PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

ممبئی–احمد آباد ہائی اسپیڈ ریلوے:ہندوستان کی ریل جدید کاری کی سمت پیش رفت

प्रविष्टि तिथि: 12 JUN 2026 4:59PM by PIB Delhi

ممبئی–احمد آباد ہائی اسپیڈ ریل (ایم اے ایچ ایس آر) منصوبہ بھارت کی ریل جدید کاری کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ملک کا پہلا ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور ہے، جس کا مقصد بین شہروں آمدورفت کے نظام کو بدلنا اور ملکی ریلوے صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔یہ 508 کلومیٹر طویل کوریڈور مہاراشٹر، گجرات اور دادرہ و نگر حویلی سے گزرتا ہے۔ اس منصوبے میں تیز رفتار مسافر ٹرانسپورٹ کے ساتھ وسیع بنیادی ڈھانچے کی ترقی شامل ہے، جس میں ویاڈکٹس، سرنگیں، پل، اسٹیشنز اور سگنلنگ و بجلی کے نظام شامل ہیں۔ممبئی اور احمد آباد کے درمیان سفر کا وقت کم کرنے کے علاوہ یہ منصوبہ تکنیکی مہارت، صنعتی صلاحیت اور ادارہ جاتی علم کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ یہ صلاحیتیں مستقبل میں  ہندوستان بھر میں ہائی اسپیڈ ریل کے نیٹ ورک کی توسیع میں مدد فراہم کریں گی۔

روایتی ریل سے ہائی اسپیڈ کنکٹی وٹی کی  جانب

بھارتی ریلوے دنیا کے سب سے بڑے ریلوے نیٹ ورکس میں سے ایک ہے اور مسافر و مال برداری دونوں کے لیے ایک اہم ذریعۂ نقل و حمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مختلف خطوں کو آپس میں جوڑ کر یہ پورے ملک میں لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت کو ممکن بناتا ہے۔ یہ رابطہ اقتصادی ترقی اور منڈیوں، تعلیم اور بنیادی خدمات تک بہتر رسائی میں مدد دیتا ہے۔ بڑھتی ہوئی نقل و حمل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وقت کے ساتھ ریلوے نیٹ ورک اور اس کی گنجائش میں مسلسل اضافہ کیا گیا ہے۔

 ہندوستان کے بدلتے ہوئے شہری ڈھانچے نے لوگوں کے رہن سہن، کام کرنے اور سفر کرنے کے انداز کو بھی تبدیل کیا ہے۔ بڑے اقتصادی مراکز کی ترقی نے طویل فاصلے اور بین شہروں سفر کی ضرورت میں اضافہ کیا ہے۔ ان بدلتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر بھارت نے ممبئی–احمد آباد ہائی اسپیڈ ریل (ایم اے ایچ ایس آر) کوریڈور کا آغاز کیا۔ ستمبر - 2017 میں اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا، جس نے ہندوستان  کے ہائی اسپیڈ ریل کے سفر کا آغاز کیا۔ اس کوریڈور کا مقصد سفر کے وقت میں نمایاں کمی لانا ہے جبکہ مسافروں کے آرام، حفاظت اور قابل اعتماد نظام کو بہتر بنانا ہے۔ یہ  ہندوستان  کے ریلوے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور پائیدار اقتصادی ترقی کی حمایت کی سمت ایک اہم قدم بھی ہے۔

ایم اے ایچ ایس آر:ویژن کو بنیادی ڈھانچے میں تبدیل کرنا

ہائی اسپیڈ ریل (ایچ ایس آر) سے مراد وہ مسافر ٹرین نظام ہے جو روایتی ریل کے مقابلے میں بہت زیادہ رفتار پر چلنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ نظام عام طور پر مخصوص  کوریڈورز پر چلتے ہیں اور جدید رولنگ اسٹاک، سگنلنگ، کمیونیکیشن اور حفاظتی ٹیکنالوجیز پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ خصوصیات اعلیٰ سطح کی کارکردگی اور قابلِ اعتماد آپریشن کو ممکن بناتی ہیں۔ عملی طور پر ہائی اسپیڈ ریل وہ نظام ہے جو 250 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار پر چلتا ہے۔

فی الحال بھارتی ریلوے نیٹ ورک میں سب سے زیادہ ڈیزائن رفتار تقریباً 180 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، جو وندے بھارت جیسے نیم ہائی اسپیڈ سروسز کے ذریعے حاصل کی گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں ممبئی–احمد آباد ہائی اسپیڈ ریل منصوبے کی ڈیزائن رفتار 350 کلومیٹر فی گھنٹہ اور آپریشنل رفتار 320 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ یہ بھارت میں شروع کیے گئے سب سے بڑے ریلوے انفراسٹرکچر منصوبوں میں سے ایک ہے اور اس کے ذریعے ممبئی اور احمد آباد کے درمیان سفر کا وقت تقریباً 1 گھنٹہ 58 منٹ رہ جائے گا۔

تیز رفتار مسافر ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کے علاوہ یہ منصوبہ پہلی بار بھارت میں ایک مقامی ہائی اسپیڈ ریل ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) بھی قائم کرے گا۔ اس میں ویاڈکٹ کی تعمیر، بالاسٹ لیس ٹریک کی تنصیب، سرنگ سازی، پلوں کی تنصیب اور اسٹیشن ایریا کی منصوبہ بندی شامل ہے۔ اس کے ساتھ سگنلنگ اور پاور سسٹمز اور  ہندوستانی انجینئرز و تکنیکی عملے کی خصوصی تربیت بھی شامل ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے حاصل ہونے والا علم، مہارتیں اور صلاحیتیں مستقبل میں ملک بھر میں ہائی اسپیڈ ریل کوریڈورز کی توسیع میں مدد فراہم کریں گی۔

یہ 508 کلومیٹر طویل ایم اے ایچ ایس آر کوریڈور مہاراشٹر، گجرات اور دادرہ و نگر حویلی سے گزرتا ہے۔ اس میں 12 اسٹیشن شامل ہیں- ممبئی (بی کے سی)، تھانے، ورار، بوئسر، واپی، بلمورا، سورت، بھروچ، وڈودرا، آنند، احمد آباد اور سابرمتی۔ ہر اسٹیشن کو اپنے شہر کی شناخت اور اس کی  روح کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جدید طرزِ تعمیر، جدید سہولیات اور ملٹی موڈل کنکٹی وٹی اس کے ڈیزائن کا حصہ ہیں۔ سابرمتی اسٹیشن کو ایک ملٹی موڈل ہب کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے جو بُلٹ ٹرین، میٹرو،بی آر ٹی ایس اور ریلوے نیٹ ورکس کو آپس میں جوڑے گا۔ اس کے آس پاس کا علاقہ ٹرانزٹ اورینٹڈ ڈیولپمنٹ کے اصولوں کے مطابق منصوبہ بندی کیا جا رہا ہے۔ اس کوریڈور پر پہلی ہائی اسپیڈ ریل سروس کے اگست 2027 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔

یہ روٹ تقریباً 90 فیصد بلند(ایلیویٹیڈ) ہے، اور اس کی تعمیر بنیادی طور پر فل اسپین لانچنگ میتھڈ(ایف ایس ایل ایم) کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ یہ تکنیک بھارت میں پہلی بار استعمال کی جا رہی ہے اور روایتی سیگمنٹل تعمیر کے مقابلے میں دس گنا زیادہ تیز ہے۔ ویاڈکٹ کے دونوں جانب شور کو کم کرنے کے لیے نائز بیریئرز نصب کیے جا رہے ہیں۔ یہ تمام خصوصیات اس کوریڈور کے مؤثر تعمیراتی عمل، بہتر آپریشنل کارکردگی اور مربوط شہری ترقی پر مرکوز ہونے کو ظاہر کرتی ہیں۔

تکنیکی خصوصیات اور نظام

ایم اے ایچ ایس آر منصوبہ ‘شنکانسن’ نامی جاپانی  ٹیکنالوجی اور آپریشنل معیار کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کوریڈور میں ٹریکشن، الیکٹریفیکیشن، ٹریک انفراسٹرکچر اور آپریشنز کے جدید نظام شامل ہیں۔ سرکاری منصوبہ جاتی جائزے کے مطابق اس کے اہم تکنیکی اجزاء درج ذیل ہیں:

  • اوورہیڈ الیکٹریفیکیشن (او ایچ ای): کوریڈور کے ساتھ ساتھ 20,000 سے زائد او ایچ ای ماسٹس نصب کرنے کا منصوبہ ہے۔ 2×25  کے وی اوورہیڈ ٹریکشن سسٹم شنکانسن پر مبنی او ایچ ای کینٹیلیورز کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔
  • ٹریکشن اور پاور سپلائی: اس منصوبے میں 12 ٹریکشن سب اسٹیشنز، 2 ڈپو ٹریکشن سب اسٹیشنز اور 16 ڈسٹری بیوشن سب اسٹیشنز شامل ہیں۔
  • ٹریک سسٹم: جاپانی شنکانسن ٹیکنالوجی پر مبنی جے-سلیب بالاسٹ لیس ٹریک پہلی بار بھارت میں نصب کیا جا رہا ہے۔
  • ٹریک کنسٹرکشن بیسز: ریل، ٹریک سلیب، مشینری اور دیگر آلات کی ہینڈلنگ کے لیے مخصوص ٹریک کنسٹرکشن بیسز قائم کیے جا رہے ہیں۔
  • رولنگ اسٹاک ڈپو: تین ڈپو تعمیر کیے جا رہے ہیں—گجرات میں سابرمتی اور سورت، اور مہاراشٹر میں تھانے میں۔

کوریڈور میں انجینئرنگ کی پیش رفت

ایم اے ایچ ایس آر کوریڈور دریاؤں، شہری علاقوں اور مشکل جغرافیائی خطوں سے گزرتا ہے، جس کے لیے وسیع پلوں اور سرنگوں کے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔ یہ ڈھانچے منصوبے کے سب سے پیچیدہ انجینئرنگ حصوں میں شمار ہوتے ہیں۔

کوریڈور میں پلوں کا کام

اس کوریڈور میں 25 دریائی پل شامل ہیں، جن میں سے 21 گجرات میں اور 4 مہاراشٹر میں واقع ہیں۔ متعدد دریاؤں پر پلوں کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، جن میں میشوا، واترک، موہر (شیڈھی)، وشوامیتری، ددھار، کیم، منڈھولہ، پورنا، امبیکا، وینگانیہ، کاویری، کھریرا، اورنگا، پار، کولک، دمن گنگا اور داروتھا دریا شامل ہیں۔کچھ بڑے دریائی مقامات پر کام تیزی سے جاری ہے، جن میں سابرمتی، نرمدا، تاپی، جاگانی اور ویتارنا دریا شامل ہیں۔

  • ماہی دریا کے پل پر 12 میں سے 11 کنویں  مکمل ہو چکے ہیں اور پانچ اسپین نصب کیے جا چکے ہیں۔
  • تاپی دریا کے پل پر بنیادوں کا کام جاری ہے اور 12 میں سے 10 کنویں مکمل ہو چکے ہیں۔
  • سابرمتی دریا کے پل پر ذیلی ساخت کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ بالائی ڈھانچے کی تعمیر جاری ہے۔
  • دیسائی کھاڑی کراسنگ کے لیے جیو ٹیکنیکل تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور ڈیزائن کا کام جاری ہے۔
  • اولہااس دریا برانچ کراسنگ پر ایک عارضی رسائی پل ( ٹی اے بی) بھی مکمل کیا جا چکا ہے۔

دریائی کراسنگز کے علاوہ اس کوریڈور میں ہائی ویز، نہروں، دریاؤں اور ریلوے ٹریکس پر 28 اسٹیل پل بھی شامل ہیں۔ یہ تمام ڈھانچے مل کر اس کوریڈور کے انجینئرنگ انفراسٹرکچر کا ایک اہم حصہ تشکیل دیتے ہیں۔

 ہندوستان  کی پہلی زیرسمندر ریلوے سرنگ

اس کوریڈور میں مہاراشٹر میں تقریباً 21 کلومیٹر طویل سرنگ کا سیکشن شامل ہے، جس میں تھانے کریک کے نیچے  ہندوستان  کی پہلی زیرسمندر ریلوے سرنگ تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس زیرسمندر حصے کی لمبائی تقریباً 7 کلومیٹر ہے۔

سرنگ کی تعمیر میں نیو آسٹریئن ٹنلنگ میتھڈ (این اے ٹی ایم) اور ٹنل بورنگ مشین (ٹی بی ایم) ٹیکنالوجی دونوں استعمال کی جا رہی ہیں۔ اس کا مکمل الائنمنٹ 5 کلومیٹر این اے ٹی ایم سیکشن اور 16 کلومیٹر ٹی بی ایم سیکشن پر مشتمل ہے۔

دونوں ٹریک ایک ہی سرنگی ٹیوب میں ہوں گے، جس کا قطر 13.1 میٹر ہے۔ ٹی بی ایم کا کٹر ہیڈ قطر 13.6 میٹر ہے، جو بھارت کے کسی بھی ریلوے منصوبے میں استعمال ہونے والا سب سے بڑا قطر ہے۔

تعمیراتی پیش رفت تسلسل کے ساتھ جاری ہے، اور گھنسولی اور شل پھاٹا کے درمیان زیرِ سمندر سرنگ کا 4.8 کلومیٹر حصہ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔

ٹنل بورنگ مشینز (ٹی بی ایمس)

ٹنل بورنگ مشینز ( ٹی بی ایمس) کا استعمال میٹرو نیٹ ورکس اور طویل ریلوے/روڈ ٹنلز میں بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔ یہ مشینیں انتہائی درستگی کے ساتھ کھدائی کرتی ہیں،  تھرتھراہٹ کو کم کرتی ہیں اور گنجان آباد اور ارضیاتی طور پر پیچیدہ علاقوں میں حفاظت کو بہتر بناتی ہیں۔

نیو آسٹریئن ٹنلنگ میتھڈ (این اے ٹی ایم)

نیو آسٹریئن ٹنلنگ میتھڈ (این اے ٹی ایم) پہاڑی علاقوں میں وسیع پیمانے پر استعمال کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ انجینئرز کو کھدائی کے دوران سپورٹ سسٹم کو حقیقی وقت میں ایڈجسٹ کرنے کی سہولت دیتا ہے، جس کی وجہ سے یہ متغیر اور نازک چٹانی ساختوں کے لیے انتہائی موزوں ہے۔

محفوظ اور قابلِ اعتماد آپریشنز کو یقینی بنانا

ایم اے ایچ ایس آر کوریڈور میں جدید حفاظتی اور مانیٹرنگ نظام شامل کیے گئے ہیں تاکہ مختلف ماحولیاتی حالات میں ٹرینوں کے قابلِ اعتماد آپریشنز کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان نظاموں میں زلزلہ کی نشاندہی، بارش کی نگرانی اور ہوا کی رفتار کی نگرانی کے نظام شامل ہیں، جو حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں صورتحال کا تجزیہ کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر فوری آپریشنل ردعمل کو ممکن بناتے ہیں۔

بارش کی نگرانی کا نظام

بلٹ ٹرین خدمات کے محفوظ آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے بارش کی نگرانی کا خودکار نظام،بلٹ ٹرین کے محفوظ آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے ایک خودکار بارش مانیٹرنگ سسٹم (آر ایم ایس) نافذ کیا گیا ہے۔ یہ نظام کوریڈور کے اہم مقامات پر نصب کیے گئے جدید رین گیجز کے ذریعے حقیقی وقت (ریئل ٹائم ) میں بارش کا ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔

بارش سے متعلق معلومات مسلسل آپریشن کنٹرول سینٹر (اوسی سی) کو منتقل کی جاتی ہیں، جہاں ان کی نگرانی آپریشنل فیصلوں میں معاونت کے لیے کی جاتی ہے۔ اس نظام میں دو اہم پیمانے ناپے جاتے ہیں: فی گھنٹہ بارش اور گزشتہ 24 گھنٹوں کی مجموعی بارش۔

یہ پیمائشیں زمینی ڈھانچوں، قدرتی ڈھلوانوں، ٹنل پورٹلز اور دیگر حساس مقامات کے اطراف کی صورتحال کا اندازہ لگانے میں مدد دیتی ہیں۔ مقررہ حدی اقدار (تھریش ہولڈ ویلیوز) اور فیلڈ ٹیموں کی تصدیق کی بنیاد پر ضرورت پڑنے پر مناسب آپریشنل اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

ممبئی–احمد آباد بلٹ ٹرین کوریڈور میں چھ بارش مانیٹرنگ اسٹیشنز قائم کرنے کی تجویز ہے، جن میں سے ہر اسٹیشن تقریباً 10 کلومیٹر کے دائرے میں بارش کی صورتحال کی نگرانی کرے گا۔

ہوا کی رفتار کی نگرانی کا نظام

ایم اے ایچ ایس آر کوریڈور کے کچھ حصے ساحلی علاقوں اور ایسے مقامات سے گزرتے ہیں جہاں تیز ہوائیں چلتی ہیں۔ ان علاقوں میں محفوظ ٹرین آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے پورے کوریڈور میں ایک مخصوص ہوا کی رفتار کی نگرانی کا نظام (ڈبلیو ایس ایم ایس)  متعارف کرایا گیا ہے۔گیارہ مقامات، جن میں 9 گجرات میں اور 5 مہاراشٹر میں شامل ہیں، پر اینی مو میٹرز  کی تنصیب کے لیے نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ آلات ہوا کی رفتار اور سمت کی حقیقی وقت میں پیمائش فراہم کرتے ہیں اور  صفرسے 252 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار ریکارڈ کر سکتے ہیں۔ ان کا ڈیٹا مسلسل آپریشن کنٹرول سینٹر (او سی سی) میں مانیٹر کیا جاتا ہے۔جب ہوا کی رفتار مقررہ حدوں تک پہنچتی ہے تو آپریشنل پروٹوکولز فعال کر دئیے جاتے ہیں۔ 72 کلومیٹر فی گھنٹہ سے 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان رفتار ہونے پر ٹرینوں کی رفتار کو محفوظ آپریشن کے لیے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

ابتدائی زلزلہ وارننگ نظام (ای ای ڈی ایس)

مسافروں کی حفاظت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایم اے ایچ ایس آر میں ابتدائی زلزلہ شناختی نظام نصب کیا جائے گا، جس میں 28 سیسمومیٹرز شامل ہوں گے۔ یہ نظام زلزلے کی ابتدائی لہروں ( پی ڈبلیو) کا پتہ لگا کر خودکار طور پر بجلی کی سپلائی بند کر دیتا ہے، جس سے متاثرہ حصے میں چلنے والی ٹرینیں ہنگامی بریکنگ کے ذریعے محفوظ طریقے سے رک سکتی ہیں۔

ان 28 سیسمومیٹرز میں سے 22 کوریڈور کے مرکزی راستے پر نصب کیے جائیں گے، جبکہ باقی 6 کو زلزلہ کے خطرے والے علاقوں میں رکھا جائے گا، جن کی نشاندہی تفصیلی سیسمک سرویز اور مٹی کی موزونیت کے مطالعات کے ذریعے کی گئی ہے۔ ان مقامات کا انتخاب تاریخی زلزلہ ڈیٹا اور مائیکرو ٹریمَر ٹیسٹنگ کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

2026 میں منصوبے کے اہم سنگ میل

سن 2026 کے دوران اس کوریڈور کے مختلف حصوں میں متعدد اہم پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے، جو اس منصوبے کے نفاذ کی رفتار اور پیش رفت کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ پیش رفت منصوبے کے مختلف اجزاء میں تیز رفتار تکمیل کی سمت ایک اہم اشارہ فراہم کرتی ہے۔

 

تاریخ

سنگ میل

29جنوری 2026

احمد آباد میں 100 میٹر طویل‘میک ان انڈیا’ اسٹیل پل کی تکمیل

03 فروری 2026

پالگھر، مہاراشٹر میں دوسری پہاڑی سرنگ کی کامیابی حاصل کی گئی۔

17 مارچ 2026

بلٹ ٹرین اسٹیشن شہر کے ٹرانسپورٹ ایکو سسٹم میں ضم ہونے کے لیے تیار ہیں۔

08 اپریل 2026

آپریشنل ریلوے پٹریوں پر سب سے بھاری پورٹل بیم کا آغاز۔

09 اپریل 2026

پہلے ٹی بی ایم کی اسمبلی وکھرولی، مہاراشٹر میں شروع ہوئی۔

11 اپریل 2026

دوسرے ٹی بی ایم کی اسمبلی ساولی میں شروع ہوئی۔

22 اپریل 2026

بلٹ ٹرین وایاڈکٹ پر تنصیب کا کام ٹریک ۔

27 اپریل 2026

دریائے سابرمتی پل پر تعمیراتی کام جاری ہے۔

04 مئی 2026

تمام پانچ ہیوی پورٹل بیم 22 دنوں کے اندر احمد آباد میں ریلوے پٹریوں پر شروع ہو گئے۔

17 مئی 2026

350 ٹن وزنی کٹر ہیڈ وکرولی میں اتارا گیا۔

20 مئی 2026

بھروچ کے قریب 130 میٹر طویل اسٹیل پل کا آغاز۔

23 مئی 2026

دوسرا ٹی بی ایم کٹر ہیڈ ممبئی کے قریب ساؤلی میں نیچے کیا گیا۔

27 مئی 2026

احمدآباد میں کالوپور فلائی اوور پر 45 میٹر سیگمنٹل پل مکمل ہوا۔

02 جون 2026

پالگھر ضلع میں پہاڑی سرنگ کی تیسری کامیابی حاصل کی گئی۔

اقتصادی اور سماجی تبدیلی کو فروغ دینا

بلٹ ٹرین منصوبہ صرف رابطوں کو بہتر بنانے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے، صنعتوں کو مضبوط بنانے، سیاحت کو فروغ دینے اور مقامی مینوفیکچرنگ کو آگے بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

تیز رفتار رابطہ

ایم اے ایچ ایس آر منصوبہ ممبئی اور احمد آباد کے درمیان سفر کا وقت دو گھنٹے سے کم کر دے گا۔ اس وقت یہی سفر سڑک کے ذریعے 8–9 گھنٹے اور فضائی سفر کے ذریعے (ہوائی اڈے کے طریق کار سمیت) تقریباً 4–5 گھنٹے لیتا ہے۔ تیز رفتار سفر کاروباری کارکردگی کو بہتر بنانے اور مسافروں کا قیمتی وقت بچانے میں مدد دے گا۔

علاقائی معیشتوں کو مضبوط بنانا

ہائی اسپیڈ ریل صنعتی مراکز اور منڈیوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آئے گی۔ واپی اور ممبئی جیسے مینوفیکچرنگ ہبز کے درمیان بہتر رابطہ سپلائی چینز کو مضبوط کرے گا اور پورے کوریڈور میں کاروباری مواقع کو وسعت دے گا۔

سیاحت اور مقامی ترقی

یہ کوریڈور ایسے علاقوں سے گزرتا ہے جو قدرتی، ثقافتی اور تاریخی سیاحتی مقامات کے لیے مشہور ہیں۔ بہتر رسائی سیاحت، ہاسپیٹیلٹی اور متعلقہ خدمات کو فروغ دے سکتی ہے۔ اسٹیشنز کے اردگرد تجارتی سرگرمیوں اور مقامی ترقی میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

مہارتوں کی ترقی اور روزگار کے مواقع

اس منصوبے سے تقریباً 4,000 براہِ راست ملازمتیں اور 35,000 سے 40,000 بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ تعمیراتی مرحلے میں تقریباً چالیس ہزار (40,000)کارکنوں کی شمولیت متوقع ہے۔ وڈودرا میں قائم ہائی اسپیڈ ریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ جدید ریلوے ٹیکنالوجی میں مہارت پیدا کرنے میں مدد دے گا۔

میک اِن انڈیا کو فروغ

یہ منصوبہ ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور ملکی مینوفیکچرنگ کے ذریعے “میک اِن انڈیا” اقدام کو فروغ دیتا ہے۔  ہندوستانی کمپنیوں کی اس منصوبے کے مختلف حصوں میں شمولیت اسٹیل، سیمنٹ اور برقی آلات جیسے متعلقہ شعبوں کو بھی مضبوط کرے گی۔

یونین بجٹ 2026–27 میں ہائی اسپیڈ ریل کوریڈورز

جدید ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک کے ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے یونین بجٹ 2026–27 میں سات ہائی اسپیڈ ریل کوریڈورز کو  فروغ دیکر انجن کے طور پر اعلان کیا گیا ہے۔ یہ کوریڈورز اہم شہروں اور خطوں کو آپس میں جوڑیں گے، لوگوں کی مؤثر نقل و حرکت کو ممکن بنائیں گے اور ریاستوں کے درمیان معاشی روابط کو مضبوط کریں گے۔ تقریباً 4,000 کلومیٹر پر محیط یہ مجوزہ کوریڈورز تقریباً 16 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ یہ پیش رفت  ہندوستان  کے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر میں ہائی اسپیڈ ریل کو ایک مرکزی ستون کے طور پر ابھارنے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

 مرکزی  بجٹ 2026–27 میں ہائی اسپیڈ ریل کوریڈورز

ایک جدید، ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک کے ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے مرکزی  بجٹ 2026–27 میں سات ہائی اسپیڈ ریل کوریڈورز کو فروغ دینے  کے اہم محرک کے طور پر اعلان کیا گیا ہے۔ یہ کوریڈورز اہم شہروں اور خطوں کو آپس میں مربوط کریں گے، لوگوں کی مؤثر نقل و حرکت کو ممکن بنائیں گے اور ریاستوں کے درمیان اقتصادی روابط کو فروغ دیں گے۔

تقریباً 4,000 کلومیٹر پر محیط یہ مجوزہ کوریڈورز تقریباً 16 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ یہ پیش رفت بھارت کے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر میں ہائی اسپیڈ ریل کو ایک مرکزی جزو کے طور پر ابھرنے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

یہ منصوبہ بند ہائی اسپیڈ ریل کوریڈورز ملک کے مختلف خطوں میں اسٹریٹجک طور پر واقع ہیں، تاکہ قومی سطح پر رابطہ کاری اور ترقی کے یکساں مواقع کو فروغ دیا جا سکے۔

۔

راستے

سفر کا وقت

دہلی وارانسی

3 گھنٹے 50 منٹ

وارانسی-پٹنہ-سلیگوری۔

2 گھنٹے 55 منٹ

چنئی-بنگلور

1 گھنٹہ 13 منٹ

بنگلورو-حیدرآباد

2 گھنٹے

چنئی-حیدرآباد

2 گھنٹے 55 منٹ

ممبئی – پونے

48 منٹ

پونے-حیدرآباد

1 گھنٹہ 55 منٹ

 

ریل ٹرانسپورٹ کے مستقبل کی تشکیل

ممبئی–احمد آباد ہائی اسپیڈ ریل منصوبہ بھارت میں ریلوے ترقی کے ایک انقلابی مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے۔ ملک کے پہلے ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور کے طور پر یہ رفتار، رابطے اور بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کے نئے معیار متعارف کرا رہا ہے۔سول ورکس، پلوں کی تعمیر اور سرنگوں کے کام میں نمایاں پیش رفت منصوبے کی تکمیل کی سمت مسلسل پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے۔ اب تک حاصل کی گئی تعمیراتی پیش رفت مختلف اجزاء میں مسلسل رفتار کی عکاسی کرتی ہے۔اسی دوران جدید ٹیکنالوجیز اور انجینئرنگ طریقوں کا استعمال  ہندوستان  کی ہائی اسپیڈ ریل ترقی میں اندرونی صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہا ہے۔ ایم اے ایچ ایس آر منصوبہ صرف ایک ٹرانسپورٹ منصوبہ نہیں بلکہ بھارت کے طویل مدتی ہائی اسپیڈ ریل وژن کے لیے ایک محرک  کی حیثیت رکھتا ہے۔

 

حوالہ جات

وزیراعظم آفس

https://www.pib.gov.in/newsite/printrelease.aspx?relid=170771&reg=48&lang=2

وزارت ریلویز

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2257831&reg=1&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2267962&reg=48&lang=1

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AS538_MhnJmI.pdf?source=pqals

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2176788&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221838&reg=48&lang=2

نیشنل ہائی اسپیڈ ریل کارپوریشن لمٹیڈ

https://www.nhsrcl.in/en/project/project-overview

https://www.nhsrcl.in/en/media/press-release

https://www.nhsrcl.in/en/project/safety-features

https://www.nhsrcl.in/en/media/blog/long-short-economic-prosperity-indias-first-hsr-project-expected-bring

Click here to see pdf

 

*******

ش ح- ظ الف-  ش ب ن

UR- 8740


(रिलीज़ आईडी: 2273936) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Gujarati , Tamil