خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعتوں کی وزارت
مرکزی وزیر جناب چراغ پاسوان نے فوڈ پروسیسنگ اور انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے کے لیے پربھنی کے وی این ایم کے وی میں ایم او ایف پی آئی سپورٹڈ کامن انکیوبیشن سینٹر کا افتتاح کیا
جناب چراغ پاسوان نے ایک اہم قدم کے طور پر وی این ایم کے وی کے کالج آف فوڈ ٹیکنالوجی میں جدید کامن انکیوبیشن سینٹر کا افتتاح کیا جو ویلیو ایڈیشن اور کسانوں کو بااختیار بنانے میں مدد فراہم کرے گا
प्रविष्टि तिथि:
01 JUL 2026 2:43PM by PIB Delhi
آتم نربھر بھارت ابھیان کے تحت کالج آف فوڈ ٹیکنالوجی، وسنت راؤ نائیک مراٹھواڑا کرشی ودیاپیٹھ (وی این ایم کے وی)، پربھنی میں قائم جدید کامن انکیوبیشن سینٹر (سی آئی سی) کا افتتاح 28 جون 2026 کو بھارت کے مرکزی وزیر برائے ڈبہ بندخوراک کی صنعت، جناب چراغ پاسوان نے کیا۔یہ جدید مرکز ڈبہ بند خوراک کی صنعتوں کی وزارتِ (ایم او ایف پی آئی)، حکومتِ ہند، نئی دہلی کی مالی معاونت سے، وسنت راؤ نائیک مراٹھواڑا کرشی ودیاپیٹھ، پربھنی اور محکمۂ زراعت، حکومتِ مہاراشٹر کی ریاستی سطح کی نوڈل ایجنسی کے اشتراک سے قائم کیا گیا ہے۔
اس موقع پر جامعہ کے گولڈن جوبلی کانووکیشن ہال میں مرکزی وزیر کے ساتھ ایک خصوصی تبادلۂ خیال اور رہنمائی کے سیشن کا بھی انعقاد کیا گیا۔تقریب میں مہاراشٹر کی وزیرِ مملکت برائے صحتِ عامہ و خاندانی بہبود، آبی فراہمی و صفائی، توانائی، خواتین و اطفال کی ترقی، محکمۂ تعمیراتِ عامہ (سرکاری ادارے)، اور ضلع پربھنی کی سرپرست وزیر، محترمہ میگھنا تائی بورڈیکر بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں۔تقریب کی صدارت وسنت راؤ نائیک مراٹھواڑا کرشی ودیاپیٹھ کے وائس چانسلر پروفیسر (ڈاکٹر) اندرمنی نے کی۔اس موقع پر راجیہ سبھا کے رکن جناب رام راؤ واڈکوٹے، لوک سبھا کے رکن جناب سنجے جادھو، حکومتِ مہاراشٹر کے ڈائریکٹر برائے زرعی پروسیسنگ پلاننگ ونے کمار آواٹے، قائم مقام ضلع کلکٹر اور ضلع پریشد کی چیف ایگزیکٹو آفیسر محترمہ نتیشا ماتھر (آئی اے ایس) سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جناب پنکج کومات (آئی پی ایس)، اور تعلیمی محکمے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بھگوان اسیوار سمیت متعدد معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔
اپنے افتتاحی خطاب میں مرکزی وزیر جناب چراغ پاسوان نے تقریب میں شریک افراد کے جوش و خروش کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ بھارت (وکست بھارت)کی تعمیر کے لیے ہر شہری کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے انہیں خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت کی وزارتِ کی ذمہ داری سونپی ہے، اور وہ اس ذمہ داری کو بھرپور عزم، جذبے اور لگن کے ساتھ نبھا رہے ہیں۔ یونیورسیٹی میں موجود شرکاء کے جوش و خروش کو دیکھ کر وہ اس حد تک متاثر ہوئے کہ انہوں نے حاضرین سے براہِ راست تبادلۂ خیال کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ایک زراعت پر مبنی ملک ہے اور آج بھی زراعت ہی ملکی معیشت اور عوام کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اسی لیے خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت کے ذریعے کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں ملک کی توجہ زرعی پیداوار بڑھانے پر مرکوز تھی، اور آج بھارت نہ صرف زرعی پیداوار میں خود کفیل ہو چکا ہے بلکہ اپنی زرعی مصنوعات متعدد ممالک کو برآمد بھی کر رہا ہے۔ تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ زرعی پیداوار کی قدر میں اضافہ کیا جائے اور اسے زیادہ قدر و قیمت رکھنے والی مصنوعات میں تبدیل کیا جائے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ روایتی طور پر بھارتی گھروں میں دہی، پاپڑ، اچار اور دیگر غذائی اشیا کی تیاری اور پروسیسنگ مؤثر انداز میں کی جاتی رہی ہے۔ اسی طرز پر جدید زرعی پیداوار کو بھی پروسیسنگ کے مراحل سے گزارنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فوڈ پروسیسنگ نہ صرف زرعی پیداوار کی قدر میں اضافہ کرتی ہے بلکہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، لہٰذا اس شعبے کو مزید فروغ اور حوصلہ افزائی دی جانی چاہیے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ ملک میں بہت سے کسانوں کے پاس زمین کا رقبہ محدود ہے، جبکہ ان کی مالی ضروریات زیادہ ہوتی ہیں۔ مناسب ذخیرہ کرنے کی سہولیات نہ ہونے کے باعث انہیں اکثر اپنی زرعی پیداوار کم قیمت پر فروخت کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ کسانوں کی استعداد کو مضبوط بنایا جائے تاکہ وہ اپنی پیداوار کو محفوظ رکھنے، اس کی پروسیسنگ کرنے اور اس میں ویلیو ایڈیشن کے ذریعے اس کی قدر میں اضافہ کرنے کے قابل ہوں، جس سے ان کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور نوجوانوں کو صرف ملازمت کے متلاشی بننے کے بجائے روزگار فراہم کرنے والے کاروباری افراد بننے کی جانب قدم بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز پیداوار سے لے کر مارکیٹنگ تک تمام متعلقہ فریقوں کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف اسکیموں پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ خوراک کا ضیاع ایک سنگین مسئلہ ہے، جس پر قابو پانے کے لیے فوڈ پروسیسنگ سب سے مؤثر حل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوڈ پروسیسنگ کے شعبے کی توسیع وقت کی اہم ضرورت ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے ریاستی حکومتوں کا فعال تعاون بھی نہایت ضروری ہے۔
مرکزی وزیر نے مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ اور نائب وزیرِ اعلیٰ کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ پی ایم ایف ایم ای اسکیم (پردھان منتری فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز اسکیم) کے تحت مہاراشٹر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ملک میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی زرعی مصنوعات کو عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنانے کے لیے کیمیائی کھادوں کے استعمال میں کمی لانا اور نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دینا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ معیار کی پروسیس شدہ غذائی مصنوعات تیار کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں جاری ‘‘کھیت بچاؤ ابھیان’’ جیسے اقدامات اس مقصد کے حصول میں نہایت معاون ثابت ہوں گے۔
طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے انہیں نصیحت کی کہ وہ جس بھی شعبے کا انتخاب کریں، اپنی مصنوعات کے معیار پر کبھی سمجھوتہ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ صرف معیاری مصنوعات ہی طویل عرصے تک مارکیٹ میں اپنی جگہ برقرار رکھتی ہیں اور ایک مضبوط و دیرپا شناخت قائم کرتی ہیں۔ متعدد کامیاب برانڈز برسوں کی محنت اور لگن سے وجود میں آتے ہیں، لیکن اگر قلیل مدتی فائدے کے لیے معیار پر سمجھوتہ کیا جائے تو برسوں کی محنت چند لمحوں میں ضائع ہو سکتی ہے۔ اس لیے طلبہ کو ہمیشہ اعلیٰ معیار برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم رہنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘میڈ اِن انڈیا’’ کے لیبل کے ساتھ تیار ہونے والی ہر مصنوعات کو معیار کے تمام عالمی تقاضوں پر پورا اترنا چاہیے اور بین الاقوامی منڈی میں مسابقت کی صلاحیت رکھنی چاہیے انہوں نے وزیرِ اعظم کے اس وژن کا اعادہ کیا کہ بھارتی کسان دنیا کے فوڈ بینک بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر مرکزی وزیر نے کہا کہ وسنت راؤ نائیک مراٹھواڑا کرشی ودیاپیٹھ کا قیام مہاراشٹر کے سابق وزیرِ اعلیٰ مرحوم وسنت راؤ نائیک کے دوراندیش وژن کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس یونیورسیٹی نے زرعی تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی کی ترقی اور زرعی توسیعی خدمات کے شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں اور ملک کے زرعی شعبے کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے یونیورسیٹی، متعلقہ محکمے اور پوری قوم سے اپیل کی کہ وہ اس عظیم ورثے کو آگے بڑھائیں اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے زرعی شعبے میں بھارت کی ساکھ اور وقار کو مزید مستحکم کریں، تاکہ ملک عالمی سطح پر زراعت اور فوڈ پروسیسنگ کے میدان میں مزید نمایاں مقام حاصل کر سکے۔



**********
ش ح۔۔ت ف۔ ر ب
U-9398
(रिलीज़ आईडी: 2279906)
आगंतुक पटल : 11