کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

بھارت کی معیار سے متعلق  کونسل اور نیشنل اسمال انڈسٹریز کارپوریشن  نے  چھوٹی،بہت چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں کے معیار، مسابقت اور منڈی تک رسائی کو مضبوط بنانے کے لیے مفاہمت نامے پر دستخط کیے


کیو سی آئی اور این ایس آئی سی کی شراکت داری کے تحت زیڈ سرٹیفکیشن، ڈیجیٹل مارکیٹ تک رسائی اور چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں کی معاونت سے متعلق اقدامات کو یکجا کیا جائے گا

کیو سی آئی اور این ایس آئی سی مشترکہ اقدامات پر عمل درآمد کی رہنمائی کے لیے مشترکہ رابطہ کمیٹی قائم کریں گے

प्रविष्टि तिथि: 09 JUL 2026 5:14PM by PIB Delhi

 بھارت کی معیار سے متعلق کونسل (کیو سی آئی) اورنیشنل اسمال انڈسٹریز کارپوریشن لمیٹڈ (این ایس آئی سی) نے آج ایک مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے، جس کا مقصد ملک بھر میں چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانہ درجے کی  صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کے لیے معیار، مسابقت اور منڈی تک رسائی کو مضبوط بنانے کے لیے باہمی اشتراک پر مبنی ایک مؤثر نظام قائم کرنا ہے۔ اس شراکت داری کے تحت معیار، منظوری اور سرٹیفکیشن کے شعبے میں کیو سی آئی کی مہارت کو ایم ایس ایم ایز کی معاونت کے لیے این ایس آئی سی کے وسیع نیٹ ورک کے ساتھ یکجا کیا جائے گا، تاکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیاری پیمانوں کو اپنانے کی رفتار میں تیزی آسکے  اور بھارتی صنعتوں کی ترقی کو مزید فروغ حاصل ہوسکے۔

اس اشتراک کا مقصد ایم ایس ایم ای پائیداری (زیڈ) سرٹیفکیشن اسکیم، ایم ایس ایم ای گلوبل مارٹ،ٹی ای اے ایم پہل اورسنگل پوائنٹ رجسٹریشن اسکیم (ایس پی آر ایس) سمیت اہم قومی اقدامات کو یکجا کرنا ہے، تاکہ چھوٹی،بہت چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتیں دونوں اداروں کی صلاحیتوں سے ایک مربوط معاونتی نظام کے ذریعے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے تحت زیرو ڈیفیکٹ، زیرو ایفیکٹ (زیڈ) سرٹیفکیشن کو زیادہ سے زیادہ اپنانے، ڈیجیٹل منڈی تک رسائی کو  بہتر بنانے، جانچ اور منظوری کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور ایم ایس ایم ایز و تربیتی اداروں کے لیے صلاحیت سازی کے مواقع میں اضافہ کیا جائے گا۔

اس شراکت داری کے تحت زیڈ سرٹیفکیشن حاصل کرنے والی ایم ایس ایم ایز کو ایم ایس ایم ای گلوبل مارٹ کے ذریعے ڈیجیٹل تجارت کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہیں ٹیم اقدام کے تحت ڈیجیٹل تجارت کے لیے اوپن نیٹ ورک (او این ڈی سی) پر شامل کیا جائے گا، مصنوعی ذہانت پر مبنی مصنوعات کی فہرست سازی کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ خصوصی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے برآمدات کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ زیڈ سرٹیفکیشن اور این ایس آئی سی کی سنگل پوائنٹ رجسٹریشن اسکیم کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنایا جائے گا، این ایس آئی سی کی جانچ گاہوں کے لیے این اے بی ایل منظوری میں معاونت فراہم کی جائے گی، اور این اے بی ای ٹی کی قیادت میں این ایس آئی سی کے تربیتی مراکز اور تجربہ گاہوں کے لیے جانچ، منظوری اور ضرورت کے مطابق صلاحیت سازی کے پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔

اس شراکت داری پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کیو سی آئی اور این ایس آئی سی دونوں اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ رابطہ کمیٹی (جے سی سی)تشکیل دیں گے۔ یہ کمیٹی سہ ماہی میں اجلاس منعقد کرے گی، تعاون کے نئے شعبوں کی نشاندہی کرے گی، پیش رفت کا جائزہ لے گی اور مفاہمت نامے کی پانچ سالہ مدت کے دوران مشترکہ اقدامات پر عمل درآمد کی رہنمائی بھی کرے گی۔

یہ شراکت داری کیو سی آئی اور این ایس آئی سی کے اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت کے چھوٹے، بہت چھوٹے اور درمیانہ درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کے شعبے میں معیار، جدت طرازی اور مسلسل بہتری کے فروغ کی ثقافت کو مضبوط بنایا جائے۔ معیار سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانے، منڈی تک رسائی کو بہتر  بنانے اور ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے ذریعے اس اشتراک کا مقصد عالمی سطح پر مسابقت کی حامل صنعتوں کی ترقی میں معاونت  فراہم کرنا اور ترقی یافتہ بھارت 2047 کے وژن کو حقیقت کی شکل دینا ہے۔

اس مفاہمت نامے پر نئی دہلی کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں واقع کیو سی آئی کے دفتر میں دستخط کیے گئے۔ اس موقع پر این ایس آئی سی کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر سبرھانسو سیکھر آچاریہ، کیو سی آئی کے نیشنل ڈویژن فار انڈسٹری ایکسی لینس (این ڈی آئی ای) کے سینئر ڈائریکٹر اور سربراہ ڈاکٹر اے۔ راج، نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار ٹیسٹنگ اینڈ کیلیبریشن لیبارٹریز (این اے بی ایل) کے چیف ایگزیکٹو افسر ڈاکٹر رامانند این۔ شکلا، نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (این اے بی ای ٹی)کے چیف ایگزیکٹو آفسر ڈاکٹر وریندر ایس۔ کنور، اور دونوں اداروں کے سینئر افسران موجود تھے۔

این ایس آئی سی کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر سبرھانسو سیکھر آچاریہ نے کہا کہ چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتیں ترقی یافتہ بھارت 2047 کے سفر میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیو سی آئی کے ساتھ یہ شراکت داری معیار، منڈی تک رسائی اور ادارہ جاتی معاونت کو یکجا کرتی ہے، جس سے ایم ایس ایم ایز کو اپنی مسابقت بڑھانے، نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور پائیدار ترقی کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعاون ایسا مضبوط نظام تشکیل دینے میں مدد فراہم کرے گا جو  صنعتوں کو ملکی اور عالمی دونوں منڈیوں میں اعتماد کے ساتھ مقابلہ کرنے کے قابل بنائے گا۔

کیو سی آئی کے نیشنل ڈویژن فار انڈسٹری ایکسی لینس (این ڈی آئی ای) کے سینئر ڈائریکٹر اور سربراہ، نیز نیشنل بورڈ فار کوالٹی پروموشن (این بی کیو پی) کے چیف ایگزیکٹو آفسر ڈاکٹر اے۔ راج نے کہا کہ یہ شراکت داری کیو سی آئی اور این ایس آئی سی کی باہمی تکمیلی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کے ایم ایس ایم ای شعبے میں معیار کو تیزی سے فروغ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ زیڈ سرٹیفکیشن کو کیو سی آئی کے معیاری بنیادی ڈھانچے، جس میں این اے بی ایل، این اے بی ای ٹی اور نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار سرٹیفکیشن باڈیز (این اے بی سی بی) شامل ہیں، کے ساتھ مربوط کرنے اور این ایس آئی سی کے وسیع رابطہ اور معاونتی نظام سے فائدہ اٹھانے کے ذریعے یہ شراکت داری ایم ایس ایم ایز کی مسابقت کو بڑھائے گی، معیار کے بارے میں  بیداری  کو مضبوط کرے گی اور کیو سی آئی کی قومی معیار کی مہم کو  مزید آگے بڑھانے میں معاون  ثابت ہوگی۔

 

************

 ش ح۔ ش م ۔ م ذ

UR. No. 9762


(रिलीज़ आईडी: 2282964) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil