ریلوے کی وزارت
تقریباً ایک صدی بعد قادیان-بیاس ریلوے لائن کےمنصوبے کی ترقی
تقریباً 1400 کروڑ روپے کی لاگت سے 39.68 کلومیٹر طویل براڈ گیج ریلوے کوریڈور کو تعمیر کیا جائے گا : جناب رونیت سنگھ بٹو
اس پروجیکٹ کی تعمیر سے پنجاب میں ریلوے رابطہ ، سیاحت اور ترقی کو بڑا فروغ ملے گا
प्रविष्टि तिथि:
18 JUN 2026 5:58PM by PIB Delhi
پنجاب کے ماجھا خطے کی ترقی میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر حکومتِ ہند نے طویل عرصے سے التوا کا شکار قادیان-بیاس نئی ریلوے لائن منصوبے کو بحال کر دیا ہے۔
منصوبے کی منظوری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریلوے اور فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کے مرکزی وزیر مملکت جناب رونیت سنگھ بٹو نے وزیراعظم جناب نریندر مودی اور ریلوے کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے ان کی مسلسل حمایت اور عہد بندی قابلِ ستائش ہے۔
قادیان-بیاس ریلوے لائن کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے جناب رونیت سنگھ بٹو نے کہا کہ مجوزہ ریلوے لائن ضلع گرداسپور کے علاقہ قادیان کو ضلع امرتسر کے بیاس سے جوڑے گی۔ تقریباً 39.68 کلومیٹر طویل اس براڈ گیج ریلوے کوریڈور کی تخمینہ لاگت 1400 کروڑ روپے ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے پر شمالی ریلوے عمل درآمد کرے گی۔ مجوزہ ریلوے لائن قادیان، دھاپائی، گھمن، بٹالہ، ستھیالہ اور بیاس جیسے اہم قصبوں اور دیہات سے گزرے گی، جس سے ماجھا خطے کے کئی علاقے ریلوے نیٹ ورک سے منسلک ہو جائیں گے اور مقامی باشندوں کی آمد و رفت کی سہولت میں نمایاں بہتری آئے گی۔

منصوبے کے تحت جدید ترین ریلوے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی جائے گی، جس میں گھمن اور بٹالہ میں دو کراسنگ اسٹیشن، 11 بڑے پل، 121 چھوٹے پل، 54 روڈ انڈر برج (آر یو بی)، جدید سگنلنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن نظام، اور ہندوستان کے مقامی طور پر تیار کردہ ٹرین ایکسیڈنٹ سے بچاؤ کے نظام "کوچ" کی تنصیب شامل ہے۔
جناب رونیت سنگھ بٹو نے منصوبے کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ قادیان-بیاس ریلوے لائن کی تاریخ برطانوی دور سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ منصوبہ پہلی بار 1928-29 میں اُس وقت کی نارتھ ویسٹرن ریلوے نے منظور کیا تھا اور 1930 کی دہائی کے آغاز تک تعمیراتی کام کافی حد تک مکمل بھی ہو چکا تھا، تاہم بدلتے ہوئے حالات اور ترجیحات کے باعث اسے بعد میں روک دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی تزویراتی اور ترقیاتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے سماجی طور پر مطلوب ریلوے رابطہ پروگرام کے تحت دوبارہ بحال کیا گیا اور 2010-11 کے ضمنی ریلوے بجٹ میں شامل کیا گیا۔ کئی برسوں کی تاخیر اور انتظامی رکاوٹوں کے بعد اب اس منصوبے کو تقریباً 1400 کروڑ روپے کے نظرثانی شدہ تخمینے کے ساتھ دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔
مرکزی وزیر مملکت نے کہا کہ علاقائی رابطے کے علاوہ یہ ریلوے لائن ہنگامی حالات میں امرتسر-پٹھان کوٹ ریلوے سیکشن کے متبادل راستے کے طور پر بھی کام کرے گی، جس سے شمالی ہند میں ریلوے کا نیٹ ورک مزید مضبوط اور محفوظ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے کسانوں اور زراعتی پیداوار کو منڈیوں تک بہتر رسائی ملے گی، نقل و حمل تیز اور مؤثر ہوگی، تجارت، کاروبار اور چھوٹی صنعتوں کو فروغ ملے گا، جبکہ منصوبے کی تعمیر اور آپریشن کے دوران روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ ماجھا خطے میں سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔
یہ ریلوے لائن متعدد اہم مذہبی اور روحانی مقامات تک رسائی کو بھی بہتر بنائے گی، جن میں قادیان (احمدیہ مسلم طبقے کا مرکز)، ڈیرہ بابا جے مل سنگھ، بیاس، سری دربار صاحب، ڈیرہ بابا نانک، گرودوارہ اچل صاحب، گرودوارہ بھگت نام دیو جی (گھمن)، گرودوارہ صاحب پاتشاہی پنجویں، برج صاحب، گرودوارہ بابا راجا رام جی، پنڈوری دھام، رام شرنم مندر اور شردی سائی مندر، گرداسپور شامل ہیں۔ رابطہ بہتر ہونے سے مذہبی سیاحت میں نمایاں اضافہ اور ملک و بیرونِ ملک سے آنے والے زائرین کے سفر میں سہولت پیدا ہوگی۔
جناب رونیت سنگھ بٹو نے قادیان، بیاس، گھمن، بٹالہ، ستھیالہ اور پورے ماجھا خطے کے عوام کو اس تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت تمام ضروری منظوریوں کے حصول اور منصوبے کے بروقت نفاذ کو یقینی بنائے گی۔
************
ش ح ۔ م ش ع ۔ م ص
(U:8860)
(रिलीज़ आईडी: 2274913)
आगंतुक पटल : 47