سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
پائیدار اور کم لاگت والی آبی بیٹریوں کے لیے الیکٹرولائٹ انجینئرنگ کو فروغ
प्रविष्टि तिथि:
18 JUN 2026 3:21PM by PIB Delhi
ئے تیار کردہ الیکٹرولائٹ ایڈیٹو سے زیادہ محفوظ، دیرپا اور کم لاگت والی ریچارج ایبل زنک بیٹریوں کی تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔
آبی زنک آئن بیٹریاں کم لاگت، محفوظ اور پائیدار ہونے کی وجہ سے لیتھیم آئن بیٹریوں کا ایک امید افزا متبادل بن کر ابھر رہی ہیں۔ تاہم، زنک ڈینڈرائٹس (شاخ نما ساخت) کی افزائش، ہائیڈروجن ارتقائی عمل (ایچ ای آر)، سنکنرناور بار بار چارج و ڈسچارج کے دوران کمزور کارکردگی جیسی مشکلات ان کی تجارتی سطح پر توسیع میں رکاوٹ ہیں۔
اس تحقیق میں مہنگے مواد کی ازسرِ نو تیاری کے بجائے انٹرفیس انجینئرنگ کے ذریعے ان اہم چیلنجوں کا مؤثر حل پیش کیا گیا ہے۔ یہ تحقیق بیٹری کی عمر بڑھانے، حفاظت برقرار رکھنے اور لاگت کم رکھنے کے لیے ایک عملی اور قابلِ توسیع حکمتِ عملی فراہم کرتی ہے، جو بڑے پیمانے پر قابلِ تجدید توانائی کے ذخیرہ کے لیے نہایت اہم ہے۔
محققین زنک اینوڈ کے استحکام میں اضافہ کرنے کے طریقوں پر کام کر رہے ہیں اور اس ضمن میں برقی دوہری تہہ کی اہمیت، بالخصوص اندرونی ہیلم ہولٹز سطح کے کردار پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، جہاں دراصل برقی کیمیائی تعاملات وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی کے خودمختار ادارے انسٹی ٹیوٹ آف نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنس دانوں نے ایک نیا الیکٹرولائٹ افزودہ مادہ تیار کیا ہے، جو زنک دھات کی سطح پر منتخب انداز میں جذب ہو کر آبی زنک آئن بیٹریوں کی اندرونی ہیلم ہولٹز سطح کو منظم کرتا ہے۔
اس افزودہ مادے کی تیاری کے لیے سائنس دانوں نے گلوٹامک ایسڈ کو سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور پانی میں حل کیا، جس کے بعد اس میں گلائی آکسل، فارملڈیہائیڈ اور ایسٹک ایسڈ شامل کیے گئے۔ اس آمیزے کو 70 ڈگری سینٹی گریڈ پر نائٹروجن کے ماحول میں 24 گھنٹے تک گرم کیا گیا، بعد ازاں اسے استخراج اور خشک کرنے کے ایک خاص عمل سے گزار کر قلمی پاؤڈر کی شکل میں تیار شدہ مادہ حاصل کیا گیا۔
تصویر: (بائیں) اے سی ایس الیکٹروکیمسٹری میں شائع ہونے والی تحقیق کے سرورق کی تصویر، جس میں دکھایا گیا ہے کہ الیکٹرولائٹ افزودہ مادہ کس طرح زنک کی سطح کو منظم کرتا ہے۔ (دائیں) زنک اینوڈ کی سطح پر بی ڈی آئی ایم افزودہ مادے کے اثر کا تقابلی جائزہ، جس میں ہائیڈروجن کے اخراج کے عمل کو مؤثر طریقے سے کم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
بی ڈی آئی ایم افزودہ مادے میں آکسیجن اور نائٹروجن کے متعدد فعال مقامات موجود ہوتے ہیں، جو زنک دھات کے ساتھ مضبوطی سے تعامل کرتے ہیں۔ بیٹری کے دورانِ عمل، بی ڈی آئی ایم منفی برقی بار والی زنک کی سطح پر ترجیحی طور پر جذب ہو کر اندرونی ہیلم ہولٹز سطح پر جگہ بنا لیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پانی کے سالمات اس سطح سے ہٹ جاتے ہیں، جس سے پانی کی وجہ سے ہونے والے ضمنی کیمیائی عمل، جیسے ہائیڈروجن کا اخراج اور سنکنرن، نمایاں طور پر کم ہو جاتے ہیں، جبکہ زنک کی شاخ نما ساخت (ڈینڈرائٹس) کی تشکیل بھی رک جاتی ہے۔
زنک کے جمع ہونے کے طریقۂ کار کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے سائنس دانوں نے تجربہ گاہ میں تیار کردہ نہایت باریک برقی الیکٹروڈ کو تیز رفتار برقی پیمائش کی تکنیک کے ساتھ استعمال کیا، جس سے اس عمل کے بارے میں نئی سائنسی معلومات حاصل ہوئیں۔
یہ نہایت باریک برقی الیکٹروڈ، جس کا حجم تقریباً 50 مائیکرومیٹر سے بھی کم ہوتا ہے، اپنے انتہائی چھوٹے سائز کی وجہ سے مادّوں کے پھیلاؤ کے انداز کو خطی سے تبدیل کرکے شعاعی یا نصف کرہ نما بنا دیتا ہے، جس سے انتہائی تیز رفتار پیمائش ممکن ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب، تیز رفتار چکری برقی پیمائش کی تکنیک یہ واضح کرتی ہے کہ جب الیکٹرولائٹ میں افزودہ مادہ شامل کیا جاتا ہے تو برقی بار کی منتقلی کا عمل کم رفتار پیمائش کی جانب منتقل ہو جاتا ہے۔
ان دونوں تکنیکوں کی مدد سے سائنس دانوں نے سطحِ تماس پر برقی بار کی منتقلی اور مادّوں کی منتقلی کی رفتار کا براہِ راست مطالعہ کیا، جس سے زنک کے جمع ہونے کے طریقۂ کار کے بارے میں نئی سائنسی معلومات حاصل ہوئیں۔
یہ تحقیق انسٹی ٹیوٹ آف نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، موہالی کے سائنس دان ڈاکٹر رمیندر سندر ڈے کی قیادت میں انجام دی گئی، اور اسے سائنسی جریدے اے سی ایس الیکٹروکیمسٹری میں شائع کیا گیا۔ اس تحقیق کے نتائج کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر آبی زنک آئن بیٹریوں، گرڈ سطح کے توانائی ذخیرہ نظام، قابلِ تجدید توانائی کے ذخیرے اور بیٹریوں کی حفاظت اور عمر میں اضافے سے متعلق ٹیکنالوجیز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی زیادہ محفوظ، طویل عرصے تک کارآمد اور کم لاگت والی ریچارج ایبل بیٹریوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ بہتر زنک آئن بیٹریاں قابلِ تجدید توانائی کے ذخیرے، بیک اَپ بجلی کے نظام اور گرڈ سطح پر توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ بیٹری کی عمر میں اضافہ اور کارکردگی میں کمی کو محدود کرنے کے ذریعے یہ ٹیکنالوجی دیکھ بھال کے اخراجات کم کرنے کے ساتھ ساتھ پائیدار توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی قابلِ اعتمادیت بھی بہتر بنا سکتی ہے۔
اشاعت کا لنک: https://doi.org/10.1021/acselectrochem.5c00322
***
ش ح ۔ع و۔اش ق
U. No. 8821
(रिलीज़ आईडी: 2274604)
आगंतुक पटल : 14