کارپوریٹ امور کی وزارتت
آئی بی سی کی ایک دہائی مکمل ہونے اور پی جی آئی پی کے چھٹے بیچ کے جلسہ تقسیم اسناد کے موقع پر آئی آئی سی اے کی جانب سے‘ہندوستان کی تشکیل نو کے ماحولیاتی نظام کی از سر نو تعریف ’ کے موضوع پر قومی سمینار کا انعقاد
प्रविष्टि तिथि:
15 JUN 2026 5:02PM by PIB Delhi
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز (آٗئی آئی سے اے)، کارپوریٹ امور کی وزارت کے تحت، حکومت ہند نے، ایسوسی ایشن آف انسولوینسی پروفیشنل اینٹیٹیز (اے آئی پی ای) کے اشتراک سے، ‘‘ہندوستان کی تشکیل نو کے ماحولیاتی نظام کی ازسر نو تعریف: ایک دہائی کی تعلیم’’ کے موضوع پر ک تین مورتی مارگ نئی دہلی میں ایک کامیاب قومی کانفرنس کی میزبانی کی۔ اس تقریب میں پی جی آئی پی کے چھٹے بیچ کی تقریبِ اسناد بھی منعقد ہوئی، جو آئی آئی سی اے کا ایک نمایاں پروگرام ہے اور دیوالیہ پن کے شعبے کے ماہر پیشہ ور افراد کی ٹریننگ کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی، جسٹس اشوک بھوشن، چیئرمین قومی کمپنی قانون اپیلیٹ ٹربیونل، نے تقریبِ اسناد سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ ایک دہائی کے دوران دیوالیہ پن سے متعلق قوانین اور مالی نادہندگی کے شاندار سفر پر روشنی ڈالی۔انہوں نے مشاہدہ کیا کہ دیوالیہ پن سے متعلق قوانین اور مالی نادہندگی اب ابتدائی مرحلے میں نہیں رہا، اور اس سے متعلق بنیادی قانونی سوالات گزشتہ ایک دہائی کے اہم عدالتی فیصلوں کے ذریعے مستند طور پر طے ہو چکے ہیں۔انہوں نے2016سے 2021 تک کے عرصے کو ’’دورِ استحکام‘‘ اور موجودہ مرحلے کو ’’دورِ ارتقا و بہتری‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2026 کے ترمیمی دیوالیہ پن قانون و مالی نادہندگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قانون عملی تجربات اور عدالتی رہنمائی کی روشنی میں مسلسل پختگی اور ترقی کی جانب گامزن ہے۔

جسٹس انوپندر سنگھ گریوال، صدر قومی کمپنی قانون ٹربیونل، نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے دیوالیہ پن سے متعلق قانون و مالی نادہندگی کی عدالتی پیش رفت کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے معزز سپریم کورٹ کے ابتدائی اہم فیصلوں سے لے کر آج زیرِ سماعت کثیر فریقی اور پیچیدہ دیوالیہ پن کے معاملات تک اس قانون کے ارتقا کے سفر پر روشنی ڈالی۔انہوں نے بروقت اور زیادہ سے زیادہ اہمیت کے حامل حل کو یقینی بنانے کے لیے عدالتی اور ادارہ جاتی سطح پر مسلسل باہمی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے سرحد پار دیوالیہ پن سے متعلق اقوامِ متحدہ کے قانون کو اپنانے کی اہمیت بھی اجاگر کی، تاکہ عالمی سطح پر مالی و کارپوریٹ تشکیل نو کے ایک قابلِ اعتماد مرکز کے طور پر ہندوستان کی حیثیت مزید مستحکم کیا جا سکے۔

محترمہ دیپتی گور مکھرجی، سیکریٹری، وزارتِ کارپوریٹ امور، نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے دیوالیہ پن قانون و مالی نادہندگی کو ہندوستان کے مالیاتی اور کارپوریٹ نظام میں ایک ’’عملی انقلاب‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے اس قانون کے انقلابی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ تصفیہ جاتی عمل کے ذریعے تقریباً چار لاکھ کروڑ روپے کی وصولی ممکن ہوئی، جبکہ قرض دہندگان کو کمپنیوں کی متوقع تصفیاتی قدر کے مقابلے میں اوسطاً ا170فیصد وصولی حاصل ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 32 ہزار سے زائد معاملات باضابطہ کارروائی کے آغاز سے قبل ہی طے پا گئے، جس کے نتیجے میں تقریباً 14 لاکھ کروڑ روپے کے قرضے محفوظ رہے۔ ان کے مطابق یہ کامیابیاں اس قانون کے باعث پیدا ہونے والی وسیع اور مثبت رویّاتی تبدیلیوں کا واضح ثبوت ہیں۔انہوں نے دیوالیہ پن و مالی نادہندگی (ترمیمی ) قانون 2026 کاحوالہ دیتے ہوئے اسے ایک تاریخی اور دور رس اصلاح قرار دیا، جو بھارت کے دیوالیہ پن اور مالی تشکیل نو کے نظام کو مزید مضبوط اور مؤثر بنائے گی۔

معزز مہمانانِ گرامی اور شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے، جناب گیانیشور کمار سنگھ، ڈائریکٹر جنرل و چیف ایگزیکٹو آفیسر، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز، نے پوسٹ گریجویٹ انسالوینسی پروگرام کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جو انسٹی ٹیوٹ کے سینٹر فار انسالوینسی اینڈ بینکرپسی کے تحت جناب سُدھاکر شُکلا کی قیادت میں چلایا یا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ دو سالہ مکمل وقتی رہائشی پروگرام، جو انسالوینسی اینڈ بینکرپسی بورڈ آف انڈیا کی جانب سے تیار اور منظور شدہ ہے، فارغ التحصیل افراد کو روایتی 10 سالہ تجربے کی شرط کے بغیر بطور انسالوینسی پروفیشنل رجسٹریشن حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سات بیچ کے دوران اس پروگرام نے 239 پیشہ ور افراد پر مشتمل ایک مضبوط سابق طلبہ نیٹ ورک تشکیل دیا ہے، جن میں سے متعدد اس وقت بطور رجسٹرڈ انسالوینسی پروفیشنل دیوالیہ پن کے مختلف مقدمات پر فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔
دیوالیہ پن و مالی نادہندگی کے قوانین کے ساتھ اپنی وابستگی کا حوالہ دیتے ہوئے، بطور سابق جوائنٹ سیکرٹری (انسالوینسی)، انڈین انسالوینسی اینڈ بینکرپسی بورڈ کے گورننگ بورڈ کے رکن اور انسالوینسی لاء کمیٹی کے ممبر سیکرٹری،جناب سنگھ نے کہا کہ ’’کوئی بھی اصلاح اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے جتنا کہ اسے آگے لے جانے والے افراد ہوتے ہیں‘‘۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہندوستان کے دیوالیہ پن کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مسلسل اصلاحات جاری رہیں گی، جن میں سرحد پار دیوالیہ پن، پری پیکڈ حل اور ڈیجیٹل سہولیات جیسے شعبوں میں پیش رفت شامل ہے، تاکہ وکست بھارت کے وژن کو عملی شکل دی جا سکے۔
تقریب کا ایک اہم پہلو پوسٹ گریجویٹ انسالوینسی پروگرام ( پی جی آئی پی ) کے چھٹے بیچ کا جلسہ تقسیم اسناد تھا، جو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز کا نمایاں پروگرام ہے اور انسالوینسی پروفیشنلز کی تیاری کے لیے مخصوص ہے۔اس موقع پر کل 40 طلبہ کو اسناد اور ڈگریاں معزز مہمانانِ گرامی کے ہاتھوں عطا کی گئیں، جس کے ساتھ انہوں نے اس پروگرام کی کامیابی سے تکمیل کی۔ یہ نیا گروپ ایسے پیشہ ور افراد پر مشتمل ہے جو بھارت کے ترقی پذیر دیوالیہ پن اور کارپوریٹ تنظیمِ نو کے نظام میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ادارے کی جانب سے بہتر تعلیمی معیار کے ضمن میں، انسٹی ٹیوٹ نے فارغ التحصیل بیچ کے نمایاں طلبہ کو اعزاز سے نوازا گیا۔ جناب آشیش کمار نے پہلی پوزیشن حاصل کی اور انہیں 50,000 روپے کا نقد انعام دیا گیا؛ جناب ارون کمار نے دوسری پوزیشن حاصل کی اور انہیں 30,000 روپے کا نقد انعام ملا؛ جبکہ مسز کے جیوتا وشنوی نے تیسری پوزیشن حاصل کی اور انہیں 20,000 روپے کا نقد انعام دیا گیا۔ یہ تمام انعامات اے زیڈ بی اینڈ پارٹنرز کی جانب سے تعلیمی کارکردگی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے اعتراف میں اسپانسر کیے گئے تھے۔ ان طلبہ کو ان کی شاندار تعلیمی کارکردگی، لگن اور پورے پروگرام کے دوران پیشہ ورانہ مہارت کے لیے خصوصی طور پر سراہا گیا۔

آئی بی سی کی پہلی دہائی میں ترقی اور قانونی ارتقا و اثرات کی دستاویز بندی پر قومی کانفرنس کی یادگاری اشاعت کا باقاعدہ اجرا کیا گیا۔ پی جی آئی پی طلبہ کے لیے پی ایم ودیا لکشمی میرٹ اورمِینز اسکالرشپ کا اعلان کیا گیا، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مالی وسائل نہیں بلکہ صلاحیت کی بنیاد پر اعلیٰ معیار کی دیوالیہ پن کے موضوع پر بہتر تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔ ون نیشن ون سبسکرپشن (او این او ایس) پلیٹ فارم کو بھی آئی آئی سی اے تک توسیع دی گئی، جس کے ذریعے فیکلٹی، محققین اور طلبہ کو عالمی سطح کے علمی جرائد، قانونی ڈیٹا بیس اور علمی وسائل تک بلا رکاوٹ رسائی حاصل ہو رہی ہے۔
یہ تمام اقدامات آئی آئی سی اے کو دیوالیہ پن و مالی نادہندگی، کارپوریٹ گورننس، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر)، مالیاتی نظم و نسق، بزنس اینڈ ہیومن رائٹس (بی ایچ آر)، ماحولیات، سماجی و حکمرانی (ای ایس جی) اور کارپوریٹ امور کے دیگر شعبوں میں تحقیق، استعداد سازی اور علم کے فروغ کے ایک اہم قومی ادارے کے طور پر مزید مضبوط بناتے ہیں۔
تقریبِ اسناد کے بعد قومی کانفرنس میں ہندوستان اور بیرونِ ملک کے ممتاز ماہرین، پالیسی سازوں، ریگولیٹری حکام، عدالتی نمائندوں، دیوالیہ پن کے ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور صنعت کے رہنماؤں کی شرکت کے ساتھ متعدد دلچسپ تکنیکی سیشنز اور پینل مباحثے منعقد کیے گئے۔ یہ کانفرنس ہائبرڈ طرز پر منعقد ہوئی جس میں ذاتی طور پر اور ورچوئل دونوں طریقوں سے نمائندوں نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا، جس سے دیوالیہ پن اور تشکیل نو کے نظام میں وسیع تر روابط اور معلومات کے تبادلے کو فروغ ملا۔

پہلے پینل نے سرحد پار دیوالیہ پن سے متعلق اقوامِ متحدہ کے مثالی قانون کو اپنانے کے حوالے سے ہندوستان کی تیاری کا جائزہ لیا۔ مباحثے میں شناخت اور راحت کے نظام، مختلف دائرۂ اختیار کے درمیان باہمی تعاون، عدالتی تیاری اور ریگولیٹری سطح پر درکار اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی تاکہ ہندوستان کو بین الاقوامی دیوالیہ پن کے معاملات میں ایک قابلِ اعتماد شریک بنایا جا سکے۔
ماہرین نے رائے دی کہ دیوالیہ پن و مالی نادہندگان ترمیمی قانون 2026 کے تحت متعارف کرائی گئی معاون دفعات ایک جدید سرحد پار دیوالیہ پن کے نظام کے قیام کی جانب اہم قدم ہیں، جو عالمی بہترین طریقۂ کار کے مطابق ہے۔
دوسرے پینل نے حال ہی میں متعارف کرائے گئے قرض دہندہ کے ذریعے شروع کیے جانے والے انسالوینسی حل کے عمل (سی آئی آئی آر پی) اور غیر فعال اثاثوں کے تیز رفتار اور مؤثر حل میں اس کے کردار پر غور کیا۔ مباحثے میں پری پیکڈ انسالوینسی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے درکار اصلاحات کا بھی جائزہ لیا گیا اور تنازعات میں کمی، قدر کے تحفظ اور فریقین کے بہتر نتائج کے لیے ثالثی، پنچایت اور دیگر متبادل تنازع حل (اے ڈی آر) نظاموں کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی بات کی گئی۔
تیسرے پینل نے ہندوستان کی بحران زدہ اثاثہ جاتی منڈی کے ارتقاء اور اثاثہ بحالی کمپنیوں (اے آر سیز)، متبادل سرمایہ کاری فنڈز (اے آئی ایفز) اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے کردار پر توجہ مرکوز کی، جو کاروباری بحالی اور قدر کی تخلیق میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ شرکاء نے ریگولیٹری اور مارکیٹ اصلاحات پر تبادلۂ خیال کیا جو بحران زدہ اثاثوں کی ثانوی منڈی کو مضبوط بنانے اور راحت فراہم کرنے کے لئے فنڈ کے قیام کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہیں۔ مباحثے میں یہ ابھرتے ہوئے شواہد بھی اجاگر کیے گئے کہ دیوالیہ پن کے قوانین نے ادارہ جاتی اہمیت اور کاروباری ترقی میں معاونت کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔

آخری پینل نے مستقبل پر مبنی اصلاحات کا جائزہ لیا، جن میں ابتدائی الرٹ کا نظام، مالی صحت کی نگرانی کے آلات اور بڑے کاروباری اداروں کے لیے حل فراہم کرنے کے فریم ورک کی تیاری شامل تھی۔ماہرین نے ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی انقلابی صلاحیت پر بھی گفتگو کی، جو ہندوستان کے دیوالیہ پن کے نظام میں شفافیت، کارکردگی اور بروقت کارروائی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

کانفرنس کا اختتامجناب سدھاکر شکلا، سابق فل ٹائم ممبر، انڈین انسالوینسی اینڈ بینکرپسی بورڈ اور سربراہ، سینٹر فار انسالوینسی اینڈ بینکرپسی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز کے اظہار تشکر پر ہوا، جنہوں نے معزز مقررین، پینلسٹس، مندوبین، شراکت داروں اور شرکاء کا ان کی قیمتی خدمات اور بھرپور شرکت پر شکریہ ادا کیا۔

کانفرنس نے تمام متعلقہ فریقین کے اس مشترکہ عزم کی توثیق کی کہ وہ ہندوستان کے دیوالیہ پن اور تشکیل نو کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کریں گے اور اصلاحات کے اگلے مرحلے کے لیے ایک مستقبل پر مبنی حکمت عملی وضع کریں گے۔
************
ش ح۔ع و
(U: 8674)
(रिलीज़ आईडी: 2273442)
आगंतुक पटल : 4