سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

محققین نے دھاتوں کی نوری خصوصیات میں تبدیلی کا طریقہ دریافت کر لیا، قابلِ پروگرام نینو فوٹونک آلات کی تیاری کے لیے نئی پیش رفت

प्रविष्टि तिथि: 07 JUL 2026 4:01PM by PIB Delhi

بنگلورو کے محققین نے ایک اہم پیش رفت میں پہلی بار ثابت کیا ہے کہ دھات روشنی کے ساتھ کس طرح تعامل کرتی ہے، اسے میکانیکی تناؤ کے ذریعے فعال طور پر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ دریافت طبیعیات کے کئی دہائیوں پرانے اس تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ دھاتوں کی نوری خصوصیات ناقابلِ تغیر ہوتی ہیں اور اس سے ایسے قابلِ ترتیب اور قابلِ پروگرام آپٹیکل آلات کی تیاری کے لیے نئی راہیں کھل گئی ہیں جو معیاری سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتے ہیں۔

دھاتیں روشنی کو اس کی اپنی طولِ موج سے کہیں چھوٹے حجم میں قید اور مرتکز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جسے پلازمون ریزونینس کہا جاتا ہے۔ یہی غیر معمولی صلاحیت انتہائی حساس کیمیائی سینسرز، سرطان (کینسر) کی تشخیص، ذیلی طولِ موج فوٹونک سرکٹس اور میٹا سرفیس  پر مبنی آپٹیکل اجزاء سمیت متعدد جدید ٹیکنالوجیز کی بنیاد ہے۔

اس عمل کی بنیاد دھات کی پلازما فریکوئنسی ہے، جس کا تعین اس میں موجود آزاد الیکٹرانوں کی تعداد سے ہوتا ہے۔ روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ ایک بار دھات کی ساخت منتخب ہو جائے تو اس کی پلازما فریکوئنسی مستقل رہتی ہے۔ اگرچہ محققین نینو ساخت اور ڈائی الیکٹرک انجینئرنگ کے ذریعے بالواسطہ طور پر پلازمونک خصوصیات میں تبدیلی لاتے رہے ہیں، تاہم میکانیکی تبدیلی کے ذریعے براہِ راست پلازما فریکوئنسی کو تبدیل کرنے پر اب تک بہت کم تحقیق ہوئی تھی۔

جواہر لعل نہرو سینٹر فار ایڈوانسڈ سائنٹیفک ریسرچ (جے این سی اے ایس آر)، جو محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کا ایک خودمختار ادارہ ہے، کے سائنس دانوں نے پلازمونک رویے پر تناؤ کے اثرات کا الگ سے جائزہ لینے کے لیے ایپی ٹیکسیل الٹرا تھن ٹائٹینیم نائٹرائیڈ (ٹی آئی این) فلمیں استعمال کیں۔

ٹائٹینیم نائٹرائیڈ ٹی آئی این ایک ایسا مضبوط مادہ ہے جس کی پلازمونک خصوصیات سونے سے مشابہ ہیں، جبکہ یہ حرارتی اور کیمیائی طور پر زیادہ مستحکم ہے اور کمپلیمنٹری میٹل آکسائیڈ سیمی کنڈکٹر(سی ایم او ایس)چِپ سازی کے عمل کے ساتھ بھی مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے۔

اس تحقیق میں 10 نینو میٹر موٹائی کی دو تقریباً یکساں ٹی آئی این فلمیں تیار کی گئیں۔ ایک فلم میگنیشیم آکسائیڈ (ایم جی او) سبسٹریٹ پر بغیر کسی تناؤ کے بنائی گئی، جبکہ دوسری فلم میں ایلومینیم اسکینڈیم نائٹرائیڈ (Al.Sc.N) بفر تہہ کے ذریعے، جس کی کرسٹل جالی کا مستقل زیادہ تھا، قابو شدہ افقی تناؤ پیدا کیا گیا۔

دکشا دادھیچ اور پروفیسر بیواس ساہا کے تحقیقی گروپ نے اسکیننگ ٹرانسمیشن الیکٹران مائیکروسکوپ میں الیکٹران انرجی لاس اسپیکٹروسکوپی (ای ای ایل ایس کی مدد سے دونوں فلموں میں تقریباً ایٹمی سطح کی مقامی وضاحت کے ساتھ پلازمون ریزونینس توانائی کا نقشہ تیار کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ تناؤ والی ٹی آئی این فلم میں بغیر تناؤ والی فلم کے مقابلے میں پلازمون ریزونینس میں 0.30 سے 0.45 الیکٹران وولٹ تک نمایاں بلیو شفٹ  واقع ہوئی۔ یہ واضح اور مقامی سطح پر ریکارڈ کی گئی تبدیلی مادے کے اندر موجود تناؤ کی مقامی تقسیم سے مطابقت رکھتی تھی۔ مزید یہ کہ اسکرین شدہ اور غیر اسکرین شدہ دونوں پلازمون موڈز میں یکساں تبدیلی دیکھی گئی، جس سے مضبوط شواہد ملے کہ میکانیکی تناؤ دھات کے اندرونی برقی رویے کو براہِ راست تبدیل کر رہا ہے۔

اس اثر کی بنیادی وجہ جاننے کے لیے تحقیقاتی ٹیم نے ڈینسٹی فنکشنل تھیوری(ڈی ایف ٹی) پر مبنی فرسٹ پرنسپلز حسابات انجام دیے۔ ان سے معلوم ہوا کہ کششی تناؤ  ٹی آئی این میں نائٹروجن کی خالی جگہیں بننے کے لیے درکار توانائی کو بتدریج کم کر دیتا ہے۔ یہ خالی جگہیں الیکٹران فراہم کرنے والے مراکز  کا کردار ادا کرتی ہیں، جس سے آزاد الیکٹرانوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور نتیجتاً پلازما فریکوئنسی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی عمل تجربات میں دیکھی گئی بلیو شفٹ کی وضاحت کرتا ہے۔ اسپیکٹروسکوپک ایلپسومیٹری اور ہائی ریزولوشن ایکس رے ڈفریکشن کے ذریعے حاصل کردہ نتائج نے بھی اس طریقۂ کار کی مزید تصدیق کی ہے۔

اس تحقیق کے رابطہ مصنف اور جے این سی اے ایس آر میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بیواس ساہا نے کہا کہ"  ہماری تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ میکانیکی تناؤ دھاتوں کی پلازمونک خصوصیات کو کنٹرول کرنے کا ایک مؤثر مگر اب تک کم زیرِ مطالعہ طریقہ ہے۔ ٹی آئی این جیسے سی ایم او ایس سے مطابقت رکھنے والے مادے کی نوری خصوصیات کو میکانیکی طور پر دوبارہ ترتیب دینے کی صلاحیت پلازمونکس کو ایک جامد پلیٹ فارم سے فعال اور قابلِ پروگرام پلیٹ فارم میں تبدیل کر دیتی ہے، جس سے آن چِپ فوٹونکس اور آپٹیکل سینسنگ کے شعبوں میں نئے  اور دلچسپ امکانات پیدا ہوتے ہیں۔"

اس تحقیق میں جواہر لعل نہرو سینٹر فار ایڈوانسڈ سائنٹیفک ریسرچ (جے این سی اے ایس آر) کے علاوہ یونیورسٹی آف سڈنی، آسٹریلیا کے ڈاکٹر میگنس گاربریچی، وجے بھاٹیہ اور آشالتا اندرادیوی کمالاسنن پلئی نے بھی حصہ لیا۔

یہ تحقیق امریکن کیمیکل سوسائٹی کے ممتاز سائنسی جریدے نینو لیٹرز  میں 2026 میں شائع ہوئی۔

اشاعت کا لنک:  https://doi.org/10.1021/acs.nanolett.6c01304

***********

ش ح۔م ع ۔ ا ک م

U No. 9657


(रिलीज़ आईडी: 2282115) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Kannada