سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ماہرین فلکیات نے توانائی سے بھرپور کائناتی ایکس رے چمکوں کی ابتدا سے متعلق سراغ دریافت کیے ہیں

प्रविष्टि तिथि: 19 JUN 2026 2:56PM by PIB Delhi

ماہرین فلکیات نے ایک پراسرار غیر دہرائی جانے والی کائناتی ایکس رے چمک، جسے فاسٹ ایکس رے ٹرانزینٹس (ایف ایکس ٹیز) کہا جاتا ہے، کے پیچھے کارفرما میکانزم کا سراغ لگایا ہے، جس کا مشاہدہ گزشتہ سال 7 نومبر کو کیا گیا تھا۔ اس ایکس رے فلیش کے مطالعے کو انہوں نے ایک بڑے ستارے کے ٹوٹنے یا دو نیوٹران ستاروں کے انضمام سے جوڑا ہے، جس سے ان انتہائی کائناتی واقعات کی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ایف ایکس ٹیز  توانائی سے بھرپور اور غیر دہرائی جانے والی ایکس رے چمکیں ہیں جو کائنات میں پرتشدد عمل سے وابستہ ہوتی ہیں۔ یہ آسمان میں ظاہر ہونے والے نئے قسم کے عارضی ماخذ ہیں، جن کی دریافت تقریباً ایک دہائی قبل ہوئی تھی۔ یہ پراسرار واقعات اچانک کم توانائی والی ایکس رے کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں، جو چند منٹ سے لے کر کئی گھنٹوں تک جاری رہتے ہیں، اور پھر تیزی سے مدھم ہو جاتے ہیں۔

اپنی مختصر مدت کی وجہ سے ایف ایکس ٹیز  کا مطالعہ طویل عرصے تک مشکل رہا ہے، جس کے باعث ان کی اصل نوعیت غیر واضح رہی ہے۔ برسوں کے دوران ماہرینِ فلکیات نے ان پراسرار چمکوں کی وضاحت کے لیے مختلف ممکنہ نظریات پیش کیے ہیں۔ ان میں بنیادی طور پر کور-کولپس سپرنووا کے نتیجے میں ہونے والے سپرنووا شاک بریک آؤٹ، انتہائی مضبوط مقناطیسی میدان رکھنے والے نیوٹران ستارے جو بائنری نیوٹران ستاروں کے انضمام کے بعد تشکیل پاتے ہیں اور چند ملی سیکنڈ میں گردش کرتے ہیں، اور سفید بونے ستاروں اور درمیانے درجے کے بلیک ہولز کے درمیان ہونے والے ٹائیڈل ڈسرپشن ایونٹس شامل ہیں۔

بہت سے ایف ایکس ٹیز  کا تعلق بلند ریڈ شفٹ والے طویل دورانیے کے گاما رے برسٹس (آئی جی آر بیز) سے ہوتا ہے، جبکہ کچھ میں گاما رے کا کوئی ہم منصب مشاہدہ نہیں ہوتا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کم روشنی والے جی آر بیز یا “اورفن” آفٹرگلو (یعنی بغیر واضح ابتدائی اخراج کے بعد کی چمکیں) ہو سکتے ہیں۔

ایک نئی تحقیق، جس کی قیادت دیپک ایپپن اور اروند بالاسبرامنین نے کی، جو دونوں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹروفزکس کے پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو ہیں، جو وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے تحت ایک خودمختار ادارہ ہے، اس قسم کے ایک ایف ایکس ٹیز واقعے پر مرکوز ہے جسے ای پی 241107 اے  نام دیا گیا۔ یہ واقعہ 7 نومبر 2024 کو چینی خلائی مشن "آئن اسٹائن پروب" کے ذریعے دریافت کیا گیا، جو متحرک ہائی انرجی آسمان کے سروے کے لیے بنایا گیا ہے اور مختصر دورانیے کے کائناتی واقعات کے مطالعے میں انقلاب لا رہا ہے۔

ملٹی ویو لینتھ طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے ٹیم نے ایکس رے فلیش کے ساتھ ایک ریڈیو ہم منصب بھی دریافت کیا، جس کا مشاہدہ امریکہ کے نیو میکسیکو میں واقع کارل جی۔ جانسکی ویرے لارج اری کے ذریعے کیا گیا۔

اس ملٹی ویو لینتھ مطالعے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے محققین نے بھارت میں موجود کئی طاقتور زمینی سہولیات سے بھی فائدہ اٹھایا۔لداخ کے ہنلے میں واقع انڈین آسٹرونومیکل آبزرویٹری میں، ہمالین چندرا ٹیلی اسکوپ (ایچ سی ٹی) اور گروتھ انڈیا ٹیلی اسکوپ (جی آئی ٹی) نے صاف اور غیر معمولی شفاف آسمانوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس واقعے کو مرئی روشنی میں مانیٹر کیا۔ ایچ سی ٹی کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹروفزکس (آئی آئی اے) چلاتا ہے جبکہ جی آئی ٹی کو مشترکہ طور پر آئی آئی اے اور آئی آئی ٹی بومبے کے زیرِ انتظام چلایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ اپگریڈڈ گائنٹ میٹر ویو ریڈیو ٹیلی اسکوپ، جسے نیشنل سینٹر فار ریڈیو ایسٹروفزکس چلاتا ہے، کو بھی بعد از مشاہدہ  مشاہدات کے لیے استعمال کیا گیا۔ ٹیم نے مزید امریکہ کے ہوائی میں موجود 10 میٹر کی کیک آبزرویٹری اور چلی میں واقع 4.1 میٹر سدرن آسٹرونومیکل ریسرچ ٹیلی اسکوپ، جو آپٹیکل اور نیئر انفراریڈ مشاہدات کی سہولت رکھتا ہے، کو بھی اس تحقیق میں شامل کیا۔

شکل: یہ تصویر فاسٹ ایکس رے ٹرانزینٹ ای پی 241107 اے کے ہم منصب کی نشاندہی کو ظاہر کرتی ہے، جسے تیروں  سے نشان زد کیا گیا ہے۔ اسے آپٹیکل مشاہدات میں گروتھ  انڈیا ٹیلی اسکوپ (بائیں) اور ریڈیو مشاہدات میں ویرے لارج اری (دائیں) کے ذریعے دریافت کیا گیا۔

ای پی 241107 اے کے آپٹیکل اور ریڈیو مشاہدات کا دیگر غیر کہکشانی  عارضی کائناتی واقعات کے ساتھ موازنہ کرنے اور اس کی میزبان کہکشاں  کی خصوصیات کا تجزیہ کرنے کے بعد محققین نے یہ تجویز کیا ہے کہ یہ واقعہ گاما رے برسٹ جیسی شدید دھماکہ خیز سرگرمی سے منسلک تھا، جو یا تو ایک بڑے ستارے کے ٹوٹنے یا دو نیوٹران ستاروں کے انضمام کے نتیجے میں پیش آیا۔

آفٹرگلو (بعد از چمک) کی تفصیلی ماڈلنگ سے یہ ظاہر ہوا کہ اس دھماکے نے ایک انتہائی طاقتور جیٹ پیدا کیا، جس کی حرکی توانائی (کائنیٹک اینرجی) اس کل توانائی کے برابر ہے جو ملکی وے کہکشاں کے تمام ستارے اگر برابر مقدار میں کئی مہینوں تک خارج کریں تو مجموعی طور پر پیدا ہوتی ہے۔

محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ای پی 241107 اے  کا سب سے زیادہ امکان یہی ہے کہ اس کی ابتدا گاما رے برسٹ سے ہوئی ہے۔ ای پی 241107 اے  ان انتہائی نایاب عارضی کائناتی واقعات میں سے ایک ہے جن کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا ہے: ایسا دھماکہ جو براہِ راست گاما ریز میں تو مشاہدہ نہیں ہوا، لیکن واضح طور پر گاما رے برسٹ سے منسلک پایا گیا۔ ایسے واقعات کو بعض اوقات “اورفن آفٹرگلو” کہا جاتا ہے۔محققین کے مطابق یہ واقعہ ممکنہ طور پر گاما رے برسٹ آبادی کے کم توانائی والے حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔

یہ تحقیق منتھلی نوٹسز آف دی رائل ایسٹرونومیکل سوسائٹی میں شائع ہوئی ہے، اور اس کے مصنفین میں دیپک ایپن، اروند بالاسبرامنین، جی سی انوپما، ڈی کے ساہو اور سدھانشو باروے (انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹروفزکس)، جبکہ وشوجیت سوین، وی بھالے راؤ،  تنشک موہن اور جی وراٹکر (انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بامبے) شامل ہیں۔

اس بین الاقوامی ٹیم میں کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا ایٹ چیپل ہل، اور سینٹر فار ایسٹروفزکس (ہارورڈ اینڈ اسمتھ سونین) کے محققین بھی شامل ہیں۔

پیپر کا لنک: https://academic.oup.com/mnras/article/545/1/staf2062/8339698

***

ش ح۔ ش ت ۔م الف

U. No. 8891


(रिलीज़ आईडी: 2275268) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी