وزارت دفاع
جھارکھنڈ کا اب تک کا سب سے بڑا میگا آنکھوں کے آپریشن کا کیمپ ‘‘آپریشن درشٹی’’ کے تحت اختتام پذیر
نامکم کے ملٹری اسپتال میں چار روزہ جراحی مہم کے دوران 320 سے زائد شہریوں کی بینائی بحال کی گئی
प्रविष्टि तिथि:
19 JUN 2026 5:52PM by PIB Delhi
بھارتی فوج اور بھارتی فضائیہ کی ایک ماہر امراضِ چشم ٹیم نے 15 سے 19 جون 2026 کے دوران رانچی کے نامکم میں واقع ملٹری اسپتال میں ‘‘آپریشن درشٹی’’ کے تحت 9ویں میگا سرجیکل ایڈوانسڈ آئی کیمپ کا کامیابی سے انعقاد کیا۔
اس کیمپ میں 2,500 سے زائد مریضوں کی اسکریننگ کی گئی اور 300 سے زیادہ بینائی بحال کرنے والی سرجریاں انجام دی گئیں، جن میں 260 سے زائد موتیا بند کے آپریشن شامل تھے۔ ان میں سے 100 سے زیادہ مستفید ہونے والے مریض پسماندہ قبائلی طبقات سے تعلق رکھتے تھے۔ کیمپ میں جدید منیملی انویسیو گلوکوما سرجری (ایم آئی جی ایس)، ذیابیطس سے متاثرہ ریٹینوپیتھی کا جراحی علاج، اور بینائی بچانے کے لیے اینٹی- وی ای جی ایف انجیکشنز بھی فراہم کیے گئے۔
اختتامی تقریب کی صدارت کرنے والے وزیر مملکت برائے دفاع، جناب سنجے سیٹھ نے ‘‘آپریشن درشٹی’’ ٹیم کی لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔ انہوں نے اس اقدام کو ‘‘سیوا پرمو دھرما’’ کے عزم کی جیتی جاگتی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام نہ صرف صحت کی سہولیات میں توسیع کی عکاسی کرتا ہے بلکہ آرمی میڈیکل کور کی غیر معمولی مہارت، عزم اور تخصص کا بھی مظہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مشن کے آغاز سے اب تک ملک بھر میں 75,000 سے زائد مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے اور 3,000 سے زیادہ بینائی بحال کرنے والی سرجریاں انجام دی جا چکی ہیں۔


بہار رجمنٹ کے مرحوم سابق حوالدار جون آگسٹس ایکا کی بیوہ 68 سالہ محترمہ ایکا کیمپ میں اس حالت میں آئیں کہ ان کی دائیں آنکھ میں موتیا بند کے باعث بینائی شدید متاثر ہو چکی تھی۔ کامیاب فیکو ایمولسیفیکیشن اور انٹرا آکیولر لینس کی تنصیب کے ذریعے ان کی بینائی بحال کر دی گئی، جو سابق فوجیوں کے اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود کے لیے فوج کے مستقل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
ایک اور مستفید ہونے والی 63 سالہ الیزا بیتھ، جو رانچی کی ایک قبائلی خاتون ہیں اور جن کا فوج سے کوئی تعلق نہیں، کو بھی دائیں آنکھ کے موتیا بند کے علاج کے لیے کامیاب فیکو ایمولسیفیکیشن سرجری فراہم کی گئی۔ ان کے لیے جدید امراض چشم کی سہولیات تک رسائی ‘‘آپریشن درشٹی’’ کے ذریعے ممکن ہوئی، جو معاشرے کے تمام طبقات کی خدمت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی طرح جھارکھنڈ کے 50 سالہ قبائلی باشندے اشوک دیشمکھ نے بھی اس پروگرام کے تحت کامیاب موتیا بند سرجری کروائی۔ فوجی مراعات کے مستحق نہ ہونے کے باوجود انہیں حاضر سروس اہلکاروں اور سابق فوجیوں کے برابر جدید طبی سہولیات فراہم کی گئیں، جو اس اقدام کے جامع اور ہمہ گیر جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔
اس کیمپ کا 15 جون 2026 کو ڈائریکٹر جنرل آرمڈ فورسز میڈیکل سروسز، وائس ایڈمرل آرتی سرین نے افتتاح کیا، جن کا وژن ‘‘آپریشن درشٹی’’ کی ملک گیر رسائی کو فروغ دینے میں نہایت اہم رہا ہے۔ اختتامی تقریب میں لیفٹیننٹ جنرل یش سنگھ اہلاوت، جی او سی 17 کور، میجر جنرل جیوٹندو دیبناتھ، ایم جی میڈ، ہیڈکوارٹرز ایسٹرن کمانڈ سمیت دیگر سینئر معزز شخصیات نے شرکت کی۔ جراحی سرگرمیوں کی قیادت بریگیڈیئر (ڈاکٹر) سنجے کمار مشرا، ہیڈ آف آپتھلمولوجی، آرمی ہاسپٹل (ریسرچ اینڈ ریفرل)، دہلی کینٹ نے کی۔
دسمبر 2024 میں دہرادون میں اپنے افتتاحی مرحلے کے بعد سے ‘‘آپریشن درشٹی’’ ملک بھر میں تیزی سے وسعت اختیار کر چکا ہے، جہاں جے پور، باگڈوگرا، ادھم پور، لکشدیپ، بھُج، گورکھپور اور لیہہ-لداخ میں کیمپ منعقد کیے جا چکے ہیں۔ رانچی اس سلسلے کا نواں مرکز بن گیا ہے، اور اس کے ساتھ ہی یہ اقدام بھارت کے سب سے بڑے اور مسلسل جاری رہنے والے فوجی طبی عوامی خدمت پروگراموں میں سے ایک کے طور پر اپنی شناخت قائم کر چکا ہے۔
***
ش ح۔ ش ت ۔م الف
U. No. 8907
(रिलीज़ आईडी: 2275349)
आगंतुक पटल : 11