مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
سنٹر فار ڈیولپمنٹ آف ٹیلی میٹکس (سی-ڈاٹ) نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، حیدرآباد کے ساتھ جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی میں سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام کے لیے مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے
یہ مرکزِ امتیاز جدید مواصلاتی شعبوں میں مقامی تحقیق، اختراع اور افرادی سازی کو تیز رفتار بنانے کے مقصد سے قائم کیا جا رہا ہے
مرکزِ امتیاز اعلیٰ اثرات کی حامل تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے خصوصی مرکز کے طور پر کام کرے گا اور آئی آئی ٹی حیدرآباد کی تعلیمی مہارت اور سی-ڈاٹ کے تکنیکی تجربے سے فائدہ اٹھا کر تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان اشتراک کو مزید مضبوط بنائے گا
یہ اقدام سی-ڈاٹ کی جانب سے قائم کیے جانے والے ایسے چوتھے مرکزِ امتیاز کی پہل ہے۔ اس سے قبل اسی نوعیت کے مراکزِ امتیاز آئی آئی ٹی کانپور، آئی آئی ٹی گاندھی نگر اور آئی آئی ٹی روڑکی میں قائم کیے جا چکے ہیں
یہ مرکزِ امتیاز جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں اعلیٰ اثرات کی حامل تحقیق و ترقی کے مرکزی اور رہنما مرکز (نوڈل ہب) کے طور پر خدمات انجام دے گا
प्रविष्टि तिथि:
24 JUN 2026 7:59PM by PIB Delhi
وزارتِ مواصلات، حکومتِ ہند کے محکمۂ ٹیلی مواصلات (ڈی او ٹی) کے تحت قائم ملک کے ممتاز ٹیلی مواصلاتی تحقیقی و ترقیاتی مرکز، سنٹر فار ڈیولپمنٹ آف ٹیلی میٹکس (سی-ڈاٹ) نے نئی نسل کی مواصلاتی ٹیکنالوجی میں تحقیق اور اختراع کو فروغ دینے کے واسطے قومی اہمیت کے حامل ممتاز تعلیمی ادارے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، حیدرآباد (آئی آئی ٹی حیدرآباد) کے ساتھ مفاہمت نامے(ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔
اس تزویراتی اشتراک کے تحت سی-ڈاٹ، آئی آئی ٹی حیدرآباد میں ایک مرکزِ امتیاز (سینٹر آف ایکسیلنس) قائم کر رہا ہے۔ اس مرکز کا مقصد جدید مواصلاتی شعبوں میں مقامی تحقیق، اختراع اور افرادی صلاحیت سازی کو تیز رفتار بنانا ہے، جس میں بالخصوص وائرلیس مواصلات، کوانٹم ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایپلی کیشن پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ یہ سی-ڈاٹ کی جانب سے قائم کیا جانے والا چوتھا مرکزِ امتیاز ہے۔ اس سے قبل اسی نوعیت کے مراکز آئی آئی ٹی کانپور، آئی آئی ٹی گاندھی نگر اور آئی آئی ٹی روڑکی میں قائم کیے جا چکے ہیں، جس سے قومی اختراعی ماحولیاتی نظام مزید مضبوط ہوگا۔
یہ مرکزِ امتیاز اعلیٰ اثرات کی حامل تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے خصوصی مرکز کے طور پر کام کرے گا اور آئی آئی ٹی حیدرآباد کی تعلیمی برتری اور مقامی ٹیلی مواصلاتی حل تیار کرنے میں سی-ڈاٹ کی مہارت سے فائدہ اٹھا کر تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان اشتراک کو مزید مستحکم بنائے گا۔ یہ مرکز طلبہ، محققین اور نئے کاروباری اداروں (اسٹارٹ اَپس) کو ہندوستان کی تکنیکی خود انحصاری اور اختراعی ترقی کے سفر میں فعال کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرے گا۔مرکز کے تحت پانچویں اور چھٹی نسل کی جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی (فائیو جی ایڈوانسڈ/سکس جی)، انتہائی بڑے پیمانے کے ملٹی پل اِن پُٹ ملٹی پل آؤٹ پُٹ (ویری لارج اسکیل مائیمو) نظام، مربوط حسّی و مواصلاتی نظام، مصنوعی ذہانت سے آراستہ مواصلاتی نیٹ ورکس اور آلات، نیز کوانٹم اورما بعد کوانٹم مواصلاتی ٹیکنالوجی جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں مشترکہ تحقیق اور نمونہ جاتی مصنوعات (پروٹوٹائپس) کی تیاری کی جائے گی۔
مفاہمت نامہ پر دستخط کی تقریب پروفیسر بی ایس مورتی، ڈائریکٹر آئی آئی ٹی حیدرآباد، اور ڈاکٹر راج کمار اُپادھیائے، چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سی-ڈاٹ، کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ادارے کے اساتذہ اور سی-ڈاٹ کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔ دستخط کی تقریب کے بعد مرکزِ امتیاز کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا، جس کے ساتھ ہی مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کا باضابطہ آغاز بھی ہو گیا۔
سی-ڈاٹ اس سے قبل بھی آئی آئی ٹی حیدرآباد میں قائم ایک نئے کاروباری ادارے (اسٹارٹ اَپ) وائی سِگ(ڈبلیو آءی ایس آءی جی) کے ساتھ لامرکزی پانچویں نسل کے اوپن ریڈیو ایکسیس نیٹ ورک (فائیو جی او-رین) حل کی تیاری اور نفاذ کے لیے اشتراک کر چکا ہے۔ اسی بنیاد کو مزید مضبوط بناتے ہوئے یہ مرکزِ امتیاز نئے کاروباری اداروں (اسٹارٹ اَپس) کی معاونت کرے گا، املاک دانش (انٹلیکچوئل پراپرٹی) کے فروغ میں مدد دے گا اور ورکشاپس، تربیتی پروگراموں اور تعلیمی اداروں و صنعت کے درمیان مشترکہ سرگرمیوں کے ذریعے علم و تجربے کے مسلسل تبادلے کو فروغ دے گا۔ توقع ہے کہ یہ اقدام عالمی ٹیلی مواصلاتی اختراع کے میدان میں ہندوستان کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرے گا اور ایک مضبوط، خود انحصار اور جدید ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اس موقع پر ڈاکٹر راج کمار اُپادھیائے نے ’’وکست بھارت کے لیے مقامی مواصلاتی ٹیکنالوجی کی تعمیر‘‘ کے موضوع پر خصوصی خطبہ بھی پیش کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ہندوستان کے ٹیلی مواصلاتی منظرنامے، بھارت 6جی وژن، ٹیلی مواصلاتی شعبے کی بدلتی ہوئی ویلیو چین، عالمی معیارات اور مستقبل میں ابھرنے والے مواقع پر روشنی ڈالی۔ اس لیکچر میں آئی آئی ٹی حیدرآباد کے طلبہ، تحقیقی اسکالر اور اساتذہ نے شرکت کی۔انہوں نے سی-ڈاٹ کی جانب سے تیار کردہ مقامی ٹیکنالوجی پر مبنی حلوں کا بھی ذکر کیا، جن میں 4جی اور 5جی ٹیکنالوجی، سہ رخی سائبر سکیورٹی سوٹ، محفوظ کوانٹم مواصلاتی نظام (کوانٹم کلید تقسیم اور مابعد کوانٹم رمز نگاری)، آفات کے انتظام کا پلیٹ فارم، مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلی کیشن جیسے ’’سنچار ساتھی‘‘ اور دھوکہ دہی کی نشاندہی کرنے والے نظام، نیز مشن کریٹیکل کمیونی کیشن (ایم سی ایکس) شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام مقامی حل ہندوستان کو تکنیکی خود انحصاری اور ڈیجیٹل خود کفالت کی سمت میں آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس اشتراک کے پس منظر میں کار فرما وژن کی وضاحت کرتے ہوئے سی-ڈاٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ڈاکٹر راج کمار اُپادھیائے نے کہا:"اس مرکزِ امتیاز کا قیام ہندوستان میں نئی نسل کی مواصلاتی ٹیکنالوجیوں کے لیے ایک مضبوط اختراعی سلسلہ تشکیل دینے کی سمت میں ایک تزویراتی قدم ہے۔ جدید ترین تعلیمی تحقیق کو عملی نفاذ کی صلاحیتوں کے ساتھ یکجا کرتے ہوئے ہمارا مقصد ایسے عالمی معیار کے، محفوظ اور توسیع پذیر ٹیلی مواصلاتی حل تیار کرنا ہے جو ہندوستان کو عالمی سطح پر ایک قائدانہ مقام دلائیں۔"
آئی آئی ٹی حیدرآباد کے ڈائریکٹر پروفیسر بی ایس مورتی نے اس شراکت داری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:"یہ اشتراک آئی آئی ٹی حیدرآباد کے لیے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ ہم سی-ڈاٹ کے ساتھ مل کر ہندوستان کی نئی نسل کی ٹیلی مواصلاتی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ مواصلاتی انجینئرنگ، سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی اور جدید وائرلیس نظاموں کے شعبوں میں آئی آئی ٹی حیدرآباد کی مہارت، محفوظ اور مقامی ٹیلی مواصلاتی حلوں کی تیاری کے لیے سی-ڈاٹ کے قومی مشن کو مزید تقویت بخشے گی۔ یہ مرکزِ امتیاز ہمارے اساتذہ، محققین اور طلبہ کو تزویراتی اہمیت کی حامل ٹیکنالوجی کی مشترکہ ترقی کا ایک انقلابی پلیٹ فارم فراہم کرے گا اور ہندوستان کے طویل مدتی تکنیکی قیادت کے وژن کو حقیقت کا روپ دینے میں معاون ثابت ہوگا۔"
یہ شراکت داری معروف تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے مقامی ٹیلی مواصلاتی اختراع کو فروغ دینے کے لیے سی-ڈاٹ کے مسلسل عزم کا مظہر ہے۔ تحقیق کی سرپرستی، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور نئی نسل کی ٹیکنالوجیوں کی ترقی کے ذریعے یہ اقدام ہندوستان کے تکنیکی خود انحصاری کے ہدف کے حصول میں مددگار ثابت ہوگا اور عالمی ٹیلی مواصلاتی منظرنامے میں ملک کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرے گا۔


آئی آئی ٹی حیدرآباد میں مرکزِ امتیاز (سینٹر آف ایکسیلنس) کے قیام کے لیے پروفیسر بی ایس مورتی (ڈائریکٹر، آئی آئی ٹی حیدرآباد) اور ڈاکٹر راج کمار اُپادھیائے (چیف ایگزیکٹو آفیسر، سی-ڈاٹ) کے درمیان مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط۔
***
(ش ح۔ م ش ع ۔ م ا)
UR No-9148
(रिलीज़ आईडी: 2277605)
आगंतुक पटल : 11