بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

تیز تر ادائیگیاں، مضبوط ایم ایس ایم ای:حکومت نے تمام مرکزی سرکاری شعبے کے اداروں کو ایم ایس ایم ای کے تمام بلوں کی ادائیگی کے لیے ٹی آر ای ڈی ایس کے استعمال کا پابند بنا دیاہے


30 جون 2026 کا نوٹیفکیشن مرکزی بجٹ 27–2026 میں کیے گئے وعدے کی تکمیل ہے؛ لاکھوں ایم ایس ایم ای سپلائرز کو بغیر ضمانت تیز رفتار ورکنگ کیپیٹل کی سہولت فراہم کرے گا

प्रविष्टि तिथि: 10 JUL 2026 11:43AM by PIB Delhi

ٹی آر ای ڈی ایس کے ذریعے ادائیگی لازمی: مرکزی سرکاری شعبے  کےتمام فعال ادارے (سی پی ایس ایز) ایم ایس ایم ایز سے خریدی گئی اشیا اور خدمات کے تمام بلوں کی ادائیگی ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) سے منظور شدہ ٹریڈ ریسیویبلز ڈسکاؤنٹنگ سسٹم (ٹی آر ای ڈی ایس) پلیٹ فارمز کے ذریعے کریں گے۔

شفافیت اور جوابدہی: سرکاری شعبے  کےمرکزی ادارے (سی پی ایس ایز) آر بی آئی کی ہدایات کے مطابق ٹی آر ای ڈی ایس کے ذریعے پیش اور نمٹائے گئے ایم ایس ایم ای بلوں کی تفصیلات  کوظاہر کریں گے، اور سالانہ آڈٹ کے دوران ٹی آر ای ڈی ایس میں رجسٹریشن اور ضابطوں کی پابندی سے متعلق قانونی آڈیٹر کا تصدیقی سرٹیفکیٹ بھی حاصل کریں گے۔

کارپوریٹ بھارت کے لیے ایک معیار:یہ فیصلہ سرکاری شعبے کےمرکزی اداروں (سی پی ایس ایز) کو ملک بھر کے بڑے کارپوریٹ خریداروں کے لیے بروقت ادائیگی کے نظم و ضبط کی ایک بےمثال نمونےکے طور پر پیش کرتا ہے۔

چھوٹی ،بہت چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں(ایم ایس ایم ای) کو ادائیگیوں میں ہونے والی طویل تاخیر کے مسئلے کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے، بھارتی حکومت کی ایم ایس ایم ای کی وزارت نے تمام فعال مرکزی سرکاری شعبے کے اداروں (سی پی ایس ایز) کے لیے اپنے ایم ایس ایم ای سپلائرز کے ساتھ لین دین کی ادائیگی ٹریڈ ریسیویبلز ڈسکاؤنٹنگ سسٹم (ٹی آر ای ڈی ایس) کے ذریعے کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ 30 جون 2026 کو جاری کیا گیا یہ نوٹیفکیشن مرکزی بجٹ72–2026 میں کیے گئے ایک اہم اعلان پر عمل درآمد کو یقینی بناتا ہے۔

ایم ایس ایم ایز بھارتی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔اُدیم رجسٹریشن پورٹل اوراُدیم اسسٹ پلیٹ فارم پر 8 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ادارے رجسٹرڈ ہیں، جو 38 کروڑ سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ادائیگیوں میں تاخیر اس شعبے کا ایک بڑا اور دیرینہ مسئلہ رہی ہے، جس سے کاروباری سرمایہ (ورکنگ کیپیٹل) پھنسا رہتا ہے اور ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔

سی پی ایس ایز کی جانب سے ایم ایس ایم ای سے کی جانے والی تمام خریداریوں کی ادائیگی کے لیے ٹی آر ای ڈی ایس کو لازمی وسیلہ بنانے سے اب سرکاری شعبے کی خریداری حقیقی معنیٰ میں چھوٹے سپلائرز کے مفاد میں کام کرے گی۔ سی پی ایس ایز کی خریداریوں کا اندراج ٹی آر ای ڈی ایس پر ہوگا، جبکہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے بلوں کی مالی اعانت (انوائس فنانسنگ) کے ذریعے ایم ایس ایم ایز کو، بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے گی۔

ایم ایس ایم ایز کے لیے اس فیصلے کے فوائد

جب مرکزی سرکاری شعبے کے تمام اداروں (سی پی ایس ایز) کے بل ٹی آر ای ڈی ایس کے ذریعے نمٹائے جائیں گے تو ایم ایس ایم ای سپلائرز کو یہ سہولت حاصل ہوگی کہ وہ منظور شدہ بلوں کو مقررہ ادائیگی کی تاریخ سے پہلے ہی نقد رقم میں تبدیل کر سکیں۔ ٹی آر ای ڈی ایس پر فراہم کی جانے والی مالی اعانت کے لیے کسی ضمانت کی ضرورت نہیں ہوتی اور اس میں فروخت کنندہ پر دوبارہ ادائیگی کی ذمہ داری بھی عائد نہیں ہوتی۔ مذکورہ پلیٹ فارم پر بینک اور غیر بینکنگ مالیاتی ادارے (این بی ایف سیز) مسابقتی بولی کے ذریعے بلوں کو رعایتی شرح پر خریدتے ہیں، جس سے ایم ایس ایم ایز کو کم وقت میں اور مسابقتی شرحِ سود پر کاروباری سرمایہ (ورکنگ کیپیٹل) دستیاب ہو جاتا ہے۔

ٹی آر ای ڈی ایس کے بارے میں

ٹی آر ای ڈی ایس، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے ضابطوں کے تحت کام کرنے والا ایک الیکٹرانک پلیٹ فارم ہے، جو 2017 سے کام کر رہا ہے۔ اس کا مقصد کارپوریٹ خریداروں، سرکاری محکموں اور عوامی شعبے کے اداروں سے ایم ایس ایم ای کو واجب الادا تجارتی وصولیوں کی مالی اعانت اور رعایتی بنیاد پر ادائیگی کو ممکن بنانا ہے۔ اس نظام میں متعدد مالیاتی ادارے مسابقتی بولی کے ذریعے ان بلوں کی مالی اعانت فراہم کرتے ہیں۔

اس وقت ٹی آر ای ڈی ایس کے تحت پانچ پلیٹ فارم سرگرم ہیں:ان کے نام ہیں:آر ایکس آئی ایل، ایم وَن ایکسچینج)، انوائس مارٹ ، سی ٹو ٹریڈز اور ڈی ٹی ایکس۔

اس پلیٹ فارم کی کارکردگی مسلسل بہتر ہوئی ہے۔ مالی سال 22–2021 میں جہاں رعایتی بنیاد پر منظور کیے گئے بلوں کی مالیت 40 ہزار کروڑ روپے تھی، وہیں مالی سال 26–2025 میں  یہ بڑھ کر 3 لاکھ 47 ہزار کروڑ روپےتک پہنچ گئی۔

ٹی آر ای ڈی ایس: اصلاحات کا سفر

i.jpeg

 

یہ نوٹیفکیشن 30 جون 2026 کو جاری کیا گیا۔ اس کی مکمل تفصیلات حکومتِ ہند کے سرکاری گزٹ https://egazette.gov.in.پر دستیاب ہیں۔

***

ش ح۔ش م۔ ش ا

U NO: 9786


(रिलीज़ आईडी: 2283213) आगंतुक पटल : 13
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Kannada