ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے نئی دہلی میں غیرقابل کاشت صحرا  بننےاور خشک سالی کے انسداد کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب کی صدارت کی


بھارت نے 2030 تک بون چیلنج کے تحت مقررہ دو کروڑ ساٹھ لاکھ ہیکٹر ہدف کے مقابلے میں دو کروڑ 17لاکھ 76 ہزار ہیکٹر زمین کو بحالی کی کوششوں کے دائرے میں شامل کر لیا ہے:جناب یادو

مالی سال26-2025 کے دوران اراولی گرین وال اقدام نے اپنے سالانہ اہداف سے بڑھ کر کامیابی حاصل کی ہے:جناب یادو

غیرقابل کاشت صحرا بننے اور خشک سالی کے انسداد کے عالمی دن 2026 کے موقع پر مرکزی وزیر نے ’’انڈین فارسٹر‘‘ کا خصوصی شمارہ اور بون چیلنج سے متعلق بھارت کی دوسری پیش رفت رپورٹ جاری کی

प्रविष्टि तिथि: 17 JUN 2026 12:24PM by PIB Delhi

غیرقابل کاشت صحرا بننے اور خشک سالی کے انسداد کا عالمی دن ہر سال 17 جون کو صحرا بننے سے نمٹنے سے متعلق اقوامِ متحدہ کے کنوینشن کے معاہدے کے تحت منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد غیرقابل کاشت صحرا بننے، زمین کی زرخیزی میں کمی اور خشک سالی کے مسائل کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنا اور ان کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کو فروغ دینا ہے۔

آج نئی دہلی میں اندرا پریاورن بھون میں غیرقابل کاشت صحرا بننےاور خشک سالی کے انسداد کے عالمی دن 2026 کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کےمرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے کہا کہ بھارت کا طرزِ عمل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پالیسی عزم، سائنسی جدت اور عوامی شمولیت کا امتزاج ماحولیاتی بحالی کو پائیدار ترقی کے حصول کا مؤثر ذریعہ بنا سکتا ہے۔

وزیرموصوف نے اعلان کیا کہ بھارت نے بون چیلنج کے تحت 2030 تک دو کروڑ ساٹھ لاکھ ہیکٹر زمین کی بحالی کے ہدف کے مقابلے میں اب تک دو کروڑ سترہ لاکھ چھیہتر ہزار ہیکٹر زمین کو بحالی کی کوششوں کے دائرے میں شامل کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے غیرقابل کاشت صحرا بننےکے انسداد کے معاہدے کے رکن کی حیثیت سے بھارت مسلسل پائیدار زمینی انتظام کو فروغ دیتا آ رہا ہے۔

جناب یادو نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 2030 تک دو کروڑ ساٹھ لاکھ ہیکٹر زمین کے کٹاؤ اور جنگلات کی کٹائی سے متاثر زمین کی بحالی کے بھارت کے عزم کا اعلان کیا تھا، جو دنیا کے سب سے بڑے بحالی کے وعدوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بحالی کی سرگرمیوں سے تقریباً ایک ارب بائیس کروڑ شخصی دنوں کے برابر روزگار پیدا ہوا ہے۔انہوں نے کہا: ‘‘بحالی کی سرگرمیوں کے ذریعے تقریباً 1.22 ارب شخصی-دن روزگار پیدا ہوا ہے۔’’

بون چیلنج ایک عالمی اقدام ہے جو 2011 میں شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد زمین کے کٹاؤ اور کی کٹائی سے متاثر مناظر کی بحالی ہے، اور اس کے تحت 2030 تک 35 کروڑ ہیکٹر زمین کی بحالی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیر موصوف نے بتایا کہ پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا کے واٹرشیڈ ڈیولپمنٹ جزو کے تحت 2 کروڑ 70 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ زمین پر کام کیا گیا ہے اور 6 کروڑ 13 لاکھ سے زائد جیو ٹیگ شدہ قدرتی وسائل کے انتظام سے متعلق اثاثے تیار کیے گئے ہیں۔

جناب یادو نے کہا کہ گرین انڈیا مشن کے تحت تقریباً 1.7 لاکھ ہیکٹر رقبے پر شجرکاری اور سبزہ زار بڑھانے کی سرگرمیاں انجام دی گئی ہیں، جبکہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کیمپا کی معاونت سے تقریباً 3.20 لاکھ ہیکٹر رقبے پر شجرکاری کی گئی ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ مشترکہ جنگلاتی انتظام تقریباً 8 کروڑ 15 لاکھ 30 ہزار ہیکٹر رقبے پر محیط ہے اور یہ دنیا کے سب سے بڑے کمیونٹی پر مبنی جنگلاتی انتظامی نظاموں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 1 لاکھ 21 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبے کو زرعی جنگلات کے تحت لایا گیا ہے، جبکہ جنگلات کے باہر تقریباً 60 ہزار ہیکٹر رقبے پر بانس کی کاشت کی گئی ہے۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی “ایک پیڑ ماں کے نام” مہم کا حوالہ دیتے ہوئے جناب یادو نے کہا کہ ملک بھر میں اب تک 266 کروڑ سے زائد پودے لگائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بھوون، ویداس اور یُکت دھارا جیسے پلیٹ فارمز کے کردار کو بھی اجاگر کیا جو سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی اور نگرانی کو ممکن بناتے ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ اراؤلی گرین وال اقدام ایک اہم زمینی سطح کا بحالی پروگرام ہے اور اس نے مالی سال26-2025کے دوران اپنے سالانہ اہداف سے بھی بڑھ کر کارکردگی دکھائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مشن “مِشٹی” کے تحت 2028 تک 54 ہزار ہیکٹر مینگرووز کے رقبے کی بحالی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

جناب یادو نے کہا کہ قومی آبی ماحولیاتی نظام تحفظ منصوبے کے تحت مختلف رامسر مقامات سمیت آبی علاقوں کی بحالی اور تحفظ کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں 26 کروڑ سے زائد مٹی صحت کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جو غیرقابل کاشت صحرا کی روک تھام میں اہم کردار ادا کریں گے۔

اس سال کے موضوع “رینج لینڈز: شناخت، احترام، بحالی” پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ چراگاہ کی زمینیں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، مویشی پروری، آبی نظام کے ضابطے، کاربن جذب کرنے اور موسمیاتی لچک میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے خشک علاقے تقریباً 22 کروڑ 80 لاکھ ہیکٹر پر پھیلے ہوئے ہیں اور زرعی سرگرمیوں، مویشی پروری اور دیہی روزگار کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ انڈیا ڈیزرٹیفیکیشن اینڈ لینڈ ڈیگریڈیشن اٹلس کے مطابق 9 کروڑ 78 لاکھ 50 ہزار ہیکٹر زمین یعنی ملک کے 29.77 فیصد حصے پر زمین کی زرخیزی میں کمی اور صحرائی پھیلاؤ کا اثر ہے۔

جناب یادو نے کہا کہ بھارت کی ترجیحات میں زمینی سطح پر بحالی، خشک سالی کے مقابلے کی صلاحیت میں اضافہ، سائنسی نگرانی، عوامی شمولیت، فطرت پر مبنی حل اور بحالی کے لیے جدید مالیاتی طریقہ کار شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بنجر زمین کی بحالی نہ صرف ماحولیاتی نظام کو دوبارہ زندہ کرتی ہے بلکہ روزگار کو مضبوط بناتی ہے، لچک بڑھاتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل یقینی بناتی ہے۔

اس موقع پر جناب یادو نے انڈین فاریسٹر کا خصوصی شمارہ اور بون چیلنج (2011 سے2020) پر بھارت کی دوسری پیش رفت سے متعلق رپورٹ بھی جاری کی۔

یہ خصوصی شمارہ آئندہ یو این سی سی ڈی کوپ-17 اور چراگاہ کی زمینوں اور چرواہوں کے عالمی سال کے تناظر میں تیار کیا گیا ہے۔ اس میں پائیدار زمینی نظم و نسق، ماحولیاتی بحالی اور بنجرزمین کے توازن کے حصول سے متعلق سائنسی بصیرت، پالیسی نقطۂ نظر اور عملی تجربات کو یکجا کیا گیا ہے، جس میں خاص طور پر چراگاہ کی زمینوں اور گھاس کی زمینوں پر توجہ دی گئی ہے۔

بون چیلنج رپورٹ، جو وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی اور انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے، بھارت کی بحالی کے اہداف کی جانب پیش رفت کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس میں مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کی جانے والی بحالی کی کوششوں کو دستاویزی شکل دی گئی ہے، ان کے ماحولیاتی اور سماجی و اقتصادی فوائد کو اجاگر کیا گیا ہے، اور جنگلاتی مناظر کی بحالی، بنجرزمین کے توازن اور ماحولیاتی لچک کے فروغ کے لیے بھارت کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کی گئی ہے۔

اس موقع پر جنگلات کےڈائریکٹر جنرل اور خصوصی سکریٹری(ڈی جی ایف اور ایس ایس) جناب سشیل کمار اوستھی نے بنجرزمین کے مناظر کی بحالی، پائیدار جنگلاتی نظم و نسق کے فروغ اور ماحولیاتی تبدیلی کے مقابلے کے لیے کمیونٹی کی شمولیت کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے سیکریٹری جناب تنمے کمار نے مختلف قومی مشنوں اور پروگراموں کے تحت مربوط کوششوں کے ذریعے ماحولیاتی بحالی اور پائیدار زمینی نظم و نسق کے لیے حکومت کے عزم کو اجاگر کیا۔

یو این ڈی پی کی رہائشی نمائندہ ڈاکٹر اینجلا لوسِگی نے بھارت کی زمینی بحالی کے اقدامات کو سراہا اور قدرتی بنیادوں پر مبنی حل کو فروغ دینے، شراکت داریوں کو مضبوط بنانے اورغیرقابل کاشت صحرا اور خشک سالی کے تدارک کے لیے جامع اقدامات کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا، تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

اس تقریب میں تقریباً 200 شرکاء نے حصہ لیا، جن میں مرکزی و ریاستی حکومتوں کے نمائندے، تحقیقی ادارے، بین الاقوامی تنظیمیں، ترقیاتی شراکت دار، سول سوسائٹی تنظیمیں اور تکنیکی ماہرین شامل تھے۔ تکنیکی نشست میں اقوامِ متحدہ کے صحرائی پھیلاؤ کے انسداد کے فریم ورک کے تحت بھارت کی پیش رفت، بنجرزمین کے توازن کے فروغ کے مواقع اور گھاس کے میدانوں کی بحالی کے تجربات پر پیشکشیں شامل تھیں۔

گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ بنجرزمین کے توازن کے حصول اور بھارت کے بون چیلنج کے توسیع شدہ ہدف تک پہنچنے کے لیے حکومتوں، مقامی برادریوں، تحقیقی اداروں، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مسلسل تعاون ضروری ہے۔

تقریب کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ بحالی کی کوششوں کو تیز کیا جائے گا، پائیدار زمینی نظم و نسق کو مضبوط بنایا جائے گا اور قدرتی بنیادوں پر مبنی حل کو فروغ دے کر غیرقابل کاشت صحرا کے پھیلاؤ کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ ماحولیاتی نظام کی لچک بڑھے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک سرسبز مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔

*****

ش  ح۔ ع ح– ف ر

Uno-8741


(रिलीज़ आईडी: 2273925) आगंतुक पटल : 16
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Tamil