ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: مشاہداتی نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن
प्रविष्टि तिथि:
29 JAN 2026 5:10PM by PIB Delhi
ڈوپلر ویدر ریڈار کوریج میں توسیع
فی الحال ، 47 ڈوپلر ویدر ریڈار یعنی موسمیاتی ریڈار (ڈی ڈبلیو آر) پورے ہندوستان میں کام کر رہے ہیں ، جن میں ملک کے کل رقبے کا 87فیصد حصہ ریڈار کوریج کے تحت آتا ہے ۔ مزید برآں ، ارضیاتی سائنس کی وزارت (ایم او ای ایس) نے ہندوستان کو "موسم کے لیے تیار اور آب و ہوا کے لحاظ سے ہوشیار" ملک بنانے کے مقصد کے ساتھ اسکیم "مشن موسم" کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد آب و ہوا کی تبدیلی اور انتہائی موسمی واقعات کے اثرات کو کم کرنا ہے ۔
مشاہداتی نیٹ ورک میں اپ گریڈیشن
2014-2025 کی مدت کے دوران آئی ایم ڈی آبزرویشن نیٹ ورک یعنی بھارتی محکمہ موسمیات مشاہداتی نیٹ ورک میں کی گئی اپ گریڈ 2014 کے آخر اور 2025 کے آخر تک کی گئی اپگریڈیشن کی تفصیلات آبزرویشن نیٹ ورک میں موازنہ کے ذریعے ضمیمہ-1 میں پیش کی گئی ہے ۔ اس سے واضح طور پر گزشتہ دہائی کے دوران ملک میں موسم کے مشاہدے کے نیٹ ورک میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے۔
موبائل پر مبنی الرٹ سسٹم کا استعمال
ہندوستان کا محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) انتباہات کی تشہیر اور مواصلات کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی – قدرتی آفات کے بندوبست سے متعلق قومی اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور سینٹر آف ڈیولپمنٹ آف ٹیلی میٹکس (سی-ڈاٹ) کے ساتھ مل کر ضروری اقدامات اور کارروائی پر عمل پیرا ہے ۔ معیاری رہنما خطوط (ایس او پی) کے مطابق ہندوستان کا محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی )شدید موسمی واقعات جیسے شدید بارش ، بجلی گرنے ، گرج چمک ، دھول کے طوفان وغیرہ کے لیے ایس اے سی ایچ ای ٹی پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے کامن الرٹنگ پروٹوکول (سی اے پی) الرٹ تیار کر رہا ہے ۔ یہ انتباہات اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی- قدرتی آفات کے بندوبست سے متعلق ریاستی اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) کے ذریعے جیو ٹارگٹڈ صارفین کو ایس ایم ایس کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں ۔ ان الرٹس کو ایس اے سی ایچ ای ٹی ویب سائٹ اور ایس اے سی ایچ ای ٹی موبائل ایپ کے ذریعے بھی پھیلایا جاتا ہے ۔ آئی ایم ڈی کے سی اے پی فیڈز کو گلوبل ملٹی ہیزرڈ الرٹ سسٹم (جی ایم اے ایس) گوگل ، ایکیو ویدر اور ایپل تک بھی پہنچایا جاتا ہے ۔
آفات سے نمٹنے کی تیاری اور ردعمل میں بہتری
ان نظاموں نے آفات سے نمٹنے کی تیاری اور ردعمل کو بہتر بنایا ہے ۔ تشہیر میں اس طرح کی بہتری کی وجہ سے اگست 2021 سے اب تک کل 9342 کروڑ ایس ایم ایس بھیجے گئے ہیں اور حالیہ طوفان "مون تھا" کے دوران لوگوں کو کل 77.64 کروڑ ایس ایم ایس بھیجے گئے ہیں ۔
ان تمام بہتریوں کے نتیجے میں شدید موسمی حالات کی پیش گوئی کی درستگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اموات کی تعداد میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ مثال کے طور پر، سائیکلونز (طوفانوں) کی وجہ سے 1999 کے اڈیشہ سپر سائیکلون میں تقریباً 7000 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ حالیہ برسوں میں پورے خطے میں ٹراپیکل طوفانوں کے اثرات کے باعث یہ تعداد کم ہو کر 100 سے بھی کم رہ گئی ہے۔
ایک سائیکلون کی درست پیش گوئی تقریباً 1100 کروڑ روپے کی بچت کر سکتی ہے، جس میں مرنے والوں کے لواحقین کو دی جانے والی امداد کی ادائیگی، انخلا کے لیے اخراجات، اور مختلف شعبوں جیسے بجلی، بحری، ہوا بازی، ریلوے وغیرہ میں ہونے والی بچت شامل ہیں۔اسی طرح، حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہر سے ہونے والے جانی نقصانات میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
2014 کے اختتام کے مقابلے میں 2025 کے اختتام تک بھارتی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے موسمیاتی مشاہداتی نیٹ ورک کی صورتحال کا موازنہ:
|
Parameter/System
|
As on end of 2014
|
As on end of 2025
|
|
Automatic Weather Station network
|
675
|
1008
|
|
Doppler Weather Radar
|
15
|
47
|
|
Rain Gauge Stations
|
3500
|
6726
|
|
Runway Visual Range Systems
|
20
|
186 (49 Drishti+137 FSM RVR)
|
|
Current Weather Instrument Systems at RWY
|
In 29 Airports
|
In 93 Airports (137 CWISs)
|
|
Pressure measuring
|
Mercury Barometers
|
Digital Barometers
|
|
Upper air observations
|
43 RS/RW Stations
62 Pilot Balloon Stations
|
56 RS/RW Stations.
62 Pilot Balloon stations
|
|
High Wind Speed Recorders
|
19
|
36 (Goa station decommissioned)
|
|
Lightning Location Network
|
None
|
104 locations
|
یہ معلومات ارضیاتی سائنس اور سائنس و ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں ۔
***
(ش ح۔ م م ع۔ت ا)
UR-8279
(रिलीज़ आईडी: 2271642)
आगंतुक पटल : 3