پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ایتھنول کی آمیزش والا پیٹرول پروگرام -سوال و جواب

प्रविष्टि तिथि: 10 JUL 2026 9:16AM by PIB Delhi

ایتھنول کی آمیزش والے پیٹرول پروگرام کے حوالے سے بعض خدشات اور غلط فہمیاں سامنے آئی ہیں۔ پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت اس غلط بیانی کا ازالہ کرنے اور حقائق پر مبنی وضاحتیں فراہم کرنے کے لیے پہلے ہی ایک تفصیلی پریس ریلیز جاری کر چکی ہے۔ گاڑیوں کے مینوفیکچررز نے بھی اس پروگرام کے متعلق وضاحتی بیانات جاری کیے ہیں۔ اس کے باوجود، کچھ سوالات اب بھی برقرار ہیں۔ درج ذیل کثرت سے پوچھے جانے والے سوالات (ایف-اے-کیوز) ان خدشات کے حقائق اور شواہد پر مبنی جوابات فراہم کرتے ہیں۔

پہلا سوال: بھارت نے اپنے پیٹرول میں ایتھنول ملانے کے اہداف کو حاصل کرنے میں اتنی جلدی کیوں دکھائی، جبکہ برازیل جیسے ممالک کو ایسا کرنے میں کئی دہائیاں لگ گئیں؟

  • سب سے پہلی بات جو سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ایتھنول کوئی نیا ایندھن نہیں ہے۔ ہم نے ایتھنول ایجاد نہیں کیا ہے۔ ایک صدی سے بھی پہلے، ہنری فورڈ نے اپنی پہلی گاڑی اس طرح بنائی تھی کہ وہ ایتھنول سے چل سکے اور برازیل و امریکہ سمیت دنیا بھر کے ممالک کئی دہائیوں سے پیٹرول میں ایتھنول کی آمیزش کر رہے ہیں۔
  • دوسری اہم بات یہ ہے کہ بھارت میں پیٹرول میں ایتھنول ملانے کا یہ منصوبہ موجودہ حکومت کے دور میں شروع نہیں ہوا ہے۔ اس کوشش کی ایک طویل تنظیمی تاریخ اور اہم سنگِ میل رہے ہیں (یہ تمام معلومات عوامی سطح پر دستیاب ہیں—جن میں سے کچھ ضمیمہ نمبر 1 میں دی گئی ہیں)۔
  • پیٹرول میں ایتھنول ملانے کا ایک آزمائشی منصوبہ سال 2001 میں شروع کیا گیا تھا، جس کا باضابطہ اعلان سال 2004 میں ہوا اور سال 2006 تک کئی ریاستوں میں پیٹرول میں ای5 (5فیصد ایتھنول ملانے) کا عمل شروع کر دیا گیا تھا۔
  • اس کے بعد، جنوری 2013 میں پچھلی حکومت کے دوران اس کی باقاعدہ حکمت عملی کا اعلان گزٹ آف انڈیا میں  کیا گیا تھا۔ یہ سب عوامی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
  • بھارت نے 10 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں پیٹرول کے اندر 5 فیصد ایتھنول ملانے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ بدقسمتی سے، اس بڑے ارادے کے باوجود، سال 2014 تک پیٹرول میں ایتھنول کی یہ آمیزش تقریباً ڈیڑھ (1.5) فیصد پر ہی رکی رہی۔
  • کسی نے بھی ایتھنول کے بطور ایندھن ہونے پر سوال نہیں اٹھایا۔ یہ معاملہ عالمی سطح پر پہلے ہی طے ہو چکا تھا۔ اصل چیلنج یہ تھا کہ بھارت کس طرح اتنی بڑی مقدار میں ایتھنول تیار کر سکتا ہے۔
  • اس وقت، ہم تقریباً پوری طرح سے گنے پر انحصار کرتے تھے، جو کہ ایک موسمی فصل ہے اور ہماری سالانہ ایتھنول پیدا کرنے کی صلاحیت تقریباً 400 کروڑ لیٹر تھی۔ پیداوار کی یہ سطح معمولی اہداف کو پورا کرنے کے لیے بھی ناکافی تھی۔
  • اس مجبوری کو سمجھتے ہوئے، حکومت نے اپنے طریقے کو بنیادی طور پر تبدیل کیا۔ مئی 2018 میں ’حیاتیاتی ایندھن کی قومی حکمتِ عملی‘ کے آغاز کے ساتھ، حکومت نے بڑے پیمانے پر ایتھنول تیار کرنے کے لیے ضروری نظام بنانا شروع کیا۔ یہ ہول- آف –گورنمنٹ کا ایک حقیقی اور مشترکہ مشن بن گیا۔
  • پٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت ، خوراک و عوامی تقسیم کا محکمہ، شاہراہ و سڑک نقل و حمل کی وزارت، بھاری صنعت کی وزارت،  بھارتی ریلویز اور کئی دیگر وزارتوں نے مل کر کام کیا۔ انہوں نے خام مال کو بڑھانے، بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے، نئی ٹیکنالوجی کی مدد کرنے، مال برداری کے نظام کو درست کرنے، مانگ کے یقین کو قائم کرنے اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے انتہائی قریبی تال میل کے ساتھ کام کیا۔
  • ایک تاریخی قدم اگست 2021 میں اٹھایا گیا، جب بھارت کی تیل منڈی کی سرکاری کمپنیوں،آئی او سی ایل، بی پی سی ایل اور ایچ پی سی ایل نے ان علاقوں میں جہاں ایتھنول کی کمی تھی، ’مخصوص ایتھنول کارخانے‘ قائم کرنے کے لیے دلچسپی کا اظہار کرنے والی درخواستیں طلب کیں۔

ان منصوبوں نے سرمایہ کاری کے منظر نامے کو یکسر بدل دیا کیونکہ انہوں نے درج ذیل سہولیات فراہم کیں:

  • تیل منڈی کی سرکاری کمپنیوں کی طرف سے طویل مدت تک خریداری کے پکے معاہدے؛
  • سرکاری بینکوں کے ساتھ سہ فریقی مالیاتی انتظامات (ایسکرو کھاتوں کے نظام کے ذریعے)، جس سے سرمایہ کاری کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو گیا؛
  • لازمی طور پر صرف پیٹرول میں ایتھنول ملانے کے منصوبے کے لیے ہی ایتھنول کی فراہمی؛ اور
  • ان کارخانوں کو پیداوار شروع کرنے کے لیے قدرتی طور پر تقریباً دو سال کا وقت درکار تھا۔ یہ صلاحیت راتوں رات پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔
  • ایک اور اہم سنگِ میل جون 2021 میں حاصل ہوا جب ’نیتی آیوگ‘نے گاڑیوں کے بنانے والوں، تیل کمپنیوں، زرعی ماہرین اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد ایتھنول کی آمیزش کا ایک جامع لائحہ عمل شائع کیا۔
  • اس رپورٹ میں نہ صرف ایتھنول کے ماحولیاتی اور توانائی کے تحفظ کے فوائد کو اجاگر کیا گیا، بلکہ دیہی آمدنی اور زرعی معیشت پر اس کے انقلابی اثرات کو بھی واضح کیا گیا۔
  • اس مرحلے پر، بھارت کو 10 فیصد آمیزش کے ہدف کے لیے سالانہ تقریباً 500 سے 600 کروڑ لیٹر ایتھنول کی ضرورت تھی۔ جیسے ہی نئی سرمایہ کاریاں سامنے آئیں اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا، یہ بات صاف ہو گئی کہ ملک جلد ہی تقریباً 1200 کروڑ لیٹر ایتھنول تیار کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ جب رسد کا پہلو محفوظ ہو گیا، تو 20 فیصد آمیزش کا عزم کرنا منطقی اور ذمہ دارانہ اقدام بن گیا۔
  • چنانچہ، یہ کہنا کہ بھارت نے ایتھنول ملانے کے کام میں ’جلدی‘ کی، حقائق کے بالکل برعکس ہے۔
  • یہ دو دہائیوں سے زیادہ پر محیط ایک طویل سفر رہا ہے، جس کی شروعات سال 2001 میں آزمائشی منصوبوں سے ہوئی، سال 2013 میں سرکاری حکمتِ عملی کا اعلان ہوا، سال 2018 کے بعد تنظیمی اصلاحات کی گئیں، سال 2021 میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع ہوئی، اور پھر نہایت احتیاط اور مرحلہ وار طریقے سے آمیزش کی شرح میں اضافہ کیا گیا۔
  • اس منصوبے کے آغاز سے پہلے تمام متعلقہ فریقوں بشمول گاڑی بنانے والی کمپنیوں، جانچ کرنے والے اداروں، تیل کی کمپنیوں اور خوراک و عوامی تقسیم کا محکمہ وغیرہ سے مکمل مشاورت کی گئی تھی۔

یہ پیش رفت انتہائی سوچ سمجھ کر اور منظم طریقے سے کی گئی ہے:

ایتھنول کی  سپلائی کا سال

ملاوٹ کا فیصد/صورتحال

ای ایس وائی 2020-21

~8.1%

ای ایس وائی 2021-22

10.0%

ای ایس وائی 2022-23

12.1%

ای ایس وائی 2023-24

14.60%

ای ایس وائی 2024-25

19.20%

ای ایس وائی 26-2025 (نومبر-جون- 2026)

20%

  • برازیل کو دہائیاں اس لیے لگیں کیونکہ وہ دنیا کا پہلا بڑے پیمانے کا ایتھنول کا نظام تیار کر رہا تھا۔
  • بھارت کو یہ فائدہ حاصل تھا کہ اس نے دنیا کے تجربات سے سیکھا، آزمائی ہوئی ٹیکنالوجی کو اپنایا، مختلف وزارتوں کے درمیان تال میل قائم کیا اور سرمایہ کاری کا ایک مضبوط ڈھانچہ تیار کیا۔ ہم نے سائنس یا حفاظت سے متعلق معاملات پر کوئی سمجھوتہ کیے بغیر، محض اپنے انتظام، منصوبہ بندی اور عمل درآمد کو بہتر بنا کر اس کام میں لگنے والے وقت کو کم کیا۔
  • یہی بھارت کی ایتھنول کی کامیابی کی اصل کہانی ہے، جو کہ ایک انتہائی سوچ سمجھ کر، مرحلہ وار اور بتدریج کی جانے والی تبدیلی ہے، نہ کہ کوئی جلد بازی میں یا راتوں رات لیا گیا فیصلہ۔

دوسرا سوال: صارفین کو خالص پیٹرول، ای-10یا ای-20  میں سے کسی ایک کو منتخب کر کے خریدنے کا اختیار کیوں نہیں دیا جا رہا؟ اور ان پرانی گاڑیوں کا کیا ہوگا جن پر صرف ای-10 کے موافق ہونے کا نشان لگا ہوا ہے؟

  • جب بھارت نے پیٹرول میں ایتھنول کی زیادہ مقدار ملانے کا فیصلہ کیا، تو گاڑیوں کی صنعت کو ہر مرحلے پر شامل رکھا گیا۔ ای-10 کی موافقت کے لیے، گاڑی بنانے والوں سے سال 2020-21 سے  پہلے ہی مشورہ کر لیا گیا تھا۔ بھارت نے ای-10 کا ہدف  جون 2022 میں حاصل کر لیا، جو کہ طے شدہ وقت سے پانچ ماہ پہلے تھا۔
  • ای-20 کے لیے اس سے بھی زیادہ سخت اور محتاط طریقہ کار اپنایا گیا۔ گاڑی بنانے والوں، پرزے فراہم کرنے والوں، جانچ کرنے والے اداروں اور تحقیقی اداروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی گئی۔ بین وزارتی کمیٹی کا لائحہ عمل سال 2021 سے عوامی سطح پر دستیاب تھا، جس میں ای-20 تک پہنچنے کا ایک منظم راستہ واضح کیا گیا تھا۔
  • اس دوران ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، جس میں میٹریل کی موافقت، انجن کی ترتیب، ایندھن کا نظام، گاڑی چلانے کی سہولت، پائیداری، دھوئیں کا اخراج اور ایندھن کی کارکردگی شامل ہیں۔
  • ای-20 کو بازار میں لانے سے پہلے، حکومت نے تمام متعلقہ فریقوں جیسے کہ گاڑی بنانے والی کمپنیوں، تکنیکی ماہرین اور جانچ کرنے والے اداروں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کے کئی دور کیے۔ تاکہ پورے نظام کی تیاری کو یقینی بنایا جا سکے۔ اگر گاڑی بنانے والے ان نتائج سے پوری طرح مطمئن نہ ہوتے، تو وہ کبھی بھی اس ایندھن کی تائید نہ کرتے اور نہ ہی گاڑیوں کی ضمانت  کی ذمہ داری لیتے۔ یہ حقیقت کہ آج تقریباً ہر کمپنی پرانی اور نئی، تمام گاڑیوں کی ضمانت برقرار رکھے ہوئے ہے، صرف اسی لیے ممکن ہوا کیونکہ وہ اس مشاورتی عمل کا حصہ تھے۔
  • مزید برآں، ’ماروتی سوزوکی‘ کمپنی نے مالیاتی سال 2025-26 کے دوران 2 کروڑ 84 لاکھ گاڑیوں کی مرمت اور دیکھ بھال کی، جن میں 1 کروڑ 50 لاکھ ایسی پرانی گاڑیاں بھی شامل تھیں جو ای-20 کے لیے سند یافتہ نہیں تھیں۔ اس کے باوجود، کمپنی نے ای-20 ایندھن کی وجہ سے زنگ لگنے، پرزوں کے غیر معمولی گھساؤ یا ان کی عمر کم ہونے کا کوئی ایک معاملہ بھی درج نہیں کیا۔ ’ہیرو موٹو کارپ‘ کمپنی نے بھی زمینی سطح پر اسی طرح کے تجربات کی تصدیق کی ہے۔ حقیقی دنیا کے یہ ٹھوس شواہد، کسی بھی اکادکا افواہ یا سنی سنائی بات کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابلِ بھروسہ ہیں۔
  • یہ سچ ہے کہ کچھ گاڑیوں میں ایندھن کی کارکردگی (اوسط یا مائلج) میں 3 سے 5 فیصد تک کی کمی آ سکتی ہے۔ لیکن گاڑی کی اوسط محض ایک پیمانہ ہے۔
  • ای-20 ایندھن کہیں زیادہ بہتر کارکردگی کی درجہ بندی (آکٹین ریٹنگ) فراہم کرتا ہے، انجن کو جھٹکوں اور خرابی سے بچانے کی اعلیٰ خصوصیات رکھتا ہے، اس کے جلنے کا عمل تیز ہوتا ہے، یہ گاڑی کو بہتر رفتار (پک اپ) دیتا ہے، رفتار بڑھانے کے عمل کو ہموار بناتا ہے اور انجن کو اندر سے صاف رکھتا ہے۔
  • یہ ایندھن نہ ہونے کے برابر باریک زہریلا دھواں پیدا کرتا ہے اور ماحول کو نقصان پہنچانے والی گیسوں (کاربن کے اخراج) میں مجموعی طور پر تقریباً 40 فیصد تک نمایاں کمی لاتا ہے۔
  • مختصر یہ کہ، یہ ای-10 یا خالص پیٹرول دونوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ صاف، اعلیٰ معیار کا اور زیادہ کارآمد ایندھن ہے۔
  • چنانچہ، اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک زیادہ صاف، تیز رفتار اور کم آلودگی پھیلانے والا ایندھن دستیاب ہے، تو ہم جان بوجھ کر ایک کم تر متبادل کا انتخاب کیوں کریں گے؟
  • یہ تجویز کہ ہر پیٹرول پمپ پر خالص پیٹرول، ای-10 اور ای-20 بیک وقت دستیاب ہونا چاہیے، بھارت کے ایندھن کی تقسیم کے نظام کی زمینی حقیقتوں کو نظر انداز کرتی ہے۔
  • بھارت میں ایک لاکھ سے زیادہ پیٹرول پمپ کام کر رہے ہیں، جنہیں تیل صاف کرنے والے کارخانوں، ذخیرہ گاہوں، گوداموں اور پائپ لائنوں کے ایک بہت بڑے نیٹ ورک کا تعاون حاصل ہے۔
  • اس وسیع تر رسد کے نظام (سپلائی چین) میں پیٹرول کی اتنی ساری اقسام کو برقرار رکھنا ایک بہت بڑا انتظامی چیلنج بن جائے گا، جس سے دیکھ بھال کے اخراجات بڑھیں گے، مال کے انتظام میں پیچیدگیاں آئیں گی اور کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی۔
  • لوگ اکثر ’پریمیئم پیٹرول‘ (اعلیٰ درجے کے پیٹرول) کی مثال دیتے ہیں۔ لیکن یہ موازنہ درست نہیں ہے۔ اعلیٰ درجے کے ایندھن مخصوص ضرورت کے لیے ہوتے ہیں جو محدود مقدار میں اور کافی مہنگے داموں بیچے جاتے ہیں، کیونکہ ان میں گاڑی کی کارکردگی بڑھانے والے خاص کیمیکل ملائے جاتے ہیں۔ وہ ملک بھر میں عام استعمال ہونے والے الگ ایندھن نہیں ہیں۔ خالص پیٹرول، ای-10 اور ای-20 کے لیے ملک بھر میں متوازی اور الگ الگ رسد کا نظام چلانا بالکل ایک الگ اور انتہائی مشکل کام ہوگا۔
  • ایک اور پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
  • گزشتہ کئی برسوں کے دوران، عوامی شعبے کے بینکوں نے ایتھنول کی پیداوار اور اس سے جڑے بنیادی ڈھانچے میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے لیے مالی امداد فراہم کی ہے۔ بھارت کے آمیزش کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے مخصوص ایتھنول کارخانے، کشید گاہیں (ڈسٹلریز)، ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور مال برداری کے نیٹ ورک قائم کیے گئے ہیں۔
  • اگر یہ تمام صلاحیت پیدا کرنے کے بعد، ہم من مانے طریقے سے دوبارہ ای-10 پر واپس چلے جائیں، تو ان سرمایہ کاریوں کا کیا ہوگا؟ اس ضرورت سے زیادہ پیدا ہونے والی صلاحیت کا کیا ہوگا؟ اور ایک قومی حکمتِ عملی پر بھروسا کرتے ہوئے کسانوں، امدادِ باہمی کی انجمنوں، کاروباریوں، مالیاتی اداروں اور سرکاری کمپنیوں کی طرف سے نیک نیتی کے ساتھ لگائے گئے ہزاروں کروڑ روپے کا کیا ہوگا؟
  • عوامی حکمتِ عملی (پبلک پالیسی) میں صارفین کے مفادات، توانائی کے تحفظ، ماحولیاتی پائیداری، کسانوں کی فلاح و بہبود اور قومی وسائل کے سمجھداری سے استعمال کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہوتا ہے۔
  • کیا آج کوئی ہم سے یہ کہے گا کہ جدید عوامی ٹرانسپورٹ کی جگہ دہلی کی پرانی نیلے رنگ کی بسیں واپس لائی جائیں؟ کیا کوئی یہ دلیل دے گا کہ ہمیں گڑھوں سے بھری پرانی سڑکوں پر واپس چلے جانا چاہیے کیونکہ ہم ان کے عادی تھے؟ کیا دہلی صاف ستھرے سفری ایندھن کو چھوڑ کر زیادہ آلودگی پھیلانے والے متبادلات کو دوبارہ اپنائے گی؟
  • ترقی کا مطلب بہتر ٹیکنالوجی کو گلے لگانا ہے۔
  • ای-20 ایندھن کے جلنے کے زیادہ صاف عمل، کم دھوئیں کے اخراج، خام تیل کی درآمدات میں کمی، بھارتی کسانوں کے لیے زیادہ آمدنی اور ملک کے لیے توانائی کے وسیع تر تحفظ کی نمائندگی کرتا ہے۔
  • جب ایک اعلیٰ درجے کے ایندھن کی سائنسی طور پر تصدیق ہو چکی ہو، اس کا بڑے پیمانے پر تجربہ کیا جا چکا ہو اور گاڑیوں کی صنعت نے اسے قبول کر لیا ہو، تو ہمارا مقصد پورے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا ہونا چاہیے، نہ کہ کسی کم تر معیار کی طرف واپس لوٹنا۔

تیسرا سوال: اگر پیٹرول میں ایتھنول ملایا جاتا ہے، تو پھر ای-20 ایندھن، ای-10 یا خالص پیٹرول کے مقابلے میں سستا کیوں نہیں ہے؟

فیڈ اسٹوک

ایتھنول کی سپلائی کا سال(قیمت روپئے میں)

21-22

22-23

23-24

24-25

25-26 (عبوری)

سی - گڑ

46.66

49.41

56.28

(Incentive of 6.87)

57.97

 

57.97

 

بی - گڑ

59.08

60.73

60.73

60.73

60.73

گنے کا رس/چینی/شربت

63.45

65.61

65.61

65.61

65.61

خراب شدہ غذائی اجناس

52.92

64.0@

64.00

64.00

64.00

ایف سی آئی چاول

56.87

58.5

58.50

58.50

60.32

مکئی

52.92

66.07@

71.86

(5.79کا انشنٹیو)

71.86

 

71.86

 

  • آج، حکومت ایتھنول کو نفع بخش قیمتوں پر خریدتی ہے تاکہ بھارتی کسانوں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ مل سکے۔ مکئی سے تیار ہونے والے ایتھنول ہی کی مثال لے لیجیے۔ ہم نے اس کی سرکاری قیمتِ خرید میں مسلسل اضافہ کیا ہے اور آج یہ قیمت، اشیاء و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی)، نقل و حمل، ذخیرہ اندوزی اور گودام کی دیکھ بھال کے اخراجات شامل کیے بغیر بھی، تقریباً 71.86 روپے فی لیٹر ہے۔
  • چنانچہ، اگر بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمت تقریباً 70 امریکی ڈالر فی بیرل کے آس پاس ہو، تو خالص پیٹرول کے مقابلے میں ای-20 ایندھن کو تیار کرنا حقیقت میں زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔
  • اگر خام تیل کی قیمت بڑھ کر 120 سے 130 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے، تو یہ معاشی منظر نامہ قدرتی طور پر الٹ جاتا ہے اور ایتھنول پیٹرول سے بھی زیادہ سستا ہو جاتا ہے۔
  • اس لیے، سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ’’ای-20 سستا کیوں نہیں ہے؟‘‘
  • اصل سوال یہ ہے کہ ’’بھارت عالمی سطح پر خام تیل کی بدلتی ہوئی قیمتوں کے شدید اثرات سے اپنے صارفین کو بچانے میں کس طرح کامیاب رہا؟‘‘
  • اس کا جواب بالکل سادہ ہے۔
  • آج بھارت میں فروخت ہونے والے پیٹرول کے ہر ایک لیٹر کا تقریباً 20 فیصد حصہ ملک کے اندر ہی تیار کردہ ایتھنول پر مشتمل ہے۔ وہ ایتھنول تقریباً 71 روپے فی لیٹر کی قیمت پر خریدا جاتا ہے اور یہ ایک ایسی قیمت ہے جو خام تیل کے عالمی نرخوں، جغرافیائی و سیاسی تنازعات یا سمندری مال برداری کی رکاوٹوں کی وجہ سے ہر صبح تبدیل نہیں ہوتی۔
  • دوسرے لفظوں میں، آپ کی گاڑی کے ایندھن کے ٹینک کا پانچواں حصہ بین الاقوامی تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے پوری طرح محفوظ ہے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی بدولت عالمی سطح پر پیدا ہونے والی بے پناہ رکاوٹوں کے باوجود، بھارت میں پیٹرول کی خردہ  قیمتوں میں سب سے کم اضافہ دیکھنے کو ملا۔
  • لہٰذا، پیٹرول میں ایتھنول ملانے کا مقصد کسی ایک خاص دن پیٹرول کو سستا کرنا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا اصل مقصد درآمد کیے جانے والے خام تیل پر بھارت کے انحصار کو کم کرنا ہے۔
  • اسی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران، دنیا کی بڑی معیشتوں اور اپنے پڑوسی ممالک کے مقابلے میں بھارت میں ایندھن کی قیمتوں میں سب سے کم اضافہ درج کیا گیا ہے۔

پٹرول (روپئے / لیٹر)

ڈیزل(روپئے/ لیٹر)

ملک

جون-22

جون-26

(فیصد)

جون-22

جون-26

(فیصد)

پاکستان

92.64

129.48

39.77

79.98

130.51

63.18

سری لنکا

90.43

123.59

36.66

86.13

115.90

34.57

نیپال

113.99

137.19

20.35

103.22

142.25

37.81

بنگلہ دیش

76.97

109.82

42.69

71.60

90.21

26

اٹلی

166.85

197.52

18.39

161.38

207.84

28.79

جرمنی

163.18

194.26

19.05

167.70

184.55

10.04

فرانس

174.18

205.08

17.74

171.06

203.95

19.23

بھارت (دہلی)

96.72

102.12

5.58

89.62

95.20

6.23

جیسا کہ جدول (ٹیبل) سے دیکھا جا سکتا ہے، مغربی ایشیا (مشرقِ وسطیٰ) کے بحران کے آغاز کے بعد سے، دیگر ممالک کے مقابلے میں بھارت اب بھی ایندھن کی قیمتوں میں سب سے کم اضافے والے ملک کے طور پر نمایاں ہے۔

پٹرول (روپئے / لیٹر)

ڈیزل(روپئے/ لیٹر)

ملک

مارچ 2026

جون 2026

(فیصد)

مارچ 2026

جون 2026

(فیصد)

پاکستان

86.85

130.61

50.39

91.64

130.27

42.15

سری لنکا

86.79

125.81

44.96

83.24

117.98

41.73

نیپال

99.28

136.89

37.88

89.79

141.93

58.07

بنگلہ دیش

87.08

109.62

25.88

75.07

90.04

19.94

بھارت(دہلی)

94.77

102.12

7.76

87.67

95.20

8.59

ماخذ(پی پی اےسی) ​​​​​

(قیمت بھارتی روپئے میں)

پٹرول (روپئے / لیٹر)

ڈیزل(روپئے/ لیٹر)

ملک

مارچ 2026

مئی2026

(فیصد

مارچ 2026

مئی 2026

(فیصد)

امریکہ

89.14

113.09

26.87

120.59

141.39

17.25

فرانس

203.42

232.30

14.20

213.91

234.12

9.45

اٹلی

187.66

212.80

13.40

207.69

224.37

8.03

بھارت

94.77

94.77

-

87.67

87.67

-

پی پی اے سی کے ذریعے جون کے مہینے کے اعداد و شمار 11 جولائی 2026 کو دستیاب ہوں گے۔

پیٹرول میں ملائے جانے والے ایتھنول کے ہر ایک لیٹر کا مطلب ہے:

  • خام تیل کی درآمدات میں کمی،
  • غیر ملکی زرِ مبادلہ کے اخراج (باہر جانے والے پیسے) میں کمی،
  • بھارتی کسانوں کے لیے زیادہ آمدنی،
  • صارفین کے لیے قیمتوں میں زیادہ استحکام، اور
  • ملک کے لیے توانائی کا مضبوط تحفظ۔

یہی وجہ ہے کہ پیٹرول میں ایتھنول ملانے کے منصوبے نے (ایندھن سپلائی سال 15-2014 سے اب تک) پہلے ہی:

  • غیر ملکی زرِ مبادلہ میں 1.97 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت کی ہے،
  • تقریباً 316 لاکھ میٹرک ٹن خام تیل کا متبادل فراہم کیا ہے،
  • کاربن کے اخراج میں تقریباً 952 لاکھ میٹرک ٹن کی کمی کی ہے، اور
  • 1.66 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم براہِ راست بھارتی کسانوں کے ہاتھوں میں منتقل کی ہے۔
  • ہمارے کسان اب صرف ’ان داتا‘نہیں رہے، بلکہ وہ ’اُورجا داتا‘بن چکے ہیں، جو بھارت کے توانائی کے تحفظ میں براہِ راست اپنا تعاون رہے ہیں۔

چوتھا سوال: یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ ای-20 ایندھن ربڑ کے پرزوں کو نقصان پہنچاتا ہے، پرانی گاڑیوں کے انجن پر اثر انداز ہوتا ہے، اور بہت سی گاڑیوں کے مینول)میں خاص طور پر ’ای-10 کے موافق‘ لکھا ہوا ہے۔ کیا پرانی گاڑیوں کے مالکان کو پریشان ہونا چاہیے؟

  • بدقسمتی سے، جیسے جیسے بھارت کا ایتھنول منصوبہ آگے بڑھا ہے، ویسے ہی اس کے بارے میں غلط فہمیاں بھی پھیلائی گئی ہیں۔
  • جب سے بھارت نے ای-85 (85 فیصد ایتھنول آمیز ایندھن) متعارف کرایا ہے، تب سے کچھ مفاد پرست گروہوں نے بلاوجہ کا خوف پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہر چند مہینوں بعد ایک نئی افواہ سامنے آتی ہے: جیسے ربڑ کی نلیاں خراب ہو جائیں گی، انجن جام ہو جائیں گے، یا ایندھن کے ٹینکوں میں ژنگ لگ جائے گا۔ ان دعووں میں سے کوئی بھی سائنسی شواہد پر پورا نہیں اترتا۔
  • آئیے حقائق پر نظر ڈالتے ہیں۔
  • بھارت کا ای-20 ایندھن کی طرف منتقلی کا یہ فیصلہ کوئی راتوں رات لیا گیا قدم نہیں تھا۔
  • اس لائحہ عمل کو حتمی شکل دینے سے پہلے، حکومت نے ماہرین کی کمیٹیاں تشکیل دیں جن میں گاڑی بنانے والی کمپنیاں، گاڑیوں کی تحقیقی اور جانچ کرنے والی تنظیمیں، تیل کمپنیاں اور تکنیکی ادارے شامل تھے۔
  • سال 2021 میں، ’نیتی آیوگ‘ نے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد ایک جامع لائحہ عمل شائع کیا۔ اسی لائحہ عمل میں ای-10 سے ای-20 کی طرف منتقلی اور گاڑیوں کی صنعت کے لیے ضروری تیاریوں کا بھی احاطہ کیا گیا تھا۔ اس لیے، گاڑی بنانے والے اداروں کو سالوں پہلے ہی اس حکمتِ عملی کی سمت کا پورا علم تھا۔
  • اگر کمپنیاں اس عمل میں شامل نہ ہوتیں، تو وہ کبھی بھی ای-20 کے موافق گاڑیوں کی تصدیق نہ کرتیں اور نہ ہی گاڑیوں کی ضمانت (وارنٹی) کی ذمہ داریوں کو پورا کرتیں۔
  • بھارت بھر میں ای-15 اور اس سے زیادہ کی آمیزش والا ایندھن اب ساڑھے تین سال سے زیادہ عرصے سے استعمال ہو رہا ہے۔
  • ای-20 کو بازار میں لانے سے پہلے، اس کا 40,000 کلومیٹر سے زیادہ کا سائنسی تجربہ کیا گیا، جس کے بعد زمینی سطح پر تفصیلی جانچ کی گئی جس میں انجن کی پائیداری، ایندھن کے نظام،میٹریل کی موافقت، ژنگ سے بچاؤ، گاڑی چلانے کی سہولت، دھوئیں کے اخراج اور کارکردگی کا جائزہ شامل تھا۔
  • لیکن تجربہ گاہوں کی جانچ تو کہانی کا صرف ایک حصہ ہے۔
  • سب سے بڑا ثبوت حقیقی دنیا سے ملتا ہے۔
  • صرف ’ماروتی سوزوکی‘ کمپنی نے ہی تقریباً ڈھائی کروڑ گاڑیوں کی دیکھ بھال اور مرمت کی ہے، جن میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ ایسی پرانی گاڑیاں شامل تھیں جنہیں اصل میں کبھی بھی ای-20 کے موافق ہونے کی سند نہیں دی گئی تھی۔ اگر ای-20 ایندھن واقعی ربڑ کے پرزوں، ایندھن کی نلیوں یا انجنوں کو نقصان پہنچا رہا ہوتا، تو اب تک ہمارے سامنے لاکھوں کی تعداد میں ضمانت کے دعوے، بڑے پیمانے پر پرزوں کی خرابیاں اور ملک بھر میں شکایتوں کا ایک سیلاب آ چکا ہوتا۔
  • لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہوا ہے۔
  • ایک اور خدشہ گاڑیوں کے مینول سے متعلق ہے جن پر ’’ای-10 کے موافق‘‘ کے الفاظ لکھے ہوتے ہیں۔
  • لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان نشانات کا کیا مطلب ہے۔
  • گاڑی کا مینول اس وقت کے ایندھن کے معیار کی عکاسی کرتا ہے جب اس گاڑی کو جانچ کے بعد سرکاری طور پر منظور اور سند یافتہ کیا گیا تھا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اگر وسیع سائنسی تجربات، انجینئرنگ کی تصدیق اور قانونی منظوری کے بعد ایندھن کے معیار کو بہتر بنایا جائے، تو وہ گاڑی اچانک غیر محفوظ ہو جائے گی۔ اگر اسی منطق کو ہر جگہ نافذ کیا جائے، تو دنیا کا کوئی بھی ملک کبھی بھی اپنے ایندھن کے معیار کو آگے نہیں بڑھا سکے گا۔
  • چنانچہ، ای-10 سے ای-20 کی طرف منتقلی کا یہ فیصلہ محض مفروضوں پر نہیں، بلکہ سالہا سال کے تجربات، گاڑی بنانے والوں کے ساتھ مشاورتی عمل اور زمینی تجربے پر مبنی تھا۔
  • بھارت میں ایتھنول کی فراہمی کا نظام ملک میں ایندھن کی فراہمی کے سب سے زیادہ سخت اور منظم ترین نظاموں میں سے ایک ہے۔ ایتھنول اور آمیزش والا پیٹرول ’بھارتی معیارات کے بیورو‘ (بی آئی ایس) کے سخت اصولوں کے مطابق ہوتے ہیں اور کشید گاہ (ڈسٹلری) سے لے کر گودام اور پیٹرول پمپ تک ہر مرحلے پر ان کے معیار کی جانچ کی جاتی ہے۔
  • اس رسد کے نظام میں کہیں بھی کسی بھی قسم کی ضابطے سے متعلق کوتاہی سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ ریاستوں کے چیف سیکرٹریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ سخت نفاذ کو یقینی بنائیں اور ملاوٹ کے کسی بھی معاملے پر سختی سے کارروائی کریں۔ ایندھن کے معیار پر سمجھوتہ کرنے والی کسی بھی کوتاہی کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔
  • ای-20 ایک محفوظ، صاف ستھرا، آزمودہ اور سائنسی طور پر تصدیق شدہ ایندھن ہے جسے بھارتی صارفین پورے اعتماد کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے معیار، حفاظت اور موافقت کی تصدیق اور یقین دہانی تمام ذمہ دار متعلقہ اداروں نے کی ہے، جن میں گاڑی بنانے والی کمپنیاں، جانچ اور منظوری دینے والے ادارے، تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی سرکاری کمپنیاں اور انضباطی حکام شامل ہیں۔
  • اس لیے صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سماجی روابط کی ویب سائٹس (سوشل میڈیا) پر گردش کرنے والی غلط معلومات، خوف پھیلانے والی باتوں یا غیر تصدیق شدہ باتوں سے گمراہ نہ ہوں۔

ضمیمہ نمبر 1

بھارت میں پیٹرول کے اندر ایتھنول کی آمیزش: اہم سنگِ میل (سال 2000 سے 2026 تک)

سال 2000 سے 2010 تک

  • پیٹرول میں ایتھنول ملانے کے منصوبے کا باقاعدہ آغاز 9 ریاستوں اور 4 مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 5 فیصد ایتھنول آمیز پیٹرول کی فراہمی کے لیے کیا گیا تھا؛ اس کے ساتھ ہی، سال 2003 کی گاڑیوں کے ایندھن کی حکمتِ عملی میں پہلی بار پیٹرول میں ایتھنول کی آمیزش کو شامل کیا گیا۔

ماخذ:PIB PRID 2277210 – confirms EBP “launched in 2003”

وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کے ایک سرکاری حکم نامے کے ذریعے لازمی 5 فیصد ایتھنول آمیز پیٹرول کی فراہمی کو پورے ملک کی سطح پر 20 ریاستوں اور 8 مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں تک بڑھا دیا گیا (شمال مشرقی حصوں اور جموں و کشمیر کے کچھ علاقوں کو چھوڑ کر)۔

ماخذ: Press Information Bureau

  • راجیہ سبھا  میں ایک تحریری جواب کے دوران، حکومت نے بیان کیا کہ ایتھنول کی ناکافی فراہمی، ایک ریاست سے دوسری ریاست میں نقل و حمل کی پابندیوں اور ریاستی ٹیکسوں کے مسائل کی وجہ سے 5 فیصد ایتھنول آمیز پیٹرول کا منصوبہ ابھی تک مستحکم نہیں ہو سکا ہے۔

ماخذ: Press Information Bureau

سال 2010 سے 2020 تک: حکمتِ عملی کا استحکام اور تیز رفتاری

  • دسمبر 2014: پیٹرول میں ایتھنول ملانے کے منصوبے کے تحت خریدی جانے والی ایتھنول کے لیے سرکاری طور پر طے شدہ قیمت کا نظام دوبارہ نافذ کیا گیا؛ ایتھنول کی پیداوار کے لیے متبادل راستے کھولے گئے اور تیل کی سرکاری کمپنیوں کو حیاتیاتی ایندھن صاف کرنے کے کارخانے (بائیو ریفائنریز) قائم کرنے کی ہدایت دی گئی۔
  • سال 15-2014: ٹھیکوں (ٹینڈر) کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے۔
  • مئی 2016: صنعتوں (ترقی اور ضابطہ کاری) کے قانون میں 14 مئی 2016 کو ترمیم کی گئی تاکہ پیٹرول میں ملانے کے لیے ایتھنول کی مسلسل فراہمی کے سلسلے میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے کردار کو واضح کیا جا سکے۔
  • جون 2018: تمام متعلقہ فریقوں کو شامل کرتے ہوئے، مستقبل کی ضرورتوں کے مطابق اور جدید ’حیاتیاتی ایندھن کی قومی حکمتِ عملی 2018‘ کا سرکاری اعلان کیا گیا۔
  • جولائی 2018: ملک میں ایتھنول کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے اور بڑھانے کے لیے سود میں رعایت کی ایک اسکیم شروع کی گئی۔ ایتھنول پر اشیاء و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کو 18 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد کر دیا گیا۔
  • سال 19-2018: گنے کے کثیف رس (بی-ہیوی مولاسس)، گنے کے تازہ رس اور خراب ہو جانے والے اناج کو ایتھنول میں تبدیل کرنے کی اجازت دی گئی۔
  • اپریل 2019: جزائر پر مشتمل مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں (انڈمان و نکوبار اور لکشدیپ) کو چھوڑ کر، پیٹرول میں ایتھنول ملانے کے منصوبے کا دائرہ کار پورے بھارت تک بڑھا دیا گیا۔
  • ستمبر 2019: ایتھنول کی پیداوار کے لیے نئے ذرائع یعنی چینی اور چینی کے شربت کو متعارف کرایا گیا اور ان کی ایک طے شدہ نفع بخش قیمت مقرر کی گئی۔
  • اکتوبر 2019: ’’پیٹرول میں ایتھنول ملانے کے منصوبے کے تحت طویل مدتی بنیادوں پر ایتھنول کی خریداری کی حکمتِ عملی‘‘ شائع کی گئی۔
  • اگست 2020: ایتھنول فراہم کرنے والوں کے لیے طویل مدت کے لیے یکمشت رجسٹریشن  کا نظام شروع کیا گیا، جس کے تحت انہیں اگلے 5 سالوں تک ایتھنول کی متوقع طلب کی واضح معلومات فراہم کی گئیں۔
  • ستمبر 2020: تیل منڈی کی سرکاری کمپنیوں نے ایتھنول کی پیداواری صلاحیت بڑھانے والے منصوبوں کی مدد کے لیے، ایتھنول فراہم کرنے والوں اور بینکوں کے ساتھ سہ فریقی معاہدے پر دستخط کرنے کی رضامندی اور خریداری کی ضمانت کا خط دینا شروع کیا۔
  • اکتوبر 2020: تیل کمپنیوں کی طرف سے ٹھیکوں کی شرائط کو مزید آسان بنایا گیا، جیسے کہ صرف ایک بار دستاویزات جمع کرانا، سہ ماہی بینک ضمانتیں، نقل و حمل کے اخراجات کے متعدد سلیب اور نقل و حمل کے نرخوں کو ڈیزل کی خردہ قیمتِ فروخت سے جوڑنا، نیز حفاظتی رقم (سیکیورٹی ڈپازٹ) اور مال فراہم نہ کرنے کی صورت میں لگنے والے جرمانے میں کمی وغیرہ۔
  • نومبر 2020: قومی حیاتیاتی ایندھن رابطہ کمیٹی کی طرف سے ایتھنول کی پیداوار کے لیے مکئی کے استعمال کو  منظوری دی گئی۔ ایتھنول کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے سود میں رعایت کی اسکیم کا دائرہ کار اناج پر مبنی کشید گاہوں (ڈسٹلریز) تک بڑھا دیا گیا۔
  • دسمبر 2020: تیل منڈی کی سرکاری کمپنیوں نے اپنی ایتھنول ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو نومبر 2017 کے 5.39 کروڑ لیٹر سے بڑھا کر دسمبر 2020 تک 16.9 کروڑ لیٹر کر دیا، جس سے ان کے گوداموں میں 20 دن سے زیادہ کا ایتھنول ذخیرہ کرنے کی گنجائش فراہم ہو گئی۔

ماخذ: https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?Id=148564&reg=48&lang=2

سال 2021

  • وزیرِ اعظم نے جون 2021 میں ’بھارت میں ایتھنول کی آمیزش کا لائحہ عمل 2020-25‘ (روڈ میپ) جاری کیا، جسے ایک بین وزارتی کمیٹی نے تیار کیا تھا اور اس میں پیٹرول کے اندر 20 فیصد ایتھنول ملانے کا ایک تفصیلی راستہ واضح کیا گیا تھا۔ اس لائحہ عمل میں نومبر 2022 تک 10 فیصد آمیزش حاصل کرنے کا ایک درمیانی سنگِ میل بھی مقرر کیا گیا تھا۔

ماخذ: PIB PRID 1831289 – “India has achieved the target of 10 percent ethanol blending, 5 months ahead of schedule”

  • ایندھن سپلائی سال 21-2020 میں پیٹرول کے اندر ایتھنول کی آمیزش 302.3 کروڑ لیٹر رہی، جبکہ اس سے پچھلے سالوں کے دوران آمیزش کا تناسب سال 14-2013 کے 1.53 فیصد سے مسلسل بڑھتا رہا۔

ماخذ: PIB PRID 2043042 – “Increase in Blending of Ethanol” (Lok Sabha reply)

  • میڈیا کی خبروں میں (سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے) اس مدت کے دوران پونے میں ’ای-100‘ (سو فیصد خالص ایتھنول ایندھن) کے ایک آزمائشی منصوبے کا ذکر کیا گیا، جو کہ پیٹرول میں ایتھنول کی زیادہ مقدار والے ایندھنوں کی افادیت کو ظاہر کرنے کی کوششوں کا ایک حصہ تھا۔

ماخذ: Press Information Bureau

  • ’بھارتی معیارات کے بیورو' (بی آئی ایس) نے ای-12 (12 فیصد ایتھنول آمیز) اور ای-15 (15 فیصد ایتھنول آمیز) ایندھن کے معیارات جاری کیے۔

ماخذ: (Press Information Bureau)

حکومت نے اعلان کیا کہ ای-20 ایندھن اپریل 2023 سے دستیاب کرایا جائے گا۔

ماخذ: Press Information Bureau

سال 2022

  • تیل منڈی کی سرکاری کمپنیوں نے ایندھن سپلائی سال 22-2021 کے دوران، جون 2022 میں ہی پیٹرول میں 10 فیصد ایتھنول ملانے کا ہدف حاصل کر لیا  جو کہ لائحہ عمل کے تحت طے کیے گئے نومبر 2022 کے ہدف سے پانچ ماہ پہلے ہی مکمل کر لیا گیا تھا۔

ماخذ: Press Information Bureau

  • وزیر (پٹرولیم و قدرتی گیس )نے ’سیام‘ (سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز-ایس آئی اے ایم) کی حیاتیاتی ایندھن پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں بیان کیا کہ پیٹرول میں ایتھنول کی آمیزش سال 2013 کے 0.67 فیصد سے بڑھ کر مئی 2022 میں 10 فیصد ہو گئی ہےاور انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ 20 فیصد آمیزش کے ہدف کو پانچ سال آگے بڑھا کر 2030 کی بجائے 2025 کر دیا گیا ہے۔

ماخذ: PIB PRID 1869250 – “There is a need to massively upscale production of flex-fuel engine vehicles in country: Shri Hardeep S. Puri”

  • پچھلے 8 سالوں کے دوران حاصل ہونے والی اس کامیابی کی بدولت ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے، جن میں 41,500 کروڑ روپے سے زائد کے غیر ملکی زرمبادلہ کی بچت ہوئی، زہریلی گیسوں (گرین ہاؤس گیسوں) کے اخراج میں 27 لاکھ میٹرک ٹن کی کمی آئی اور کسانوں کو 40,600 کروڑ روپے سے زیادہ کی ادائیگیاں کی گئیں۔

ماخذ: PIB PRID 1831289

  • وزیر (پٹرولیم و قدرتی گیس) نے اعلان کیا کہ سال 2025 تک بھارت میں ایتھنول کی طلب بڑھ کر 10.16 ارب لیٹر تک پہنچنے کی توقع ہے، اور حیاتیاتی ایندھن فروخت کرنے والے پیٹرول پمپوں کی تعداد سال 17-2016 کے 29,897 سے تین گنا بڑھ کر سال 22-2021 میں 67,641 ہو گئی ہے۔

ماخذ: PIB PRID 1869250

  • وزیر (پٹرولیم و قدرتی گیس) نے گاڑیوں کے مینوفیکچررز پر زور دیا کہ وہ فلیکس فیول انجن (متبادل ایندھن پر چلنے والے انجن) والی گاڑیوں کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کریں، تاکہ ای-20 ایندھن کی دستیابی کا بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے اور بھارت میں حیاتیاتی ایندھن کی طرف منتقلی کے عمل کو مدد مل سکے۔

ماخذ: Press Information Bureau

  • حیاتیاتی ایندھن کی قومی حکمتِ عمل 2018 میں سال 2022 کے دوران ترمیم کی گئی تاکہ پیٹرول میں 20 فیصد ایتھنول ملانے کی آخری تاریخ کو باقاعدہ طور پر آگے بڑھا کر ’ایندھن سپلائی سال 26-2025‘ کیا جا سکے، اور ایتھنول کی تیاری کے لیے موزوں خام مال کے دائرہ کار کو وسیع کر کے اس میں خراب ہو جانے والے اناج، ٹوٹے ہوئے چاول (کنکی) اور انسانی استعمال کے لیے غیر موزوں اناج کو بھی شامل کیا جا سکے۔

ماخذ: PIB PRID 2043042 – “Increase in Blending of Ethanol” (Lok Sabha reply, feedstock list)

2023

  • وزیر (پٹرولیم و قدرتی گیس) نے اعلان کیا کہ اپریل 2023 سے ملک بھر میں ای-20 ایندھن دستیاب کرایا جائے گا اور انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ بھارت اس آمیزے کو بازار میں اتارنے کے لیے سپلائی کی سطح پر مکمل طور پر تیار ہے۔

ماخذ: PIB PRID 1869250

  • محترم وزیر اعظم نے ایتھنول کی آمیزش کے لائحہ عمل کے مطابق، 6 فروری 2023 کو بنگلورو میں ’انڈیا انرجی ویک‘کے موقع پر 11 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں پھیلے ہوئے تیل منڈی کی سرکاری کمپنیوں کے 84 خردہ مراکز (پیٹرول پمپوں) پر ای-20 ایندھن کا آغاز کیا۔ میڈیا کی خبروں میں وزیرِ اعظم کے خطاب کے حوالے سے مزید بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں اسے 15 شہروں میں شروع کیا جائے گا، جبکہ 2025 تک اس کا دائرہ کار پورے بھارت میں پھیلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ماخذ: PIB PRID 1896729 – “Prime Minister launches E20 Fuel & flags off Green Mobility Rally in Bengaluru today”

  • بھارت نے نئی دہلی میں جی-20 سربراہی اجلاس کے موقع پر 9 ستمبر 2023 کو ’عالمی حیاتیاتی ایندھن اتحاد‘ (گلوبل بائیو فیولز الائنس) کے قیام کی قیادت کی۔ اس کا اعلان وزیرِ اعظم نریندر مودی نے امریکہ، برازیل، اٹلی، ارجنٹائن، سنگاپور، بنگلہ دیش، ماریشس اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر کیا، تاکہ پائیدار حیاتیاتی ایندھن کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

ماخذ: PIB PRID 1955836 – “Historic moment in Global Energy Sector: Global Biofuels Alliance (GBA) announced at G20 event”

  • ایندھن سپلائی سال 23-2022 میں پیٹرول کے اندر ایتھنول کی آمیزش بڑھ کر 500 کروڑ لیٹر سے زیادہ ہو گئی، جس سے آمیزش کا تناسب 12.06 فیصد تک پہنچ گیا۔

ماخذ: PIB PRID 2043042 – “Increase In Blending Of Ethanol” (Lok Sabha reply, MoS Suresh Gopi)

  • راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب کے دوران، حکومت نے پارلیمنٹ کو مطلع کیا کہ تیل منڈی کی سرکاری کمپنیاں 6 فروری 2023 سے ای-20 پیٹرول فروخت کر رہی ہیں اور ملک بھر میں 1,900 سے زیادہ خردہ مراکز (پیٹرول پمپ) پہلے ہی ای-20 ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔

(ماخذ) Press Information Bureau

2024

  • پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کی طرف سے لوک سبھا میں دیے گئے جوابات کے مطابق، ایندھن سپلائی سال 24-2023 میں ایتھنول کی آمیزش 13 فیصد سے تجاوز کر گئی (31 اگست 2024 تک تقریباً 545.05 کروڑ لیٹر ایتھنول ملایا گیا)، اور ایندھن سپلائی سال 24-2023 کے اختتام پر یہ آمیزش 14.60 فیصد تک پہنچ گئی۔

ماخذ: PIB PRID 153363 (13% datapoint) | PIB PRID 2113234 (14.60% year-end figure)

  • پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کے مطابق، 18 ستمبر 2024 تک ایتھنول کی مجموعی پیداواری صلاحیت بڑھ کر 1,623 کروڑ لیٹر سے زیادہ ہو گئی، جو کہ پچھلے چار سالوں کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔

ماخذ: PIB PRID 153363

  • اگست 2024 میں، محترم وزیرِ اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے ’پردھان منتری جی-ون یوجنا‘ میں ترمیم کو منظوری دی، تاکہ حیاتیاتی ایندھن کے شعبے میں ہونے والی ترقی کے ساتھ توازن برقرار رکھا جا سکے اور پائیدار ہوائی جہاز ایندھن (ایس-اے-ایف) کے منصوبوں سمیت اس شعبے میں مزید بڑی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔

ماخذ: PIB PRID 153363

  • دہلی میں منعقدہ ساتویں ’جی-اسٹک‘ (عالمی پائیدار تکنیکی و اختراعی) کانفرنس میں، وزیر (پٹرولیم و قدرتی گیس) نے بھارت میں ایتھنول کی آمیزش کے عمل میں ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی اور بیان کیا کہ حکومت نے 20 فیصد کے ہدف سے آگے کے مقاصد کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

ماخذ: PIB PRID 153363

  • ای-20 پیٹرول اب 15,600 سے زائد خردہ مراکز (پیٹرول پمپوں) پر دستیاب ہے۔

ماخذ: Press Information Bureau

  • لوک سبھا کے غیر ستارہ دار سوال نمبر 2859 (مورخہ 12 دسمبر 2024) میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ ایندھن سپلائی سال 23-2022 میں آمیزش کا تناسب 12.06 فیصد تک پہنچ گیا تھا، جبکہ ایندھن سپلائی سال 24-2023 میں یہ تقریباً 14.6 فیصد رہا۔

ماخذ: Lok Sabha Unstarred Question No. 2859, 12 December 2024

  • ایتھنول کے استعمال سے انجن کی کارکردگی پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے وضاحت جاری کر دی گئی۔

ماخذ: Press Information Bureau

2025

  • بھارت نے سال 2025 میں پیٹرول میں 20 فیصد ایتھنول ملانے (ای-20) کا ہدف حاصل کر لیا  جو کہ حیاتیاتی ایندھن کی قومی حکمتِ عمل 2018 کے تحت مقررہ وقت یعنی سال 2030 کی اصل آخری تاریخ سے پانچ سال پہلے ہے۔

ماخذ: PIB PRID 150699 – Ethanol Blending in India (factsheet)

  • وزیر محترم ہردیپ سنگھ پوری نے بیان دیا کہ پیٹرول میں ایتھنول کی آمیزش کا تناسب 2014 کے 1.5 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 20 فیصد ہو گیا ہے، جو کہ 11 سالوں کے دوران تقریباً 13 گنا اضافہ ہے، اور یہ کہ ایتھنول کی پیداوار 2014 کے 38 کروڑ لیٹر سے بڑھ کر جون 2025 تک 661.1 کروڑ لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔

ماخذ: PIB PRID 2154355 – “India's Ethanol Journey is Unstoppable”

  • 31 جولائی 2025 تک، تیل منڈی کی سرکاری کمپنیوں نے ایندھن سپلائی سال 25-2024 کے دوران اوسطاً 19.05 فیصد ایتھنول آمیزش کا ہدف حاصل کر لیا تھا، جبکہ صرف جولائی 2025 کے مہینے میں 19.93 فیصد آمیزش ریکارڈ کی گئی۔ حکومت نے ایندھن سپلائی سال 25-2024 اور ایندھن سپلائی سال 26-2025 (30 جون 2026 تک) کے لیے ایتھنول کی پیداوار کی خاطر فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف-سی-آئی) کے پاس موجود اضافی چاول میں سے 52 لاکھ میٹرک ٹن مختص کرنے کی منظوری دی اور ساتھ ہی ایندھن سپلائی سال 25-2024 کے لیے 40 لاکھ میٹرک ٹن چینی اس طرف منتقل کرنے کی بھی منظوری دی۔

ماخذ: PIB PRID 2155110 – Government speeds up ethanol blending

  • لوک سبھا میں ایک جواب کے دوران، حکومت نے بتایا کہ ایتھنول کی آمیزش کا تناسب ایندھن سپلائی سال 22-2021 کے 10 فیصد سے بڑھ کر ایندھن سپلائی سال 23-2022 میں 12.06 فیصد، ایندھن سپلائی سال 24-2023 میں 14.60 فیصد اور 28 فروری 2025 تک ایندھن سپلائی سال 25-2024 میں 17.98 فیصد ہو گیا ہے۔ حکومت نے اس ترقی کو فروغ دینے والے اہم حکمتِ عملی کے اقدامات پر روشنی ڈالی، جن میں منظور شدہ خام مال کے دائرہ کار کو وسعت دینا، ایتھنول کی قیمتوں کا سرکاری طور پر تعین، آمیزش کے لیے استعمال ہونے والے ایتھنول پر جی-ایس-ٹی (اشیاء و خدمات ٹیکس) کو کم کر کے 5 فیصد کرنا، ایتھنول سود پر امدادی اسکیم (ای-آئی-ایس-ایس) کا نفاذ، مخصوص ایتھنول کارخانوں کے لیے طویل مدتی خریداری کے معاہدے (ایل-ٹی-او-اے)، اور ای-20 آمیزش کے ہدف کو سال 2030 سے پہلے لا کر ایندھن سپلائی سال 26-2025 کرنا شامل ہیں۔

ماخذ: Press Information Bureau

  • ’پائینیر بائیو فیولز 360 سمٹ‘میں، وزیر (پٹرولیم و قدرتی گیس) نے اعلان کیا کہ ’’بھارت کا ایتھنول کا سفر اب رکنے والا نہیں ہے،‘‘ اور انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ جب سے ای-20 بنیادی ایندھن بنا ہے، تب سے انجن کی خرابی یا ناکارگی کا کوئی ایک بھی واقعہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مرحلہ وار طریقے سے ای-25، ای-27 اور ای-30 کی طرف بڑھنے کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے ایتھنول کی ضمانت شدہ قیمتوں، متعدد اقسام کے خام مال کو شامل کرنے، کشید کرنے (ڈسٹلیشن) کی صلاحیت میں توسیع اور تیل منڈی کی سرکاری کمپنیوں کی مربوط کارروائی کو بھارت کے ایتھنول پروگرام کے اہم ترین محرکات کے طور پر اجاگر کیا۔

ماخذ: PIB PRID 2154355

  • راجیہ سبھا کو (18 دسمبر 2025 کو) مطلع کیا گیا کہ ایندھن سپلائی سال 25-2024 کے دوران 1,000 کروڑ لیٹر سے زیادہ ایتھنول ملایا گیا، جس سے اوسط آمیزش کا تناسب 19.24 فیصد رہا، جبکہ صرف اکتوبر 2025 کے مہینے میں یہ آمیزش 19.97 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

ماخذ: Rajya Sabha reply, 18 December 2025 (DD News report)

  • لوک سبھا میں وزیر (پٹرولیم و قدرتی گیس) کے ایک تحریری جواب کے مطابق، ایتھنول آمیزش پروگرام (ای-بی-پی) کے تحت کسانوں کو کی جانے والی مجموعی ادائیگیاں 1.25 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئیں اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کی بچت (جولائی 2025 تک) 1.44 لاکھ کروڑ روپے سے اوپر پہنچ گئی۔

ماخذ: PIB PRID 2113234 – Measures beyond 20% blending

2026

  • اپریل 2026 سے، تمام ’بھارت اسٹیجVI(بی ایس-6) گاڑیوں کے لیے ای-20 اخراج (دھوئیں) کے معیار پر مکمل پورا اترنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور پورے بھارت میں فروخت ہونے والے تمام پیٹرول کے لیے یہ لازمی کیا گیا ہے کہ اس میں 20 فیصد ایتھنول (ای-20) شامل ہو جو کم از کم 95 ریسرچ اوکٹین نمبر (آر-او-این) کے معیار کے مطابق ہو۔

ماخذ: PIB PRID 2268671 – “Flex Fuel Vehicles offer India a practical solution…: Sh. Hardeep Singh Puri”

  • رپورٹ کے مطابق بھارت میں ایتھنول کی پیداواری صلاحیت بڑھ کر تقریباً 20 ارب لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جو کہ ای-20 کے لازمی ہدف کو برقرار رکھنے کے لیے درکار تقریباً 11 ارب لیٹر کی مقدار سے کافی زیادہ ہے۔

ماخذ: PIB PRID 2277210 – Fact-check on misleading E20 claims

  • عالمی یومِ ماحول (مورخہ 5 جون 2026) کے موقع پر، وزیر (پٹرولیم و قدرتی گیس) نے انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (آئی-او-سی-ایل) کے ایک خردہ مرکز پر ’ای-85 فلیکس فیول‘کے فروغ کی افتتاحی تقریب کی قیادت کی اور بھارت میں کم کاربن کے اخراج والی آمد و رفت کے نظام میں الیکٹرک گاڑیوں (ای-ویز) کے ساتھ ساتھ فلیکس فیول گاڑیوں کو بھی ایک اہم مقام پر لا کھڑا کیا۔

ماخذ: PIB PRID 2268671

  • نئی دہلی میں ہیرو موٹو کارپ کے پہلے فلیکس فیول موٹر سائیکلوں (اسپلینڈر پلس اور ایچ-ایف ڈیلکس فلیکس فیول) کے آغاز کے موقع پر، وزیر (پٹرولیم و قدرتی گیس) نے مرکزی وزیر نتن گڈکری کے ساتھ مل کر فلیکس فیول پر مبنی آمد و رفت کو ’’بھارت کی توانائی کی تاریخ کا ایک نیا باب‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں برازیل کے اعلیٰ ایتھنول آمیزش کے تجربے کا حوالہ دیا اور بتایا کہ حکومت ای-85 کو بڑے پیمانے پر اپنانے کے لیے مددگار قیمتوں کے ڈھانچے کا جائزہ لے رہی ہے۔

ماخذ: PIB PRID 2268671

  • اےآراےآئی نے ای-20 ایتھنول آمیزش والے ایندھن اور گاڑیوں کی کارکردگی کے لیے سخت توثیقی معیارات کی دوبارہ تصدیق کر دی۔

ماخذ:https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2281084&reg=48&lang=2

  • لوک سبھا کے غیر ستارہ دار سوال نمبر 6315، بعنوان ’’گاڑیوں اور صارفین پر ایتھنول آمیزش کے اثرات‘‘ کے ایک جواب میں، حکومت نے بتایا کہ نیتی آیوگ کے تحت 26 دسمبر 2020 کو تشکیل دی گئی بین وزارتی کمیٹی (آئی ایم سی) نے ای-20 ایندھن کے حوالے سے گاڑیوں کی مطابقت اور مائلیج (ایندھن کی اوسط کھپت) کے پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا تھا۔ اس جائزے کو انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (آئی او سی ایل)، آٹوموٹو ریسرچ ایسوسی ایشن آف انڈیا (اےآراےآئی) اور سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز (سیام) کی جانب سے کی گئی تحقیقات کا تعاون حاصل تھا۔ حکومت نے پارلیمنٹ کو مطلع کیا کہ وسیع پیمانے پر کیے گئے میدانی تجربات (فیلڈ ٹرائلز) میں ای-20 کے استعمال سے گاڑیوں کی کارکردگی پر کوئی منفی اثر یا مطابقت کا کوئی مسئلہ سامنے نہیں آیا۔

***

 (ش ح ۔ م م۔ع ن)

U. No. 9779


(रिलीज़ आईडी: 2283235) आगंतुक पटल : 56
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Gujarati