PIB Backgrounder
پی ایم-کسان کی 23ویں قسط
9.44 کروڑ کسانوں کو 18,880 کروڑ روپے سے زائد رقم کی براہ راست منتقلی
प्रविष्टि तिथि:
20 JUN 2026 6:35PM by PIB Delhi
|
وزیرِ اعظم نےپردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم-کسان) اسکیم کی 23ویں قسط کے طور پر18,880 کروڑ روپے سے زائد کی رقم جاری کی ہے۔ فنڈز کے اجراء کا اعلان 20 جون 2026 کو ہُگلی، مغربی بنگال میں کیا گیا۔اس قسط کے تحت 9.44 کروڑ سے زائد کسانوں کو مالی امداد فراہم کی گئی، جن میں2.18 کروڑ خواتین کسان بھی شامل ہیں۔ اس تقریب میں 1 کروڑ سے زائد کسانوں** نے ورچوئل طور پر شرکت کی۔2019 میں اسکیم کے آغاز سے اب تک 4.46 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم کسانوں کو فراہم کی جا چکی ہے، جس کے باعث پی ایم-کسان دنیا کے سب سے بڑے براہِ راست مالی منتقلی (ڈی بی ٹی) پروگراموں میں شمار ہوتی ہے۔اس موقع کو ‘پی ایم کسان اُتسو دیوس’ کے طور پر بھی منایا گیا۔
|
پی ایم-کسان: کسانوں کے لیے آمدنی کے تحفظ کو مضبوط بنانا

پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم-کسان) کی 23ویں قسط 20 جون 2026 کو تارکیشور، ضلع ہُگلی، مغربی بنگال میں جاری کی گئی۔ اس قسط کے تحت تقریباً 9.44 کروڑ اہل کسانوں کو جن میں 2.18 کروڑ سے زائد خواتین کسان بھی شامل ہیں، تقریباً 18,880 کروڑ روپے کی براہ راست مالی امداد فراہم کی گئی۔یہ رقم براہِ راست مالی منتقلی (ڈی بی ٹی) نظام کے ذریعے منتقل کی گئی، جس سے شفافیت کو یقینی بنایا گیا اور درمیانی عناصر کے کردار کا خاتمہ ہوا۔اس اسکیم کو‘انّ داتا سمان’ کو یقینی بنانے کی سمت ایک اہم اقدام کے طور پر وسیع پیمانے پر سراہا جاتا ہے۔
|
مغربی بنگال میں کسانوں کو بااختیار بنانے کے لیے نئی زرعی پہل
حکومت نے مغربی بنگال میں پی ایم-کسان کی 23ویں قسط کے اجراء کے ساتھ کئی اہم زرعی اقدامات بھی شروع کیے ہیں:
- پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم-ایف بی وائے) اور ازسرنو تشکیل شدہ موسمیاتی بنیاد پر فصل بیمہ اسکیم (آر ڈبلیو بی سی آئی ایس) کے تحت کسانوں کو قدرتی آفات، کیڑوں کے حملوں اور ناموافق موسمی حالات سے ہونے والے نقصانات کے خلاف بیمہ تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ ان اسکیموں کے ذریعے 1.10 کروڑ کسانوں اور 30 لاکھ ہیکٹر زرعی رقبے کو 28,140 کروڑ روپے کی بیمہ شدہ مالیت کے ساتھ تحفظ فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
- ڈجیٹل ایگریکلچر مشن کے تحت ایگری اسٹیک مغربی بنگال کے کسانوں کو قرض، بیمہ، براہِ راست مالی منتقلی (ڈی بی ٹی) اور سرکاری خریداری کی خدمات تک آسان اور مربوط رسائی فراہم کرے گا۔
- قومی مشن برائے قدرتی کھیتی ( این ایم این ایف) کے تحت پائیدار اور کیمیکل سے پاک زراعت کو فروغ دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے کلسٹر بنیادوں پر قدرتی کاشتکاری اپنائی جائے گی اور کسانوں کو تربیت دی جائے گی۔ اس پروگرام کے تحت 346 قدرتی کھیتی کلسٹرز قائم کیے جائیں گے، جو 17,300 ہیکٹر رقبہ کا احاطہ کریں گے اور 43,250 کسانوں کو فائدہ پہنچائیں گے۔
- پی ایم دھن-دھانیہ کرشی یوجنا کا آغاز مغربی بنگال کے چار اضلاع میں کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ، فصلوں کے تنوع کو فروغ دینا، بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور آبپاشی و ادارہ جاتی قرضوں تک کسانوں کی رسائی کو بہتر بنانا ہے۔
|
پی ایم-کسان کے تحت چھوٹے اور حاشیہ پر موجود کسانوں کو براہِ راست آمدنی کی معاونت

- پی ایم-کسان ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم ہے جس کا آغاز 24 فروری 2019 کو کیا گیا تھا۔ اس اسکیم کا مقصد ملک بھر میں قابل کاشت زمین رکھنے والے کسان خاندانوں کو یقینی آمدنی کی معاونت فراہم کرنا ہے۔
- اس اسکیم کے تحت ہر اہل کسان خاندان کو سالانہ 6,000 روپے کی مالی امداد دی جاتی ہے، جو 2,000 روپے کی تین مساوی اقساط میں براہ راست مالی منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے آدھار سے منسلک بینک کھاتوں میں منتقل کی جاتی ہے۔
- اب تک اس اسکیم کے تحت ملک بھر کے اہل کسان خاندانوں کو 23 اقساط کے ذریعے 4.46 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم فراہم کی جا چکی ہے۔ اسکیم کے فوائد حاصل کرنے کے لیے کسانوں کے زمینی ریکارڈ کا پی ایم-کسان پورٹل پر اندراج، بینک کھاتوں کا آدھار سے ربط اور ای-کے وائی سی کی تکمیل ضروری ہے۔
- کسانوں کی آمدنی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتے ہوئے مرکزی بجٹ 2026-27 میں پی ایم-کسان اسکیم کے لیے 60,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
یہ اسکیم زرعی اخراجات کے لیے مالی معاونت فراہم کر کے چھوٹے اور حاشیہ پر موجود کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس سے فصلوں کی صحت اور پیداواریت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔براہ راست مالی امداد کسانوں کے غیر رسمی قرضوں پر انحصار کو کم کرتی ہے اور زرعی سرگرمیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
پی ایم-کسان دنیا کے سب سے بڑے براہ راست مالی منتقلی (ڈی بی ٹی) پروگراموں میں شمار ہوتی ہے، جو کسانوں تک مالی معاونت براہ راست پہنچانے کے ایک مؤثر اور مضبوط ادارہ جاتی نظام کی عکاسی کرتی ہے۔اس اسکیم کے مستفیدین میں23 فیصد سے زائد خواتین شامل ہیں، جو اس پروگرام کی جامع اور ہمہ گیر رسائی کو ظاہر کرتا ہے۔
|
مطالعۂ کیس: اتر پردیش میں پی ایم-کسان کا زرعی آمدنی پر اثر
ایگرو اکنامک ریسرچ سینٹر، یونیورسٹی آف الہ آباد نے 2022 میں وزارت زراعت و کسان بہبود کے تعاون سے ایک مطالعہ سر انجام دیا، جس کا مقصد اتر پردیش میں پی ایم-کسان اسکیم کے اثرات کا جائزہ لینا تھا۔
اسٹڈی کے اہم نتائج درج ذیل ہیں:
- زیادہ تر مستفید کسان چھوٹے اور حاشیہ پر موجود کسان تھے، جن کی زرعی اراضی دو ہیکٹر سے کم تھی۔
- مستفید کسانوں کو پی ایم-کسان کے تحت باقاعدگی سے سالانہ 6,000 روپے کی مالی امداد موصول ہوئی۔
- زرعی اخراجات کا بڑا حصہزمین کی جوتائی، کھادوں اور بیجوں پر خرچ کیا گیا۔
- مستفید کسانوں کے کھیتوں میں دھان کی پیداوار غیر مستفید کسانوں کے مقابلے میں 3.08 فیصد زیادہ رہی۔
- اسی طرح گندم کی پیداوارمستفید کسانوں کے کھیتوں میں 1.93فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
- مستفید خاندانوں کی خالص زرعی آمدنی غیر مستفید خاندانوں کے مقابلے میں زیادہ رہی۔
- اس کے نتیجے میں گھریلو زرعی آمدنی میں 9.85 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
- پی ایم-کسان نے کسانوں کی مالی روانی کو بہتر بنایا اور زرعی لوازمات کی خریداری میں مدد فراہم کی۔
- اس معاونت نے کسانوں کی خطرات برداشت کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا اور زرعی پیداوار کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ پی ایم-کسان نہ صرف کسانوں کو براہ راست مالی مدد فراہم کرتی ہے بلکہ زرعی پیداوار، آمدنی اور مجموعی معاشی استحکام میں بھی مثبت کردار ادا کرتی ہے۔
|
پی ایم-کسان فنڈ کی منتقلی کا سفر

پی ایم-کسان فنڈ کی منتقلی کا سفر
اس عمل کا آغاز کسانوں کی رجسٹریشن سے ہوتا ہے، جو پی ایم-کسان پورٹل، موبائل ایپ یا کامن سروس سینٹرز(سی ایس سیز ) کے ذریعہ کی جاتی ہے۔اس کے بعد ریاستی حکومتیں درخواست گزاروں کی اہلیت کی تصدیق کرتی ہیں اور مستفیدین کی تفصیلات پورٹل پر اپ لوڈ کرتی ہیں۔ نظام آدھار اور بینک کھاتوں کی معلومات کی توثیق کرتا ہے اور نااہل درخواست گزاروں کو الگ کر دیتا ہے۔
ریاستی سطح پر حتمی منظوری کے بعد یہ معلومات پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم(پی ایف ایم ایس) کو بھیجی جاتی ہیں، جہاں بینک کھاتوں کی مزید تصدیق کی جاتی ہے۔اہل قرار دئیے گئے ریکارڈز کی بنیاد پر فنڈ کی منتقلی کی درخواستیں اور ادائیگی کے احکامات تیار کیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں محکمہ زراعت و کسان بہبود منظوری کے احکامات جاری کرتا ہے۔
اس کے بعد ادائیگیوں کا عمل اسپانسر بینکوں اور نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا(این پی سی آئی) کے ذریعے مکمل کیا جاتا ہے۔آخر میں رقم براہ راست کسانوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کر دی جاتی ہے، جس سے فوائد کی فراہمی کا عمل تیز، شفاف اور مؤثر انداز میں یقینی بنایا جاتا ہے۔
ہدف بندی، مستفیدین کی شناخت اور ڈیٹا بیس کا انتظام
اہل کسان خاندانوں کی شناخت اور مستفیدین کے جامع ڈیٹا بیس کی تیاری کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ اس ڈیٹا بیس میں اہم معلومات، جیسے نام، عمر، زمرہ، آدھار نمبر، بینک کھاتے کی تفصیلات اور موبائل نمبر شامل کیے جاتے ہیں۔
ریاستی حکومتیں ان ریکارڈز کی درستگی کو یقینی بناتی ہیں تاکہ ایک ہی شخص کو بار بار ادائیگی ہونے سے روکا جا سکے۔ ان معلومات کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ اور ڈجیٹل شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے اور انہیں آدھار اور بینک کھاتوں سے منسلک کیا جاتا ہے تاکہ براہ راست مالی منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے فوائد کی آسان اور مؤثر فراہمی ممکن ہو سکے۔
شفافیت کو فروغ دینے کے لیے اہل مستفیدین کی فہرستیں دیہاتی سطح پر عوامی طور پر آویزاں کی جاتی ہیں۔ اس سے ایسے کسانوں کو بھی موقع ملتا ہے جو کسی وجہ سے فہرست میں شامل نہ ہو سکے ہوں، تاکہ وہ متعلقہ شکایتی ازالہ نظام کے ذریعے اپنی شمولیت کے لیے درخواست دے سکیں۔
مزید برآں، ریاستیں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے (یوٹیز) ان افراد سے رقوم کی واپسی کے لیے کارروائی بھی کرتے ہیں جنہیں غلطی سے فوائد فراہم کر دیے گئے ہوں۔ ان نااہل افراد میں انکم ٹیکس دہندگان، سرکاری ملازمین، پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز (پی ایس یوز) کے ملازمین اور آئینی عہدوں کے حامل افراد شامل ہیں۔
دسمبر 2025 تک ملک بھر میں نااہل مستفیدین سے 416.75 کروڑ روپے کی رقم واپس وصول کی جا چکی تھی۔
|
پی ایم-کسان کے تحت رسائی اور شمولیت کو مضبوط بنانا
حکومت نے یہ یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں کہ اہل کسان آسانی سے پی ایم-کسان اسکیم کے فوائد حاصل کر سکیں۔ ان کوششوں کا مرکز رجسٹریشن، تصدیق اور شکایات کے ازالے کے نظام کو ڈجیٹل اور زمینی سطح پر مزید مؤثر بنانا ہے۔
اس مقصد کے لیے 5 لاکھ سے زائد کامن سروس سینٹرز(سی ایس سیز) کو اسکیم سے منسلک کیا گیا ہے تاکہ کسانوں کی رجسٹریشن اور ای-کے وائی سی کی تکمیل میں مدد فراہم کی جا سکے۔
اسکیم کے دائرۂ کار کو وسیع کرنے کے لیے خصوصی سیچوریشن مہمات بھی چلائی گئیں۔ وکست بھارت سنکلپ یاترا کے دوران 1 کروڑ سے زائد اہل کسانوں کو پی ایم-کسان اسکیم میں شامل کیا گیا۔
اسی طرح حکومت کے 100 روزہ خصوصی پروگرام کے تحت 25 لاکھ سے زائد کسانوں کو اسکیم کا حصہ بنایا گیا۔
ستمبر 2024 میں چلائی گئی ایک خصوصی مہم کے دوران زیرالتوا سیلف رجسٹریشن درخواستوں کو نمٹاتے ہوئے 30 لاکھ سے زائد کسانوں کو بھی اسکیم میں شامل کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی۔
یہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت زیادہ سے زیادہ اہل کسانوں تک پی ایم-کسان کے فوائد پہنچانے اور انہیں مالی معاونت کے دائرے میں لانے کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہے۔
|
کثیر سطحی نگرانی اور شکایات کے ازالے کا نظام
پی ایم-کسان اسکیم کی نگرانی ایک کثیر سطحی ادارہ جاتی نظام کے ذریعے کی جاتی ہے، جو قومی، ریاستی اور ضلعی سطح پر کام کرتا ہے۔
قومی سطح پر اسکیم کے جائزے اور نگرانی کے نظام کی سربراہی کابینہ سکریٹری کرتے ہیں۔ جبکہ ریاستی اور ضلع نگرانی کمیٹیاں اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں اسکیم کے مؤثر نفاذ کی نگرانی کرتی ہیں۔
کسان اپنی شکایات پی ایم-کسان پورٹل اور مرکزی عوامی شکایات ازالہ و نگرانی نظام(سی پی جی آر اے ایم ایس) کے ذریعے درج کرا سکتے ہیں۔ یہ نظام شکایات کے بروقت ازالے اور شفاف طریق کار کو یقینی بناتا ہے۔
مالی سال 2024-25 کے دوران پی ایم-کسان پورٹل پر مجموعی طور پر 24,605 شکایات درج کی گئیں، جن کی نگرانی اور ازالے کے لیے مقررہ نظام کے تحت کارروائی کی گئی۔
پی ایم-کسان کے تحت ٹیکنالوجی سے تقویت یافتہ خدمات کی فراہمی کا نظام
پی ایم-کسان ایک کسان دوست ڈجیٹل بنیادی ڈھانچے سے تقویت یافتہ ہے، جو فوائد تک رسائی کو آسان بنانے اور ان کی فراہمی میں شفافیت کو بڑھانے میں مدد کرتا ہے۔اس نظام کا ایک اہم ستون آدھار پر مبنی توثیق ہے، جو مستفیدین کی محفوظ شناخت اور ادائیگیوں کی تصدیق کو یقینی بناتا ہے۔
کسان ای-کے وائی سی کا عمل درج ذیل طریقوں سے مکمل کر سکتے ہیں:
او ٹی پی پر مبنی توثیق ،بایومیٹرک توثیق اور چہرے کی شناخت (فیس آتھنٹیکیشن) کے ذریعے توثیق
پی ایم-کسان ویب پورٹل مستفیدین کی رجسٹریشن، تصدیق اور ڈیٹا کے انتظام کے لیے ایک مرکزی ڈجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ پورٹل کسانوں کا ایک متحدہ قومی ڈیٹا بیس برقرار رکھتا ہے اور پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم(پیایف ایم ایس ) کے ساتھ انضمام کے ذریعے فنڈز کی منتقلی کو ممکن بناتا ہے۔
یہ پورٹل ملک بھر میں مالی لین دین کی حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں نگرانی کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔ مزید برآں، یہ مختلف مقامات کے لحاظ سے مستفید کسانوں کی فہرستیں فراہم کرتا ہے، جس سے پروگرام کے نفاذ میں شفافیت کو مزید فروغ ملتا ہے۔
اس پورٹل کی تکمیل کے لیے پی ایم-کسان موبائل ایپلی کیشن- جو 2020 میں شروع کی گئی تھی، موبائل صارفین تک ان خدمات کی رسائی فراہم کرتی ہے۔ یہ ایپ کسانوں کو سیلف رجسٹریشن ، مالی فوائد کی منتقلی کی صورتحال معلوم کرنے اور ای-کے وائی سی کی تصدیق مکمل کرنے کی سہولت دیتی ہے۔
سن 2023 میں اس ایپلی کیشن کو فیس آتھنٹیکیشن (ایف اے) کی خصوصیت کے ساتھ اپ گریڈ کیا گیا۔ اس سہولت کے ذریعے کسان اپنے چہرے کی اسکیننگ کر کے ای-کے وائی سی مکمل کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں او ٹی پی یا فنگر پرنٹ پر مبنی تصدیق کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔
اس اقدام نے اسکیم تک رسائی کو مزید آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور مستفیدین کے لیے خدمات کے حصول کو زیادہ سہل اور مؤثر بنا دیا ہے۔

مصنوعی ذہانت)اے آئی) پر مبنی معاونتی نظام: کسان-ای متر
ستمبر 2023 میں حکومت نے کسان-ای متر متعارف کرایا، جو ایک مصنوعی ذہانت(اے آئی) سے تقویت یافتہ چیٹ بوٹ ہے اور پی ایم-کسان کے ڈجیٹل نظام کے ساتھ مربوط ہے۔
اس چیٹ بوٹ کو ایک اسٹیپ فاؤنڈیشن(ای ایس ایف) اور بھاشنی کے تکنیکی تعاون سے تیار کیا گیا۔ یہ کسانوں کو اسکیم کے تحت ادائیگیوں، رجسٹریشن اور اہلیت سے متعلق معلومات متعدد ہندوستانی زبانوں میں فوری طور پر فراہم کرتا ہے۔
یہ پلیٹ فارم 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن خدمات فراہم کرتا ہے اور 11 بڑی زبانوں میں دستیاب ہے: ہندی،انگریزی،تمل،بنگالی ، اوڑیہ،ملیالم،گجراتی،پنجابی،تیلگو،مراٹھی اورکنڑ۔
اس طرح یہ مختلف لسانی پس منظر رکھنے والے کسانوں کے لیے خدمات تک رسائی کو مزید آسان بناتا ہے۔
صوتی(وی بی) اور تحریری(ٹی بی) سوالات کے ذریعے کسان اپنی درخواستوں کی صورتحال معلوم کر سکتے ہیں، ادائیگیوں کی تازہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں اور اسکیم سے متعلق مختلف معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
کسان مرکوز زراعت ترقی کا مستقبل
پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم-کسان) محض آمدنی کی معاونت فراہم کرنے والا ایک روایتی پروگرام نہیں ہے، بلکہ یہ کسانوں پر مرکوز اور جامع زرعی ترقی کے لیے ایک وسیع تر پالیسی وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ اسکیم مراعات پر مبنی امداد کے تصور سے آگے بڑھتے ہوئے کسانوں کو بااختیار بنانے پر مبنی معاونت کی جانب منتقلی کو ممکن بناتی ہے۔ اس طرح پی ایم-کسان عوامی اداروں اور کاشتکار برادری کے درمیان تعلقات کو ایک نئے انداز میں استوار کرنے میں مدد دیتی ہے۔
پی ایم-کسان نے صرف مالی امداد فراہم نہیں کی، بلکہ کسانوں میں نئے تجربات کرنے اور بہتر فیصلہ لینے کا اعتماد بھی پیدا کیا ہے۔ اس میں بہتر بیجوں میں سرمایہ کاری، نئی فصلوں کی کاشت آزمانا اور زرعی طریق کار میں بہتری لانا شامل ہے۔
ہندوستا ن کے دیہی علاقوں میں رہنے والے لاکھوں کسانوں کے لیے یہ اسکیم ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہوئی ہے، جس نے نہ صرف معاونت فراہم کی بلکہ مستقبل کے لیے امید، اعتماد اور تحفظ کا احساس بھی دیا ہے۔
حوالہ جات
Ministry of Agriculture & Farmers Welfare
https://www.nic.gov.in/project/pm-kisan/
https://sansad.in/getFile/annex/270/AU3226_xbrVz9.pdf?source=pqars
https://www.allduniv.ac.in/upload/file_collection/PM_Kisan_PDF_Final.pdf
PIB Backgrounders
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2242295®=48&lang=2
Click here to see pdf
***
ش ح- ظ الف- م ش
UR-9124
(रिलीज़ आईडी: 2277380)
आगंतुक पटल : 5