دیہی ترقیات کی وزارت
راجستھان میں دیہی تبدیلی کی رفتار تیز کرنے کے لیے لائحۂ عمل پر شیوراج سنگھ چوہان اور بھجن لال شرما نے تبادلۂ خیال کیا
شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ ’وکست بھارت جی رام جی کے تحت سالانہ 12 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری راجستھان کے ہر گاؤں میں منصوبہ بند ترقی کو فروغ دے گی
شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ عوامی شراکت پر مبنی منصوبہ بندی، شفاف طرزحکمرانی اور گرام چوپال راجستھان کے دیہی علاقوں میں مثبت تبدیلی لا رہی ہیں
گاؤں کی سطح پر منصوبہ بندی اور عوامی شرکت دیہی روزگار اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو نئی رفتار دے رہی ہے
प्रविष्टि तिथि:
07 JUL 2026 5:22PM by PIB Delhi
زراعت و کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آج نئی دہلی کے کرشی بھون میں راجستھان کے وزیر اعلیٰ جناب بھجن لال شرما کے ساتھ ملاقات کی۔ اس دوران ریاست میں وکست بھارت جی رام جی اور دیگر دیہی ترقیاتی پروگراموں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے گاؤں کی سطح پر ان پروگراموں کے حوصلہ افزا نتائج پر تبادلۂ خیال کیا اور عوامی شراکت، شفافیت اور پائیدار دیہی ترقی کو مزید مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات کے دوران شیوراج سنگھ چوہان اور بھجن لال شرما نے گرام سبھا کی قیادت میں منصوبہ بندی، سرکاری فنڈز کے شفاف استعمال اور گرام چوپال ماڈل کے نفاذ کی پیش رفت کا جائزہ لیا، جس کے نتیجے میں راجستھان بھر کے دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع میں اضافہ، پائیدار عوامی اثاثوں کی تعمیر اور گاؤں کی ہمہ جہت ترقی کو فروغ ملا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ریاست میں دیہی ترقیاتی پروگراموں کے مؤثر نفاذ پر ایک دوسرے کو مبارکباد بھی پیش کی۔

جناب چوہان نے راجستھان میں دیہی ترقی اور روزگار کے فروغ سے متعلق پروگراموں کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہا رکیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نچلی سطح سے اوپر تک کے ترقی کے ماڈل پر عمل کر رہی ہے، جس کے تحت منصوبہ بندی کا آغاز گاؤں اور گرام پنچایت کی سطح سے ہوتا ہے، تاکہ ترقیاتی منصوبے مقامی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق ترتیب دیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گرام سبھاؤں کے ذریعے دیہی باشندے خود اپنی ضروریات کے مطابق منصوبوں کی نشاندہی اور ترجیح طے کرتے ہیں، جس سے نہ صرف مقامی مسائل کا حل ممکن ہوتا ہے بلکہ طویل مدتی دیہی ترقی کے لیے پائیدار عوامی اثاثے بھی وجود میں آتے ہیں۔
وکست بھارت جی رام جی پہل کے نفاذ کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی وزیر نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت اب تک راجستھان کو 445 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے تقریباً 200 کروڑ روپے استعمال کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مختص فنڈز کے بروقت اور خاطر خواہ استعمال کے بعد 180 کروڑ روپے کی دوسری قسط جاری کی جائے گی۔
جناب چوہان نے وکست بھارت جی رام جی کے مؤثر نفاذ میں راجستھان کی پیش رفت کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ گرام سبھا اور گرام پنچایت کی میٹنگوں میں ہر گاؤں کی ضروریات کے مطابق ترقیاتی ترجیحات کا تعین کیا جا رہا ہے اور اندازہ ہے کہ ریاست بھر میں دیہی ترقیاتی کاموں پر سالانہ تقریباً 12 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ پروگرام نہ صرف دیہی مزدوروں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کر رہا ہے بلکہ ایسے پائیدار عوامی اثاثے بھی تعمیر کر رہا ہے جو طویل مدت میں دیہی معیشت کو مضبوط بنائیں گے۔
WZMQ.jpeg)
مرکزی وزیر نے پی ایم مائیکرو ایریگیشن اسکیم کے تحت راجستھان حکومت کی کارکردگی کو بھی سراہا ۔انہوں نے کہا کہ ریاست نے مقررہ مدت کے اندر مختص شدہ تمام فنڈز مؤثر انداز میں استعمال کر لیے ہیں، جس کے باعث وہ مستقبل میں اضافی مالی معاونت حاصل کرنے کی اہل ہوگئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منریگا کے تحت اجرت اور تعمیراتی سامان، دونوں مد میں ہونے والے اخراجات کا جامع مالیاتی حساب کا اندازہ لگایا جارہا ہے تاکہ مکمل شفافیت یقینی بنائی جا سکے اور کسی بھی بقایا مالی ذمہ داری کو ختم کیا جا سکے۔
راجستھان کے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما نے مسلسل تعاون پر مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی اسکیموں نے ریاست کے دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو نمایاں طور پر تقویت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت گرام سبھاؤں اور گرام پنچایتوں کی جانب سے تجویز کردہ ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے اور عوامی شراکت کو دیہی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کا بنیادی ستون بنایا گیا ہے۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ کی گرام چوپال پہل کو بھی عوامی شراکت پر مبنی طرزِ حکمرانی کی ایک مؤثر مثال قرار دیا گیا۔ شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ بھجن لال شرما شام کے وقت ذاتی طور پرگاؤں کا دورہ کرتے ہیں، جہاں وہ خواتین، نوجوانوں، کسانوں اور عوامی نمائندوں سے الگ الگ ملاقات کرتے ہیں۔ اس کے بعد اگلے روز بھی وہ مختلف علاقوں کا دورہ جاری رکھتے ہیں تاکہ مقامی حالات کا جائزہ لیں، عوام کے مسائل براہِ راست سنیں اور ان کے بروقت حل کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ دیہی ترقی اور زرعی شعبے کی نگرانی براہِ راست زمینی سطح پر کی جا رہی ہے، جس سے سرکاری پروگرام صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہتے بلکہ دیہات اور کھیتوں میں مؤثر انداز سے نافذ ہوتے ہیں۔
راجستھان حکومت کے طرزِ عمل کی تعریف کرتے ہوئے شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ گرام سبھا پر مبنی منصوبہ بندی، فنڈز کا شفاف استعمال، مائیکرو ایریگیشن پروگراموں کا مؤثر نفاذ اور گرام چوپال جیسے اقدامات نے راجستھان کو دیہی ترقی کے ایک مثالی ماڈل کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ان اقدامات پر مسلسل عمل درآمد سے ریاست کے ہر گاؤں کی جامع اور منصوبہ بند ترقی کی رفتار مزید تیز ہوگی۔
************
ش ح۔م ش ۔ م ذ
UR. No. 9664
(रिलीज़ आईडी: 2282158)
आगंतुक पटल : 10