امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
اختتام سال کا جائزہ 2025: ڈیجیٹل انصاف، صارفین کے اعتماد اور معیار کو ہندوستانی بازار میں فروغ
प्रविष्टि तिथि:
30 JAN 2026 4:29PM by PIB Delhi
ا۔ نمایاں اصلاحات اور موثر اقدامات
(ای-جاگرتی، این سی ایچ، بی آئی ایس معیارات،قانونی میٹرولوجی اصلاحات)
ب۔ صلاحیت سازی اور ادارہ جاتی استحکام
(این ٹی ایچ، بیداری، قیمتوں کی نگرانی، انفراسٹرکچر)
سال 2025 صارفین کے امور کے محکمے کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوا، جب بھارت میں صارفین کا تحفظ تیزی، رسائی اور اعتماد کی سمت واضح طور پر آگے بڑھا۔ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل تبدیلی، مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے اقدامات، جدید معیارات اور مضبوط ادارہ جاتی شراکت داریوں کے ذریعے محکمے نے یقینی بنایا کہ صارفین کی فلاح و بہبود بھارت کی بدلتی ہوئی مارکیٹ کا مرکز و محور رہے۔
کاغذ کے بغیر صارفین کی عدالتوں میں کام کاج اور اے آئی کے ذریعے شکایات کے ازالے سے لے کر محفوظ گھریلو اشیا ، معیاری تجارتی سرگرمیاں اور تجربات کےوسیع بنیادی ڈھانچے تک، اس سال مسائل کے حل کیلئے قوانین وضع کرنے کے ضمن میں ٹیکنالوجی پر مبنی نظام حکومت کے ضمن میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ۔
2025 کا ایک نظر میں جائزہ
- ای-جاگرتی پلیٹ فارم پر 2.8 لاکھ سے زائد صارفین کا اندراج
- 1.31 لاکھ سے زیادہ صارفین کے مقدمات ڈیجیٹل طور پر نمٹائے گئے
- نیشنل کنزیومر ہیلپ لائن کے ذریعے 27.61 کروڑ روپے کے رقوم کی واپسی کی سہولت فراہم کی گئی
- ملک بھر میں 575 مراکز پر روزانہ قیمتوں کی نگرانی
- قانونی میٹرولوجی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے 12 جی اے ٹی سی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے
- صارفین کے تحفظ اور مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے نئے بی آئی ایس معیارات جاری کیے گئے۔
- صارفین کو انصاف کی فراہمی کیلئے ڈیجیٹل اصلاحات
ای-جاگرتی: رفتار، آسان اور قابل رسائی
سال 2025 کی ایک اہم اصلاح ای ۔ جاگرتی کا یکم جنوری 2025 کو ملک بھر میں آغاز تھا۔ یہ ایک مربوط اور مکمل ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس نے ملک میں صارفین کے تنازعات کے حل کے نظام کو مکمل طور پر بدل دیا۔ اس نے پرانے نظاموں جیسے سی او این ایف او این ای ٹی، ای – داخل، او سی ایم ایس اور این سی ڈی آر سی – سی ایم ایس کو یکجا کر کے ایک ہی انٹرفیس کے تحت ڈیجیٹل فائلنگ، سماعت، کیس مینجمنٹ اور فیصلوں کو ممکن بنایا۔
یہ پلیٹ فارم شہریوں کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس میں کثیر لسانی رسائی، او ٹی پی پر مبنی رجسٹریشن، محفوظ دستاویزات کا تبادلہ، ورچوئل سماعتیں، وائس ٹو ٹیکسٹ سہولت اور کیسز کی ریئل ٹائم ٹریکنگ شامل ہے۔ اس نے فیزیکل طور پر عدالتوں کے چکر، قانونی اخراجات اور طریقہ کار کی تاخیر میں نمایاں کمی کی ہے، جس سے دور دراز علاقوں اور بیرون ملک رہنے والے صارفین کے لیے بھی انصاف تک رسائی آسان ہوئی ہے۔
نومبر 2025 کے وسط تک اس پلیٹ فارم پر 2.81 لاکھ سے زائد صارفین، جن میں 1,400 این آر آئیز بھی شامل ہیں، ان کا اندراج ہوچکا تھا۔ شکایات امریکہ، برطانیہ، یو اے ای، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ممالک سے بھی درج کی گئیں۔ 1.35 لاکھ سے زائد مقدمات دائر کیے گئے جبکہ 1.31 لاکھ سے زیادہ کیسز نمٹائے جا چکے تھے، جو کم التوا اور تیز تر فیصلوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
مؤثر عملدرآمد کے لیے محکمے نے وسیع تربیتی پروگرامز منعقد کیے اور ہر ہفتے “جن سنوائی” سیشنز شروع کیے، جن کے ذریعے تکنیکی معاونت اور شکایات کے فوری حل کو یقینی بنایا گیا۔
یہ نظام خاص طور پر بزرگ شہریوں، خواتین اور دور دراز علاقوں کے صارفین کے لیے نہایت فائدہ مند ثابت ہوا ہے، کیونکہ اس نے صارفین کے تنازعات کے حل میں وقت، لاگت اور پیچیدگی کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔
- صارفین کے تحفظ کے فریم ورک کو مضبوط بنانا
ڈیجیٹل اصلاحات کے ساتھ ساتھ، محکمے نے صارف تحفظ ایکٹ 2019 کے تحت ادارہ جاتی استعداد کو بھی مزید مضبوط بنایا۔ نیشنل کنزیومر ڈسپیوٹس ریڈریسل کمیشن میں گروپ ‘اے’ عہدوں کے لیے بھرتی قواعد میں ترامیم کو نوٹیفائی کیا گیا تاکہ کارکردگی اور انتظامی مؤثریت میں اضافہ کیا جا سکے۔
اس سال متعدد شراکت داروں سے مشاورت بھی کی گئی، جن میں صارف عدالتیں، صنعتی ادارے، ای-کامرس پلیٹ فارمز، صارفین کی رضاکار تنظیمیں اور تعلیمی ادارے شامل تھے۔ ان مشاورتوں میں ابھرتے ہوئے چیلنجز جیسے گمراہ کن اشتہارات، آن لائن تجارت کے غیر منصفانہ طریقے اور تیز تر انصاف کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر توجہ دی گئی۔
“صارفین کے امور سے متعلق عدالتوں کو مضبوط بنانے” کی اسکیم کے تحت موجودہ مالی سال کے دوران ریاستوں کو 7.31 کروڑ روپے کی مالی معاونت جاری کی گئی تاکہ انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جا سکے اور خدمات کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکے۔
- بیداری لانے کیلئے صارفین میں رسائی کی مہمات
سال 2025 میں صارفین میں بیداری کے اقدامات کا دائرہ وسیع، جامع اور آخری سطح تک رسائی پر مرکوز رہا۔ مرکزی مہم “جاگو گراہک جاگو” ڈیجیٹل، پرنٹ اور آؤٹ ڈور پلیٹ فارمز پر جاری رہی، جس کا مقصد صارفین کو ان کے حقوق، محفوظ استعمال اور شکایات کے ازالے کے نظام کے تعلق سےبیداری پیدا کرنا تھا۔
اسمارٹ فون یا انٹرنیٹ کی عدم دستیابی والے شہریوں تک رسائی کے لیے ملک بھر میں آئی وی آر ایس وائس کال اور 11 زبانوں میں ایس ایم ایس مہمات چلائی گئیں۔ عوامی اجتماعات، خصوصاً مہا کمبھ میلہ 2025 میں بھی بیداری سرگرمیاں انجام دی گئیں، جہاں اندازاً 66 کروڑ افراد نے شرکت کی۔اس کے علاوہ “امر چتر کہانی” طرز کی کامکس کے ذریعے صارف حقوق پر مبنی مواد تیار کر کے اسکولوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر تقسیم کیا گیا تاکہ نوجوان نسل میں شعور اجاگر کیا جا سکے۔ پنچایت سطح پر ہفتہ وار ورچوئل نشستوں نے دیہی علاقوں میں بھی صارف آگاہی کو مزید مضبوط بنایا۔
- نیشنل کنزیومر ہیلپ لائن: تیز اور آسان حل
نیشنل کنزیومر ہیلپ لائن صارفین کے لیے شکایات کے فوری ازالے کا پہلا ذریعہ بنی رہی۔ یہ ہیلپ لائن 17 زبانوں میں دستیاب ہے اور صارفین ٹول فری نمبر 1915، واٹس ایپ، ایس ایم ایس، موبائل ایپ، ویب پورٹل، امنگ اور ای میل کے ذریعے شکایت درج کرا سکتے ہیں۔
اس نظام میں کنورجنس پارٹنرز کی تعداد بڑھ کر 1,169 کمپنیوں تک پہنچ گئی، جس سے قبل از مقدمہ سطح پر شکایات کا تیز تر حل ممکن ہوا۔این سی ایچ 2.0 کے تحت ٹیکنالوجی میں بہتری کی گئی، جس میں اے آئی پر مبنی اسپیچ ریکگنیشن، کثیر لسانی چیٹ بوٹس اور خودکار ترجمہ ٹولز شامل ہیں، جس سے رسائی مزید آسان ہو گئی۔
اپریل سے اکتوبر 2025 کے دوران اس ہیلپ لائن نے 49,333 معاملات میں 27.61 کروڑ روپے کی واپسی میں سہولت فراہم کی۔ لاکھوں صارفین کے لیے یہ نظام قانونی چارہ جوئی کے بجائے ایک تیز اوربغیر کسی تنازعہ کے حل کے طور پر ابھرا ہے۔
- قیمتوں کی نگرانی اور بازار کا استحکام
محکمہ ضروری اشیاء کی قیمتوں کی روزانہ نگرانی پرائس مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے تحت ملک بھر کے 575 مراکز سے ڈیٹا جمع کیا جاتا ہے۔
قیمتوں میں استحکام سے متعلق فنڈ (پی ایس ایف) کے تحت ہدفی اقدامات نے دالوں، پیاز، آلو اور ٹماٹر کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنے میں مدد دی۔2025-26 کے دوران پیاز کی قیمتیں زیادہ تر مستحکم رہیں، جس کی وجہ بہتر پیداوار اور بروقت بفر اسٹاک اقدامات تھے، جن میں رعایتی ریٹیل فروخت اور ریلوے کے ذریعے مؤثر ترسیل شامل ہے۔“ٹماٹو گرانڈ چیلنج” بھی جاری رہا جس کا مقصد ٹماٹر ویلیو چین میں جدید حل متعارف کرانا اور صارفین کے لیے قیمتوں کو قابل برداشت بنانا ہے۔
- قانونی اعدادوشمار: درستگی، انصاف اور آسان تعمیل
سال کے دوران قانونی اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اس شعبے میں اصلاحات کا مقصد تجارتی لین دین میں درستگی کو یقینی بنانا اور تعمیلی بوجھ کو کم کرنا تھا۔ گیس میٹرز، نمی ناپنے والے آلات، ریڈار اسپیڈ ماپنے کے آلات اور بریتھ اینالائزرز جیسے آلات کے لیے نئے قواعد نوٹیفائی کیے گئے۔
عوامی و نجی شراکت داری کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر 11 نجی اداروں کو 12 گورنمنٹ اپرووڈ ٹیسٹ سینٹر (جی اے ٹی سی) سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔ اس توسیع سے تصدیقی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا، کاروبار کے لیے انتظار کا وقت کم ہوا اور ریگولیٹڈ نجی شراکت کے ذریعے صارف تحفظ مزید مضبوط ہوا۔ ای – ماپ پورٹل زیر عمل ہے، جس کا مقصد ریاستی لیگل میٹرولوجی نظاموں کو ایک متحد قومی ڈیجیٹل پلیٹ فارم میں یکجا کرنا ہے۔
یہ اصلاحات روزمرہ تجارتی لین دین پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں اور مارکیٹ میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بناتی ہیں۔
- بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز: محفوظ مصنوعات، مضبوط اعتماد
بھارت کے معیاراتی ادارے (بی آئی ایس) نے اسٹینڈرڈائزیشن، سرٹیفیکیشن، ہال مارکنگ اور لیبارٹری کی جدید کاری کے ذریعے بھارت کے کوالٹی نظام کو مضبوط بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔
2025 کی ایک اہم پیش رفت یہ تھی کہ مرکزی وزیر جناب پرہلاد جوشی نے اگر بتی کے لیے نیا بھارتی معیار جاری کیا، جس کا مقصد وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی اس گھریلو مصنوعات کی صارفین کی حفاظت اور معیار کو بہتر بنانا تھا۔
بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز نے لازمی ہال مارکنگ کے دائرہ کار کو بھی وسعت دی، چاندی کے زیورات کے لیے ایچ یو آئی ڈی مارکنگ متعارف کرائی، لیبارٹری انفراسٹرکچر کو مضبوط بنایا اور صنعت و تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت داری کو مزید گہرا کیا۔ایچ یو آئی ڈی کے چاندی کے زیورات پر لازمی ہونے کے ساتھ ہر زیور کو ایک منفرد 6 ہندسوں کا کوڈ دیا جاتا ہے، جو مکمل ڈیجیٹل ٹریس ایبیلٹی اور بہتر صارف تحفظ کو ممکن بناتا ہے۔ایچ یو آئی ڈی نظام کے تحت پہلے ہی 17.35 لاکھ سے زائد اشیاء ہال مارک کی جا چکی ہیں، جس سے صارفین اور اسٹیک ہولڈرز میں شفافیت، جوابدہی اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
- نیشنل ٹیسٹ ہاؤس: جانچ اور تحقیق کی صلاحیتوں میں توسیع
نیشنل ٹیسٹ ہاؤس (این ٹی ایچ) نے اپنی جدید کاری کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے جانچ کی خدمات کے تنوع اور ڈیجیٹل اپ گریڈز پر توجہ مرکوز کی۔ایک اہم سنگِ میل کے طور پر نیشنل ٹیسٹ ہاؤس نے دفاعی تحقیق و ترقی تنظیم (ڈی آر ڈی او) اور ڈیفنس میٹریلز اینڈ اسٹورز ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹیبلشمنٹ (ڈی ایم ایس آر ڈی ای) کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے، تاکہ جدید تحقیق، جانچ اور جائزہ کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے۔
نیشنل ٹیسٹ ہاؤس نے الیکٹرک وہیکلز، قابل تجدید توانائی، ڈرونز، دفاعی آلات اور خوراک کی جانچ جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو وسعت دی، جس سے کارکردگی اور کام مکمل کرنے کے وقت میں بہتری آئی۔
- صارفین کا قومی دن 2025
صارفین کاقومی دن 2025 “ڈیجیٹل انصاف کے ذریعے مؤثر اور تیز تر فیصلوں کا اجرا” کے موضوع کے تحت منایا گیا، جس میں بروقت، شفاف اور قابلِ رسائی صارف انصاف کی فراہمی میں ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے انقلابی کردار کو اجاگر کیا گیا۔
2025 کی پیش رفت کو آگے بڑھاتے ہوئے، صارفین کے امور کا محکمہ ڈیجیٹل انصاف کی فراہمی کو مزید مستحکم کرنے، قانونی میٹرولوجی اصلاحات کو مضبوط بنانے، معیارات کے فروغ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور تیزی سے بدلتی ہوئی مارکیٹ کے لیے جانچ اور تصدیق کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
2025 میں کیے گئے اقدامات صارفین کے امور کے محکمے کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ صارفین پر مرکوز حکمرانی، منصفانہ منڈیاں اور معیار کی گارنٹی کو فروغ دے رہا ہے۔ ڈیجیٹل جدت، ریگولیٹری اصلاحات، بیداری مہمات اور ادارہ جاتی تعاون کو مربوط کر کے محکمے نے بھارت کی مارکیٹ میں اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے اور ملک بھر کے صارفین کو بااختیار بنایا ہے۔ جیسے جیسے بھارت کی معیشت ترقی کر رہی ہے اور ڈیجیٹل تجارت میں وسعت آ رہی ہے، محکمہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ انصاف، تحفظ، شفافیت اور جوابدہی صارفین کے تجربے کی بنیاد بنتے رہیں۔
مزید معلومات کیلئے یہاں کلک کریں۔
********
ش ح ۔ ع و ۔ م الف
U NO-8739
(रिलीज़ आईडी: 2273927)
आगंतुक पटल : 3