خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعتوں کی وزارت
مرکزی وزیر جناب چراغ پاسوان نے پی ایم ایف ایم ای اسکیم کے تحت دو لاکھ سے زائد قرض سے منسلک مستفیدین کے سنگ میل کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 JUL 2026 2:34PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 11 جولائی 2026: خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعتوں کے مرکزی وزیر، جناب چراغ پاسوان نے آج نئی دلی میں ایک خصوصی تقریب کی صدارت کی، جس میں پردھان منتری مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز کی باضابطہ تشکیل (پی ایم ایف ایم ای) اسکیم کے تحت ایک تاریخی سنگِ میل کی تکمیل کا جشن منایا گیا۔ اس موقع پر دو لاکھ سے زائد مائیکرو فوڈ پروسیسنگ اداروں کو قرضوں کی منظوری دیے جانے کی کامیابی کو اجاگر کیا گیا۔
اس اسکیم کے تحت قرضوں کی منظوری کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر جانے کے ساتھ ہی 20,300 کروڑ روپے سے زیادہ کی منصوبہ جاتی سرمایہ کاری کو فروغ ملا ہے۔ مستفیدین میں تقریباً 90 فیصد پہلی نسل کے کاروباری افراد ہیں، جبکہ 44 فیصد خواتین کاروباری شخصیات ہیں۔مزید برآں، پی ایم ایف ایم ای اسکیم سے مستفید ہونے والے 75 ہزار سے زائد ادارے ادیم آدھار، ادیم اسسٹ، ایف ایس ایس اے آئی اور جی ایس ٹی جیسے اندراجات کے ذریعے باقاعدہ معیشت کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس اسکیم کے نتیجے میں تقریباً 11 لاکھ براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
اس تقریب میں خوراک کوڈبہ بند کرنے کی صنعتوں کی وزارت کے سینئر افسران کے علاوہ ریاستی حکومتوں، شراکت دار وزارتوں، بینکاری اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، کاروباری شخصیات،اپنی مدد آپ گروپوں اور کسان پیداوار تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اس تقریب کے دوران اسکیم کی نمایاں کامیابیوں کو اجاگر کرنے والی اہم اشاعتوں کی رونمائی کی گئی، کاروباری شخصیات نے اپنی کامیابی کی کہانیاں بیان کیں، جبکہ وزیر نے پی ایم ایف ایم ای اسکیم کے مستفیدین سے بھی تبادلۂ خیال کیا، جن کے کاروباری ادارے زمینی سطح پر اس اسکیم کے مؤثر اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔
اپنے استقبالیہ خطاب میں خوراک کوڈبہ بند کی صنعتوں کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری جناب دیویش دیول نے ملک گیر کثیر ذرائع ابلاغ پر مبنی بیداری مہم کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم ایف ایم ای اسکیم مائیکرو فوڈ پروسیسنگ کاروباری افراد کو مالی معاونت، تربیت، رہنمائی، برانڈنگ، مارکیٹنگ اور منڈی سے ربط تک ہر مرحلے پر جامع مدد فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا، ’’پی ایم ایف ایم ای صرف کاروباری اداروں کی معاونت نہیں کر رہی بلکہ لوگوں کے روزگار کے ذرائع میں تبدیلی لا رہی ہے، مقامی قدر افزا سلسلوں کو مضبوط بنا رہی ہے اور ملک بھر میں پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہے۔‘‘
وزارت کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے خوراک کو ڈبہ بند کی صنعتوں کی وزارت کے سکریٹری جناب اے۔ پی۔ داس جوشی نے اس سنگِ میل کو ’’بھارت میں مائیکرو فوڈ پروسیسنگ شعبے کے لیے ایک مضبوط ماحولیاتی نظام کے ابھرنے کی علامت ‘‘قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم ایف ایم ای اسکیم مالی معاونت، باضابطہ اندراج، ٹیکنالوجی، صلاحیت سازی اور منڈی تک رسائی کو یکجا کرتے ہوئے کاروباری اداروں کی ترقی کے لیے ایک مربوط طریقۂ کار فراہم کرتی ہے۔انہوں نے اسکیم کے تحت قائم ضلعی وسائل کے افراد (ڈی آر پیز) کے نیٹ ورک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات ’’ڈیجیٹل انڈیا اور کاروبار کرنے میں آسانی کے اقدامات کے نچلی سطح پر کامیاب امتزاج‘‘ کی عکاسی کرتی ہیں۔
حکام نے اسکیم کے ایک ضلع، ایک مصنوعات (او ڈی او پی) طریقۂ کار کو بھی اجاگر کیا اور بتایا کہ اس کے تحت تقریباً 200 مصنوعات پر مشتمل 40 مشترکہ برانڈز کی معاونت کی جا رہی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے پی ایم ایف ایم ای ملک بھر میں مکھانا، موٹے اناج، مصالحہ جات اور جغرافیائی شناختی نشان (جی آئی) یافتہ مصنوعات کے گرد مقامی ویلو چین کو فروغ دے رہی ہے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب چراغ پاسوان نے کہا کہ دو لاکھ مستفیدین کا سنگِ میل ’’اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ وژن ملک بھر میں قابلِ پیمائش نتائج کی صورت میں حقیقت کی شکل اختیار کررہا ہے ۔‘‘انہوں نے کہا کہ تمام مستفیدین میں تقریباً 44 فیصد خواتین کاروباری شخصیات کی شمولیت ’’خواتین کی قیادت میں ترقی کے حقیقی جذبے کی عکاس ہے، جو وکست بھارت کے وژن کا ایک بنیادی ستون ہے۔‘‘
وزیر موصوف نے بہار، مہاراشٹر، اتر پردیش، تمل ناڈو اور مدھیہ پردیش سمیت نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاستوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ کامیابی صرف جشن منانے کا ایک سنگِ میل نہیں بلکہ ایک مضبوط بنیاد ہے، جس پر ہم بھارت کی خوراک کی پروسیسنگ صنعت کی ترقی کے اگلے مرحلے کی تعمیر کریں گے۔"انہوں نے ریاستی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ اور فیلڈ سطح کے عملے کی بھی تعریف کی، جنہوں نے ’’ایک قومی پالیسی کو کاروباری ترقی کے لیے نچلی سطح پر ایک عوامی تحریک میں تبدیل کر دیا۔‘‘
وزیرموصوف نے اسکیم کے سیڈ کیپٹل امدادی پروگرام کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت 4.18 لاکھ سے زائد اپنی مدد آپ گروپوں کے ارکان کو معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت نے 27 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 80 مشترکہ انکیوبیشن مراکز کی منظوری دی ہے، جن میں سے 32 مراکز کام شروع کر چکے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اسکیم کے تحت 1.76 لاکھ سے زائد مستفیدین کو تربیت دی جا چکی ہے، جن میں 77 فیصد خواتین شامل ہیں۔تقریب کے دوران وزیر موصوف نے جھارکھنڈ کے رانچی سے تعلق رکھنے والے اسکیم کے دو لاکھویں مستفید جناب اندرجیت سنگھ کو اعزاز سے نوازا اور انہیں قرض کی منظوری کا خط اور سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا۔
دو لاکھ سے زائد قرض سے منسلک مستفیدین تک پہنچنے کی یہ کامیابی، بھارت حکومت کی مائیکرو فوڈ پروسیسنگ شعبے کو باضابطہ، مضبوط اور مستحکم بنانے کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ کامیابی آتم نربھر بھارت اور وکست بھارت 2047 کے وژن کے تحت کاروبار پر مبنی ترقی کے فروغ کے لیے وزارت کے مسلسل عزم کی بھی توثیق کرتی ہے۔


JZUV.jpeg)

FV00.jpeg)
HN84.jpeg)

ATM6.jpeg)
R1V2.jpeg)
63FI.jpeg)

ISID.jpeg)
VHDD.jpeg)

LTOV.jpeg)

****
ش ح۔ اع خ۔اش ق
U. No. 9830
(ریلیز آئی ڈی: 2283685)
وزیٹر کاؤنٹر : 12