عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

’مکمل حکومتی‘ نقطۂ نظر متنوع انفرادی اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کے اشتراک کا تقاضہ کرتا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ


صلاحیت سازی صرف انفرادی مہارت تک محدود نہیں، بلکہ ادارہ جاتی صلاحیتوں کے اشتراک کی بھی متقاضی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سینئر پی ایس ای ایگزیکٹوز کے لیےدکش ( ڈی اے کے ایس ایچ )لیڈرشپ پروگرام کے تیسرے بیچ کا آغاز کیا

دکش لیڈرشپ پروگرام بھارت کے عوامی شعبے کے اداروں کے لیے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ قیادت تیار کرے گا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

प्रविष्टि तिथि: 03 JUL 2026 4:44PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم اور وزیر مملکت برائے وزیراعظم دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، محکمہ ایٹمی توانائی اور محکمہ خلائی امور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ بھارت کا  ’’مکمل حکومتی‘‘ نقطۂ نظر متنوع انفرادی اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کے اشتراک کا متقاضی ہے، جہاں ادارے اور پیشہ ور افراد اپنی اپنی مہارت اور قوت کے ساتھ قومی اہداف کے حصول میں تعاون دیتے ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ صلاحیت سازی اب صرف انفرادی مہارتوں کو بہتر بنانے تک محدود نہیں رہی بلکہ اسے ادارہ جاتی ہم آہنگی پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ ایسے حکومتی نظام تیار کیے جا سکیں جو 2047 تک وکست بھارت کے اہداف اور عوامی توقعات کو پورا کر سکیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سنٹرل پبلک سیکٹر انٹرپرائزز (سی پی ایس ایز) کے سینئر ایگزیکٹوز کے لیے ایک سالہ لیڈرشپ ڈیولپمنٹ پروگرام  کے تیسرے بیچ کا افتتاح کیا، جو صلاحیت سازی سے متعلق کمیشن (سی بی سی) اور اسٹینڈنگ کانفرنس آف پبلک انٹرپرائزز (ایس سی او پی ای) کے اشتراک سے نئی دہلی کے اسکوپ کنونشن سینٹر میں منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام انڈین اسکول آف بزنس (آئی ایس بی) کے تعاون سے چلایا جا رہا ہے تاکہ سینئر ایگزیکٹوز کو منظم قیادت کی تربیت اور صلاحیت سازی کے ذریعے مستقبل میں بورڈ سطح کی ذمہ داریوں کے لیے تیار کیا جا سکے۔

افتتاحی تقریب میں عوامی ادارہ جات  کے محکمہ کے سکریٹری کے موسیس چالائی؛ صلاحت سازی کمیشن کے چیئرپرسن ایس رادھا چوہان؛ صلاحیت سازی کمیشن کی ممبر (انتظامیہ) الکا متل؛ چیئرمین، اسکوپ اور چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر این بی سی سی کے پی مہادیواسوامی؛ ڈین، انڈین اسکول آف بزنس جناب مدن پُٹولا؛ ڈائریکٹر جنرل، اسکوپ اتُل سوبتی؛ وائس چیئرمین اسکوپ اور چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر، گووا شپ یارڈ لمیٹڈ جناب برجیش کمار اُپادھیائے سمیت اعلیٰ سرکاری عہداروں ، سی پی ایس ای کی قیادت اور ڈی اے کے ایس ایچ پروگرام کے شرکاء نے شرکت کی۔

منتظمین اور شرکاء کو مبارکباد دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ملک کے نمایاں عوامی شعبے کے اداروں کے ایگزیکٹوز کی شرکت اس پروگرام کی بڑھتی ہوئی معتبریت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے موجودہ بیچ میں خواتین افسران کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کو بھی سراہا اور اسے بھارت کے بدلتے ہوئے قیادتی منظرنامے کی مثبت عکاسی قرار دیا۔

وزیر موصف نے کہا کہ صلاحیت سازی کمیشن وزیراعظم نریندر مودی کے وژن کے تحت متعارف کرائی گئی سب سے اہم حکومتی اصلاحات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اس کی ارتقائی تاریخ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں یہ کمیشن حکومتی نظام میں ایک بالکل نیا ادارہ جاتی تجربہ تھا، تاہم اب یہ پورے سرکاری نظام میں صلاحیت سازی کا ایک اہم ستون بن چکا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت کا حکمرانی کا فلسفہ اب "مکمل حکومتی"  نقطۂ نظر سے آگے بڑھ کر ایک وسیع تر "مکمل حکومتی اور مکمل قومی" فریم ورک کی جانب ترقی کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نقطۂ نظر صرف اسی صورت میں بامعنی ثابت ہوتا ہے جب مختلف ادارے علیحدہ علیحدہ میں کام کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتیں اور مہارتیں قومی مفاد کے لیے یکجا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صلاحیت سازی کمیشن منفرد حیثیت کا حامل ہے جو مختلف طرح کے سرکاری اہلکاروں کو مشترکہ تعلیمی پلیٹ فارمز پر یکجا کرکے انفرادی مہارتوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی دونوں کو مستحکم بنا سکتا ہے۔

دکش کو اس ارتقا پذیر صلاحیت سازی کے نظام کا ایک فطری تسلسل قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ پروگرام بھارت کے عوامی شعبے کے اداروں کے لیے آئندہ نسل کی قیادت تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ گزشتہ بیچز کے متعدد شرکاء پہلے ہی بورڈ سطح کے عہدوں پر پہنچ چکے ہیں، جو سی پی ایس ایز کے اندر حکمرانی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں اس پروگرام کے رول کو ظاہر کرتا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ عوامی اور نجی شعبے کے درمیان فرق بتدریج کم ہو رہا ہے کیونکہ حکمرانی اور ترقی کے لیے اب باہمی تعاون پر مبنی طریقہ کار کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ قیادت کے پروگراموں میں سینئر سرکاری ایگزیکٹوز کو نجی شعبے، بہترین عالمی طور طریقوں اور ابھرتے ہوئے انتظامی ماڈلز سے زیادہ تعامل کا موقع دیا جانا چاہیے تاکہ وہ تیزی سے بدلتی ہوئی معیشت کے تقاضوں کے لیے بہتر طور پر تیار ہو سکیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ٹیکنالوجی کی تیز رفتار تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید دور میں قیادت کے لیے مسلسل سیکھنا لازمی ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج حاصل ہونے والا علم جلد ہی پرانا ہو جاتا ہے، اس لیے کامیاب رہنماؤں کی بنیادی خصوصیت موافقت  اور زندگی بھر سیکھنے کا رجحان ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ لیڈرشپ پروگرامز کو یکساں تربیتی ماڈلز کے بجائے سینئر ایگزیکٹوز کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق زیادہ حسب ضرورت  بنایا جانا چاہیے۔

قیادت کی ترقی کے عمل میں شرکاء کی زیادہ شمولیت پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ دکش جیسے پروگراموں کو بہتر بنانے کے لیے منظم اور گمنام فیڈبیک کے نظام متعارف کرائے جائیں۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ تربیتی عمل کو یک طرفہ لیکچرز کے بجائے مکالمے پر مبنی اور زیادہ انٹرایکٹو بنایا جائے، تاکہ شرکاء اپنے پیشہ ورانہ تجربات کے ذریعے کلاس روم مباحثے کو مزید بامعنی بنا سکیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مزید کہا کہ ممتاز تعلیمی اداروں اور خصوصی شعبہ جاتی مراکز کے ساتھ مضبوط تعاون ضروری ہے تاکہ لیڈرشپ پروگرامز مختلف سرکاری شعبے کے اداروں کی مخصوص ضروریات کے مطابق ڈھالے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اشتراکی عمل اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ شعبہ جاتی مہارتیں وسیع تر قیادتی صلاحیتوں کی تکمیل کرسکیں۔

وزیر موصوف نے اس اقدام کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکش جیسے پروگرام بھارت کے عوامی اداروں کی قیادت کے لیے ایک مضبوط پائپ لائن تیار کرنے میں اہم رول ادا کریں گے، جو آنے والی دہائیوں میں ملک کے سرکاری اداروں کی رہنمائی کی صلاحیت کےحامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھارت 2047 میں آزادی کے 100 سال مکمل کرلے گا تو صلاحیت سازی کمیشن اور اسکوپ جیسے ادارے اس بات پر فخر کریں گے کہ انہوں نے وکست بھارت کے سفر میں مؤثر کردار ادا کیا۔

صلاحیت سازی کمیشن کی چیئرپرسن محترمہ ایس رادھا چوہان نے کہا کہ آج قیادت کی ترقی صرف انفرادی صلاحیتوں کو بہتر بنانے تک محدود نہیں رہی بلکہ اب اس میں ادارہ جاتی اور تنظیمی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا بھی شامل ہے، تاکہ ادارے تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی اور حکمرانی کے ماڈلز کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن مستقبل پر مبنی موضوعات جیسے مصنوعی ذہانت، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور ادارہ جاتی موافقت کو اپنے صلاحیت سازی کے فریم ورک میں شامل کر رہا ہے اور ساتھ ہی شرکاء کے فیڈبیک کو منظم طور پر دستاویزی شکل دے کر قیادت کے پروگراموں کو مسلسل بہتر بنا رہا ہے۔

صلاحیت سازی کمیشن کی ممبر (انتظامیہ) محترمہ الکا متل نے کہا کہ دکش (ڈی اے کے ایس ایچ) بھارت کے مستقبل کی قیادت سے متعلق  زیر عمل نظام میں ایک اسٹریٹجک قومی سرمایہ کاری کی حیثیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک سالہ پروگرام سینئر سی پی ایس ای ایگزیکٹوز کو بورڈ سطح کی ذمہ داریوں کے لیے تیار کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے، جس میں رویہ جاتی سائنس، قیادت سے متعلق تحقیق اور اسٹریٹجک سوچ کو شامل کیا گیا ہے، تاکہ وہ اداروں کی قیادت مضبوطی، اخلاقی وضاحت، جدت اور قومی مقصد کے ساتھ کر سکیں۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001SGK1.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002N11A.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003LT1O.jpg

*******

ش ح۔ ش ب۔م الف

U. No. 9521


(रिलीज़ आईडी: 2280856) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil