وزیراعظم کا دفتر
انڈونیشیا میں کمیونٹی تقریب سے وزیر اعظم کا خطاب
प्रविष्टि तिथि:
07 JUL 2026 11:47PM by PIB Delhi
جنابِ عالی صدر پرابووو،
میرے پیارے دوستو،
بھائیو اور بہنو!
سلامت مالم!
نمسکار!
وناکم!
ست سری اکال!
جے جھولے لال!
کیم چھو؟
آج کل دنیا میں فٹ بال کا بخار چڑھا ہوا ہے۔ یہاں انڈونیشیا میں بھی فٹ بال کا زبردست جنون پایا جاتا ہے، اور آپ سب وہ توانائی اور جوش و خروش یہاں بھی لے آئے ہیں۔
اور ایک کمال کا اتفاق ہوا ہے، شاید آپ نے بھی اس پر غور کیا ہو، لیکن میں اس کا ذکر ضرور کرنا چاہتا ہوں۔ میں جب بھی انڈونیشیا آیا ہوں، یہاں فیفا ورلڈ کپ کا طوفان چھایا ہوا ہوتا ہے۔ پہلی بار 2018 میں جکارتا میں پروگرام ہوا تھا، پھر ہم 2022 میں بالی میں ملے تھے اور اب 2026 میں ایک بار پھر جکارتا میں یہ بات چیت ہو رہی ہے۔ ان تینوں مواقع پر انڈونیشیا میں فٹ بال کی گونج سنائی دے رہی ہے۔
لیکن ساتھیو!
انڈونیشیا میں ہونے والی ان تینوں پروگراموں کا ’مین آف دی میچ‘ایک ہی ہے اور وہ ہیں انڈونیشیا میں رہنے والے آپ تمام لوگ۔ آپ سبھی لوگ مین آف دی میچ ہیں۔
آپ نے اتنی شاندار تقریب کا اہتمام کیا ہے۔ آپ عظیم اور خوشحال بھارت کی ایک جیتی جاگتی تصویر بن گئے ہیں۔ یہاں اتنی بڑی تعداد میں لوگ اکٹھے ہوئے ہیں۔ اور ساتھیو، اس بار میں اکیلا نہیں آیا ہوں۔ اس بار، میرے ساتھ میرے انتہائی قریبی دوست صدر پرابووو بھی تشریف لائے ہیں۔
آج اپنی بات شروع کرنے سے پہلے، میں صدر پرابووو کی محبت اور ان کے خوبصورت الفاظ کے لیے دل کی گہرائیوں سے ان کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں۔
عالی جناب!
آپ بھارت کے ایک سچے دوست ہیں۔ یہاں تشریف آوری کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ!!!
ساتھیو،
کل جب میں نے انڈونیشیا کی فضائی حدود میں قدم رکھا اور جب یہاں میرا پہلا قدم پڑا، تب سے لے کر اب تک جو اپنائیت اور محبت مجھے انڈونیشیا کے لوگوں سے ملی ہے، اس کے لیے میرے پاس الفاظ کم پڑ گئے ہیں۔ صدر پرابووو کا اپنی کابینہ کے ساتھیوں کے ساتھ ذاتی طور پر ایئرپورٹ پر مجھ سے ملنے کے لیے آنا ایک یادگار تجربہ رہا۔
انڈونیشیا میں ہندوستانی ثقافت کے لیے جو لگاؤ ہے، اس کی ایک جھلک آج مجھے صدارتی محل میں بھی دکھائی دی۔ یہاں کے لوگوں کا جوش و خروش، بچوں کی مسکراہٹیں، اور نوجوانوں کا جذبہ—یہ سب کچھ ناقابلِ بیان اور حیرت انگیز تھا۔ میں جہاں جہاں گیا، جس کسی سے بھی ملا، ہر چہرے پر بھارت کے لیے محبت، احترام اور اپنائیت صاف دکھائی دی۔
ساتھیو،
ویسے میں نے دیکھا ہے کہ یہاں بھارت کا گانا ’’کچھ کچھ ہوتا ہے‘‘ بہت ہی مقبول ہے۔ آج میں نے صدر پرابووو سے اسی بات پر کہا کہ جب بھارت اور انڈونیشیا مل کر چلتے ہیں، تو’کچھ کچھ‘ سے بھی آگے بڑھ کر ’بہت کچھ‘ ہوتا ہے۔
ساتھیو،
آج صبح ہی مجھے انڈونیشیا کے سب سے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازے جانے کا شرف بھی حاصل ہوا ہے۔ یہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کی کامیابی ہے، یہ یہاں رہنے والے آپ تمام ہندوستانیوں کا احترام ہے، اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہ ایوارڈ انڈونیشیا اور بھارت کی گہری دوستی کا ایک اور روشن ثبوت ہے۔ میں اس اسٹیج سے بھی صدر پرابووو، انڈونیشیا کی حکومت اور یہاں کے عوام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ساتھیو،
پچھلے سال 26 جنوری کو بھارت نے اپنا یومِ جمہوریہ دھوم دھام سے منایا تھا۔ چھبیس، یعنی 2 اور 6 کا جوڑ... اور میرے دوست کی سالگرہ بھی 17 تاریخ کو ہوتی ہے، یعنی 1 +...
اس تقریب میں، صدر پرابووو بطورِ مہمانِ خصوصی تشریف لائے تھے۔ اس دورے کے دوران، ہمیں کئی موضوعات پر تفصیل سے گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ لیکن اس سفر کی ایک بات، میں آج خاص طور پر یاد کرنا چاہتا ہوں اور اس بات کا بڑے فخر کے ساتھ صدر صاحب نے یہاں بھی نہایت اطمینان سے ذکر کیا۔
مسٹر پریسیڈنٹ، آپ نے اس وقت کہا تھا، اور آج پھر دہرایا، کہ آپ کے اندر ’’انڈیا کا ڈی این اے‘‘ ہے۔ آج بھی میں نے دیکھا کہ سب سے زیادہ تالیاں اسی بات پر بجیں اور بھارت میں بھی کروڑوں ہندوستانیوں کا دل آپ نے جیت لیا ہے۔ اس ایک جملے نے بھارتیوں کے دلوں کو چھو لیا تھا۔
میں آپ ہی کی اس بات کو آگے بڑھاتا ہوں؛ جس ڈی این اے کی بات آپ نے کی تھی، وہ باہمی اعتماد سے بنا ہے۔ وہ ڈی این اے مشترکہ ورثے سے بنا ہے، وہ ڈی این اے مشترکہ یادوں سے بنا ہے۔ وہ ڈی این اے ان سمندری ہواؤں سے بنا ہے جنہوں نے ہزاروں سالوں تک ہمارے جہازوں کو ایک دوسرے کے ساحلوں تک پہنچایا۔
ساتھیو،
بھارت اور انڈونیشیا کے تعلقات کا ڈی این اے ان سنتوں اور بودھ بھکشوؤں سے بنا ہے جنہوں نے علم کو سرحدوں میں نہیں باندھا۔ یہ ان تاجروں سے بنا ہے جنہوں نے صرف مسالحوں کی تجارت ہی نہیں کی، بلکہ ثقافتوں کے پل بھی بنائے۔ اس ڈی این اے کو ان فنکاروں نے تراشا ہے جنہوں نے رامائن اور مہابھارت کو اپنی اپنی زبانوں میں جیا، لیکن ان کی روح کو ایک ہی رکھا۔
بھارت اور انڈونیشیا کے تعلقات کو انڈونیشیا کے زندہ دل شہریوں نے، اور یہاں بیٹھے ہوئے کئی خاندانوں نے سینچا ہے، سنوارا ہے اور ہمیشہ خوشحال بنایا ہے۔
ساتھیو،
دنیا میں اکثر دو ملکوں کے تعلقات معاہدوں اور باہمی مفاہمت ناموں کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں۔ کئی ممالک حکمتِ عملی کے تحت جڑتے ہیں، تو کچھ تجارت کی وجہ سے قریب آتے ہیں۔ لیکن بھارت اور انڈونیشیا کا رشتہ تہذیب وتمدن کا ہے، سمندر کا ہے۔
سلطنتیں آئیں، سلطنتیں چلی گئیں، سمندری راستے بدل گئے، دنیا کی سیاست بدل گئی، لیکن بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان یہ رشتہ ہمیشہ قائم رہا۔ اور یہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔
ساتھیو،
آج دنیا کنیکٹیویٹی کی بات کرتی ہے، لیکن ہمارے آبا واجداد نے تو اس رابطے کو عملی طور پر جی کر دکھایا تھا۔ آج دنیا کی سپلائی چینز پراعتماد ماحول نہ ہونے کی وجہ سے ٹوٹ رہی ہیں، لیکن بھارت اور انڈونیشیا نے اس دور میں سپلائی چین کے بھروسے کو زندہ کیا تھا جب عالمی سپلائی چین کا کوئی تصور بھی نہیں تھا۔
اور مجھے خوشی ہے کہ آج بھارت اور انڈونیشیا اسی بھروسے کی پونجی کے ساتھ مل کر ایک نیا مستقبل لکھ رہے ہیں۔ اور اس شاندار مستقبل کے سب سے بڑے مستفدین آپ سب لوگ ہیں—یعنی انڈونیشیا میں رہنے والی ہندوستانی برادری۔
ساتھیو،
آج کل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اور سوشل میڈیا کے اس دور میں ’کولیب‘کا بڑا چرچا ہوتا ہے۔ لیکن بھارت اور انڈونیشیا تو صدیوں سے کولیب کرتے آئے ہیں۔
انڈونیشیا کے ’کوتائی‘میں پرانے سنسکرت کے کتبے اور خطاطی اسی کولیب کا نتیجہ رہے۔ نالندہ یونیورسٹی میں یہاں کے اسکالرز کے پہنچنے کی وجہ یہ کولیب ہی تو تھا۔
کٹک کا بالی جاترا تہوار ہو، مہاندی میں کیلے کے تنوں سے بنی کشتیوں کو چلانے کی روایت ہو، ویانگ کولیت میں مہابھارت کی ڈرامائی پیشکش ہو، ’ویساک‘کی یاترا ہو، یا دیوی ’سری‘ کی پوجا ہو—ہر روایت میں، بھارت اور انڈونیشیا کا یہ کولیب صاف صاف دکھائی دیتا ہے۔
ساتھیو،
بھارت اور انڈونیشیا کے کولیب کی یہ تاریخ جتنی پرانی ہے، اتنی ہی مالامال بھی ہے۔ سماترا کا ’موارو جامبی‘، قدیم زمانے میں نالندہ کا ایک ’سسٹر انسٹی ٹیوشن‘ہوا کرتا تھا۔ مجھے اس بات کا بہت اطمینان ہے کہ ماضی کی اسی روایت کو آج ہم دوبارہ زندہ کر رہے ہیں۔
آپ سبھی جانتے ہی ہیں کہ اب نالندہ یونیورسٹی ایک نئے اوتار میں سامنے آئی ہے اور وہاں انڈونیشیا کے بھی کئی طلبہ نے داخلہ لیا ہے۔ یعنی 21 ویں صدی میں، ماضی کی ترغیب سے ہم دونوں ملک ایک نئے مستقبل کی سمت طے کر رہے ہیں۔
ساتھیو،
بھارت اور انڈونیشیا دل سے بھی قریب ہیں اور جغرافیائی طور پر بھی ایک دوسرے کے قریبی پڑوسی ہیں۔ بھارت کے ’گریٹ نیکوبار‘ جزیرے سے انڈونیشیا کے ’آچے‘کا فاصلہ تقریباً 150 کلومیٹر ہے۔ سوچیے! بھارت کے ایک جزیرے سے انڈونیشیا، خود بھارت کی اپنی ریاستوں سے بھی زیادہ قریب ہے۔
انڈونیشیا آنے والے ہر ہندوستانی کو یہاں اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برسوں سے ہمارے دونوں ملک تجارت ، روایات اور سیرو سیاحت کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑ کر ہمارے تعلقات کی اس وراثت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
آج جب بھارت نئی بندرگاہیں بنا رہا ہے، نئے بحری جہازوں پر کام کر رہا ہے، نئے سمندری راستے تلاش کر رہا ہے، اور نئی شراکت داریوں کے ذریعے سمندری تجارت کو آگے بڑھا رہا ہے، ایسے وقت میں انڈونیشیا ہمارے لیے ایک بہترین اور پسندیدہ دوست بن کر ہمارے ساتھ موجود ہے۔
ساتھیو،
انڈونیشیا ہو یا پھر بھارت، ہم دونوں ہی ملک ترقی کے لیے بے چین ہیں۔ ہمارے پاس نہ رکنے کا موقع ہے اور نہ تھمنے کا۔ انڈونیشیا کی ترقی کے بارے میں یہاں ابھی کچھ ہندوستانیوں نے بتایا ہے اور ہندوستان سے میں بھی آپ کے لیے بھارت کی ترقی کے کئی قصے اور کہانیاں لے کر آیا ہوں۔
ساتھیو،
آج کل آپ جب بھی بھارت کے بارے میں سنتے ہیں تو ایک بات سب سے پہلے سامنے آتی ہے اور شہ سرخی بنتی ہے—بھارت کی معیشت۔ کوئی کہے گا کہ اتنے ٹریلین ڈالر کی معیشت ہو گئی ہے، کوئی جی ڈی پی کی شرحِ نمو کی بات کرے گا، کوئی بتائے گا کہ گزشتہ 10-12 سالوں میں معیشت میں اتنا بڑا اچھال آ گیا ہے۔ آپ کو بھارت کی ایک سے بڑھ کر ایک کامیابیاں سننے کو ملیں گی۔
آج بھارت کی معیشت دنیا کی ترقی کی رفتار کو آگے بڑھانے میں ایک بڑا کردار ادا کر رہی ہے۔ جب دنیا پر کورونا کا اتنا بڑا بحران آیا، تب بھی بھارت کی معیشت ٹھپ نہیں ہوئی۔ جب مغربی ایشیا کا اتنا بڑا بحران چل رہا تھا، تب بھی بھارت کی معیشت تھمی نہیں، بلکہ پچھلے سال کی آخری سہ ماہی جو مارچ میں ختم ہوئی ہے، اس میں ہماری شرحِ نمو 7.7 فیصد رہی ہے۔
یہ رفتار، یہ ترقی ایسے ہی نہیں آئی ہے۔ بھارت نے ایک کے بعد ایک اصلاحات کی ہیں، ہم نے مسلسل کارکردگی دکھائی ہے، اسی لیے آج ملک بدل رہا ہے۔ ریفارم، پرفارم، ٹرانسفارم—اس منتر کو لے کر ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔
ساتھیو،
بھارت نے آج جو ترقی حاصل کی ہے، یہ 140 کروڑ لوگوں کے خوابوں کی ترقی ہے، یہ کروڑوں ہندوستانیوں کی خواہشات اور امنگوں کی ترقی ہے۔ آپ سب بھی اس خواب سے الگ نہیں ہیں۔ انڈونیشیا میں رہنے والا ہر ایک ہندوستانی اس خواب کا حصہ دار ہے۔
ساتھیو،
بھارت کی ترقی میں جو رفتار اور وسعت ہے، اگر اسے ایک جملے میں بتانا ہو تو میں کہوں گا:ایک ارب چالیس کروڑخواہشات متحرک ہیں۔ آج بھارت کے دیہاتوں سے لے کر شہروں تک ہر شہری امنگوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہر ایک میں یہ اعتماد پیدا ہوا ہے کہ ہاں، ہم یہ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
ساتھیو،
میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ ہر انسان کے لیے اپنے گھر کا خواب کتنا بڑا خواب ہوتا ہے۔ اور بھارت کا یہ اعداد و شمار سنیے: بھارت میں گزشتہ 10-12 سالوں میں حکومت نے 4 کروڑ سے زیادہ غریبوں کو پکے گھر بنا کر دیے ہیں۔ کئی ملکوں میں تو کل گھروں کی تعداد بھی اتنی نہیں ہے۔
ساتھیو،
جب لوگوں کو اپنا گھر ملتا ہے، ایک باعزت زندگی ملتی ہے، تب ان کروڑوں ہندوستانیوں کی امنگوں کو رفتار ملتی ہے، خواب حقیقت کا روپ دھارنے لگتے ہیں۔
ساتھیو،
میں آپ کو بھارت میں سماجی تحفظ کا ایک دلچسپ عدد بتاتا ہوں۔ 12 سال پہلے بھارت میں 25 کروڑ لوگوں کے پاس سماجی تحفظ تھا، آج تقریباً 100 کروڑ ہندوستانی سماجی تحفظ کے دائرے میں آ چکے ہیں۔ اور اب جو بات میں آپ کو بتانے جا رہا ہوں، وہ سن کر آپ حیران رہ جائیں گے۔
بھارت میں ایک اسکیم چلتی ہے ’پردھان منتری سرکشا بیما یوجنا‘۔ اس اسکیم کے تحت سال میں صرف 20 روپے کے پریمیم پر 2 لاکھ روپے کا حادثاتی انشورنس ملتا ہے۔ یعنی ایک کافی جتنا بھی خرچہ نہیں ہے۔ دنیا میں یہ کہیں ملے نہ ملے، لیکن یہ بھارت میں مل رہا ہے۔ اور اس سے بھارت کے تقریباً 60 کروڑ لوگ مستفیدہو رہے ہیں۔
ساتھیو،
ایک دوسری اسکیم بھی ہے، ’پی ایم جیون جیوتی بیما یوجنا‘۔ اس اسکیم میں روزانہ کے تقریباً ڈیڑھ روپے کے پریمیم پر لائف انشورنس ملتا ہے۔ روزانہ کے صرف ڈیڑھ روپے، ایک کافی بھی ڈیڑھ روپے سے زیادہ مہنگی ہوتی ہے۔ اور بھارت میں اس وقت 28 کروڑ لوگ اس اسکیم سے جڑے ہوئے ہیں۔
ساتھیو،
حکومت کی ان دونوں اسکیموں کے تحت اب تک تقریباً 22 ہزار کروڑ روپے کے کلیم لوگوں کو دیے جا چکے ہیں۔ 22000 کروڑ روپے، لوگوں کی زندگی میں جب بھی کوئی بحران آیا، حکومت ان کی ساتھی بن کر ان کے ساتھ کھڑی رہی۔
ساتھیو،
آج بھارت میں ایک اور ایسا نظام بنا ہے جو بے مثال اور شاندار ہے۔ یہ ہے ’ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر‘۔ یہ ایک ایسا فول پروف نظام ہے جس میں بغیر کسی خرد برد کے، مستحقین تک پورا پیسہ پہنچ جاتا ہے۔
ایک صاحب آئے تھے، مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ بنگال کے لیے میرا وژن کیا ہے۔ یہی وژن ہے... ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر۔ کوئی خرد برد نہیں۔
اور یہ پیسے بھی سیدھے ان کے بینک اکاؤنٹ میں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ گزشتہ 12 سالوں میں تقریباً 50 ٹریلین روپے کی مدد، براہِ راست لوگوں کے بینک اکاؤنٹ میں بھیجی جا چکی ہے۔
ساتھیو،
جب ایسا نظام بنتا ہے، تب لوگوں کا بھروسہ بڑھتا ہے، تب لوگوں میں خود اعتمادی آتی ہے اور تبھی 25 کروڑ ہندوستانی غریبی کو ہرا کر، غریبی کو پچھاڑ کر، اس سے باہر نکل کر سکون اور فخر سے زندگی جینے کا آغاز کرتے ہیں۔
ساتھیو،
میں آپ کو ایک اور ڈیٹا دیتا ہوں۔ آپ نے یہ سنا ہوگا کہ دنیا میں جتنی بھی ’ریئل ٹائم ڈیجیٹل پیمنٹس‘ہوتی ہیں، اس کا تقریباً 50 فیصد اکیلے بھارت میں ہوتا ہے۔ پوری دنیا کا 50 فیصد۔
آج بھارت میں ہر دن 75 کروڑ سے زیادہ ڈیجیٹل لین دین ہوتے ہیں۔ 75 کروڑ سے بھی زیادہ۔ یعنی روزمرہ کی زندگی میں نقد رقم لے کر چلنے کی مجبوری ختم ہو گئی ہے۔ اور حالت تو یہ ہو گئی ہے کہ لوگ ڈیبٹ کارڈ اور بینک اے ٹی ایم کا پاس ورڈ تک بھولنے لگے ہیں، بس یو پی آئی اور موبائل فون سے ہی سارا کام ہو رہا ہے۔
ساتھیو،
جب خواب بڑے ہوتے ہیں، تو حکومت کے کام کرنے کی رفتار بھی اتنی ہی تیز ہو جاتی ہے۔ آج اگر آپ بھارت جائیں گے، تو چاروں طرف ہائی ویز اور ایکسپریس ویز بنتے ہوئے دیکھیں گے۔
12 برسوں میں ہائی وے بنانے کی رفتار تین گنا بڑھ گئی ہے، جو دنیا میں سب سے تیز رفتار ترقی میں سے ایک ہے۔ اس دوران بھارت میں ایکسپریس ویز کی لمبائی 100 کلومیٹر سے بڑھ کر 3 ہزار کلومیٹر تک پہنچ چکی ہے۔
اور بھارت کے ان بڑے خوابوں کو بھارت کا نوجوان آگے بڑھا رہا ہے۔ 12 سالوں میں عالمی کیو ایس رینکنگ میں بھارتی یونیورسٹیوں کی تعداد 11 سے بڑھ کر 50 سے زیادہ ہو چکی ہے۔
آج بھارت کے نوجوان بہت بڑی تعداد میں پیٹنٹ فائل کر رہے ہیں اور نئی ایجادات کو رفتار دے رہے ہیں۔ اسی لیے تو آج بھارت 2 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس والا ملک ہے—2 لاکھ سے بھی زیادہ۔ تقریباً سوا سو یونیکورنز والا ملک ہے۔
تبھی تو میں کہتا ہوں کہ بھارت صرف سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت ہی نہیں ہے، بلکہ بھارت میں ایک ارب سے زیادہ خواب متحرک ہیں۔
ساتھیو،
ہم ہندوستانیوں کو تازہ کھانا ذرا زیادہ پسند ہوتا ہے۔ اور اگر گرما گرم ہو تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے، اس لیے میں بھارت کی صلاحیتوں کی ایک سب سے تازہ مثال دیتا ہوں۔
انڈونیشیا آنے سے دو دن پہلے یعنی 4 جولائی کو مجھے ایک ہی دن میں۔ ملک کو ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے پروجیکٹس سونپنے کا موقع ملا ہے۔ ایک ٹریلین روپے سے زیادہ کے انفراسٹرکچر پروجیکٹس صرف ایک ہی دن میں! بھارت اب اس پیمانے پر کام کر رہا ہے۔
ساتھیو،
بھارت نے 4 جولائی کو ایک بہت بڑی ریفائنری کا آغاز کیا ہے۔ اور اس ریفائنری میں جو سازوسامان استعمال ہوا ہے، وہ بھی کم حیران کن نہیں ہے۔ اس میں جتنا اسٹیل لگا ہے، اس سے 40 نئے ’ایفل ٹاور‘بن جاتے اور اتنا اسٹیل لگا ہے کہ 5 برج خلیفہ تیار ہوجاتے۔
اس ریفائنری کی تعمیر میں اتنی لمبی کیبل استعمال ہوئی ہے جس سے پورے کرہ ارض کے دو چکر لگائے جا سکتے ہیں۔ ایسے ہی منصوبوں کی بدولت آج بھارت تیل صاف کرنے کی گنجائش کے معاملے میں دنیا کے ٹاپ 4 ملکوں میں پہنچ چکا ہے۔
ساتھیو،
4 جولائی کو ہی اس ریفائنری کے علاوہ جودھپور میں ایک شاندار اور دیدہ زیب ایئرپورٹ کا آغاز ہوا۔ چھوٹے چھوٹے شہروں تک فضائی رابطے بڑھانے کے لیے 28 ہزار کروڑ روپے کی ’اڑان اسکیم‘لانچ کی گئی۔ جے پور کے میٹرو نیٹ ورک کو اسی دن وسعت دی گئی۔ اور اسی دن بھارت کے تیسرے
’سیمی کنڈکٹر پلانٹ‘نے بھی کام شروع کر دیا۔
یعنی توانائی سے لے کر کنیکٹیوٹی اور چِپ مینوفیکچرنگ تک، بھارت اب رکنے والا نہیں ہے ۔
ساتھیو،
آج کا بھارت صرف اپنے خواب پورے نہیں کر رہا، بلکہ ہر دوست ملک کے خوابوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ بھارت ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘کے منتر پر چلتا ہے۔ اسی لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر نئے مواقع پیدا کرتا ہے اور انہیں بھی نئے مواقع سے جوڑتا ہے۔
بھارت کی آتم نربھرتا انڈونیشیا کے لیے، اور پورے آسیان خطے کے لیے بھی ترقی کی رفتار کو کئی گنا بڑھانے والی طاقت ہے۔ آپ صحت کے شعبے کو ہی لے لیجئے۔ آج دنیا کی ہر پانچ میں سے ایک جینرک دوا بھارت میں بنتی ہے۔ یونیسیف کی ضرورت کی تقریباً 60 فیصد ویکسینز بھارت سے جاتی ہیں۔ اور اس کا فائدہ اس پورے خطے کو بھی ہوتا ہے۔ ہم اپنے دوستوں کے لیے جو کچھ بھی کر پا رہے ہیں، اس پر ہمیں بہت فخر ہے۔
ساتھیو،
میں نے آپ کو بھارت کی اتنی ساری باتیں بتائی ہیں، اب آپ کو میرا ایک کام کرنا ہے۔ آپ کو اپنے انڈونیشیائی دوستوں کو بھارت کے بارے میں بتانا ہے اور انہیں بھارت آنے کی دعوت دینی ہے۔
اب تو جکارتا سے ممبئی کے لیے اور بالی سے دہلی اور بنگلورو کے لیے اتنی ساری براہِ راست پروازیں چل رہی ہیں۔ اس سے بھارت آنا جانا بہت آسان ہو گیا ہے۔
ساتھیو،
ہندوستانی برادری میں بھی جو نئی نسل ہے، جو نوجوان ہیں، انہیں بھی آپ کو بھارت کے بارے میں بتانا ہے۔ انڈونیشیا میں، انڈین کمیونٹی کے بچوں کے لیے ’بھارت کو جانو کوئز‘شروع کیا گیا ہے۔ اس میں یہاں کے بہت سے بچے حصہ لے رہے ہیں۔ کرٹین ریزر تقریب میں ہی مجھے آپ کا زبردست جوش و خروش دیکھنے کو ملا ہے۔
چھٹے ایڈیشن میں ہم نے امتحانی فارمیٹ کو چھوڑ کر اب اس پورے مقابلے کو ’گیمی فائیڈ‘کر دیا ہے۔ میری گزارش ہے کہ آپ تمام نوجوان ساتھی اس میں حصہ لیں اور سوشل میڈیا پر میرے ساتھ اپنا تجربہ شیئر کریں۔
ساتھیو،
بھارت اور انڈونیشیا تاریخ کے ذریعے جتنے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اتنا ہی ہمارا مستقبل بھی مشترک ہے۔ ہمارے مواقع مشترک ہیں اور ہمارے چیلنجز بھی مشترک ہیں۔ جب یوگا کا عالمی دن آتا ہے تو ہم ساتھ مل کر یوگا کرتے ہیں، اور جب سونامی جیسا کوئی بحران آتا ہے تو ہم مل کر اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔
ہم دونوں ملکوں کے درمیان کا یہ بھروسہ ہمارے درمیان ایک بہت بڑی طاقت ہے۔ اور ہمیں مل کر اسے مسلسل مضبوط کرنا ہے۔
آپ سبھی بھارت اور انڈونیشیا کے خوشحال مستقبل کی مشترکہ کڑیاں ہیں۔ آپ کو اپنے اس کردار کو مزید وسعت دینا ہے۔
اسی جذبے کے ساتھ، میں ایک بار پھر صدر اور اپنے قریبی دوست پرابووو کا اور انڈونیشیا کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اور آپ سب کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔
بھارت اور انڈونیشیا مترا سلامانیا
بہت بہت شکریہ۔
اور کل میں صدر صاحب کے ساتھ اس مقدس مندر کے درشن کے لیے جا رہا ہوں۔ اور کل تاریخ کیا ہے؟ تو ہمارا رشتہ بھی اتنا ہی مضبوط ہے۔ اور صدر محترم، میں نے جتنے بھی منصوبے بتائے ہیں، میں وعدہ کرتا ہوں کہ ان میں کوئی ’کاپی رائٹ‘ نہیں ہے۔ نہ کاپی رائٹ ہے اور نہ ہی رائلٹی کا کوئی دعویٰ ہے۔ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘—یہی ہمارا منتر ہے۔
بہت بہت شکریہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ش ب۔ع ن)
U. No. 9690
(रिलीज़ आईडी: 2282351)
आगंतुक पटल : 8