قانون اور انصاف کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزارت قانون و انصاف کے زیر اہتمام اصلاحات اتسو اور چنتن شیویر 2026 ماؤنٹ آبو میں اختتام پذیر

प्रविष्टि तिथि: 05 JUL 2026 8:53PM by PIB Delhi

وزارت قانون و انصاف کے قانونی امور کے محکمے اور قانون ساز محکمے کے ذریعے مشترکہ طور پر منعقدہ اصلاحات اتسو اور چنتن شیور 2026 ‘‘سنکلپ پتر’’ کو اپنانے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ۔

دو روزہ اصلاحات اتسو اور چنتن شیور 2026 آج گیان سروور ، ماؤنٹ آبو میں ماؤنٹ آبو اعلامیہ-وزارت کے سنکلپ پتر کو اپنانے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ، جس میں وکست بھارت @2047 کے لیے مستقبل کے لیے تیار ، ٹیکنالوجی سے چلنے والے اور شہریوں پر مرکوز قانونی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے اپنے اجتماعی عزم کا اعادہ کیا گیا ۔

دن کا آغاز یوگا اور مراقبہ کے ساتھ ہوا ، اس کے بعد سسٹر شیلو نے ‘‘سواپریوارتن سے وشواپریوارتن’’ (خود کی تبدیلی سے عالمی تبدیلی تک) کے فلسفے پر ایک محرک خطاب کیا ۔  انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دیرپا ادارہ جاتی تبدیلی خود تبدیلی ، مثبت سوچ اور بامقصد عمل سے شروع ہوتی ہے ، جو شرکاء کو اندرونی تبدیلی کے ذریعے عوامی خدمت کو مضبوط کرنے کی ترغیب دیتی ہے ۔

‘‘ہم آہنگی، جوابدہی اور مشترکہ اصلاحاتی روڈ میپ’’کے موضوع پر منعقدہ اختتامی اور سنکلپ (عزم) اجلاس کے دوران چاروں بریک آؤٹ سیشنز کے نتائج پیش کیے گئے، ان پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور اس کے بعد دونوں محکموں کے لیے مشترکہ اور جامع اصلاحاتی روڈ میپ کو حتمی شکل دی گئی۔

محکمۂ قانونی امور اور قانون سازی کے محکمے کے سیکریٹری ڈاکٹر راجیو مانی نے موضوعاتی مباحثے سے ابھرنے والی اہم اصلاحاتی ترجیحات کا خلاصہ پیش کیا اور سنکلپ پتر (عزم نامہ) کی منظوری کی قیادت کی۔ اس عزم نامے میں ادارہ جاتی عمدگی، قانون سازی کی جدیدکاری، ڈیجیٹل تبدیلی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، مؤثر مقدمہ بازی کے انتظام، متبادل تنازعاتی حل(اے ڈی آر)کے فروغ، صلاحیت سازی اور مختلف محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر مبنی اصلاحاتی ایجنڈا پیش کیا گیا ہے، تاکہ ‘‘وکست بھارت @2047’’ کے وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

ڈاکٹر راجیو مانی نے کہا کہ چنتن شِور نے بامقصد مکالمے، اجتماعی غور و فکر اور باہمی تعاون کے جذبے کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں افسران واضح مقصد اور مشترکہ عزم کے ساتھ اہم امور پر تبادلۂ خیال کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے دونوں محکموں کے ادارہ جاتی علم اور تجربے کو کئی دہائیوں میں تشکیل پانے والا ایک قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے افسران پر زور دیا کہ وہ اس مشترکہ طاقت سے بھرپور استفادہ کریں اور ‘‘وکست بھارت @2047’’کے اہداف کے حصول کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھیں۔

اپنے اختتامی خطاب میں مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال نے افسران پر زور دیا کہ وہ خیالات اور تجاویز کو قابلِ پیم ائش اور عملی نتائج میں تبدیل کریں۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کا بروقت تصفیہ قوم کی تعمیر و ترقی کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ انصاف میں تاخیر نہ صرف قومی وسائل کو غیر مؤثر بناتی ہے بلکہ اقتصادی ترقی کی رفتار کو بھی متاثر کرتی ہے۔

وزیر موصوف نے وزیر اعظم کے مسلسل خود احتسابی، اصلاحات اور تبدیلی پر مبنی طرزِ فکر کے وژن کا اعادہ کرتے ہوئے وزارت کے تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ ایک متحد ٹیم کے طور پر مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں میں جاری اصلاحات کے نتیجے میں قانونی نظام کی ذمہ داریاں مزید وسیع ہوں گی۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر اعظم کے الفاظ، ‘‘یہی سمے ہے، صحیح سمے ہے، بھارت کا انمول سمے ہے’’، کا حوالہ دیتے ہوئے افسران پر زور دیا کہ وہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھائیں اور مؤثر، بامعنی اور دیرپا قانونی اصلاحات کے نفاذ میں فعال کردار ادا کریں۔

ماؤنٹ آبو میں سنکلپ پتر کی منظوری کے ساتھ ریفارمز اتسو اور چنتن شیویر 2026 اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس موقع پر ادارہ جاتی عمدگی، اختراع، باہمی اشتراک پر مبنی طرزِ حکمرانی اور مسلسل اصلاحات کے ذریعے ‘‘وکست بھارت @2047’’ کے وژن کے مطابق ایک جدید، مؤثر اور شہریت پر مبنی قانونی نظام کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

 

********

ش ح۔ ش ت۔  ش ب ن

9589U-


(रिलीज़ आईडी: 2281462) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil