زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
زراعت کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان اور ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندریادو نےپَرالی کوٹھکانے لگانےکے مستقل حل کے لیے اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی
پَرالی کوٹھکانے لگانے کےلئے مرکز کی جامع حکمت عملی:عوامی آگاہی، حقیقی وقت کی نگرانی اور تکنیکی حل پر زور
سال 27-2026 کے لیے 544.15 کروڑ روپے مختص؛ 46 ہزار سے زائد مشینوں کی تقسیم اور پرالی سپلائی چین کے 141 منصوبوں کا ہدف رکھا گیا
این سی آر کے 14 اضلاع کی 70 تحصیلوں میں پرا لی کے تحفظ سے متعلق فورس کی فعال نگرانی کے ذریعے پَرالی جلانے کے واقعات میں مزید کمی پر زور
‘‘ہم پَرالی کو مسئلہ نہیں بلکہ ایک قیمتی ذریعہ بنانے کی سمت میں کام کریں گے’’ :مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان
प्रविष्टि तिथि:
16 JUN 2026 10:39PM by PIB Delhi
زراعت و کسانوں کی فلاح وبہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان، اور ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیرجناب بھوپیندر یادو نے آج نئی دہلی کے کرشی بھون میں پَرالی کو ٹھکانے لگانےاور اس کے مستقل حل کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی بین وزارتی اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔

اجلاس میں فصل کی باقیات کوٹھکانے لگانے (سی آر ایم) اسکیم کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت اور آئندہ دھان کی کٹائی کے موسم میں پَرالی کوٹھکانے لگانے کے مؤثر انتظام کے لیے ریاستوں کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔

مرکزی وزیر زراعت نے کہا کہ پَرالی جلانا نہ صرف ماحول کو آلودہ کرتا ہے بلکہ دھرتی ماں کی صحت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اس عمل سے مفید حشرات ختم ہو جاتے ہیں، زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے اور فضائی آلودگی کے باعث عوامی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان وجوہات کی بنا پر پَرالی جلانے کے عمل کو روکنا انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پَرالی جلانے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے فصل کی باقیات کوٹھکانے لگانے سے متعلق (سی آر ایم) اسکیم کا آغاز 19-2018 میں کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کو مجموعی طور پر 4,266.47 کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔اس مالی امداد کے ذریعے مختلف ریاستوں میں فصل کی باقیات کوٹھکانے لگانے کے لیے 3.54 لاکھ سے زائد مشینیں تقسیم کی گئی ہیں، جبکہ 43,500 سے زیادہ کسٹم ہائرنگ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں تاکہ کسانوں کو جدید زرعی آلات آسانی سے دستیاب ہو سکیں۔
سال 27-2026 کی تیاریوں کے حوالے سے وزیر موصوف نے بتایا کہ سی ا ٓر ایم اسکیم کے تحت 544.15 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے پہلی قسط کے طور پر 272.07 کروڑ روپے پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔
مرکزی وزیر زراعت نے کہاکہ موجودہ مالی سال کےلئےریاستوں کا ہدف ہے کہ آئندہ برسوں میں پرالی کوٹھکانے لگانے کے لیے 46 ہزار سے زائد مشینیں مزید تقسیم کی جائیں اور پَرالی کی مؤثر خرید، جمع کرنے اور استعمال کے لیے 141 سپلائی چین منصوبے تیار کیے جائیں، تاکہ اس مسئلے کا دیرپا اور عملی حل ممکن بنایا جا سکے۔ میٹنگ میں 2026 میں دھان کی کاشت کے دوران اندازا 2.72 کروڑ ٹن پرالی کو ٹھکانے لگانے کےلئے ریاستوں کی جانب سے تیار کردہ عملی منصوبوں کابھی جائزہ لیا گیا۔
جناب چوہان نے کہاکہ مرکزی حکومت ریاستی حکومتو ں، آئی سی اے آر اداروں، زرعی سا ئنسی مراکز، مقامی اداروں اور کسانوں کی مسلسل کاوشوں کی وجہ سے گزشتہ چند برسوں میں پرا لی جلانے کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ۔
دونوں مرکزی وزراء نے پَرالی کودیگرمقاصد کےلئے استعمال کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بایو ماس پاور پلانٹس، کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) یونٹس، ایتھنول پیدا کرنے والے کارخانوں اور پیلٹ سازی کے یونٹس کے ذریعے پَرالی کے استعمال کو وسعت دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات پَرالی کے لیے ایک مستقل منڈی پیدا کر رہے ہیں اور زرعی باقیات کو معاشی وسائل میں تبدیل کر رہے ہیں۔
اجلاس میں پروگرام کے مؤثر نفاذ کے لیے قائم نگرانی اور ادارہ جاتی انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ فصل کی باقیات کوٹھکانے لگانے کے لیے تشکیل دی گئی بین وزارتی کمیٹی باقاعدگی سے جائزہ اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگست 2026 سے قبل مشینوں کی تقسیم کا عمل مکمل کیا جائے، کسٹم ہائرنگ سینٹرز کو مزید مضبوط بنایا جائے، دستیاب مشینری کے بھرپور استعمال کو یقینی بنایا جائے اور وسیع پیمانے پر عوامی آگاہی مہمات چلائی جائیں۔
اجلاس میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ کم مدت میں تیار ہونے والی اور کم پانی استعمال کرنے والی دھان کی اقسام کو فروغ دیا جائے، تاکہ دھان کی کٹائی اور گندم کی بوائی کے درمیان دستیاب وقت میں اضافہ ہو سکے۔
مرکزی وزیر زراعت نے بتایا کہ حکومت پہلے ہی انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) اور ریاستی زرعی اداروں کے ذریعے طویل مدتی دھان کی اقسام کی کاشت کی حوصلہ شکنی اور ان کے متبادل موزوں اقسام کے فروغ کے لیے ضروری اقدامات کر چکی ہے۔
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے دھان کی فصل کی بوائی سے لے کر کٹائی تک مسلسل نگرانی کی ضرورت پر خصوصی زور دیا، تاکہ دھان کی کٹائی اور گندم کی بوائی کے درمیان دستیاب وقت میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ قومی راجدھانی خطے (این سی آر) کے 14 اضلاع کی کم از کم 70 تحصیلوں میں ‘‘اسٹبل پروٹیکشن فورس’’ کو فعال بنایا جائے گا تاکہ سخت نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے، جس سے پَرالی جلانے کے واقعات میں مزید کمی لانے میں مدد ملے گی۔
دونوں مرکزی وزراء نے مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کو ہدایت دی کہ دستیاب پَرالی کے ذخائر اور ان کے استعمال کی صلاحیت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، خصوصاً پیلٹ اور بریکیٹ سازی کے یونٹس، کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) پلانٹس اور تھرمل پاور پلانٹس (ٹی پی پی) میں کو-فائرنگ کے لیے استعمال کے حوالے سے۔
مرکزی وزیر زراعت نے پَرالی کے کامیاب انتظامی ماڈلز اور حوصلہ افزا تجربات کو وسیع پیمانے پر عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے کہ جن کھیتوں میں پَرالی کو جلانے کے بجائے زمین میں شامل کیا گیا، وہاں دھان کی پیداوار میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انہوں نے ریاستوں میں ڈائریکٹ سیڈڈ رائس (ڈی ایس آر) تکنیک کے مؤثر فروغ کی بھی ضرورت پر زور دیا۔
دونوں مرکزی وزراء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مشینی نظام، تکنیکی جدت، پَرالی کے صنعتی استعمال، عوامی آگاہی اور تمام متعلقہ فریقوں کے باہمی تعاون کے ذریعے پَرالی جلانے کے مسئلے کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
جناب چوہان نے کہا کہ مرکزی حکومت کا مقصد ماحول کے تحفظ، زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے اور کسانوں کی آمدنی و پیداوار میں اضافے کے لیے پَرالی کوٹھکانے لگانے کے مستقل اور پائیدار حل کونافذ کرنا ہے۔
اجلاس میں زراعت و کسان بہبود کی وزارت ، ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کی وزارت ، انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
******
ش ح۔ ع ح– ف ر
Uno-8738
(रिलीज़ आईडी: 2273886)
आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English