صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے این ایچ ایم کے تحت بہترین طریقۂ کار پر ماہانہ ویبینار سیریز کا آغاز کیا
جدت طرازی مؤثر اور مضبوط عوامی نظامِ صحت کی بنیاد ہے: آرادھنا پٹنائک
عالمی یومِ آبادی 2026 کے موقع پر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں صحت سے متعلق کامیاب اختراعات کے تبادلۂ تجربات اور ان کے نفاذ کو فروغ دینے کے لیے اس اقدام کا آغاز
خون کی کمی، بچوں اور نوعمر افراد کی صحت پر منعقد افتتاحی ویبینار میں 500 سے زائد افسران نے شرکت کی
प्रविष्टि तिथि:
11 JUL 2026 5:52PM by PIB Delhi
اختراع پر مبنی عوامی نظامِ صحت کو فروغ دینے کے اپنے عزم کو مزید مضبوط بناتے ہوئے مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے عالمی یومِ آبادی 2026 کے موقع پر نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کے تحت "بہترین طریقۂ کار پر ماہانہ ویبینار سیریز" کا آغاز کیا۔
سال بھر جاری رہنے والے اس علمی تبادلہ پلیٹ فارم کا مقصد مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ایک ایسا مشترکہ فورم فراہم کرنا ہے، جہاں وہ صحت کے شعبے میں اپنی کامیاب اختراعات پیش کر سکیں، نفاذ کے تجربات ایک دوسرے سے شیئر کریں اور ملک بھر میں صحت کی خدمات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قابلِ توسیع اور شواہد پر مبنی کامیاب طریقۂ کار کو فروغ دے سکیں۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر (این ایچ ایم) آرادھنا پٹنائک نے کی۔ انہوں نے کہا کہ جدت طرازی مؤثر، جوابدہ اور مضبوط عوامی نظامِ صحت کی بنیاد ہے۔
انہوں نے ویبینار سیریز کو ایک اہم ادارہ جاتی پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سامنے آنے والے اختراعی اقدامات کی نشاندہی، دستاویز سازی اور تشہیر کی جائے گی، تاکہ کسی ایک خطے میں کامیاب ثابت ہونے والے حل سے ملک بھر کے صحت کے نظام کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔

ڈاکٹر آرادھنا پٹنائک نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ اس پہل میں سرگرم حصہ لیں اور ایسی اختراعات پیش کریں جو موجودہ پروگراموں کے دائرہ کار سے آگے بڑھ کر مقامی سطح پر تیار کیے گئے حل کے ذریعے عوامی صحت کو درپیش نئے چیلنجوں سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوں۔
انہوں نے ریاستی اور ضلعی سطح کی ٹیموں کی لگن اور محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے بہت سے اختراعی اقدامات پروگراموں کے نفاذ میں مصروف رہنے کے باعث مناسب شناخت حاصل نہیں کر پاتے، کیونکہ ان کی دستاویز سازی اور تشہیر پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا سکتی۔
وزارت کے اس خلا کو پُر کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل ہیلتھ سسٹمز ریسورس سینٹر (این ایچ ایس آر سی) ان اختراعات کی دستاویز سازی اور انہیں اجاگر کرنے کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرے گا، جس سے قابلِ تقلید اور اختراعی بہترین طریقۂ کار سے متعلق قومی کانفرنس کے دائرۂ کار اور اثرات میں مزید وسعت آئے گی۔
انہوں نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے اپیل کی کہ وہ اس ماہانہ ویبینار سیریز میں فعال انداز میں شریک ہوں اور مسلسل سیکھنے، علم کے تبادلے اور اختراع پر مبنی پروگراموں کے نفاذ کی ثقافت کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔
افتتاحی ویبینار کا موضوع "خون کی کمی، بچوں اور نوعمر افراد کی صحت" تھا، جس میں تین ریاستوں کی ایسی اختراعی سرگرمیاں پیش کی گئیں جنہوں نے مقامی عوامی صحت کے مسائل کے حل میں قابلِ پیمائش نتائج حاصل کیے ہیں۔
ویبینار کے دوران جھارکھنڈ نے اینیمیا مکت بھارت ٹی-4 ایپ اور گھروں پر مبنی نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت اور گھروں پر مبنی کم عمر بچوں کی نگہداشت کے تحت گھریلو دوروں کے مربوط ماڈل کو پیش کیا۔
چھتیس گڑھ نے راشٹریہ بال سوستھیا کاریہ کرم کے تحت "چرایو ڈے" اقدام کو پیش کیا، جبکہ مدھیہ پردیش نے نوعمر افراد میں موٹاپے کی روک تھام سے متعلق اپنی اختراعی پہل سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

یہ اختراعی اقدامات مقامی عوامی صحت کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اور مقامی حالات سے ہم آہنگ حل کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں، جو بہترین اور قابلِ تقلید طریقۂ کار کے مؤثر نمونوں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ وزارت کے مختلف پروگرام ڈویزنوں کی فعال شرکت کے ساتھ پیش کی گئی ان سرگرمیوں نے قومی صحت پروگراموں سے مضبوط ہم آہنگی بھی ظاہر کی، جس سے موجودہ عوامی نظامِ صحت میں ان کی افادیت اور وسیع پیمانے پر نفاذ کی صلاحیت مزید واضح ہوئی۔
ویبینار میں قومی، ریاستی اور ضلعی سطح کے 500 سے زائد افسران نے شرکت کی، جو باہمی سیکھنے کے عمل اور اختراع پر مبنی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہانہ ویبینار سیریز کے پہلے اجلاس کے طور پر اس نشست نے ایک ایسے مستقل قومی پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی ہے، جو صحت کے شعبے میں کامیاب اختراعات کی نشاندہی، دستاویز سازی، تشہیر اور وسیع پیمانے پر نفاذ کو فروغ دے گا۔ باہمی تجربات کے تبادلے اور شواہد پر مبنی بہترین طریقۂ کار کو اپنانے کے ذریعے اس اقدام سے ملک بھر میں صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور صحت کی خدمات کے معیار اور مؤثریت میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 9838 )
(रिलीज़ आईडी: 2283735)
आगंतुक पटल : 10