وزیراعظم کا دفتر
ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے 125ویں یوم پیدائش کے موقع پر وزیر اعظم کے خطاب کا متن
प्रविष्टि तिथि:
06 JUL 2026 8:43PM by PIB Delhi
مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی امت بھائی شاہ، گجیندر سنگھ شیخاوت، مغربی بنگال کے پُرجوش وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری، بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رکن اور ہم جیسے لاکھوں کارکنوں کے لیے باعثِ تحریک جناب ماکھن لال جی، بی جے پی کے ریاستی صدر جناب شومک بھٹاچاریہ، یہاں موجود عوامی نمائندگان، دیگر معزز شخصیات، خواتین و حضرات!
آپ سب کو میرا نمسکار !
میں اپنے پہلے سے طے شدہ پروگرام کی وجہ سے اس وقت سفر میں ہوں، لیکن ٹیکنالوجی کی مدد سے اس تاریخی پروگرام میں آپ سب سے جڑ رہا ہوں۔
ساتھیو!
آج ملک کی سرزمین، مغربی بنگال کی سرزمین، اپنے ایک عظیم سپوت ، ایک عظیم محبِ وطن اور بھارت کی یکجہتی و سالمیت کے لیے وقف ایک دور اندیش رہنما کو عقیدت کے ساتھ یاد کر رہی ہے۔ آج ہم اس فکری بیج کی ستائش کر رہے ہیں، جو موجودہ دور میں ہر سمت پھل پھول رہا ہے اور جدید بھارت کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ساتھیو!
جب نظریاتی طاقت زمین سے جڑی ہوئی ہو، ارادے مضبوط ہوں، نیت صاف ہو اور نئے عزم کے ساتھ مکمل وابستگی بھی شامل ہو، تو جب یہ تمام عناصر ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں، تو عزم کی تکمیل یقینی ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے اپنی زندگی کے ذریعے یہی مثال قائم کی ہے۔ میں ڈاکٹر مکھرجی کے 125ویں یومِ پیدائش کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں اور اپنی بھرپور عقیدت و احترام کا اظہار کرتا ہوں۔
ساتھیو!
آج کا یہ پروگرام اس حقیقت کا بھی گواہ ہے کہ جب ایسی حکومت ہو جس کا عزم ’’ ملک مقدم ‘‘ ہو، تو قومی رہنماؤں کو مناسب احترام بھی ملتا ہے اور ان کے وژن پر عمل کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ ہماری حکومت ڈاکٹر مکھرجی کے 125ویں یومِ پیدائش کو دو سالہ قومی جشن کے طور پر منا رہی ہے۔ اس کا آغاز گزشتہ سال 6 جولائی کو ہوا تھا اور یہ آئندہ سال 6 جولائی تک جاری رہے گا۔
اور اب تو مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد، اس قومی اعزاز اور اس عظیم شخصیت کو یاد کرنے کے عمل نے بنگال کی رونق کو مزید بڑھا دیا ہے۔ چند روز قبل 20 جون کو یوم مغربی بنگال بڑی شان و شوکت سے منایا گیا۔ یہ بنگال کی سرزمین اور اس کی عظیم وراثت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک اظہار تھا۔ آج کا یہ پروگرام بھی اپنی وراثت کے احترام کی اسی روایت کا حصہ ہے۔ میں مغربی بنگال حکومت کو اس شاندار پروگرام کے انعقاد پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو!
ڈاکٹر مکھرجی کی زندگی ایک ایسے سفر کی متاثر کن مثال ہے، جس میں ایک فکر نے عوامی تحریک کی شکل اختیار کی۔ انہوں نے بھارت میں ایک نظریاتی تحریک کی بنیاد رکھی۔ ذرا دیکھیے، جب بھارتیہ جن سنگھ کا قیام عمل میں آیا تھا، اُس وقت ہر طرف کانگریس کا غلبہ اور اس کی بالادستی نظر آتی تھی۔ ایسے دور میں، جب مختلف نظریات کے لیے تقریباً کوئی جگہ موجود نہیں تھی، اور قدم جمانے کے لیے بھی مواقع نہ ہونے کے برابر تھے، ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے ان تمام حالات کو چیلنج کرتے ہوئے ایک نئے نظریے کو سامنے لانے کا حوصلہ دکھایا۔ یہ محض ایک تنظیم قائم کرنے یا ایک سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ نہیں تھا، بلکہ یہ جمہوریت میں فکری تنوع، قومی سوچ اور عوامی شراکت پر اُن کے غیر متزلزل اعتماد کا اظہار تھا۔ اسی یقین سے بھارتیہ جن سنگھ نے جنم لیا۔ اور ساتھیو! کوئی بھی نظریہ محض اس کے قیام سے ہمیشہ کے لیے زندہ نہیں رہتا۔ ایک نظریہ اُس وقت دائمی حیثیت اختیار کرتا ہے، جب نسلیں اپنی زندگیوں کے ذریعے اسے پروان چڑھاتی ہیں۔ بھارتیہ جن سنگھ کے اُس ننھے چراغ کو روشن رکھنے کے لیے لاکھوں کارکنوں نے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ ہر لمحہ، ہر قدم پر لاکھوں کارکنوں کی ریاضت، قربانی اور بے لوث خدمت نے اس چراغ کی لو کو کبھی مدھم نہیں ہونے دیا۔ آج اگرچہ وہ چراغ اپنی اصل شکل میں نظر نہیں آتا اور بھارتیہ جن سنگھ بھی اپنی سابقہ صورت میں موجود نہیں، لیکن اُس چراغ کی روشنی آج کروڑوں ہم وطنوں کے اعتماد اور یقین کی کرن بن کر پھیل رہی ہے۔ اسی روشنی کی وسعت آج پورے ملک میں کھلے ہوئے کروڑوں کنول کے پھولوں کی صورت میں دکھائی دیتی ہے۔ جو جماعت کبھی بھارتیہ جن سنگھ تھی، وہی آج بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکل میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوری قوت بن کر عوامی خدمت انجام دے رہی ہے۔
ساتھیو!
اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ بعض نظریات کی کشش مدھم پڑنے لگتی ہے، لیکن ذرا سوچیے کہ ڈاکٹر مکھرجی نے کس قدر طاقتور فکری بیج بویا تھا کہ آج اتنے برس گزرنے کے بعد بھی وہ تیزی کے ساتھ پھیلتا اور فروغ پا رہا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ جب آنے والی نسلیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس سفر کی تاریخ رقم کریں گی اور اس کا مطالعہ کریں گی، تو وہ یقیناً ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے نظریات، اُن کے حوصلے اور اُن کی دور اندیشی کا ذکر ضرور کریں گی۔ اور میں ایک بار پھر کہوں گا کہ بنگال کے لیے تو یہ دوہری خوشی کا موقع ہے۔ ایک جانب ڈاکٹر مکھرجی کا 125واں یومِ پیدائش ہے اور دوسری جانب بنگال میں اُن کے افکار سے جنم لینے والی بی جے پی حکومت کے تحت یہ شاندار تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔ یہ مغربی بنگال کے عوام کی جانب سے اپنے عظیم سپوت کو پیش کیا جانے والا نہایت پُرخلوص اور والہانہ خراجِ عقیدت ہے۔
ساتھیو!
پارلیمنٹ میں اپنے ایک خطاب کے دوران ڈاکٹر مکھرجی نے ایک بات کہی تھی، اور اُن کا یہ جملہ آج بھی ہمیں تحریک دیتا ہے۔ ڈاکٹر مکھرجی نے پارلیمنٹ میں کہا تھا: ’’قومی یکجہتی کی بنیاد پر ہی ایک روشن مستقبل کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔‘‘ اور دیکھیے، آج ملک فخر کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہے کہ ڈاکٹر مکھرجی نے اپنی آخری سانس تک اسی یقین کے مطابق زندگی گزاری اور اس پر عمل کیا۔ 1947 میں جب ملک کی تقسیم ہوئی اور یہ تقریباً طے ہو چکا تھا، اُس وقت ایک اور سنگین بحران سامنے آیا۔ پورے بنگال کو بھارت سے الگ کرنے کی سازشیں کی جا رہی تھیں۔ اُس نازک وقت میں ڈاکٹر مکھرجی ان سازشوں کے مقابل ایک مضبوط چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے عوامی رائے ہموار کی، سیاسی جدوجہد کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ مغربی بنگال بھارت کا اٹوٹ حصہ برقرار رہے۔ اُسی موقع پر ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے پُرجوش انداز میں اعلان کیا تھا: ’’کانگریس دیش بھاگ کورے چھے، آمی پاکستان کے بھاگ کورے چھی‘‘۔ یعنی کانگریس نے ملک کو تقسیم کیا، اور میں نے پاکستان کو تقسیم کر دیا۔
ساتھیو!
یہ جو پُرجوش صدا ہے، اس کی جو قوت ہے، اور اس میں جو مضبوط سیاسی عزم جھلکتا ہے، اس کا احساس ہمیں آج کے حالات کو دیکھ کر بھی ہوتا ہے۔
ساتھیو!
ڈاکٹر مکھرجی ’’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘‘ کے تصور کے لیے مکمل طور پر وقف تھے۔ اسی لیے جب ملک میں دو آئین، دو وزیرِ اعظم اور دو پرچم کی بات سامنے آئی، تو ڈاکٹر مکھرجی نے اس کی بھرپور مخالفت کی۔ انہوں نے قوم کو یہ پیغام دیا: ’’ایک دیش میں دو ودھان، دو پردھان اور دو نشان — ہم اسے کبھی قبول نہیں کریں گے۔‘‘ یعنی: ’’ایک ملک میں دو آئین، دو سربراہ اور دو پرچم — یہ ہرگز قبول نہیں ہوں گے۔‘‘ یہ صرف ایک نعرہ نہیں تھا، بلکہ مساوی حقوق، یکساں آئین اور مشترکہ قومی شعور کی ایک پکار تھی۔ انہوں نے اپنے اصولوں کے لیے جدوجہد کی، جیل گئے اور بالآخر کشمیر کے مسئلے پر اپنی جان کا عظیم ترین نذرانہ پیش کیا۔ آج ہماری حکومت کو اس بات پر فخر ہے کہ آرٹیکل 370 کی دیوار گرا کر ہم نے ڈاکٹر مکھرجی کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا ہے۔
ساتھیو!
آج جب ہم ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کی بات کرتے ہیں، تو یہ دراصل اسی قومی وژن کا تسلسل ہے، جسے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے اپنی زندگی کے ذریعے معنی عطا کیے۔ ایک ایسا بھارت — جہاں شمال اور جنوب کے درمیان کوئی فاصلہ نہ ہو، جہاں مشرق اور مغرب یکساں مواقع میں شریک ہوں، جہاں ہر ریاست اپنی منفرد شناخت کے ساتھ بھارت کی اجتماعی طاقت کا حصہ بنے، اور جہاں ہر شہری ایک ہی آئین، ایک ہی قومی جذبے اور ایک ہی مشترکہ مستقبل کے عزم سے جڑا ہو۔ مجھے خوشی ہے کہ آج ڈاکٹر مکھرجی کی تحریک سے بھارت کا آئین پورے ملک میں مکمل وقار اور شان کے ساتھ نافذ ہے اور کروڑوں ہم وطنوں کے لیے باعثِ ترغیب بن رہا ہے۔
ساتھیو!
ڈاکٹر مکھرجی اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے تھے کہ قومی تعمیر کا بنیادی عنصر مضبوط اداروں کی تشکیل میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ صرف 33 برس کی عمر میں ڈاکٹر مکھرجی یونیورسٹی آف کلکتہ کے کم عمر ترین وائس چانسلر بنے۔ لیکن انہوں نے اس منصب کو محض ایک انتظامی ذمہ داری نہیں سمجھا، بلکہ یونیورسٹی کو انہوں نے بھارت کے مستقبل کی تعمیر کرنے والے ایک اہم ادارے کے طور پر دیکھا۔ انہوں نے تعلیم کو غلامانہ ذہنیت کے دائرے سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا: ’’بنگال کے لوگوں کی خودداری کو بحال کرنا اور مادری زبان میں تعلیم کو فروغ دینا ہمارا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔‘‘ ان کا یقین تھا کہ اگر بھارت کو ایک خوداعتماد قوم بننا ہے تو اس کی تعلیمی بنیادیں بھی بھارتی روح اور تہذیبی شناخت سے جڑی ہونی چاہییں۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے بھارتی زبانوں کے احترام اور فروغ پر زور دیا۔ آج ہمیں اس بات پر بھی فخر ہے کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی کے تحت مقامی زبانوں میں تعلیم پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر مکھرجی نے جو خواب دیکھا تھا، ہماری حکومت نے اسے عملی شکل دی ہے۔
ساتھیو!
آزاد بھارت کے پہلے وزیرِ صنعت کی حیثیت سے انہوں نے صنعتی ترقی کے لیے ایک وسیع وژن پیش کیا تھا۔ انہوں نے ایسے قومی اداروں کی بنیاد رکھی جو آنے والی دہائیوں تک بھارت کی اقتصادی قوت کا ستون بنے۔ چترنجن لوکوموٹیو ورکس نے بھارت کے ریلوے نظام کو نئی رفتار بخشی۔ سندری فرٹیلائزر پلانٹ نے زرعی خودکفالت کی جانب ایک بڑا قدم بڑھایا۔ دامودر ویلی کارپوریشن نے توانائی اور آبپاشی کے میدان میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ اور انڈسٹریل فائنینس کارپوریشن آف انڈیا نے بھارتی صنعتوں کو مالی بنیاد فراہم کی۔
ساتھیو!
ان کے نزدیک صنعتیں اور کارخانے محض پیداوار کے مراکز نہیں تھے۔ یونیورسٹیاں صرف ڈگریاں دینے والے ادارے نہیں تھیں اور تحقیقی ادارے صرف سائنسی تجربات کی جگہ نہیں تھے۔ ان کے نزدیک یہ سب قوم کی تعمیر کے مراکز اور خدمت و ترقی کے میدان تھے۔ ڈاکٹر مکھرجی ایسے اداروں کے حامی تھے جو صلاحیتوں کو مواقع فراہم کریں، ایسی تعلیم جو جدت اور اختراع کی حوصلہ افزائی کرے، ایسی صنعتیں جو خود کفالت کی بنیاد بنیں، اور ایسا نظام جو آنے والی نسلوں کو ایک زیادہ مضبوط اور بااختیار بھارت دے سکے۔ اور یہی جذبہ آج وکست بھارت کے تصور کی بھی بنیاد اور تحریک ہے۔
ساتھیو!
آج اس موقع پر میں بنگال اور پورے ملک کے اپنے نوجوان ساتھیوں سے کہنا چاہوں گا کہ ڈاکٹر مکھرجی نے ایک متحد بھارت کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ ہمیں سب کو ایک عظیم اور بہترین بھارت کے لیے جینا ہے اور مل کر وکست بھارت کے عزم کو حقیقت کا روپ دینا ہے۔ ہمیں ملک کو خود کفیل بنانا ہے۔ اسی پیغام کے ساتھ ایک بار پھر میں ڈاکٹر مکھرجی کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ میں اپنی بات اُنہی کے الفاظ کے ساتھ ختم کروں گا۔ یہ ڈاکٹر مکھرجی کے اپنے الفاظ ہیں اور ان کے احساسات کی عکاسی کرتے ہیں: ’’جو بھی کام اپنے ہاتھ میں لو، اسے پوری سنجیدگی، مکمل انہماک اور بھرپور لگن کے ساتھ انجام دو۔ کسی بھی کام کو ادھورا نہ چھوڑو بلکہ اسے ضرور مکمل کرو۔‘‘ ڈاکٹر مکھرجی کے ان الفاظ اور ان کے جذبے کے ساتھ، میں آپ سب کو اپنی نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔
آپ سب کا بہت بہت شکریہ!
******
ش ح۔ ف ا۔ م ر
U-NO. 9630
(रिलीज़ आईडी: 2281858)
आगंतुक पटल : 5