلایا۔ انہوں نے ٹی ایچ ایس ٹی آئی کی مضبوط آپریشنل صلاحیت، اس کے مکمل طور پر فعال میڈیکل ریسرچ سینٹر (ایم آر سی) اور وبا سے نمٹنے کی تیاری کے لئے ایکسیلیریٹڈ پروڈکٹائزیشن اینڈ ایپیدیمک پریپیرڈنیس (اپیکس) اقدام کو اجاگر کیا۔ میڈیکل ریسرچ سینٹر میں ابتدائی مرحلے کا کلینیکل ٹرائل یونٹ، ایک جدید کار-ٹی سیل ریسرچ یونٹ اور ہندوستان کی پہلی کنٹرولڈ ہیومن انفیکشن اسٹڈیز (سی ایچ آئی ایس) سہولت موجود ہے۔ اپیکس قومی سطح کے پائلٹ پروڈکشن پلیٹ فارم سے استفادہ کرتا ہے جسے تصدیق شدہ تحقیقی پیش رفتوں اور مینوفیکچرنگ کے قابل بائیولوجکس کے درمیان موجود خلا کو تیزی سے ختم کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔
اس سربراہ اجلاس میں قومی صحت کے منتظمین کی جانب سے اہم اسٹریٹجک اپ ڈیٹس کو بھی واضح کیا گیا۔ ڈرگز کنٹرولر جنرل انڈیا (سی ڈی ایس سی او) ڈاکٹر راجیو سنگھ رگھوونشی نے کہا کہ سی ڈی ایس سی او بائیولوجکس کے لیے ایک نیا ریگولیٹری نظام فعال طور پر تیار کر رہا ہے جو قومی پالیسی اور آپریشنل کی سمت کو تبدیل کرنے کے لیے غیر سرکاری صنعت کے ماہرین کو شامل کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، نیتی آیوگ کے رکن پروفیسر ایم سری نواس نے سائنسی دریافتوں کو کفایتی، قابلِ توسیع اور حقیقی دنیا کے ہیلتھ کیئر حل میں تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز کی اور ممتاز کلینیکل سینٹرز اور بنیادی تحقیقی مراکز کے درمیان مضبوط تعاون کی حمایت کی۔
ڈیپ ٹیک مالیاتی منظرنامے پر بات کرتے ہوئے، ڈاکٹر منیش دیوان نے نئے فعال ہونے والے بی آئی آر اے سی اور تحقیق ترقی اور اختراع کے (آر ڈی آئی) فنڈ کو اسٹارٹ اپس، انڈسٹری اور قومی لیبارٹریز کے لیے لائف سائیکل فنڈنگ کے خلا کو پُر کرنے کے ایک اہم محرک کے طور پر اجاگر کیا۔ اس کو ایک شاندار میکرو ماحول کی حمایت حاصل ہے، جیسا کہ انڈین وینچر اینڈ الٹرنیٹ کیپیٹل ایسوسی ایشن (آئی وی سی اے) کے جناب امت پانڈے نے بتایا کہ ہندوستان کی بائیو اکانومی سال بہ سال 18 فیصد کی قابلِ ذکر شرح سے ترقی کر رہی ہے۔
ایس وائی این سی ایچ این کے دوران اہم پینل سیشنز بھی منعقد ہوئے، جن کی تفصیلات ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں:
|
پینل / سیشن
|
کلیدی نکات
|
|
مکمل پینل: عالمی صحت - سائنس، مینوفیکچرنگ اور پارٹنرشپس
|
اس پینل نے بین الاقوامی سائنسی تعاون اور مربوط تحقیقی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنا کر عالمی صحت کی دیکھ بھال کے چیلنجوں سے نمٹنے میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو اجاگر کیا۔ مسابقتی مینوفیکچرنگ کی تعمیر، ریگولیٹری پہلوؤں کو سمجھنے، مضبوط سرکاری اور نجی شراکت داری اور لچکدار تحقیقی ماحولیاتی نظام پر توجہ مرکوز کی گئی۔
|
|
پینل 2: ابتدائی طبی عمل آوری کو تیز کرنا – انسانوں کے تعلق سے پہلی دریافت کرنا
|
تعلیمی پیشرفتوں کو انسانوں میں پہلے ٹرائلز میں تیزی سے منتقل کرنے اور مربوط کلینیکل ریسرچ پلیٹ فارمز کو حقیقی دنیا کی توثیق کے لیے اہم اہل کاروں کے طور پر استعمال کرنے کے لیے راستوں کو ہموار کرنا ۔
|
|
پینل 3: خلا کو پُر کرنا- عمل آوری سے متعلق پلیٹ فارمز کی کارکردگی کو بڑھانا
|
بحث نے بائیوٹیک اسٹارٹ اپس کی پیمائش کے لیے اختراع کاروں، سرمایہ کاروں، اور ایکسلریٹرز کو یکجا کرکے کمرشلائزیشن کے فرق کو پر کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
|
دن کا اختتام کھلے اور باہمی تبادلہ خیال پر مبنی فورمز کے ساتھ ہوا جس میں صنعت کے نمائندوں کو ٹی ایچ ایس ٹی آئی کے سائنسدانوں کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا موقع ملا، اور اس کے ساتھ ہی انہیں ادارے کے جدید ترین بنیادی انفراسٹرکچر پلیٹ فارمز کا گائیڈڈ دورہ بھی کرایا گیا۔

6CTQ.jpeg)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ش ب۔ ن م۔
U- 9953
(रिलीज़ आईडी: 2284710)
आगंतुक पटल : 13