پنچایتی راج کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ریاستی وزرائے پنچایتی راج کی قومی ورکشاپ میں سولہویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات پر مؤثر عمل درآمد کے طریقۂ کار پر غور و خوض


مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اپنے داخلی ذرائع سے آمدنی میں اضافے پر خصوصی توجہ دیں اور کارکردگی پر مبنی مالی امداد حاصل کرنے کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید مضبوط بنائیں

प्रविष्टि तिथि: 03 JUL 2026 8:19PM by PIB Delhi

پنچایتی راج کی وزارت نے آج نئی دہلی میں ریاستی وزرائے پنچایتی راج کی قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس میں سولہویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ یہ ورکشاپ سولہویں مالیاتی کمیشن (2026 تا 2031) کی سفارشات کے تناظر میں منعقد کی گئی، جس کے تحت مالی سال 2026-27 سے 2030-31 کے دوران دیہی مقامی اداروں کو 4,35,236 کروڑ روپے کی مالی منتقلی کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وزارتِ خزانہ کے محکمۂ اخراجات کی جانب سے ان سفارشات پر مؤثر عمل درآمد کے لیے جاری کردہ عملی رہنما ہدایات بھی زیرِ بحث آئیں۔ ورکشاپ میں مرکزی وزیر برائے پنچایتی راج اور ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری جناب راجیو رنجن سنگھ (للن سنگھ) اور پنچایتی راج و ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری کے مرکزی وزیرِ مملکت پروفیسر ایس۔ پی۔ سنگھ بگھیل نے شرکت کی۔ ورکشاپ کے مباحثوں میں 18 ریاستوں کے وزرائے پنچایتی راج نے حصہ لیا، جبکہ دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی نمائندگی ان کے متعلقہ محکمۂ پنچایتی راج اور دیہی ترقی کے سینئر افسران نے کی۔ اس موقع پر پنچایتی راج کی وزارت کے سکریٹری وویک بھاردواج، وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری سشیل کمار لوہانی، وزارت کے دیگر سینئر افسران اور مختلف ریاستوں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001ISOY.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002XXQ1.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00318IQ.jpg

ورکشاپ کی صدارت کرتے ہوئے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ ’’ترقی یافتہ پنچایت ہی ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سولہویں مالیاتی کمیشن کی جانب سے دیہی مقامی اداروں کے لیے تجویز کردہ مالی وسائل کی منتقلی میں سابقہ مالیاتی کمیشنوں کے مقابلے میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے، جو ملک بھر میں نچلی سطح پر جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کا ایک تاریخی موقع ہے۔

انہوں نے ریاستوں کو یقین دلایا کہ ورکشاپ کے دوران موصول ہونے والی تمام تعمیری تجاویز کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور جہاں ممکن ہوا، انہیں عمل میں لایا جائے گا۔ مرکزی وزیر نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ سولہویں مالیاتی کمیشن کی جانب سے مالی سال 2026-27 سے 2030-31 کے لیے دیہی مقامی اداروں کو دی جانے والی گرانٹس سے متعلق جاری کردہ عملی رہنما ہدایات کے مطابق اپنی تیاریوں کو مکمل کریں اور تیز رفتاری سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں، تاکہ ان گرانٹس سے زیادہ سے زیادہ مؤثر استفادہ کیا جا سکے۔

مالی خود انحصاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے داخلی ذرائع سے آمدنی میں اضافے کو فروغ دیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے وزارت ایک نمونہ قواعدی فریم ورک تیار کر رہی ہے تاکہ ریاستوں کو اس ضمن میں مؤثر رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے تعاون پر مبنی وفاقی نظام کے تئیں حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ، مضبوط اور بااختیار پنچایتوں کی تعمیر حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزارت کے ڈیجیٹل نظم و نسق کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے بتایا کہ ’’سمرتھ پنچایت پورٹل‘‘، جو پنچایتوں کے مالیاتی انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک خود مختار ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر تیار کیا گیا ہے، شفافیت میں اضافہ، انتظامی کارکردگی میں بہتری اور پنچایتی راج اداروں میں مؤثر مالی نظم و نسق کو فروغ دے گا۔ انہوں نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد سمرتھ پنچایت پورٹل سے منسلک ہوں اور اپنے داخلی ذرائع سے آمدنی (او ایس آر) میں اضافہ کریں تاکہ مالی طور پر مضبوط، جواب دہ اور پائیدار پنچایتوں کا قیام عمل میں آ سکے۔

مرکزی وزیرِ مملکت پروفیسر ایس۔ پی۔ سنگھ بگھیل نے کہا کہ سولہویں مالیاتی کمیشن کے تحت دیہی مقامی اداروں کو مالی وسائل کی منتقلی میں نمایاں اضافے کے نتیجے میں پنچایتوں کے لیے فی کس مالیاتی تخصیص تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جو مالیاتی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور دیہی اداروں کو بااختیار بنانے کے لیے حکومت کے مضبوط عزم کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوامتو، ای گرام سوراج، آڈٹ آن لائن اور پنچایت ایڈوانسمنٹ انڈیکس جیسے نمایاں اقدامات نے دیہی مقامی نظم و نسق کو نمایاں طور پر مستحکم کیا ہے۔ انہوں نے کارکردگی پر مبنی گرانٹس کو ایک اہم اصلاحی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پنچایتوں میں بہتر حکمرانی اور مؤثر مالیاتی انتظام کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

پنچایتی راج کی وزارت کے سکریٹری وویک بھاردواج نے ریاستوں کی جانب سے پیش کی گئی قیمتی تجاویز پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سولہویں مالیاتی کمیشن کی مشروط اور غیر مشروط گرانٹس کے نئے ڈھانچے کے تحت ریاستوں کو عمل درآمد میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ لچک حاصل ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پنچایتی راج اداروں کو مالی طور پر بااختیار اور خود کفیل بنانے کے لیے مناسب قانونی اور پالیسی فریم ورک، بالخصوص اپنے داخلی ذرائع سے آمدنی (او ایس آر) کو مضبوط بنانے سے متعلق رہنما اصول وضع کرنا ناگزیر ہے۔

ورکشاپ نے ریاستوں کو اپنے تجربات کے تبادلے اور سولہویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات پر مؤثر عمل درآمد کے لیے تعمیری تجاویز پیش کرنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔ مباحثوں کے دوران جغرافیائی لحاظ سے دشوار گزار، پہاڑی، قبائلی اور قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں کے لیے بعض رہنما ہدایات پر عمل درآمد میں زیادہ لچک فراہم کرنے، مالیاتی کمیشن کی گرانٹس بروقت جاری کرنے اور کارکردگی پر مبنی مراعات کا جائزہ لیتے وقت مقامی حالات کو مناسب اہمیت دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ریاستوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اپنے داخلی ذرائع سے آمدنی کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے تعمیل سے متعلق بوجھ میں کمی، مرکزی اور ریاستی ڈیجیٹل پورٹلز کے درمیان بہتر انضمام، عوامی اثاثوں کی دیکھ بھال، ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافہ اور ایسے نفاذی نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا، جو مقامی طرزِ حکمرانی کی متنوع ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔ اس کا مشترکہ مقصد پنچایتی راج اداروں کو مزید مضبوط، مالی طور پر بااختیار اور خود کفیل بنانا ہے۔ ورکشاپ کے دوران پنچایتی راج کی وزارت کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ مکتا شیکھر نے ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی، جس میں پندرہویں مالیاتی کمیشن کے تحت کارکردگی کا جائزہ، سولہویں مالیاتی کمیشن کی اہم سفارشات اور دیہی مقامی اداروں کے لیے سولہویں مالیاتی کمیشن کی گرانٹس پر عمل درآمد سے متعلق عملی رہنما ہدایات کی اہم دفعات پر روشنی ڈالی گئی۔ دیہی مقامی اداروں کے لیے جاری کردہ عملی رہنما ہدایات ایک ایسا شفاف، پیشگی قابلِ پیش بینی اور کارکردگی پر مبنی نظام فراہم کرتی ہیں، جس کے ذریعے مالیاتی کمیشن کی گرانٹس بروقت جاری کرنے اور ان کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان رہنما ہدایات کے تحت بنیادی گرانٹس کو کارکردگی پر مبنی ترغیبی گرانٹس کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے، جس سے مالیاتی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو تقویت ملتی ہے، پنچایتی راج ادارے بااختیار ہوتے ہیں، مقامی ترجیحات کے مطابق منصوبہ بندی کو فروغ ملتا ہے، مالیاتی نظم و نسق بہتر ہوتا ہے، اپنے داخلی ذرائع سے آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے اور نچلی سطح پر جواب دہ اور مؤثر حکمرانی کو استحکام حاصل ہوتا ہے۔

دیہی مقامی اداروں کے لیے سولہویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات کی اہم جھلکیاں

  • مالی سال 2026-27 سے 2030-31 کے دوران دیہی مقامی اداروں کے لیے 4,35,236 کروڑ روپے کی مالی منتقلی کی سفارش کی گئی ہے، جو پندرہویں مالیاتی کمیشن (2021-26) کے تحت مختص 2,36,805 کروڑ روپے کے مقابلے میں تقریباً 84 فیصد زیادہ ہے۔
  • گرانٹس میں 3,48,188 کروڑ روپے کی بنیادی گرانٹس شامل ہیں، جنہیں مساوی طور پر 1,74,094 کروڑ روپے کی مشروط گرانٹس اور 1,74,094 کروڑ روپے کی غیر مشروط گرانٹس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مشروط گرانٹس صفائی، ٹھوس کچرے کے انتظام اور آبی وسائل کے انتظام کے لیے مختص ہوں گی۔ اس کے علاوہ 87,048 کروڑ روپے کی کارکردگی پر مبنی گرانٹس بھی تجویز کی گئی ہیں، جنہیں دیہی مقامی اداروں کی کارکردگی پر مبنی گرانٹس اور ریاستی کارکردگی پر مبنی گرانٹس کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کیا جائے گا۔
  • دیہی مقامی اداروں کے لیے فی کس مالیاتی تخصیص تیرہویں مالیاتی کمیشن (2010–15) کے تحت 176 روپے سے بڑھ کر سولہویں مالیاتی کمیشن (2026–31) کے تحت 953 روپے تک پہنچ گئی ہے، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
  • پندرہویں مالیاتی کمیشن (2020–26) کے دوران وزارت نے 2,97,555 کروڑ روپے کی مجموعی مختص رقم میں سے تقریباً 95 فیصد یعنی 2,82,632 کروڑ روپے کی گرانٹس جاری کرنے میں سہولت فراہم کی، جو مقامی اداروں کے لیے کسی بھی مالیاتی کمیشن کے تحت حاصل ہونے والی اب تک کی سب سے زیادہ اجرا کی شرح ہے۔
  • ملک میں اس وقت 2,62,738 پنچایتی راج ادارے موجود ہیں، جن میں 2,55,308 گرام پنچایتیں، 6,756 بلاک پنچایتیں اور 674 ضلعی پنچایتیں شامل ہیں۔ روایتی مقامی اداروں کو بھی شامل کر لیا جائے تو ملک میں مقامی اداروں کی مجموعی تعداد 2,76,901 ہو جاتی ہے۔
  • ای گرام سوراج، آڈٹ آن لائن، پی ایف ایم ایس انٹرفیس، سمرتھ پورٹل اور سوامتو کی املاک سے متعلق معلومات کے انضمام پر مشتمل ایک مربوط ڈیجیٹل نظام کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے تاکہ پنچایتوں کو منصوبہ بندی، حسابات، آڈٹ اور اپنے داخلی ذرائع سے آمدنی میں اضافے کے لیے مؤثر معاونت فراہم کی جا سکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0042Q03.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005LGR8.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image006CW12.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0070BWX.jpg

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-9536


(रिलीज़ आईडी: 2280978) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी