سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مصنوعی ذہانت سے متعلق اقدامات سے ، بھارت کی زرعی معیشت میں کئی گنا اضافے کی امید ہے؛ زرعی اسٹارٹ اپس زراعت کے مستقبل کی بنیاد ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ


مرکزی وزیر نے 17ویں ایگریکلچر لیڈرشپ کانکلیو 2026 میں ٹیکنالوجی اور کاروباری صلاحیت پر مبنی زرعی تبدیلی پر زور دیا

ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز ، زراعت کو اعلیٰ قدر والے ترقیاتی شعبے میں تبدیل کر رہی ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

بھارت کے کسانوں کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت اور خلائی ایپلی کیشنز سے فائدہ پہنچنا چاہیے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

प्रविष्टि तिथि: 08 JUL 2026 6:01PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی سائنسز   کے  مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)  اور  وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن،  ایٹمی توانائی کے محکمے اور  خلائی  امور  کے وزیر مملکت   ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ مصنوعی ذہانت ( اے آئی )   سے بھارت کی زرعی معیشت میں کئی گنا اضافے کا امکان ہے، جو ایک اندازے کے مطابق موجودہ سالانہ زرعی معیشت میں تقریباً 70,000 کروڑ روپے کے اضافے کے برابر ہو سکتا ہے۔

زرعی اسٹارٹ اپس کو  ، بھارت کے زرعی مستقبل کی فیصلہ کن قوت قرار دیتے ہوئے، وزیر  موصوف نے کہا کہ بھارت کے اسٹارٹ اپ انقلاب کی اگلی لہر صرف ٹیکنالوجی مراکز تک محدود رہنے کے بجائے کھیتوں سے ابھرنی چاہیے، جس سے زراعت ،  کاروباری صلاحیت، روزگار اور آمدنی پیدا کرنے کا ایک بڑا ذریعہ بن سکے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نئی دلّی میں  خوراک کو ڈبہ بند کرنے سے متعلق صنعتوں  کے تعاون سے منعقدہ 17ویں ایگریکلچر لیڈرشپ کانکلیو 2026 سے خطاب کر رہے تھے۔ اس کانکلیو میں پالیسی سازوں، کسانوں، سائنس دانوں، کاروباری افراد، صنعت کا روں، اسٹارٹ اپس اور اختراع کاروں کو ایک ساتھ  یکجا ہونے کا موقع ملا  تاکہ  ’’ مستقبل  میں خوراک  کی یقینی فراہمی  ‘‘  کے موضوع کے تحت بھارتی زراعت کے مستقبل پر غور و خوض کیا جا سکے۔

زراعت کے ماحولیاتی نظام سے وابستہ ہر متعلقہ فریق کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم تیار کرنے پر منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے، وزیر  موصوف نے کہا کہ اس طرح کے تبادلۂ خیال ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے میں تیزی لانے اور سائنسی اختراعات کو پائیدار روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ آج زراعت میں حکومت، صنعت، تحقیقی اداروں، اسٹارٹ اپس اور کسانوں کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت ہے، تاکہ اختراع  کھیتوں تک پہنچے اور معاشی فوائد میں تبدیل  ہو سکے۔

ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ زراعت کا شعبہ اب روایتی طریقۂ کار پر انحصار نہیں کر سکتا کیونکہ ٹیکنالوجیز پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کو عالمی سطح پر مسابقتی رہنے اور طویل مدتی غذائی اور غذا کے  تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل نئی سائنسی پیش رفت کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔

2070 ء  تک  کاربن کے اخراج  کو بالکل ختم کرنے کے مقصد کے حصول کے لیے بھارت کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ ملک کی ماحول کے لیے ساز گار توانائی کی منتقلی میں زراعت اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے حیاتیاتی ایندھن، قابل تجدید توانائی اور پائیدار توانائی کے دیگر متبادل ذرائع کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا حوالہ دیا اور کھانا پکانے کے استعمال شدہ تیل کو حیاتیاتی ایندھن میں تبدیل کرنے کے لیے کیے گئے کامیاب اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کوششیں نہ صرف فضلے سے معاشی قدر پیدا کرتی ہیں بلکہ ماحولیاتی تحفظ اور سرکلر اکانومی کے طریقوں میں بھی نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ دہائی کے دوران اپنے اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام میں غیر معمولی تبدیلی دیکھی ہے، جو 2015 ء میں تقریباً 350 رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس سے بڑھ کر آج 2.3 لاکھ سے زیادہ اسٹارٹ اپس تک پہنچ گیا ہے، جس سے ملک  ، دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام بن گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اس تحریک کی حقیقی صلاحیت زراعت میں پوشیدہ ہے، جہاں اختراع کسانوں کی آمدنی میں براہِ راست بہتری لا سکتی ہے اور دیہی نوجوانوں کے لیے روزگار بھی پیدا کر سکتی ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ یہ تصور تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ اسٹارٹ اپس صرف انفارمیشن ٹیکنالوجی، میٹروپولیٹن شہروں یا اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد تک محدود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت  ، بھارت میں کاروباری صلاحیت کے لیے سب سے بڑے مواقع میں سے ایک فراہم کرتی ہے، جہاں عملی معلومات ، اختراع اور سیکھنے کی خواہش اکثر صرف تعلیمی قابلیت سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ حکومت کی معاونت، ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارم اور سائنسی اداروں نے دیہی علاقوں میں بھی ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ قابل رسائی بنا دیا ہے۔

سی ایس آئی آر اروما مشن کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ کس طرح جموں و کشمیر کے  گاؤوں میں شروع کی گئی لیونڈر کی کاشت وسیع پیمانے پر معروف پرپل ریوولوشن میں تبدیل ہوئی، جس سے ہزاروں نوجوان کاروباری افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے وابستہ تقریباً 8,000 سے 9,000 نوجوانوں نے کامیاب زرعی کاروباری ادارے قائم کیے ہیں، جن میں سے کئی افراد کم از کم 60-70 لاکھ روپے اور اس سے زیادہ کی سالانہ آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ اس ماڈل کو بعد ازاں اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، اروناچل پردیش اور ناگالینڈ سمیت کئی ہمالیائی اور شمال مشرقی ریاستوں نے بھی اپنایا، جو سائنس پر مبنی زرعی کاروبار کی بے پناہ صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔

وزیر  موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی کامیابی  ، اس لیے ممکن ہوئی کیونکہ سائنسی تحقیق کو ابتدا ء ہی سے صنعت کے ساتھ مربوط کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسانوں کو پائیدار معاشی فوائد حاصل کرنے ہیں تو صنعت کی شمولیت، بازار تک رسائی اور ویلیو ایڈیشن ہر زرعی اختراع کے ضروری اجزاء تسلیم کئے جانے چاہئیں۔ انہوں نے اختراع کاروں اور کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ صنعت کے ساتھ قریبی  اشتراک میں کام کریں تاکہ ایسی مصنوعات تیار کی جا سکیں جو بازار کی  مانگ کو پورا کریں اور ساتھ ہی پورے دیہی بھارت میں روزگار کے مواقع پیدا کریں۔

موسمیاتی تبدیلی کو  ، عالمی زراعت کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک قرار دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سائنسی ترقیات کسانوں کو مؤثر فیصلہ سازی کے لیے طاقتور ذرائع فراہم کر رہی ہیں۔ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، موسم سے متعلق  پیش گوئی کے نظام، وسائل کی نقشہ سازی، ڈرون پر مبنی سروے اور حقیقی وقت پر مبنی مشورے اب کسانوں کو بوائی، آبپاشی اور فصلوں کے  بندوبست سے متعلق باخبر فیصلے کرنے کے قابل بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسم سے متعلق پیش گوئی  کے جدید نظام کسانوں کو مانسون میں  تبدیلی کا اندازہ لگانے اور اس کے مطابق موزوں فصلوں کا انتخاب کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جس سے بدلتے ہوئے موسمی حالات کے باعث ہونے والے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

وزیر  موصوف نے  ، سائنس و ٹیکنالوجی  کی وزارت کے تحت مختلف محکموں میں جاری وسیع سائنسی کام کو اجاگر کیا، جس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں مضبوط فصلوں کی تیاری، جینومکس، فصلوں کی بہتری، کیڑوں سے مزاحمت رکھنے والی اقسام، درستگی پر مبنی کاشت کاری اور وسائل کا مؤثر استعمال شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے پیش گوئی پر مبنی فصلوں کے انتظام، درستگی پر مبنی آبپاشی، موسم پر مبنی مشاورتی خدمات اور زرعی وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے ایک ناگزیر ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق صرف مصنوعی ذہانت پر مبنی اصلاح کاری سے ہر کسان کو سالانہ تقریباً 5,000 روپے کی بچت میں مدد مل سکتی ہے، جس سے مجموعی زرعی معیشت میں اندازاً 70,000 کروڑ روپے کی قدر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات ایک وکست بھارت کی تعمیر کی جانب  ،  ملک کی کوششوں کو نمایاں طور پر مضبوط کریں گے، جب کہ زرعی پیداوار میں اضافہ، وسائل کے بہتر استعمال اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کو یقینی بنائیں گے۔

وزیر  موصوف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیداری اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ اختراع۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی معلومات اور حکومت کی مدد کو ایسے پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں تک پہنچنا چاہیے  ، جنہیں وہ باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں اور ان زبانوں میں جنہیں وہ سمجھتے ہیں۔ بھارت کی تقریباً 70 فی صد آبادی کی عمر 40 سال سے کم ہونے کے پیش نظر، ڈیجیٹل مواصلات، مختصر دورانیے کی ویڈیوز، کثیر لسانی مواد اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والی زبان کی ٹیکنالوجیز کسانوں اور نوجوان کاروباری افراد کے درمیان زرعی معلومات کی ترسیل کو بہت تیز کر سکتی ہیں۔

تمام متعلقہ فریقوں سے مل کر کام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کے زرعی مستقبل کا انحصار سائنس، ٹیکنالوجی، کاروباری صلاحیت اور بازار پر مبنی اختراع کو یکجا کرنے پر  مبنی ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ محققین، صنعت، اسٹارٹ اپس اور کسانوں کے درمیان مضبوط شراکت داری کے ساتھ  ، بھارتی زراعت ایک عالمی سطح پر مسابقتی، ٹیکنالوجی سے بااختیار شعبے کے طور پر ابھرے گی، جو جامع معاشی ترقی کو فروغ دینے اور 2047  ء تک ترقی یافتہ بھارت کے ویژن میں نمایاں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

.......................................

) ش ح – ا ع خ      -  ع ا )

U.No. 9716


(रिलीज़ आईडी: 2282556) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil