قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان کے قومی  کمیشن برائے انسانی حقوق نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے اس رپورٹ کا نوٹس لیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اتر پردیش کے ضلع گوتم بدھ نگر کے کاسنا جیل میں ایک کم عمر لڑکے کو مبینہ طور پر دو ماہ سے زائد عرصے تک بالغ قیدی کے طور پر غیر قانونی طور پر قید رکھا گیا، بعد ازاں اسے ایک جووینائل ہوم منتقل کیا گیا


رپورٹس کے مطابق، پولیس نے اس لڑکے کو اس وقت گرفتار کیا جب ضلع میں مزدوروں نے اجرت میں اضافے اور بہتر کام کے حالات کے مطالبے کے لیے احتجاج کیا تھا

یہ لڑکا اِس وقت بھی جووینائل ہوم میں موجود ہے کیونکہ اس کا غریب خاندان عدالت سے منظور شدہ ضمانت کے لیے درکار   مچلکے کی رقم  فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے

کمیشن نے اس معاملے پر اتر پردیش کے جیل  انتظامیہ و اصلاحی خدمات  کے ڈائریکٹر جنرل اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے

قومی  کمیشن برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر جنرل ( تحقیقات)  کو  افسران کی ایک ٹیم  کو تعینات کر کے موقع پر  جا کر تحقیقات کرنے اور ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی

प्रविष्टि तिथि: 19 JUN 2026 3:47PM by PIB Delhi

 ہندوستان کے قومی  کمیشن برائے انسانی حقوق ( این ایچ آر سی)،  نے ایک میڈیا رپورٹ کا ازخود نوٹس لیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اتر پردیش کے ضلع شاہجہاںپور سے تعلق رکھنے والے 16 سالہ لڑکے کو گرفتار کر کے تقریباً دو ماہ تک گوتم بدھ نگر کے کاسنا جیل میں غیر قانونی طور پر ایک بالغ قیدی کے طور پر رکھا گیا۔ بعد ازاں ہڈیوں کے معائنے سے اس کے نابالغ ہونے کی تصدیق کے بعد اسے ضلع کے جووینائل ہوم منتقل کرنے میں مزید چھ دن لگے۔ تاہم عدالت سے ضمانت ملنے کے باوجود وہ اب بھی جووینائل ہوم میں موجود ہے کیونکہ اس کا غریب خاندان ضمانتی مچلکہ  فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسے ضلع میں اجرت میں اضافے اور بہتر کام کے حالات کے مطالبے کے لیے مزدوروں کے احتجاج کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

کمیشن نے کہا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ متاثرہ بچے کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اسی لیے اس نے اتر پردیش کے جیل  انتظامیہ و اصلاحی خدمات  کے ڈائریکٹر جنرل اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی کمیشن نے اپنے ڈائریکٹر جنرل (تحقیقات) کو بھی ہدایت دی ہے کہ ایک ٹیم تعینات کر کے موقع پر معائنہ کرے اور ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرے۔

گزشتہ 16 جون 2026 کو شائع ہوئی میڈیا رپورٹ کے مطابق  لڑکے کو 14 اپریل 2026 کو اس وقت فون کال موصول ہوئی جس میں اس کے نام پر پارسل کا ذکر تھا۔ جب وہ وہاں پہنچا تو موجود پولیس اہلکاروں نے اسے گرفتار کر لیا۔ اس کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا کی کئی سنگین دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ الزام ہے کہ پولیس نے اس پر تشدد کیا اور زبردستی کچھ دستاویزات پر دستخط کرائے۔

****

ش ح ۔   م  ش ۔ش ب ن

U. No. 8894


(रिलीज़ आईडी: 2275221) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Gujarati , हिन्दी