بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
آسام پیٹرو کیمیکلز (اے پی ایل) نے دین دیال بندرگاہ اتھارٹی (ڈی پی اے) کے ساتھ کانڈلا بندرگاہ پر 150 ٹی پی ڈی (ٹن یومیہ) صلاحیت کے ای-میتھانول پلانٹ کے قیام کے لیے مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے
کانڈلا میں اے پی ایل کا ای-میتھانول منصوبہ، بھارت کے سمندری شعبے میں کاربن کے اخراج میں کمی کے قومی روڈ میپ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے: مرکزی وزیر سربانند سونووال
کانڈلا میں اے پی ایل کا ای-میتھانول پروجیکٹ، سنگاپور-روٹرڈیم تجارتی راہداری پر ماحول دوست بحری نقل و حمل کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا:سربانند سونووال
اس ای-میتھانول منصوبے کے تحت 1,200 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جس سے 3,500 سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے
प्रविष्टि तिथि:
29 JAN 2026 8:08PM by PIB Delhi
آسام پیٹرو کیمیکلز لمیٹڈ (اے پی ایل) نے گجرات کی کانڈلا بندرگاہ پر 150 ٹن یومیہ (ٹی پی ڈی) صلاحیت کے ای-میتھانول پلانٹ کے قیام کے لیےدین دیال پورٹ اتھارٹی (ڈی پی اے) کے ساتھ ایک مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں، جو بھارت کی صاف توانائی اور سبز ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس مفاہمت نامے پر آج آسام کے شہر ڈبرو گڑھ میں واقع وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہمنتا بسوا سرما ، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کےمرکزی وزیر سربانند سونووال اور دیگر معزز شخصیات کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔
اس منصوبے پر 1,200 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جس کے نتیجے میں تقریباً 3,500 براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ مرکزی وزیر نے اس دور اندیش منصوبے کے لیے ڈی پی اے، کانڈلا بندرگاہ اور اے پی ایل کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ مفاہمت نامہ،اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت ماحولیاتی ذمہ داریوں پر سمجھوتہ کیے بغیر اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔
معاہدے کے مطابق، دین دیال پورٹ اتھارٹی بندرگاہ پر پائپ لائن کنیکٹویٹی، ذخیرہ اندوزی اور ایندھن کی ترسیل و ہینڈلنگ سے متعلق بنیادی ڈھانچہ فراہم کرے گی، جبکہ آسام پیٹرو کیمیکلز لمیٹڈ بندرگاہی حدود میں سبز میتھانول کی پیداواری تنصیب قائم کرے گی، جس سے گرین میری ٹائم فیول کے لیے ایک مربوط ویلیو چین تشکیل پائے گی۔
ای-میتھانول یا الیکٹرو میتھانول قابلِ تجدید بجلی سے تیار کردہ گرین ہائیڈروجن اور حاصل شدہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔ اسے جہاز رانی، بھاری صنعتوں اور کیمیائی مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں کے لیے متبادل ایندھن کی ایک مؤثر ترین شکل سمجھا جاتا ہے، جہاں براہِ راست برقی کاری اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
مرکزی وزیرسربانند سونووال نے کہا کہ یہ شراکت داری صاف توانائی، ماحول دوست نقل و حمل اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے بھارت کے طویل مدتی وژن کے مطابق ایک اہم قومی حکمتِ عملی کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ مفاہمت نامہ، محض ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ صاف توانائی، گرین شپنگ اور پائیدار ترقی کے لیے بھارت کے مستقبل کے عزم کی علامت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ بھارت کے سمندری شعبے میں کاربن کے اخراج میں کمی کے قومی روڈ میپ کا ایک اہم حصہ ہے، جو ملک کو وزیر اعظم نریندر مودی کے 2070 تک خالص صفر کاربن اخراج کے ہدف کے حصول کی جانب تیزی سے آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔
منصوبہ مکمل ہونے کے بعد توقع ہے کہ کانڈلا بندرگاہ بین الاقوامی سمندری تجارتی راستوں پر گرین فیول سپلائی ہب کے طور پر ابھرے گی، جس میں سنگاپور–روٹرڈیم تجارتی راہداری پر چلنے والے جہاز بھی شامل ہیں۔ وزیرموصوف نے کہا کہ بندرگاہ پر ہی ایندھن کی پیداوار سے متعدد فوائد حاصل ہوں گے، جن میں لاجسٹکس کے اخراجات میں کمی، جہاز رانی کی ضروریات کے ساتھ مؤثر ہم آہنگی اور گرین بنکرنگ انفراسٹرکچر کی ترقی شامل ہے۔
مرکزی وزیر سربانند سونووال نے کہا کہ ای-میتھانول بحری ایندھن کے طور پر بین الاقوامی اخراج کے ضوابط پر پورا اترتا ہے اور طویل فاصلے کی صاف اور ماحول دوست بحری نقل و حمل کو ممکن بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای-میتھانول کو فروغ دے کر بھارت نہ صرف اس کا صارف بن رہا ہے بلکہ گرین میری ٹائم فیول کے ایک اہم پیدا کنندہ اور فراہم کنندہ کے طور پر بھی اپنی حیثیت مضبوط کر رہا ہے۔ سونووال نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ کانڈلا بندرگاہ کو عالمی پائیداری کے معیارات سے ہم آہنگ مستقبل کی ضروریات سے لیس ایک ماحول دوست بندرگاہ کے طور پر مستحکم کرے گا۔
کاربن کے اخراج میں کمی کی کوششوں کے تحت کانڈلا بندرگاہ کو ایک گرین بنکرنگ ہب کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے، جہاں بین الاقوامی تجارتی راستوں پر چلنے والے جہازوں کو کم کاربن اور صفر کاربن والے ایندھن کی فراہمی ممکن ہوگی۔ بھارت کے مغربی ساحل پر واقع ریاست گجرات کی کانڈلا بندرگاہ ان بندرگاہوں میں شامل ہے جنہیں قومی گرین ہائیڈروجن مشن کے تحت گرین ہائیڈروجن ہب کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس مشن کا مقصد آئندہ پانچ سے چھ برسوں میں تقریباً پچاس لاکھ (5 ملین) ٹن گرین ہائیڈروجن کی پیداوار اور برآمد ہے۔ یہ اقدام وزیر اعظم نریندر مودی کے 2070 تک خالص صفر کاربن اخراج کے ہدف کے حصول کے لیے بھارت کے عزم کو بھی تقویت دیتا ہے۔
سربانند سونووال نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی متحرک قیادت میں بھارت کا توانائی کا مستقبل گرین ہائیڈروجن، گرین میتھانول، گرین امونیا اور حیاتیاتی توانائی جیسے ماحول دوست ایندھن پر مبنی ہوگا، جو آنے والی دہائیوں میں ملک کی صنعتوں، نقل و حمل کے نظام اور سمندری شعبے کو توانائی فراہم کریں گے۔
منصوبہ فعال ہونے کے بعد توقع ہے کہ یہ پلانٹ کانڈلا بندرگاہ کی جانب مزید بڑے اور گہرے سمندر میں چلنے والے جہازوں کو راغب کرے گا، مال برداری میں اضافہ ہوگا اور اندرونی علاقوں سمیت پورے ملک میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ سونووال نے میتھانول کی پیداوار کے شعبے میں کئی دہائیوں کے تجربے کی حامل بھارت کی ممتاز کمپنی آسام پیٹرو کیمیکلز لمیٹڈ (اے پی ایل) کے کردار کو بھی سراہا۔
سربانند سونووال نے کہا کہ یہ اشتراک بھارت کی صاف توانائی کی مہم میں آسام کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ شمال مشرقی خطہ قومی ویلیو چین کا ایک مؤثر اور ناگزیر شراکت دار بنتا جا رہا ہے۔ اس سے بھارت کی توانائی کی منتقلی میں آسام کا کردار مزید مضبوط ہوگا، میتھانول معیشت کے فروغ میں مدد ملے گی اور درآمدی حیاتیاتی ایندھن پر انحصار کم ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعاون حکومت کے آتم نربھر بھارت، میک اِن انڈیا اور میک فار دی ورلڈ جیسے قومی اہداف کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ بھارت کو سمندری شعبے میں کاربن کے اخراج میں کمی کے عالمی رہنما کے طور پر بھی مستحکم کرے گا۔
آسام میں واقع آسام پیٹرو کیمیکلز لمیٹڈ (اے پی ایل) کا نامروپ پلانٹ ملک میں میتھانول کی پیداوار کی سب سے بڑی تنصیبات میں شمار ہوتا ہے، اور کمپنی نے حال ہی میں اپنی پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ کیا ہے۔ دین دیال پورٹ اتھارٹی (ڈی پی اے) اور کانڈلا بندرگاہ کے ساتھ یہ شراکت داری کمپنی کو روایتی میتھانول کی پیداوار سے آگے بڑھتے ہوئے گرین میتھانول اور ای-میتھانول کی تیاری کی جانب اپنی ویلیو چین کو وسعت دینے میں مدد دے گی۔
اس موقع پر آسام حکومت میں صنعت و تجارت ، سرکاری شعبے کے ادارے اور ثقافتی امورکے محکمے کے کے وزیر بمل بورا ، بجلی، ہنر مندی، روزگار، صنعت کاری اور طبی تعلیم کے وزیر پرشانت پھوکن ، راجیہ سبھا کے رکن رامیشور تیلی اور سابق مرکزی وزیر مملکت و نہرکٹیا کے رکن اسمبلی ترنگا گوگوئی بھی موجود تھے۔اس مفاہمت نامے پر آسام پیٹرو کیمیکلز لمیٹڈ (اے پی ایل) کے چیئرمین بکول ڈیکا اور دین دیال پورٹ اتھارٹی (ڈی پی اے) کے چیئرمین سشیل کمار سنگھ نے دستخط کیے، جبکہ عوامی فلاح و بہبود کی وزارت کے ڈائریکٹر مندیپ سنگھ رندھاوا بھی اس تقریب میں شریک تھے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن کے مطابق، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت (ایم او پی ایس ڈبلیو) نے متعدد اہم اقدامات کا آغاز کیا ہے، جن میں ‘‘ہرت ساگر – گرین پورٹ’’ رہنما خطوط ، بندرگاہوں پر قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینا، متبادل بحری ایندھن کی حوصلہ افزائی کرنا اور بندرگاہوں کو توانائی و صنعتی مراکز کے طور پر ترقی دینا شامل ہے۔بھارت کی معیشت میں جہاز رانی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ حجم کے اعتبار سے بھارت کی تقریباً 90 فیصد تجارت بندرگاہوں کے ذریعے انجام پاتی ہے، اس لیے قومی موسمیاتی اہداف کے حصول کے لیے بندرگاہوں اور جہاز رانی کے شعبے سے ہونے والے کاربن کے اخراج میں کمی ناگزیر ہے۔




*****
) ش ح ۔ع ح۔ص ج)
U.No. 8322
(रिलीज़ आईडी: 2272019)
आगंतुक पटल : 11