پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
بھارت کی پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت اور جاپان کی معیشت ، تجارت اور صنعت کے درمیان توانائی کی بحالی سے متعلق مشترکہ بیان
प्रविष्टि तिथि:
02 JUL 2026 5:54PM by PIB Delhi
دو جولائی 2026 کو، بھارت کے وزیراعظم عزت مآب نریندر مودی اور جاپان کی وزیرِ اعظم عزت مآب تاکائچی سانائے نے نئی دہلی، بھارت میں ملاقات کی اور اس بات پر اپنی مشترکہ خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ایک ذمہ دار طاقت اور ایشیا کے بڑے توانائی استعمال کرنے والے ممالک کے طور پر موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں توانائی کے نظام کی مضبوطی (انرجی ریزیلینس) کو مشترکہ طور پر فروغ دیں۔
دونوں فریقین نے توانائی کی مضبوطی کو بڑھانے کے لیے علاقائی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا، جیسے جاپان کا ‘پارٹنرشپ آن وائیڈ انرجی اینڈ ریسورسز ریزیلینس (پی او ڈبلیو ای آر آر ایشیا)’ اور جنوبی ایشیا میں توانائی کے تحفظ کے لیے بھارت کی معاونت۔ رہنماؤں کی بات چیت کی بنیاد پر، جمہوریہ ہند کی پیٹرولیم و قدرتی گیس کی وزررات اور جاپان کی معیشت، تجارت و صنعت کی وزرات درج ذیل عملی اقدامات پر باہمی تعاون کریں گے۔
- اسٹریٹجک ذخیرہ اندوزی کے نظام میں تعاون
دونوں فریقین نے اس بات کی دوبارہ تصدیق کی کہ اپنے اپنے تجربات اور معلومات کا تبادلہ انتہائی اہم ہے، اور جہاں مناسب ہو وہاں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے لیے ذخیرہ اندوزی کے نظام اور ذخیرے کے میکانزم سے متعلق عملی تعاون کو فروغ دیا جائے۔
یہ تعاون خاص طور پر درج ذیل موضوعات سمیت دیگر متعلقہ پہلوؤں پر مرکوز ہوگا:
- قومی سطح پر ذخیرہ اندوزی کے نظام اور ذخائر سے متعلق طریقۂ کار، جس میں صنعتی ذخائر بھی شامل ہیں
- پیداوار کرنے والے ممالک کے ساتھ معاہدوں اور انتظامات کے حوالے سے ہم آہنگی
- ہنگامی حالات میں فوری ردِعمل اور مارکیٹ کے استحکام کو یقینی بنانے کے اقدامات
- توانائی استعمال کرنے والے ممالک کی آواز کو مضبوط بنانا
دونوں فریقین نے اس بات کی دوبارہ تصدیق کی کہ توانائی کی دستیابی اور اس کی قابلِ استطاعت قیمت سے متعلق مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تعاون انتہائی اہم ہے۔ یہ تعاون رسد کی یقینی فراہمی، توانائی کے نظام کی مضبوطی میں اضافہ، اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو کم کرنے کے لیے مؤثر طریقۂ کار کی تشکیل کے ذریعے کیا جائے گا، تاکہ تیل اور گیس استعمال کرنے والے ممالک کی آواز کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ تعاون درج ذیل موضوعات سمیت دیگر متعلقہ پہلوؤں پر مرکوز ہوگا:
- مارکیٹ کے رجحانات سے متعلق معلومات کے تبادلے اور مارکیٹ کے استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں میں تعاون
- تیسرے ممالک سے توانائی کی رسد کے حوالے سے شراکت داری کے امکانات کا جائزہ
- تیسرے ممالک میں اپ اسٹریم شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے تجارتی تعاون کے امکانات کی تلاش
- توانائی کی ترسیل میں تعاون
دونوں فریقین نے اس بات کی دوبارہ تصدیق کی کہ تیل اور گیس کی مضبوط، خود کفیل اور مؤثر سمندری ترسیل دونوں ممالک کے لیے توانائی کے تحفظ کا ایک بنیادی ستون ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ بحری توانائی ترسیل کے پورے ویلیو چین میں مشترکہ سرمایہ کاری سمیت باہمی تعاون کے مواقع تلاش کریں گے۔
- ادارہ جاتی تعاون
دونوں فریقین نے اس ارادے کی تصدیق کی کہ وہ توانائی کے شعبے میں جامع تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے متعلقہ فریقین کے درمیان ادارہ جاتی اشتراک کو فروغ دیں گے، جس میں تکنیکی اور مالیاتی تعاون بھی شامل ہوگا۔
- جاپانی ادارے: جاپان آرگنائزیشن فار میٹلز اینڈ انرجی سیکیورٹی (جے او جی ایم ای سی)، جاپان بینک فار انٹرنیشنل کوآپریشن (جے بی آئی سی) اور دیگر متعلقہ شراکت دار
- بھارتی ادارے: بھارتی قومی تیل کمپنیاں، انڈین اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز لمیٹڈ (آئی ایس پی آر ایل) اور دیگر متعلقہ شراکت دار
- بات چیت کے لیے پلیٹ فارم
اس بیان میں طے کی گئی ترجیحی شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے کے مقصد سے دونوں فریقین نے فیصلہ کیا کہ وہ بھارت-جاپان انرجی ڈائیلاگ کے تحت پیٹرولیم اور قدرتی گیس سے متعلق بھارت-جاپان مشترکہ ورکنگ گروپ کے ذریعے مذاکرات کریں گے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے دونوں فریقین تازہ ترین معلومات اور تجربات کا تبادلہ کریں گے اور باہمی مفاد کے تعاون کے مواقع تلاش کریں گے۔
********
ش ح۔ ش آ۔ ت ع
U-9477
(रिलीज़ आईडी: 2280481)
आगंतुक पटल : 11