قبائیلی امور کی وزارت
قبائلی امور کی وزارت ، اوڈیشہ کے بھوبنیشور میں 'قبائلی تحقیقی اداروں کو مضبوط بنانے' پر قومی ورکشاپ کا انعقاد کرے گی
ٹرائب ایکس نامی ایک ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارم کا آغاز کیا جائے گا؛ پالیسی ساز، محققین، ماہرینِ تعلیم اور ٹیکنالوجی کے ماہرین قبائلی تحقیقی اداروں کو مضبوط بنانے کے قومی روڈ میپ پر غور و خوض کریں گے
प्रविष्टि तिथि:
06 JUL 2026 5:51PM by PIB Delhi
قبائلی امورکی وزارت 7 اور 8 جولائی 2026 کو اوڈیشہ کے بھوبنیشور میں 'قبائلی تحقیقی اداروں (ٹی آر آئی) کو مضبوط بنانےکے موضوع پر ایک روزہ قومی ورکشاپ کا انعقاد کرے گی۔ اس ورکشاپ کا مقصد ملک بھر میں قبائلی تحقیقی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینا اور انہیں قبائلی ترقی کے لیے فعال علمی اداروں، ثقافتی وسائل کے مراکز اور پالیسی سازی میں معاون مراکزمیں تبدیل کرنے کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کرنا ہے۔
یہ ورکشاپ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، بھارت کے مالا مال قبائلی ورثے کے تحفظ و فروغ، اور قبائلی برادریوں کے لیے جدت طرازی پر مبنی، شواہد پر منحصر اور ہمہ گیر ترقی کو فروغ دینے کے لیے وزارت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
اس ورکشاپ کا افتتاح قبائلی امور کےمرکزی وزیر جناب جوئل اورم کریں گے۔ اس موقع پر قبائلی امور کے وزیر مملکت جناب درگا داس اوئیکے، نیتی آیوگ کے معزز رکن ڈاکٹر آر بالاسبرامنیم، حکومتِ اوڈیشہ کے درج فہرست قبائل و درج فہرست ذاتوں کی ترقی، اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کی بہبود، اسکول و عوامی تعلیم اور سماجی تحفظ و معذور افراد کو بااختیار بنانے کے محکموں کے وزیر جناب نتیا نند گونڈ اور وزارتِ قبائلی امور کی سکریٹری محترمہ رنجنا چوپڑا کے ساتھ ساتھ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے اعلیٰ حکام بھی موجود ہوں گے۔ افتتاحی سیشن کے دوران وزارتِ قبائلی امور اور سمپورنانند سنسکرت وشوودیالیہ، وارانسی کے درمیان ایک مفاہمت نامے پر دستخط بھی کیے جائیں گے۔
اس تقریب کی ایک اہم خصوصیت 'ٹرائب ایکس' کا آغاز ہو گا، جو قبائلی فنون، ثقافت، زبانوں، روایتی علم اور مہارت کے فروغ کے لیے مخصوص اپنی نوعیت کا پہلا ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارم ہے۔ ایک جامع ڈیجیٹل تعلیمی نظام کے طور پر تیار کردہ، ٹرائب ایکس کا مقصد باقاعدہ تعلیم، ڈیجیٹل ذخائر اور ٹیکنالوجی کے ذریعے علم کی منتقلی کے ذریعے بھارت کےمالامال قبائلی ورثے کو محفوظ بنانا، اس کی دستاویز سازی کرنا اور اسے عام کرنا ہے، ساتھ ہی تحقیق، ثقافتی تبادلے اور پائیدار روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
اس ورکشاپ میں ملک بھر سے تقریباً 200 مندوبین شرکت کریں گے، جن میں قبائلی تحقیقی اداروں، ریاستوں کے قبائلی بہبود کے محکموں، تعلیمی و تحقیقی اداروں، ٹیکنالوجی کی تنظیموں، غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) ترقیاتی شراکت داروں اور صنعتی ماہرین کے نمائندے شامل ہیں۔
قبائلی تحقیقی ادارے ریاستی سطح پر قبائلی امور سے متعلق اہم تحقیقی اور علمی اداروں کے طور پر کام کرتے ہیں، جو تحقیق، دستاویز سازی، قبائلی ورثے کے تحفظ اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں تعاون فراہم کرتے ہیں۔ ان کی ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے، یہ ورکشاپ تحقیق، جدت طرازی اور پالیسی سازی کی معاونت کے لیے انہیں مہارت کے مراکز کے طور پر فروغ دینے کی حکمت عملی پر غور کرے گی۔
پہلا دن ریاستی قبائلی تحقیقی اداروں کی پریزنٹیشنز کے ذریعے ان کی موجودہ کارکردگی اور افادیت کا جائزہ لینے پر مرکوز ہوگا، جس کے بعد درج ذیل چار موضوعاتی ورکنگ گروپس میں تبادلہ خیال کیا جائے گا:
1۔قبائلی تحقیقی ادارے (ٹی آر آئیز) علمی اور ثقافتی وسائل کے مراکز کے طور پر
2۔ قبائلی ترقی کے لیے تحقیق، دستاویز سازی اور شواہد کی فراہمی
3۔ ٹیکنالوجی کا انضمام، جی آئی ایس(جی آئی ایس)، مصنوعی ذہانت اور جدت طرازی کا نظام
4۔ ادارہ جاتی مضبوطی، انسانی وسائل، گورننس اور شراکت داریاں
دوسرے دن شرکاء اپنی سفارشات کو یکجا کر کے 'قبائلی تحقیقی اداروں کو مضبوط بنانے کا قومی روڈ میپ' تیار کریں گے، جس کے بعد تحقیقی نظام کو مضبوط بنانے اور مجوزہ ادارہ جاتی اصلاحات پر ماہرین کے پینل مباحثے ہوں گے۔ ٹیکنالوجی، جدت طرازی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے مخصوص سیشنز میں سی-ڈیک ، وادھوانی اے آئی، آئی آئی ٹی دہلی، آئی آئی ٹی بھوبنیشور، ڈیلوئٹ اور سروم اے آئی کے ماہرین پریزنٹیشنز پیش کریں گے، جن میں قبائلی تحقیق اور نظم و نسق کو مضبوط بنانے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے کردار کو اجاگر کیا جائے گا۔
ورکشاپ کا اختتام اہم سفارشات کی پیشکش اور 'بھوبنیشور اعلامیہ' کی منظوری کے ساتھ ہوگا، جس میں ادارہ جاتی اصلاحات، بہترین تحقیق، ٹیکنالوجی کے انضمام، باہمی تعاون اور صلاحیتوں میں اضافے کے ذریعے قبائلی تحقیقی اداروں کو مضبوط بنانے کا ایک مشترکہ وژن پیش کیا جائے گا،تاکہ وہ ملک بھر میں شواہد پر مبنی قبائلی ترقی میں معاونت فراہم کرنے والے مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تیار اداروں کے طور پر ابھر سکیں۔
****
ش ح ۔ م ع۔ ج
uno-9621
(रिलीज़ आईडी: 2281767)
आगंतुक पटल : 8