قانون اور انصاف کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

تنازعات کے متبادل حل کے نظام کے ذریعے نمٹائے گئے مقدمات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 JAN 2026 8:37PM by PIB Delhi

تنازعات کے متبادل تصفیہ(اے ڈی آر) کا حصہ ہونے کے ناطےدفعہ12اے کے تحت قبل از ادارہ جاتی ثالثی اور تصفیہ (پی آئی ایم ایس) کے نظام میں اگر مقررہ مالیت کے کسی تجارتی تنازع میں کسی فوری عبوری راحت کی ضرورت نہ ہو، تو فریقین کے لیے عدالت سے رجوع کرنے سے قبل پی آئی ایم ایس کی لازمی کارروائی مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کا مقصد فریقین کو ثالثی کے ذریعے تجارتی تنازعات کو باہمی رضامندی سے حل کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

سال 2018 میں کمرشیل کورٹ ایکٹ، 2015 میں کی گئی ترمیم کے بعد سے ادارہ جاتی کارروائی سے قبل ثالثی کے ذریعے نمٹائے گئے تجارتی تنازعات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

مدت

ثالثی کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد:

جن درخواستوں میں ثالثی کا عمل شروع ہی نہ ہو سکا، ان کی تعداد:

جن درخواستوں میں فریقین تصفیے تک پہنچے، ان کی تعداد:

جولائی، 2018سے مارچ 2019

3680

1660

25

2019-20

18080

14470

167

2020-21

18364

14014

186

2021-22

32335

28441

368

2022-23

46412

41898

1449

2023-24

51019

47185

1139

2024-25

59568

52730

877

2025-26 (ستمبر25 تک)

47218

30353

643

.vچونکہ تنازعہ کے متبادل تصفیہ (اے ڈی آر) کا نظام فریقین کی خودمختاری پر مبنی ہے، اس لیے فریقین تنازعات کے حل کے لیے عارضی (ایڈہاک) ثالثی اور مختلف ثالثی اداروں سے رجوع کرتے ہیں، جن سے متعلق کوئی باضابطہ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

قانونی خدمات اتھارٹی ایکٹ، 1987 کی دفعات اور قومی قانونی خدمات اتھارٹی (لوک عدالت) ضوابط، 2009 کے تحت ملک بھر میں لوک عدالتیں منعقد کی جاتی ہیں۔ یہ لوک عدالتیں مذکورہ ایکٹ اور ضوابط میں مقررہ معاملات کے لیے نیز اس ایکٹ کی دفعہ 2(اے اے اے( میں متعین عدالتوں اور ٹریبونلز میں قائم کی جاتی ہیں۔ ان لوک عدالتوں میں عدالتوں میں زیرالتوا مقدمات یا مقدمہ دائر ہونے سے قبل کے تنازعات (یعنی پری لٹیگیشن معاملات) کو باہمی رضامندی اور خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔لیگل سروس اتھارٹی ایکٹ، 1987 کے تحت لوک عدالت کو انصاف کی فوری، کم خرچ اور مؤثر فراہمی کے نظام کے طور پر قانونی حیثیت دی گئی ہے۔ اس ایکٹ کی دفعہ 21 کے مطابق، لوک عدالت کا فیصلہ دیوانی عدالت کے حکم کے مساوی سمجھا جاتا ہے اور یہ تنازعہ کے تمام فریقین پر حتمی اور لازمی طور پر نافذ العمل ہوتا ہے۔ لوک عدالت کے فیصلے کے خلاف کسی بھی عدالت میں اپیل نہیں کی جا سکتی۔

نیشنل لیگل سروس اتھارٹی کے پاس صرف ان مقدمات اور تنازعات کا ریکارڈ موجود ہوتا ہے ،جن کا تصفیہ یا حل لوک عدالتوں کے ذریعے کیا گیا ہو۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران لوک عدالتوں کے ذریعے مقدمہ دائر ہونے سے قبل (پری لٹیگیشن) کے معاملات اور عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے تصفیہ؍نپٹارے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

(i) قومی لوک عدالتوں میں مقدمات کے نپٹارے کی تفصیلات

سال

مقدمہ دائر ہونے سے قبل کی صورتحال(یعنی پری لٹیگیشن)

زیر التوا مقدمات

کل

2021

72,06,294

55,81,743

1,27,88,037

2022

3,10,15,215

1,09,10,795

4,19,26,010

2023

7,10,32,980

1,43,09,237

8,53,42,217

2024

8,70,19,059

1,75,07,060

10,45,26,119

2025

12,65,89,535

2,18,35,515

14,84,25,050

 

(ii) ریاستی لوک عدالتوں میں مقدمات کا تصفیہ

سال

مقدمہ دائر ہونے سے قبل کی صورتحال(یعنی پری لٹیگیشن)

زیر التواء مقدمات

کل

22-2021

1,14,278

4,18,251

5,32,529

2022-23

94,939

7,56,370

8,51,309

2023-24

2,19,230

9,87,873

12,07,103

2024-25

8,05,731

5,39,083

13,44,814

2025-26  ( نومبر 25 تک)

3,47,069

2,42,617

5,89,686

 

(iii) مستقل لوک عدالتیں (عوامی مفادات کے خدمات)

سال

پی ایل ایز میں حل کیے گئے مقدمات کی تفصیلات

 

22-2021

1,18,136

2022-23

1,71,138

2023-24

2,32,763

2024-25

2,37,980

2025-26 (نومبر 25 تک)

1,68,808

ثالثی اور مفاہمت سے متعلق ایکٹ، 1996 کے حصہ I اے میںدیگر امور کے ساتھ ہندوستانی ثالثی کونسل (Arbitration Council of India) کے قیام کی بھی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ تاہمہندوستانی  ثالثی کونسل کا قیام ابھی تک عمل میں نہیں آیا ہے۔

یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں قانون و انصاف کی وزارت کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)اور پارلیمانی امور کی وزارت کے وزیر مملکت جناب ارجن رام میگھوال نے فراہم کیں۔

 

***

) ش ح –   م ع ن-  ش ہ ب )

U.No. 8272


(ریلیز آئی ڈی: 2271586) وزیٹر کاؤنٹر : 24
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी