عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

عملہ  کے وزیرِ مملکت کی نئی دہلی میں جمہوریہ کوریا کے وزیرِ داخلہ و سلامتی کے ساتھ دو طرفہ بات چیت


ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس مشترکہ اسٹریٹجک ویژن اعلامیے کا حوالہ دیا جسے جمہوریہ کوریا کے صدر لی جئے میونگ کے رواں سال اپریل میں بھارت کے دورے اور وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران حتمی شکل دی گئی تھی

بھارت اور جمہوریہ کوریا نے عوامی انتظامیہ اور ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سی پی جی آر اے ایم ایس اور ڈیجیٹل لائف اسناد جیسے اقدامات شفافیت اور شہریوں پر مرکوز طرزِ حکمرانی کو فروغ دے رہے ہیں

प्रविष्टि तिथि: 20 JUN 2026 1:19PM by PIB Delhi

جمہوریہ کوریا کے وزیرِ داخلہ و سلامتی یون ہوجونگ، جو اس وقت بھارت کے دورے پر ہیں، نے آج مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی، ای-گورننس، عوامی انتظامیہ، صلاحیت سازی اور شہریوں پر مرکوز خدمات کی فراہمی کے شعبوں میں بھارت اور جمہوریہ کوریا کے درمیان ممکنہ تعاون پر تبادلۂ خیال کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے وفود کے ہمراہ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی دو طرفہ بات چیت میں شرکت کی۔

کوریا کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت اور جمہوریہ کوریا کے درمیان خصوصی تزویراتی شراکت داری مشترکہ جمہوری اقدار، اختراع اور بہتر طرزِ حکمرانی کے عزم پر استوار ہے۔ انہوں نے اس مشترکہ تزویراتی ویژن اعلامیے کا بھی حوالہ دیا جسے رواں سال اپریل میں جمہوریہ کوریا کے صدر لی جئے میونگ کے بھارت کے دورے اور وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران حتمی شکل دی گئی تھی۔

وزیر موصوف نے جناب وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ڈیجیٹل حکمرانی، عوامی خدمات کی فراہمی اور عوامی شکایات کے ازالے کے نظام میں بھارت کی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ بھارت اور کوریا دونوں متحرک جمہوریتیں ہیں جو مشترکہ اقدار، ثقافتی ورثے اور قانون کی حکمرانی سے وابستگی رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم ایشیا کی دو بڑی معیشتیں ہیں جو ایک خصوصی تزویراتی شراکت داری میں بندھی ہوئی ہیں، جو نہ صرف تاریخی بنیادوں پر قائم ہے بلکہ مستقبل پر بھی گہری نظر رکھتی ہیں۔‘‘

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی جڑیں تاریخ میں پیوست ہیں اور ایودھیا کی شہزادی سری رتنا اور قدیم گایا کنفیڈریسی کے بادشاہ سورو کے درمیان ازدواجی تعلقات اس تاریخی رشتے کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مضبوط تاریخی بندھن آج بھی دونوں ممالک کے درمیان گہری معنویت رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھارت-کوریا تعلقات کو مضبوط بنانے میں کوریا-بھارت پارلیمانی دوستی گروپ کے چیئرمین کی حیثیت سے دورہ کرنے والے وزیر کی خدمات کو سراہا اور یقین ظاہر کیا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

وزیر نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ صدر لی جئے میونگ کے حالیہ دورۂ بھارت کے نتیجے میں تجارت و سرمایہ کاری، بندرگاہوں اور بحری امور، ڈیجیٹل اور فِن ٹیک، سائنس و ٹیکنالوجی، ثقافت، کھیل اور دیگر اہم شعبوں میں مستقبل پر مبنی مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سربراہ اجلاس کے دوران جاری کیے گئے مشترکہ تزویراتی ویژن اعلامیے نے دونوں ممالک کی دو طرفہ شراکت داری کے مستقبل کے لیے ایک نہایت بلند حوصلہ اور دور رس ویژن متعین کیا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سی پی جی آر اے ایم ایس، ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ اور ٹیکنالوجی سے مزین طرزِ حکمرانی کے مختلف پلیٹ فارمز جیسے بھارتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی اور شفافیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ کوریا کے وفد نے بھی اسمارٹ گورننس، ڈیجیٹل عوامی خدمات اور آفات و سلامتی کے انتظام کے شعبوں میں اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔

عوامی انتظامیہ کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ دونوں ممالک کی وزارتوں کے درمیان عوامی انتظامیہ اور حکومتی اختراع کے میدان میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت نامے (ایم او یو) کو حتمی شکل دینے پر فعال سطح پر بات چیت جاری ہے۔

بین الاقوامی یومِ یوگا کے موقع سے ایک روز قبل ہونے والی اس دو طرفہ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ جمہوریۂ کوریا میں یوگا کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کوریا کے وفد کو یومِ یوگا کی تقریبات میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

مذاکرات میں حکومتی خدمات کی ڈیجیٹل تبدیلی، عوامی انتظامیہ میں مصنوعی ذہانت سمیت جدید ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے استعمال، سرکاری ملازمین کی صلاحیت سازی، طرزِ حکمرانی میں شہریوں کی شمولیت اور عوامی شکایات کے ازالے کے نظام میں بہترین طریقۂ کار جیسے موضوعات پر تعاون کو مزید فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

دونوں فریقوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوامی روابط اور ادارہ جاتی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانا ضروری ہے تاکہ طرزِ حکمرانی سے متعلق ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جہاں دونوں رہنماؤں نے مؤثر، شفاف اور شہریوں پر مرکوز طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے بھارت اور جمہوریۂ کوریا کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2(2)NB2U.JPG

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/1(2)4XYC.JPG

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/3(1)Z65P.JPG

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/4(1)M0D4.JPG

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-8924


(रिलीज़ आईडी: 2275642) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil