وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
کھر اور منہ کی بیماری (ایف ایم ڈی) کے لیے کمپارٹمنٹلائزیشن اور زوننگ پر قومی ورکشاپ کا بھونیشور میں افتتاح
حکومت ہند کے ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر نے ریٹ مائی لیبارٹری ایپ، ڈیری وکاس پورٹل، ودیا پیٹھ پورٹل اوردودھ دینے والے جانوروں میں ماسٹائٹس (ورم پستان) کی روک تھام اور کنٹرول پر ایس او پی کا آغاز کیا
प्रविष्टि तिथि:
08 JUL 2026 10:16PM by PIB Delhi
حکومت ہند کی ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے محکمہ مویشی پروری اور ڈیری (ڈی اے ایچ ڈی) نے 8 جولائی 2026 کو اڈیشہ کے بھونیشور میں کھر اور منہ کی بیمارکے لئے کمپارٹمنٹلائزیشن اور زوننگ (ایف ایم ڈی) پر قومی ورکشاپ کی میزبانی کی۔ دو روزہ ورکشاپ کا مقصد ہندوستان کے جانوروں کی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے، کھراور منہ کی بیماری (ایف ایم ڈی) کے کنٹرول اور خاتمے کی کوششوں کو تیز کرنے، مویشیوں اور مویشیوں کی مصنوعات میں محفوظ گھریلو اور بین الاقوامی تجارت میں سہولت فراہم کرنے اور 2030 تک ایف ایم ڈی سے پاک درجہ حاصل کرنے کے قومی مقصد کی حمایت کے ذریعے بین الاقوامی معیارات کے مطابق کمپارٹمنٹلائزیشن اور زوننگ کو لاگو کرنے کی حکمت عملیوں پر غور کرنا ہے۔
تقریب کا آغاز مہمان خصوصی حکومت ہند کے ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف لالن سنگھ نے شمع روشن کرکے کیا۔ اس موقع پروزیر مملکت برائے ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل ؛اڈیشہ حکومت میں وزیر برائے ماہی پروری اور جانوروں کے وسائل کی ترقی (ایف اے آر ڈی) گوکولانند ملک؛ ڈی اے ایچ ڈی کے سکریٹری جناب نریش پال گنگوار؛ ڈی اے ایچ ڈی کی ایڈیشنل سکریٹری (سی اینڈ ڈی ڈی) محترمہ ورشا جوشی؛ ڈی اے ایچ ڈی کے ایڈیشنل سکریٹری (لائیوسٹاک ہیلتھ) جناب راما شنکر سنہا، ڈی اے ایچ ڈی کے مویشی پروری کے کمشنر ڈاکٹر نوینا بی مہیشورپا موجود رہے۔

افتتاحی سیشن کی خاص بات کئی ڈیجیٹل اقدامات کا آغاز رہا جس کا مقصد خدمات کی ترسیل، ڈیجیٹل طرز حکمرانی اور مویشی پروری اور ڈیری کے شعبوں میں صلاحیت سازی میں اضافہ کرنا تھا۔ مرکزی وزیر نے وبائی فنڈ کے تحت ریٹ مائی لیباریٹری ایپ ، ڈیری وکاس پورٹل اور ودیا پیٹھ پورٹل کا آغاز کیا۔ انہوں نےدودھ دینے والے جانوروں میں ماسٹائٹس(ورم پستان) کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے معیاری طریقہ کار (ایس او پی) پر فولڈر اور ویڈیو بھی جاری کی۔

ریٹ مائی لیبارٹری ایپ کو حقیقی وقت میں صارفین کی رائے کے ذریعے ویٹرنری تشخیصی خدمات کو تقویت دینے، شفافیت، جوابدہی، اور لیبارٹریوں میں مسلسل معیار کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ڈیری وکاس پورٹل دودھ جمع کرنے کے بنیادی ڈھانچے کی اصل وقتی نگرانی کے لیے ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جس میں بلک ملک کولر (بی ایم سی)، دودھ جمع کرنے کے مراکز (ایم سی سی)، دودھ کی خریداری اور بنیادی ڈھانچے کا استعمال، شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور درست فیصلہ سازی کو قابل بنانا ہے۔
ودیاپیٹھ پورٹل منظور شدہ مصنوعی بارآوری کے تربیتی اداروں کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جو تربیت یافتگان کے ریکارڈ، ادارہ جاتی انتظام، کیو آر کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل اسناد کے اجرا اور انتظامی معلوماتی نظام (ایم آئی ایس)پر مبنی نگرانی کا ابتدا سے لے کر اختتام تک مربوط انتظام فراہم کرتا ہے، تاکہ شفافیت، کارکردگی اور صلاحیت سازی کو فروغ دیا جا سکے۔
معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) دودھ دینے والے جانوروں میں ورمِ پستان کی روک تھام اور مؤثر کنٹرول کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد ڈیری فارمنگ میں سائنسی انتظام کو فروغ دینا، دودھ کے معیار کو بہتر بنانا، ورم پستان کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے اقدامات کو مضبوط بنانا اور ڈیری کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔
ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ مویشی پروری کا شعبہ زرعی مجموعی قدر افزوده (جی وی اے) میں تقریباً 31 فیصد اور بھارت کی مجموعی جی وی اے میں قریب 5.5 فیصد کی حصہ داری ہے۔انہوں نے وکست بھارت @2047 کے وژن کے تحت 2030 تک کھر اور منہ کی بیماری (ایف ایم ڈی) سے پاک ہندوستان کا ہدف حاصل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل ٹیکہ کاری مہمات، جن پر ایئر ٹیگنگ اور جغرافیائی محل وقوع سے منسلک تصاویر (جیو ٹیگڈ فوٹوگراف) کے ذریعے مؤثر انداز میں نگرانی کی جا رہی ہے ، نے ایف ایم ڈی پر قابو پانے کی کوششوں کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا ہے۔انہوں نے غیر مرکزی (ڈی سینٹرلائزڈ) طریقۂ کار کے تحت ایف ایم ڈی سے پاک زون اور کمپارٹمنٹس قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ اس اقدام کے لیے نو ریاستوں کو ترجیحی ریاستوں کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ این ایس پی مثبتیت کی شرح 2022 میں 16.6 فیصد سے کم ہو کر 2026 میں 7.8 فیصد رہ گئی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے مویشیوں کے امراض پر قابو پانے کے پروگراموں میں سے ایک کے تحت اب تک 1.4 ارب سے زائد ایف ایم ڈی ویکسین کی خوراکیں دی جا چکی ہیں، گزشتہ تین برسوں میں ایشیا-1 سیروٹائپ کا کوئی بھی معاملہ سامنے نہیں آیا اور ہندوستان میں اس وقت ایف ایم ڈی ویکسین کی سالانہ پیداواری صلاحیت 116 کروڑ خوراکیں ہے۔

قومی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور پنچایتی راج کے وزیر مملکت پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل نے کہا کہ مویشی پروری کا شعبہ معیشت میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ شعبہ زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں کی مجموعی قدر افزوده (جی وی اے) میں 31 فیصد اور ملک کی مجموعی جی وی اے میں 5.5 فیصد حصہ داری ہے، جبکہ 8 کروڑ سے زائد دیہی خاندانوں، خصوصاً خواتین، کے روزگار اور معاش کا اہم ذریعہ بھی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مویشیوں کے امراض کے کنٹرول سے متعلق قومی پروگرام (این اے ڈی سی پی)، جو دنیا کا سب سے بڑا مویشیوں کی ٹیکہ کاری کا پروگرام ہے، نے قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
اڈیشہ حکومت میں ماہی پروری اور جانوروں کے وسائل کی ترقی (ایف اے آر ڈی)کے وزیر جناب گوکلانند ملک نے اپنے خطاب میں دیہی معاش کو مضبوط بنانے میں مویشیوں کے شعبے کے اہم کردار پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 2030 تک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایف ایم ڈی سے پاک ہندوستان کے قومی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پائیدار ویکسینیشن، مضبوط نگرانی، بہتر بایو سیکورٹی اور مضبوط ویٹرنری بنیادی ڈھانچے اہم ہیں۔
حکومت ہند کے محکمہ مویشی پروری اور ڈیری (ڈی اے ایچ ڈی) کے سکریٹری جناب نریش پال گنگوار نے کھر اور منہ کی بیماری کے لیے کمپارٹمنٹلائزیشن اور زوننگ (ایف ایم ڈی) سے متعلق قومی ورکشاپ سے خطاب کیا۔ محکمہ مویشی پروری اور ڈیری کے سکریٹری نے ہندوستان میں کھر اور منہ کی بیماری (ایف ایم ڈی) کی روک تھام کی کوششوں کو مضبوط بنانے میں کمپارٹمنٹلائزیشن اور زوننگ کی اہمیت پر زور دیا۔
افتتاحی اجلاس کے بعد پہلے تکنیکی اجلاس میں عالمی ادارۂ برائے حیوانی صحت (ڈبلیو او اے ایچ) کے ایف ایم ڈی سے پاک زون اور کمپارٹمنٹس کے قیام سے متعلق معیارات اور پیمانوں، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو سرمایہ جاتی سرمایہ کاری میں معاونت (ایس اے ایس سی آئی) اسکیم کے نفاذ اور مختلف ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اس اسکیم پر عمل درآمد کا جامع جائزہ پیش کیا گیا۔ مباحثے میں مویشیوں کی صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے اور منہ اور کھر کی بیماری (ایف ایم ڈی) پر قابو پانے کی کوششوں کو مزید تیز کرنے پر زور دیا گیا۔
تکنیکی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محکمۂ مویشی پروری و ڈیری (ڈی اے ایچ ڈی) کی ایڈیشنل سیکریٹری (سی اینڈ ڈی ڈی) محترمہ ورشا جوشی نے ایل نینو کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر چارے کی دستیابی اور مویشیوں کی صحت کے لیے پیشگی تیاریوں کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ منصوبہ بندی، سائیلیج کے فروغ اور چارہ وسائل کی ترقی کے منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد کے ذریعے سال بھر چارے اور مویشی خوراک کی دستیابی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے یہ بھی کہا کہ وہ فوڈر ٹاسک فورسز کو فعال بنائیں، ضلع وار چارہ ایکشن پلان تیار کریں اور کم بارش کی صورتِ حال میں چارے کی قلت سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے ہنگامی انتظامات کو مزید مضبوط کریں۔

مورخہ 9جولائی ،2026 کو ورکشاپ کا سلسلہ دوسرے تکنیکی اجلاس کے ساتھ جاری رہے گا، جس میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے کھر اور منہ کی بیماری (ایف ایم ڈی) پر قابو پانے کی مختلف حکمت عملیوں، ایف ایم ڈی سے پاک کمپارٹمنٹس اور زون کے نفاذ کے روڈ میپ، ایف ایم ڈی کے لیے منفی مارکر ویکسین، ایس اے ٹی سیروٹائپس سے پیدا ہونے والے ابھرتے ہوئے خطرات اور مربوط منصوبہ بندی و متعلقہ شراکت داروں کے باہمی تعاون کے ذریعے بیماریوں پر قابو پانے کے اقدامات کو مضبوط بنانے کے موضوع پر ایک کھلے مباحثے کا انعقاد کیا جائے گا۔
توقع ہے کہ یہ ورکشاپ معلومات اور تجربات کے تبادلے کو فروغ دے گی، مرکز اور ریاستوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو مضبوط بنائے گی اور کمپارٹمنٹلائزیشن اور زوننگ کے مؤثر نفاذ کے لیے ایک واضح روڈ میپ فراہم کرے گی۔ ان مباحثوں سے ہندوستان کے مویشی پروری کے امراض پر قابو پانے کے نظام کو مزید مضبوطی ملے گی، مویشیوں کی صحت کا تحفظ ہوگا، کسانوں کی معاشی حالت بہتر ہوگی، مویشیوں اور ان سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی محفوظ تجارت کو فروغ ملے گا اور 2030 تک ایف ایم ڈی سے پاک ملک کا ہدف حاصل کرنے میں پیش رفت ہوگی۔
********
ش ح۔م ش۔م ش
Uno.9735
(रिलीज़ आईडी: 2282716)
आगंतुक पटल : 9