سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

زمین پر تین دہائیوں کے دوران آنے والے شمسی طوفانوں کے حرارتی اثرات نے خلائی موسم کی پیش گوئی کے لیے نئے اشارے فراہم کیے

प्रविष्टि तिथि: 30 JUN 2026 3:53PM by PIB Delhi

 بھارتی فلکیاتی سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ سورج سے خارج ہونے والے بڑے شمسی دھماکے، جنہیں انٹرپلینیٹری کورونل ماس ایجیکشنز (آئی سی ایم ایز) کہا جاتا ہے، سورج سے زمین تک اپنے سفر کے دوران حرارتی اعتبار سے کس طرح تبدیل ہوتے ہیں، اور ان کی یہی حرارتی کیفیت زمین کے مقناطیسی ماحول پر پڑنے والے اثرات کا تعین کرتی ہے، جو ریڈیو مواصلات، ہوائی پروازوں کے راستوں اور بجلی کے گرڈز کو متاثر کر تے ہیں۔

آئی سی ایم ایز سورج کی بیرونی فضا سے خارج ہونے والے مقناطیسی پلازما کے نہایت بڑے بادل ہوتے ہیں، جو بین سیاراتی خلا میں سفر کرتے ہیں۔ جب یہ زمین کی سمت بڑھتے ہیں اور زمین کے مقناطیسی میدان سے ٹکراتے ہیں تو جیو میگنیٹک (ارضی مقناطیسی) طوفان پیدا ہوتے ہیں۔ یہ طوفان مصنوعی سیاروں کی کارکردگی، جی پی ایس اور ریڈیو مواصلات، فضائی پروازوں کے راستوں اور بجلی کی ترسیلی لائنوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں، جبکہ دوسری جانب زمین کی بالائی فضا میں دلکش اور رنگ برنگی روشنیوں اورورا کا بھی سبب بنتے ہیں۔ سورج کی سرگرمی تقریباً 11 سالہ چکر کے مطابق بدلتی رہتی ہے، اور اس چکر کے عروج کے دوران آئی سی ایم ایز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ موجودہ شمسی چکر یعنی سائیکل نمبر 25، اپنے عروج پر 2025 میں پہنچاتھا۔

حکومتِ ہند کے محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی(ڈی ایس ٹی) تحت بنگلورو میں قائم خودمختار  انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس (آئی آئی اے)  کے محققین نے پہلی مرتبہ سورج سے ایک فلکیاتی اکائی (اے یو1) ، یعنی زمین کے قریب، آئی سی ایم ایز کے حرارتی رویّے کا طویل مدتی شماریاتی تجزیہ کیا۔ اس تحقیق میں 1995 سے 2024 تک کے 29 برسوں پر مشتمل، شمسی چکروں 23، 24 اور 25 کے ابتدائی مرحلے کے عوامی طور پر دستیاب مشاہداتی اعداد و شمار استعمال کیے گئے۔ سائنس دان  سومیارانجن کھنٹیا  اور  وگیش مشرا  کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ آئی سی ایم ایز کی مختلف حرارتی حالتیں سورج کی سرگرمی کے مختلف مراحل اور شمسی طوفانوں کی زمین پر اثراندازی کی شدت سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔

اس سے قبل ہونے والی بیشتر تحقیقات میں آئی سی ایم ایز کی رفتار، مقناطیسی ساخت یا انفرادی واقعات پر توجہ دی گئی تھی، جبکہ ان کے حرارتی ارتقا، یعنی بین سیارتی خلا میں سفر کے دوران حرارت حاصل کرنے یا کھونے کے عمل، کو نسبتاً کم سمجھا گیا تھا۔یہ نئی تحقیق اس علمی خلا کو پُر کرتی ہے۔ اس کے لیے سورج کی سمت زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایل-1 مقام پر موجود سیٹلائٹس سے حاصل کیے گئے  اِن سیٹو شمسی ہوا کے پلازماکے مشاہدات استعمال کیے گئے، اور پولی ٹروپک فریم ورک کی مدد سے ہر انفرادی آئی سی ایم ای واقعے کی حرارتی کیفیت کا مقداری تجزیہ کیا گیا۔

اس تحقیق میں سائنس دانوں نے  او ایم این آئی ڈیٹا بیس سے استفادہ کیا، جسے  ناسا گوڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر  کے  اسپیس فزکس ڈیٹا فیسلٹی  کی جانب سے برقرار رکھا جاتا ہے۔ یہ ڈیٹا بیس ایل-1 کے قریب متعدد خلائی جہازوں سے حاصل شدہ مشاہدات کو یکجا کرتا ہے تاکہ زمین کے  بو شاک ، (یعنی اس سرحد جہاں تیز رفتار شمسی ہوا پہلی مرتبہ زمین کے مقناطیسی میدان سے ٹکرا کر اپنا رخ بدلتی ہے)  تک شمسی ہوا کی کیفیت معلوم کی جا سکے۔ یہ معلومات  ناسا  سی ڈی اے ویب   ذخیرۂ معلومات سے حاصل کی گئیں،یہ ڈیٹا سورج سے ایک فلکیاتی اکائی اے یو1 کے فاصلے پر، یعنی زمین کے قریب پہنچنے والے آئی سی ایم ایز  کی خصوصیات سے متعلق پیمائشوں کا ایک نہایت اہم اور جامع ذریعہ ہے۔

محققین نے ہر آئی سی ایم ای کے مقناطیسی اخراج  میں کثافت کے مقابلے میں دباؤ اور درجۂ حرارت کی تبدیلی، جسے تکنیکی طور پر  پولی ٹروپک انڈیکس  کہا جاتا ہے، کا حساب لگایا۔ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ زمین کے قریب پہنچنے تک ان عظیم پلازما بادلوں کے اندرونی پلازما کی کیفیت کس طرح تبدیل ہوتی ہے۔

عام طور پر یہ تصور کیا جاتا تھا کہ کورونل ماس ایجیکشنز (سی ایم ایز) پھیلتے ہوئے ٹھنڈے ہوتے جاتے ہیں، لیکن اس تحقیق نے اس مفروضے کو چیلنج کرتے ہوئے ثابت کیا کہ آئی سی ایم ایز حرارتی اعتبار سے فعال رہتے ہیں اور اپنے سفر کے دوران توانائی کے تبادلے میں حصہ لیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق تقریباً  45 فیصد  مقناطیسی اخراجات نے زمین کے قریب پہنچنے پر حرارت میں اضافے کے آثار ظاہر کیے، خصوصاً شمسی سرگرمی کے عروج کے زمانے میں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سفر کے دوران ان میں فعال طور پر حرارت پیدا ہونے کے عمل جاری رہتے ہیں۔

مزید تجزیے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ  شمسی چکر 23  میں آئی سی ایم ایز میں حرارت بڑھنے کا رجحان زیادہ تھا، جبکہ  شمسی چکر 24  میں ٹھنڈک غالب رہی۔ شمسی سرگرمی کے ساتھ اس منظم تبدیلی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سی ایم ایز کا حرارتی ارتقا سورج کے مجموعی مقناطیسی ماحول سے متاثر ہوتا ہے، جو ہیلیو فزکس اور خلائی موسم کے مطالعے میں ایک اہم اور نیا سائنسی انکشاف ہے۔

 منّتھلی نوٹسز آف دی رائل آسٹرونومیکل سوسائٹی(ایم این آر اے ایس)میں شائع ہونے والی اس تحقیق نے آئی سی ایم ایز کی حرارتی کیفیت اور زمین پر آنے والے شمسی طوفانوں کی شدت کے درمیان بھی واضح تعلق قائم کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ مؤثر اور شدید جیو میگنیٹک طوفان عموماً ان آئی سی ایم ایز سے وابستہ ہوتے ہیں جو حرارت میں اضافے کی حالت (کمگاما قدر) میں ہوں۔ ان کی نمایاں خصوصیات میں طاقتور مقناطیسی میدان، کم  پلازما بیٹا  (جو مقناطیسی دباؤ کے غلبے کی علامت ہے)، دباؤ زدہ  شیتھ خطے، اور زیادہ رفتار سے پھیلاؤ شامل ہیں۔

تصویر: (اے) ایس سی 23،24 میں ایم ای کو گرم کرنے اور ٹھنڈا کرنے کا سالانہ واقعہ ، اورایس سی 25 کا بڑھتا ہوا مرحلہ ۔  سپرپوزڈ ایپوچ اینالیسس (ایس ای اے) (بی) پولیٹروپک انڈیکس (گاما) اور (سی) سم-ایچ پیرامیٹر کی درمیانی اقدار کو پری-آئی سی ایم ای ، شیتھ ، ایم ای ، اور پوسٹ-آئی سی ایم ای علاقوں میں دکھا رہا ہے ۔  منحنی خطوط کی نمائندگی: ہائی امپیکٹ آئی سی ایم ایز کے لیے براؤن اور اعتدال پسند امپیکٹ آئی سی ایم ایز کے لیے سیان ۔  گرے ڈیشڈ عمودی لائنیں ابتدائی مٹھی کے علاقے کو نشان زد کرتی ہیں ، اور سیاہ عمودی ڈیشڈ لائنیں ایم ای خطے کی حدود کو نشان زد کرتی ہیں ۔

حرارتی اور مقناطیسی خصوصیات پر مبنی یہ مشترکہ نقطۂ نظر ایک کثیر جہتی تشخیصی فریم ورک فراہم کرتا ہے، جو خلائی موسم کے اثرات کی پیش گوئی کو مزید بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس(آئی آئی اے) کے ڈاکٹریٹ اسکالر اور تحقیق کے مرکزی مصنف  سومیارانجن کھنٹیا  نے کہا،  ‘‘زمین کی جانب سفر کے دوران آئی سی ایم ایز کے حرارتی رویّے کو سمجھنا خلائی موسم کی پیش گوئی کے لیے نئی اور امید افزا امکانات پیدا کرتا ہے۔ اگر پولی ٹروپک انڈیکس جیسے حرارتی اشاریوں کی پیشگی نشاندہی دور سے کیے گئے مشاہدات یا ابتدائی مقامی (ان سیٹو) مشاہدات کے ذریعے ممکن ہو جائے، تو یہ زمین کی طرف بڑھنے والے شمسی طوفانوں کے ممکنہ اثرات کی پیشگی علامات کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔’’

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس (آئی آئی اے) کے ایسوسی ایٹ پروفیسر  وگیش مشرا  نے کہا،  ‘‘ہماری تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ پولی ٹروپک انڈیکس آئی سی ایم ایز کی حرارتی کیفیت جانچنے کا ایک مؤثر اشاریہ ہے، اور یہ زمین پر پیدا ہونے والے جیو میگنیٹک ردِعمل سے بھی براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔ پلازما اور مقناطیسی میدان کی دیگر خصوصیات کے ساتھ ملا کر یہ معلومات شدید خلائی موسمی واقعات کے ممکنہ اثرات کی زیادہ درست پیش گوئی میں مدد فراہم کرتی ہیں۔’’

جناب مشرا نے مزید کہا کہ آئندہ تحقیق میں بھارت کے  آدتیہ-ایل1 شمسی مشن سے حاصل ہونے والے مشاہدات، جن میں  کورونوگراف  اور  شمسی ہوا  کی پیمائش کرنے والے آلات شامل ہیں، کو استعمال کیا جائے گا تاکہ سورج کے قریب کورونل ماس ایجیکشنز (سی ایم ایز) کے حرارتی ارتقا کا مزید باریک بینی سے مطالعہ کیا جا سکے اور خلائی موسم کی پیش گوئی کے ماڈلز کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

 

 

https://academic.oup.com/mnras/article/545/4/staf2242/8383415  پبلیکشن لنک :  

https://arxiv.org/abs/2512.15155

**********     

 (ش ح ۔  م م ع۔ت ا)

U. No.9343

 


(रिलीज़ आईडी: 2279422) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil