سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
وزیر اعظم کی سواندھی اسکیم کے تحت لکھن پور ابتدائی ’اسٹریٹ فوڈ ہب‘ شہروں میں شامل، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جموں و کشمیر کو ترجیح دینے پر وزیر اعظم مودی کا اظہارِ تشکر کیا
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، شری امرناتھ جی یاترا کے دوران یہ فیصلہ بروقت ثابت ہوگا اور اس سے زائرین، سیاحوں اور مقامی اسٹریٹ فروشوں کو فائدہ پہنچے گا
مرکزی وزیر نے وزارتِ رہائش و شہری امور کا بھی شکریہ ادا کیا، جس نے لکھن پور کی تجویز کو تیزی سے منظور کرتے ہوئے اسے پہلے مرحلے کے منظور شدہ منصوبوں میں شامل کیا
प्रविष्टि तिथि:
11 JUL 2026 5:38PM by PIB Delhi
سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)،ا رضیات سائنسز کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)؛ پی ایم او، پرسنل، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج حکومت ہند کی جانب سے ضلع کٹھوعہ کے لکھن پور میں پردھان منتری سواندھی (پی ایم سواندھی) اسکیم کے تحت 'اسٹریٹ فوڈ ہب' قائم کرنے کی منظوری کا اعلان کیا۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی ترقی کو اعلیٰ ترجیح دینے کی وجہ سے لکھن پور کو ابتدائی طور پر منظور شدہ شہروں میں شامل کیا گیا ہے، جو بنیادی ڈھانچے، سیاحت اور روزگار کے مواقع کو فروغ دینے کے لیے مرکز کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس منظوری کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس وقت شری امرناتھ جی یاترا جاری ہے اور زائرین کی بڑی تعداد جموں و کشمیر پہنچ رہی ہے۔ ایسے میں یہ نئی سہولت لکھن پور کے راستے ریاست میں داخل ہونے والے یاتریوں، سیاحوں اور دیگر مسافروں کو بہتر خدمات فراہم کرے گی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے وزارتِ رہائش و شہری امور کا بھی شکریہ ادا کیا، جس نے اس تجویز پر تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے لکھن پور کو ملک کے پہلے مرحلے میں منظور شدہ اسٹریٹ فوڈ ہب منصوبوں میں شامل کیا۔
ادھم پور پارلیمانی حلقے کی نمائندگی کرنے والے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ اس منصوبے کی جلد منظوری کے لیے مسلسل کوششیں کی گئیں تاکہ علاقے کے عوام، بالخصوص اسٹریٹ فروشوں اور چھوٹے کاروباریوں کو اس کا فائدہ مل سکے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر کو دی جانے والی خصوصی ترجیح کا ایک اور ثبوت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹریٹ فوڈ ہب منصوبے کا مقصد منظم، صاف ستھرے اور عالمی معیار کے فوڈ زون قائم کرنا ہے، جہاں بھارت کی متنوع غذائی ثقافت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اسٹریٹ فروشوں کو باوقار اور پائیدار ذریعہ معاش بھی فراہم کیا جا سکے۔ اس کے تحت اہم سیاحتی مقامات کو ایسی فوڈ اسٹریٹس میں تبدیل کیا جائے گا جہاں سیاح محفوظ اور منظم ماحول میں مقامی روایتی کھانوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔
پردھان منتری سواندھی اسکیم کے تحت وزارتِ رہائش و شہری امور ملک بھر میں 50 تک اسٹریٹ فوڈ ہب قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس میں ان شہروں اور قصبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جن میں سیاحتی امکانات، ثقافتی اور تاریخی اہمیت، منفرد مقامی پکوان اور سوَدیش درشن، پرشاد، یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ اور یونیسکو کریئیٹو سٹیز جیسے منصوبوں سے ہم آہنگی موجود ہو۔
ہر منظور شدہ منصوبے کے لیے 4 کروڑ روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی، جو تین قسطوں میں جاری ہوگی۔ پہلی قسط میں 30 فیصد، دوسری میں 50 فیصد اور منصوبے کی تکمیل کے بعد باقی 20 فیصد رقم دی جائے گی۔ اس کے علاوہ جن شہروں نے اپنا اسٹریٹ وینڈنگ پلان نافذ کر رکھا ہوگا، انہیں 25 لاکھ روپے کی اضافی ترغیبی رقم بھی دی جائے گی۔
اس منصوبے کے تحت ریاستی حکومتوں اور شہری بلدیاتی اداروں کو تکنیکی معاونت بھی فراہم کی جائے گی، جس کے لیے وزارتِ رہائش و شہری امور کے تحت سینٹرز آف ایکسی لینس فار اربن پلاننگ اور امرت کے تحت قائم منصوبہ بندی مراکز خدمات انجام دیں گے۔ یہ منصوبہ ہول آف گورنمنٹ نقطۂ نظر کے مطابق وزارتِ رہائش و شہری امور، وزارتِ سیاحت اور فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کے باہمی تعاون سے نافذ کیا جائے گا۔
وزارت کو ملک کی 32 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے 126 تجاویز موصول ہوئی تھیں، جن میں 106 شہری بلدیاتی ادارے اور سات مردم شماری والے قصبے شامل تھے۔
لکھن پور اسٹریٹ فوڈ ہب دو کلسٹروں میں قائم کیا جائے گا، جن میں ایک پرانے بس اڈے کے قریب اور دوسرا سیلز ٹیکس دفتر کے نزدیک ہوگا۔ پٹھان کوٹ سے جموں و کشمیر میں داخل ہونے والے مرکزی راستے اور شری ماتا ویشنو دیوی کے سفر کے اہم روٹ پر واقع ہونے کے باعث یہاں روزانہ بڑی تعداد میں سیاح، زائرین اور مسافر آتے ہیں۔
1,754.25 مربع میٹر رقبے پر پھیلا یہ اسٹریٹ فوڈ ہب جدید وینڈنگ سہولتوں سے آراستہ ہوگا، جہاں ڈوگرا کھانوں سمیت مقامی روایتی پکوانوں کو صاف ستھرے، منظم اور سیاح دوست ماحول میں فروغ دیا جائے گا۔
توقع ہے کہ اس منصوبے سے لکھن پور صرف ایک عبوری مقام کے بجائے خطے کی غذائی ثقافت کا نمایاں مرکز بن جائے گا۔ اس سے نہ صرف سیاحوں اور زائرین کے تجربے میں بہتری آئے گی بلکہ مقامی اسٹریٹ فروشوں کے لیے بہتر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور جموں و کشمیر کی سیاحتی معیشت کو بھی نئی تقویت حاصل ہوگی۔

************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 9837)
(रिलीज़ आईडी: 2283733)
आगंतुक पटल : 11