مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پی ایم اے وائی-اربن 2.0 کے تحت سی ایس ایم سی کی 7 ویں میٹنگ کی صدارت سکریٹری ، ایم او ایچ یو اے نے کی


حکومت نے پی ایم اے وائی یو 2.0 کے تحت 2.13 لاکھ سے زائداضافی مکانات کی منظوری دی

پی ایم اے وائی-یو 2.0 کے تحت کل منظوریوں کی تعداد16 لاکھ  سے تجاوز ، شہری مکانات کو بڑا فروغ ملا

منظور شدہ مکانات میں سے 97 فیصد خواتین کو الاٹ کیے گئے

प्रविष्टि तिथि: 17 JUN 2026 6:40PM by PIB Delhi

ہاؤسنگ فار آل مشن کو بڑا فروغ دیتے ہوئے، 17 جون 2026 کو سنکلپ بھون، نئی دہلی میں منعقدہ مرکزی منظوری اور نگرانی کمیٹی (سی ایس ایم سی ) کی 7ویں میٹنگ میں شہری غریب خاندانوں کے لیے 2.13 لاکھ سے زیادہ مکانات کی منظوری دی گئی۔اس میٹنگ کی صدارت جناب سری نواس کاتیکیتھلا، وزارت برائے شہری امور (ایم او ایچ یو اے) کے سیکریٹری نے کی۔میٹنگ میں جناب کلدیپ نارائن، جوائنٹ سیکریٹری اور مشن ڈائریکٹر (جے ایس اینڈ ایم ڈی)، ہاؤسنگ فار آل (ایچ ایف اے)، جناب سنجیت، جوائنٹ سیکریٹری اور مالیاتی مشیر (جے ایس اینڈ ایف اے)، جناب آر کے گوتم، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (ڈی ڈی جی)، ایچ ایف اے، اور وزارت کے دیگر سینئر افسران کے ساتھ ساتھ حصہ لینے والی ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے پی ایم اے وائی-یو مشن ڈائریکٹرز نے بھی شرکت کی۔

حالیہ منظوریوں کے ساتھ، پی ایم اے وائی-یو 2.0 کے تحت منظور شدہ مکانات کی کل تعداد 16.13 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے ملک بھر میں بنیادی سہولیات کے ساتھ سستے گھروں کی تعمیر اور فراہمی کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔یہ منظوری شہری ہندوستان میں غریب خاندانوں کے لیے سستے اور باوقار مکانات تک رسائی میں اضافہ کی طرف مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔

پی ایم اے وائی-یو 2.0 کے تحت 1.89 لاکھ مکانات بینیفشری لیڈ کنسٹرکشن (بی ایل سی) عمودی کے تحت اور 23,602 مکانات افورڈیبل ہاؤسنگ اِن پارٹنرشپ (اے ایچ پی) عمودی کے تحت 16 ریاستوں میں منظور کیے گئے ہیں، جن میں آندھرا پردیش، آسام، بہار، گجرات، چھتیس گڑھ، مہاراشٹرا، منی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ، اڈیشہ، راجستھان، تلنگانہ، تریپورہ اور اتر پردیش شامل ہیں۔

گجرات، اڈیشہ اور مدھیہ پردیش میں بی ایل سی اور اے ایچ پی دونوں عمودی کے تحت مکانات کی منظوری دی گئی، جس سے اہل مستفیدین کو یا تو اپنی زمین پر مستقل مکان بنانے یا منظور شدہ ہاؤسنگ پروجیکٹس میں سستے مکانات خریدنے کی سہولت ملی۔

میٹنگ کے دوران کمیٹی نے پی ایم اے وائی-یو 2.0 کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور منظور شدہ مکانات کی تعمیر میں تیزی لانے، منصوبوں کی نگرانی اور ماس ٹرانزٹ کوریڈورز کے قریب ہاؤسنگ پراجیکٹس کو ترجیح دینے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا تاکہ مستحقین کے لیے بہتر رابطے اور معیارِ زندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

پی ایم اے وائی-یو 2.0 کے تحت 16.12 لاکھ مکانات کی منظوری اس اسکیم کے نفاذ میں ایک اور اہم سنگ میل کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ اسکیم ایک مساوی معاشرے کی تشکیل پر زور دیتی ہے۔ نتیجتاً، یہ خواتین کی زیرِ قیادت یا مشترکہ ملکیت والے مکانات کو ترجیح دیتی ہے، جس سے خواتین کے لیے مالی تحفظ اور بااختیاری کو فروغ ملتا ہے۔ کمزور اور پسماندہ طبقات کی رہائشی ضروریات پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، جن میں اہل ایس سی/ایس ٹی/او بی سی کمیونٹیز، اقلیتیں، بزرگ شہری، معذور افراد، خواجہ سرا افراد اور دیگر پسماندہ گروہ شامل ہیں، تاکہ سستے مکانات کے فوائد آخری فرد تک پہنچ سکیں۔

7ویں سی ایس ایم سی (سی ایس ایم سی )میٹنگ میں، پی ایم اے وائی-یو 2.0 کے تحت منظور کیے گئے 2.13 لاکھ مکانات میں سے 2.05 لاکھ مکانات خواتین کو الاٹ کیے گئے، جن میں بیوہ، علیحدہ خواتین یا غیر شادی شدہ خواتین شامل ہیں۔ خواجہ سراؤں کے لیے 22 گھروں کی منظوری دی گئی۔ مزید برآں، بزرگ شہریوں کو 25,035 مکانات الاٹ کیے گئے۔ 34,257 مکانات ایس سی مستفیدین کے لیے، 22,516 ایس ٹی مستفیدین کے لیے، اور 87,077 او بی سی مستفیدین کے لیے منظور کیے گئے۔

مجموعی طور پر منظور کیے گئے 16.13 لاکھ مکانات میں سے 12.99 لاکھ مکانات بی ایل سی زمرے میں ہیں اور 1.81 لاکھ مکانات اے ایچ پی زمرے میں ہیں، جبکہ 1.20 لاکھ مکانات انٹرسٹ سبسڈی اسکیم کے مستفیدین کو الاٹ کیے گئے ہیں اور 12,846 مکانات ہاؤسنگ کے دیگر زمروں کے تحت منظور کیے گئے ہیں۔ منظور شدہ مکانات میں سے 97 فیصد خواتین کو الاٹ کیے گئے ہیں (گھر کی خاتون سربراہ کے نام یا مشترکہ ملکیت میں)؛ شیڈول کاسٹ (ایس سی) کے مستفیدین کو 2.97 لاکھ مکانات، شیڈولڈ ٹرائب (ایس ٹی) کے مستفیدین کو 84,293 مکانات اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی)/اقلیتوں کو 7.26 لاکھ مکانات الاٹ کیے گئے ہیں۔

2015 میں اپنے آغاز کے بعد سے، پردھان منتری آواس یوجنا – اربن (پی ایم اے وائی-یو) نے سستے مکانات کی کمی کو دور کرنے اور لاکھوں شہری خاندانوں کو گھر کی ملکیت کی حفاظت اور بہتر معیارِ زندگی فراہم کر کے انہیں بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پی ایم اے وائی-یو 2.0 اس بنیاد پر تعمیر کرتا ہے تاکہ شہری ہندوستان میں اضافی 10 ملین ای ڈبلیو ایس/ایل آئی جی/ایم آئی جی خاندانوں کی رہائشی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ اس اسکیم کے تحت مستفیدین 2.5 لاکھ روپےتک کی سرکاری امداد کے ساتھ سستے گھر بنا سکتے ہیں، خرید سکتے ہیں یا کرائے پر لے سکتے ہیں۔

پی ایم اے وائی-یو اور پی ایم اے وائی-یو 2.0 کے تحت مجموعی طور پر 12.7 ملین مکانات کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ 12 ملین گھروں پر تعمیراتی کام شروع ہو چکا ہے اور 98.60 لاکھ مکانات مکمل کر کے مستفیدین کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔

 

***

(ش ح۔اس ک  )

UR-8781


(रिलीज़ आईडी: 2274290) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil