قومی انسانی حقوق کمیشن
این ایچ آر سی، انڈیا نے اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر میں ایک فیکٹری کے اندر تقریباً ڈیڑھ سال تک 12 بندھوا مزدوروں کو مبینہ طور پر قید میں رکھ کر ان پر تشدد کرنے اور آدھی رات تک مناسب خوراک اور اجرت کے بغیر کام پر مجبور کرنے کی اطلاعات کا از خود نوٹس لیا ہے
کمیشن نے ریاستی چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو نوٹس جاری کر کے دو ہفتوں کے اندر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے
مظفر نگرضلع مجسٹریٹ کو وزارتِ محنت و روزگار کے معیاری طریقۂ کار اور بندھوا مزدوری نظام (انسداد) ایکٹ 1976 کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے
کمیشن نے اپنی ایڈوائزری 2.0 مورخہ 8 دسمبر 2021 کے مطابق متعلقہ مزدوروں کو فوری طور پر ای-شر م پورٹل پر رجسٹر کرنے کی بھی ہدایت دی ہے
प्रविष्टि तिथि:
02 JUL 2026 3:11PM by PIB Delhi
نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی)، بھارت نے اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر کے منڈی گاؤں میں واقع ایک پیپر پلیٹ بنانے والی فیکٹری میں مبینہ طور پر 12 بندھوا مزدوروں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر ازخود نوٹس لیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ان مزدوروں کو قید میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں تقریباً ڈیڑھ سال تک مناسب خوراک اور اجرت کے بغیر آدھی رات تک کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔مزید بتایا گیا ہے کہ ایک مزدور کسی طرح فیکٹری سے فرار ہونے میں کامیاب ہوا اور اس نے تھانہ تیتاوی میں شکایت درج کرائی، جس کے بعد دیگر مزدوروں کو نکالا گیا۔طبی معائنے میں متعدد چوٹوں کی تصدیق ہوئی، جن میں زخم ، کٹ، فریکچر اور طویل جسمانی تشدد کے آثار شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پولیس کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایک شخص کی موت ہو چکی ہے، جبکہ مزید اموات کے امکان کی تصدیق کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
کمیشن نے مشاہدہ کیا ہے کہ خبر میں بیان کردہ مواد، اگر درست ثابت ہوتا ہے، تو یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لہٰذا اس نے اتر پردیش کے چیف سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔مزید برآں، کمیشن نے مظفر نگر کے ضلع مجسٹریٹ کو وزارتِ محنت و روزگار کے معیاری طریقۂ کار اور بندھوا مزدوری نظام (انسداد) ایکٹ 1976 کی روشنی میں اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی ہے۔کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ مزدوروں کی فوری طور پر ای-شرم پورٹل پر رجسٹریشن اور این ایچ آر سی ایڈوائزری 2.0 مورخہ 8 دسمبر 2021 کے مطابق ضروری کارروائی بھی کی جائے۔
25 جون 2026 کو شائع ہونے والی میڈیا رپورٹ کے مطابق متاثرہ افراد کا تعلق مختلف ریاستوں سے تھا، جن میں اتر پردیش، بہار، اتراکھنڈ، راجستھان، ہریانہ، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور کچھ نیپال سے تھے۔رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر انہیں روزگار ، باقاعدہ اجرت ، کھانا اور رہائش فراہم کرنے کے بہانے ریلوے اسٹیشنوں ، بس اڈوں اور دیگر عوامی مقامات سے لالچ دیا گیا۔فیکٹری پہنچنے کے بعد مبینہ طور پر ان کے موبائل فون اور شناختی دستاویزات ضبط کر لیے گئے، جس کے باعث وہ اپنے اہل خانہ سے رابطہ نہیں کر سکتے تھے۔مزید الزام ہے کہ مزدوروں کو فرار ہونے سے روکنے اور خوفزدہ کرنے کے لیے پِٹ بُل کتوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔
********
) ش ح ۔ ش آ۔ ت ع)
U.No. 9459
(रिलीज़ आईडी: 2280312)
आगंतुक पटल : 10