قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

بھارت کے  انسانی حقوق کے قومی کمیشن(این ایچ آر سی) نے ہریانہ کی اینٹ بھٹہ صنعت میں مبینہ بندھوا مزدوری کے 86 مقدمات کی آن لائن سماعت کی


چیئرمین جسٹس وی.راما سبرامنین نے بندھوا مزدوری کی روک تھام کے لیے مزدوروں کے روزگار کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنے والی ہیلپ لائن قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا

ریاستی حکومت نے کمیشن کی ہدایات کے مطابق تمام مقدمات میں رپورٹس پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی

متعلقہ حکام نے بندھوا مزدوری کے معاملات سے نمٹنے کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایات اور نافذ قوانین پر مکمل عمل درآمد کا یقین دلایا

प्रविष्टि तिथि: 10 JUL 2026 12:53PM by PIB Delhi

بھارت کے انسانی حقوق کے قومی کمیشن (این ایچ آر سی) نے ہریانہ کے مختلف اضلاع میں اینٹوں کے بھٹوں میں مبینہ بندھوا مزدوروں کے 86  معاملات  کی آن لائن سماعت کی ۔  چیئرمین جسٹس وی راماسبرامنین نے جوائنٹ سکریٹری جناب سمیر کمار ، جوائنٹ رجسٹرار (قانون) جناب اندرجیت کمار اور دیگر سینئر افسران کی موجودگی میں سماعت کی صدارت کی ۔  سماعت میں ریاستی حکومت کے سینئر عہدیداروں نے شرکت کی ، جن میں چیف سکریٹری جناب انوراگ رستوگی ، لیبر کمشنر جناب وجے کمار بھاوکٹی اور تمام اضلاع کے ضلع مجسٹریٹ(ڈی ایم) شامل تھے ۔

F1.jpg

جسٹس  جناب راما سبرامنین نے کہا کہ زیادہ تر مقدمات میں متعلقہ سرکاری عہدیداروں نے ریکارڈ کی مناسب جانچ نہیں کی تھی ۔  اس لیے ان کے پاس ایسے قابل اعتبار ثبوت نہیں تھے کہ وہ مزدوروں کو بندھوامزدور قرار دیں ۔ جسٹس  جناب راما سبرامنین نے افسران پر زور دیا کہ وہ  باؤنڈیڈلیبررز  یعنی بندھوا مزدوروں کے معاملات سے نمٹنے کے دوران چوکس رہیں ۔  انہوں نے مزید کہا کہ وہ شکایت کی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دیتے ہوئے 14 مئی 2026 کو محنت و روزگار کی وزارت کی طرف سے جاری کردہ بانڈڈ لیبرز کی شناخت اور بچاؤ اور مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار میں طے شدہ تقاضوں پر عمل کریں ۔  جسٹس راما سبرامنین نے ایک ہیلپ لائن شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ مزدور ضرورت پڑنے پر بانڈڈ لیبر کے واقعات کا سراغ لگانے میں مدد حاصل کر سکیں ۔

F2.jpg

بھارت کے انسانی حقوق کے قومی کمیشن (این ایچ آر سی) کے جوائنٹ سکریٹری جناب سمیر کمار نے این ایچ آر سی کی ہدایات کی تعمیل کرنے اور بندھوا مزدوروں کی شناخت ، رہائی اور بحالی کے لیے اس کی ایڈوائزری 2.0 کے مطابق کارروائی کرنے کی ضرورت  کو اُجاگرکیا ۔ ہریانہ کے چیف سکریٹری ، لیبر کمشنر اور ڈی ایم نے سماعت کے دوران بانڈڈ لیبر کے معاملات پیش کیے ۔  کمیشن نے زیر غور شکایات پر ڈی ایم کی طرف سے پیش کی گئی عملی کارروائی رپورٹوں (اے ٹی آر) کا جائزہ لیا ۔

F4.jpg

چیف سکریٹری اور لیبر کمشنر نے کمیشن کواس بات کایقین دلایا کہ تمام 86 معاملات کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کے بعد مطلوبہ معلومات اور رپورٹس پیش کی جائیں گی ۔ سکریٹری موصوف نے کمیشن کو یقین دلایا کہ بانڈڈ لیبر سے متعلق معاملات میں فوری تدارک کی کارروائی کو آسان بنانے کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایات اور قابل اطلاق قوانین کی مکمل تعمیل کو یقینی بنایا جائے گا ۔

***

ش ح۔ش م۔ ش ا

U NO: 9789


(रिलीज़ आईडी: 2283237) आगंतुक पटल : 13
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil