وزارت آیوش
وزارت آیوش نے آیوروید، سدھ اور یونانی نظام طب کے لیے عالمی ادارۂ صحت کے آئی سی ایچ آئی فریم ورک پر پانچ روزہ اداراتی ورکشاپ کا آغاز کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 JUL 2026 10:38PM by PIB Delhi
حکومت ہند کی وزارت آیوش نے آج ’عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے صحت سے متعلق اقدامات کی بین الاقوامی درجہ بندی (آئی سی ایچ آئی) کے فریم ورک کے الفا مسودے کے موادی نمونے کی تیاری اور اس کے اعلیٰ سطحی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے اداراتی ورکشاپ کا پانچ روزہ آغاز کیا۔ 13 سے 17 جولائی 2026 تک جاری رہنے والی یہ ورکشاپ ہندوستان کے روایتی نظام طب کو عالمی ڈیجیٹل صحت کے نظام اور صحت کی ہمہ گیر تحفظ کے فریم ورک میں مؤثر مقام دلانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
اس ورکشاپ کا انعقاد آیوروید سے متعلق تحقیقی علوم کی مرکزی کونسل (سی سی آر اے ایس) اپنے عالمی ادارۂ صحت کے اشتراکی مرکز، قومی ادارہ برائے ہندوستانی طبی ورثہ (این آئی آئی ایم ایچ)، حیدرآباد (سی سی آئی این ڈی-177) کے ذریعے کر رہی ہے۔ اس میں ممتاز سائنسی ماہرین، مختلف اداروں کے سربراہان اور بین الاقوامی طبی معلوماتی نظام کے ماہرین شرکت کر رہے ہیں، تاکہ آیوروید، سدھ اور یونانی نظام طب کے لیے قومی صحت سے متعلق اقدامات کے ضابطوں (این ایچ آئی سی) کا سائنسی بنیادوں پر مضبوط اور مرحلہ وار درجہ بندی پر مشتمل حتمی خاکہ تیار کیا جا سکے۔
یہ ورکشاپ مئی 2026 میں منعقد ہونے والے مشاورتی اجلاسوں کے دوران تیار کیے گئے ابتدائی مسودوں کی بنیاد پر منعقد کی جا رہی ہے۔
ماہرین کی توثیق سے تیار کردہ موجودہ ذخیرۂ معلومات میں آیوروید کے لیے 13 ؍خصوصی شعبے، 76 طریقۂ علاج اور 714 طبی طریقۂ کار، سدھ کے لیے 25 خصوصی شعبے، 130 طریقۂ علاج اور 996 طبی طریقۂ کار، جبکہ یونانی نظام طب کے لیے 15 خصوصی شعبے، 179 طریقۂ علاج اور 551 طبی طریقۂ کار شامل ہیں۔
افتتاحی اجلاس کی جھلکیاں
وزارت آیوش کے سکریٹری، ویدیہ راجیش کوٹیچا نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس اقدام کی تزویراتی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا:
’یہ اقدام محض ضابطہ سازی کی ایک مشق نہیں، بلکہ ہندوستان کے روایتی طبی نظاموں کو عالمی سائنسی، ڈیجیٹل اور پالیسی نظام کا مؤثر حصہ بنانے کی جانب ایک انقلابی پیش رفت ہے۔ صحت سے متعلق معیاری اصطلاحات کو شامل کرنے سے آیوش کے وسیع تر ڈیجیٹل صحت نظام کا لازمی جزو بن جائیں گے اور جدید طبی معلوماتی نظام کے عالمی معیارات سے ہم آہنگ ہو سکیں گے۔‘
وزارت آیوش کی جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر کویتا جین نےعلاج کے روایتی طریقوں کو ڈیجیٹل دستاویزات اور عالمی صحت کے نظام میں شامل کرنے کے طویل مدتی پالیسی اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
متعلقہ اعلیٰ تحقیقی کونسلوں کی جانب سے قیادت کے نقطہ نظر کو ڈاکٹر این ظہیر احمد، ڈائریکٹر جنرل، سی سی آر یو ایم؛ پروفیسر ڈاکٹر این جے متھوکمار، ڈائریکٹر جنرل، سی سی آر ایس؛ اور پروفیسر ویدیا رابینارائن آچاریہ، ڈائریکٹر جنرل، سی سی آر اے ایس نے پیش کیا اور ان سب نے اس وسیع اور سخت تحقیق پر روشنی ڈالی جو ان کی ٹیموں نے ابتدائی کوڈنگ ڈرافٹس کو حتمی شکل دینے کے لیے انجام دی تھی۔
عالمی عملی تناظر پر روشنی ڈالتے ہوئے جی ٹی ایم سی، جام نگر کی یونٹ سربراہ ڈاکٹر گیتا کرشنن نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جبکہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندوں، ڈیٹا معیارات اور طبی معلوماتی نظام کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر رابرٹ جیکب اور ڈبلیو ایچ او کے مشیر ڈاکٹر اسٹیفان ایسپینوسا نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے عالمی سطح پر باہمی مطابقت اور ڈیجیٹل طبی معلوماتی نظام سے ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔
افتتاحی پروگرام کا آغاز سی سی آر اے ایس-قومی ادارہ برائے ہندوستانی طبی ورثہ (این آئی آئی ایم ایچ)، حیدرآباد کے اے ڈی انچارج ڈاکٹر گولی پنچالا پرساد کے خیرمقدمی خطاب سے ہوا، جس کے ذریعے ادارہ جاتی ہم آہنگی کے لیے بنیاد فراہم کی گئی۔ اس کے بعدآیوروید علوم کی تحقیق سے متعلق مرکزی کو نسل (سی سی آر اے ایس) کے ڈپٹی ڈائریکر جنرل ڈاکٹر این سری کانت نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے سائنسی اعتبار اور اعتماد کو مستحکم بنانے میں معیاری اصطلاحات کی اہمیت پر زور دیا۔


*************
) ش ح – م ع ن- م ش )
U.No. 9907
(ریلیز آئی ڈی: 2284373)
وزیٹر کاؤنٹر : 46