ادویات سازی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

 بایوفارماسیوٹیکلز جدید طبی نظام کے مستقبل کی تشکیل کر رہے ہیں، ہندوستان عالمی قائد کے طور پر ابھرنے کے لیے موزوں مقام پر ہے: انوپریہ پٹیل


بایوفارما شکتی منصوبے کے تحت 2047 تک 100 بایولوجکس متعارف کرانے کا ہدف: مرکزی وزیر مملکت برائے کیمیکلز و فرٹیلائزرز

صنعتی شعبے سے بایولوجکس اور بایوسملرز کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی اپیل

प्रविष्टि तिथि: 11 JUN 2026 7:21PM by PIB Delhi

 

 

 بایوفارماسیوٹیکلز جدید طبی نظام کے مستقبل کی تشکیل کر رہے ہیں اور ہندوستان اس انقلابی شعبے میں عالمی قائد کے طور پر ابھرنے کے لیے موزوں مقام پر ہے۔ حکومت ہند اختراع، مینوفیکچرنگ، کلینیکل تحقیق اور ضابطہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ ہندوستان کو عالمی سطح پر ایک نمایاں بایوفارماسیوٹیکل مرکز بنایا جا سکے۔ یہ بات مرکزی وزیر مملکت برائے کیمیکلز و فرٹیلائزرز انوپریہ پٹیل نے کہی۔

انہوں نے آج نئی دہلی میں ایسوچیم کے زیر اہتمام منعقدہ دوسرے فارما سمٹ اینڈ ایوارڈز 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بایوفارما شکتی اقدام کے تحت سال 2047 تک 100 بایولوجکس متعارف کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو براہ راست وکست ہندوستان اور سواستھ ہندوستان کے مقاصد کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔

وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت نے دواسازی کی پوری ویلیو چین میں مالی معاونت اور پالیسی سازی کے مضبوط راستے فراہم کیے ہیں، جس سے اس شعبے میں تحقیق، ترقی اور سرمایہ کاری کو فروغ مل رہا ہے۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ 2031 تک بایولوجکس کے نسخے پر دی جانے والی ادویات میں تقریباً 40 فیصد حصہ حاصل کرنے کی توقع ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے زور دیا کہ ہندوستان کو کم لاگت والی جنرک ادویات کے شعبے میں اپنی مضبوط عالمی قیادت کو برقرار رکھتے ہوئے اگلے سلسلے کی بایولوجکس کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنا ہوگا۔

 مرکزی وزیر مملکت انوپریہ پٹیل نے مزید کہا کہ جدید علاجی طریقوں (ایڈوانسڈ تھیراپیز) کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور پی آر آئی پی اسکیم اور نیشنل بایوفارما مشن جیسے اقدامات اختراع، تحقیق اور مینوفیکچرنگ کے لیے ایک مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی اور مینوفیکچرنگ سے متعلق اختراعات کو بایوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل (بی آئی آر اے سی) کی مختلف اسکیموں، جیسے بایوٹیک اگنیشن گرانٹ (بی آئی جی)، ایس بی آئی آر آئی اور بی آئی پی پی کے ذریعے فروغ دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ پروگرام اختراع کو مضبوط تحریک فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے صنعتی شعبے سے اپیل کی کہ وہ باہمی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے ہندوستان کو نئی اور اختراعی حیاتیاتی ادویات کے عالمی نقشے پر نمایاں مقام دلانے میں کردار ادا کرے، جبکہ چھوٹے مالیکیولز پر مبنی ادویات اور کم لاگت علاج کے شعبے میں ملک کی موجودہ قیادت کو مزید مستحکم بنایا جائے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزارت کیمیکلز و فرٹیلائزرز کے تحت محکمہ دواسازی کے سکریٹری منوج جوشی نے اختراع کو فروغ دینے، ادویات کی دریافت کے عمل کو تیز کرنے، ابھرتی ہوئی بایوفارما صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور سپلائی چین کو مزید مضبوط و مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

بایوفارماسیوٹیکل شعبے کی انقلابی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بایوفارما شکتی اقدام کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جس کا مقصد ہندوستان کو اعلیٰ قدر والی بایولوجکس اور بایوسملرز کی تیاری اور ترقی کے لیے ایک عالمی مرکز کے طور پر قائم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام تحقیق اور اختراع کو مضبوط بنائے گا، کلینیکل ریسرچ کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دے گا، ہنرمند افرادی قوت تیار کرے گا اور عالمی بایوفارماسیوٹیکل ویلیو چین میں ہندوستان کی مسابقتی صلاحیت کو مزید بڑھائے گا۔

مرکزی وزیر مملکت انوپریہ پٹیل نے فارما سمٹ کے دوران دواسازی کے شعبے میں نمایاں خدمات اور غیر معمولی کامیابیوں کے اعتراف میں مختلف شخصیات اور اداروں کو فارما ایکسیلینس ایوارڈز بھی پیش کیے۔ ان ایوارڈز کے ذریعے دواسازی کی صنعت میں اختراع، تحقیق، مینوفیکچرنگ اور دیگر شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

 

***

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

U :8303


(रिलीज़ आईडी: 2271874) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी