جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جل جیون مشن 2.0 کے تحت منی پور اور بہار کے ساتھ اصلاحات سے منسلک ایم او یو پر دستخط کیے گئے


مرکز-ریاست شراکت داری ایک جوابدہ اور کمیونٹی کے ذریعے تقویت یافتہ آبی حکمرانی کے لیے ایک پائیدار دیہی آبی فراہمی کے لیے اصلاحات کو آگے بڑھاتی ہے

प्रविष्टि तिथि: 10 JUN 2026 6:09PM by PIB Delhi

پورے بھارت میں دیہی پینے کے پانی کی پائیدار، یقینی اور شہری مرکوز سپلائی کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر آج جل جیون مشن (جے جے ایم) 2.0 کے تحت دو ریاستوں (منی پور اور بہار) کے ساتھ اصلاحات سے منسلک مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔

اصلاحات سے منسلک اس ایم او یو کے تحت گرام پنچایت کی قیادت میں، خدمات پر مبنی اور کمیونٹی مرکوز دیہی آبی حکمرانی کے ماڈل کو نافذ کیا جائے گا، جو جل جیون مشن 2.0 کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر دیہی گھرانے کو مناسب مقدار اور مقررہ معیار کے مطابق پینے کے پانی کی باقاعدہ فراہمی حاصل ہو۔ اس کے لیے کمیونٹی کی مضبوط شمولیت (جن بھاگیداری) کے ذریعے آبی فراہمی کے نظام کو مستحکم بنایا جائے گا، تاکہ دیہی برادریوں کے معیار زندگی میں بہتری آئے اور طویل مدتی آبی تحفظ کو فروغ ملے، جو وکست بھارت @2047 کے قومی وژن سے ہم آہنگ ہے۔

مرکزی وزیر برائے جل شکتی، جناب سی آر پاٹل، اور منی پور کے وزیر اعلیٰ، جناب یومنم کھیم چند سنگھ کی موجودگی میں منی پور کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کیے گئے۔

 

 

بہار کے لیے مرکزی وزیر برائے جل شکتی، جناب سی آر پاٹل، وزیر مملکت ڈاکٹر راج بھوشن چودھری اور بہار کے وزیر (پی ایچ ای) جناب سنجے کمار سنگھ کی موجودگی میں علیحدہ طے شدہ ملاقاتوں کے دوران ایم او یو پر دستخط کیے گئے۔

ایم او یو پر دستخط کے موقع پر پینے کے پانی اور صفائی کے محکمہ (ڈی ڈی ڈبلیو ایس) کے سینیئر افسران بھی موجود تھے، جن میں سکریٹری ڈی ڈی ڈبلیو ایس جناب اشوک کے کے مینا، ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر نیشنل جل جیون مشن (این جے جے ایم) جناب کمل کشور سوان، جوائنٹ سکریٹری، اور ڈائریکٹر شامل تھے۔

منی پور کے لیے ایم او یو کا تبادلہ این جے جے ایم کے جوائنٹ سکریٹری جناب ڈی سنتھل پانڈیان اور منی پور کے وزیر اعلیٰ کے سکریٹری ڈاکٹر نیلنتھانگ تیلیئن کے درمیان کیا گیا۔ اس موقع پر مرکزی وزیر برائے جل شکتی، جناب سی آر پاٹل، منی پور کے وزیر اعلیٰ جناب یومنم کھیم چند سنگھ اور منی پور کے نائب وزیر اعلیٰ (پی ایچ ای ڈی) جناب لوسی ڈیکھو موجود تھے۔

مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعاون کے ایک اہم مرحلے کی علامت کے طور پر، منی پور کے بعد ریاست بہار کے ساتھ ایم او یو پر باضابطہ دستخط کیے گئے۔ اجلاس کا آغاز مرکزی وزیر برائے جل شکتی جناب سی آر پاٹل، وزیر مملکت ڈاکٹر راج بھوشن چودھری، بہار کے وزیر (پی ایچ ای) جناب سنجے کمار سنگھ اور ریاست و ڈی ڈی ڈبلیو ایس کے دیگر اہم عہدیداران کی موجودگی میں ہوا۔

ایم او یو پر دستخط اور تبادلہ این جے جے ایم کے جوائنٹ سکریٹری جناب ڈی سنتھل پانڈیان اور بہار کے محکمہ پی ایچ ای کے پرنسپل سکریٹری جناب راجیش کمار کے درمیان کیا گیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے جل شکتی، جناب سی آر پاٹل نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں شروع کیا گیا جل جیون مشن ملک بھر میں دیہی پینے کے پانی کی فراہمی میں انقلابی تبدیلی لایا ہے اور خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کو پانی لانے کی مشقت سے نجات دلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جل جیون مشن 2.0 کے تحت اب توجہ مشن کے تحت قائم کیے گئے بنیادی ڈھانچے کے استحکام، نل کنکشنوں کی فعالیت، پانی کے معیار، آبی ذرائع کے تحفظ، آپریشن و دیکھ بھال، کمیونٹی کی ملکیت اور باقاعدہ نگرانی پر مرکوز ہے۔

وزیر موصوف نے پانی کے تحفظ، بارش کے پانی کے ذخیرے، زیر زمین پانی کی بحالی، اور کیچمنٹ علاقوں کے تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیا، جس کے لیے فنانس کمیشن اور وی بی-جی رام جی فنڈ کے مؤثر استعمال کی بات کی گئی۔ انہوں نے کمیونٹی کی بنیاد پر پانی کے معیار کی نگرانی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گرام پنچایتیں، ضلعی واٹر اینڈ سینیٹیشن مشن، ریاستی واٹر اینڈ سینیٹیشن مشن اور مقامی برادریوں کو قابلِ اعتماد پینے کے پانی کی خدمات یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے مشن کے اہداف کے حصول کے لیے ریاستوں کو حکومت ہند کی مسلسل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

منی پور کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ریاست جلد ہی باقی ماندہ نل کنکشن مکمل کر لے گی اور ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی صف میں شامل ہو جائے گی جہاں دیہی علاقوں میں ہر گھر تک نل کے ذریعے پانی کی فراہمی کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔ ریاست کی جانب سے مشکل حالات کے باوجود مشن کے نفاذ کو جاری رکھنے میں دکھائی گئی ثابت قدمی کو سراہتے ہوئے جناب پاٹل نے کہا کہ منی پور کی کامیابیاں ہر دیہی گھرانے تک محفوظ پینے کا پانی پہنچانے کے عزم کی ایک متاثر کن مثال ثابت ہوں گی۔

 

ریاست بہار سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے مناسب آپریشن اور دیکھ بھال کو یقینی بنانے پر زور دیا اور کہا کہ انہیں یقین ہے کہ بہار اسی عزم اور ثابت قدمی کے ساتھ باقی ماندہ کام مکمل کرے گا، جس کے باعث ریاست 90 فیصد سے زیادہ کوریج حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکست بھارت – وکست بہار کے وژن کو حقیقت میں بدلنے اور لاکھوں شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں ریاست کا کردار نہایت اہم ہوگا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے منی پور کے وزیر اعلیٰ جناب یومنم کھیم چند سنگھ نے کہا کہ جل جیون مشن (جے جے ایم) 2.0 کے تحت وزارت جل شکتی اور حکومت منی پور کے درمیان اصلاحات سے منسلک ایم او یو پر دستخط کا مشاہدہ کرنا ان کے لیے باعث اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشن کا اگلا مرحلہ صرف بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے آگے بڑھتے ہوئے طویل مدتی اور پائیدار پینے کے پانی کی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی جانب ایک اسٹریٹجک تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جل جیون مشن 2.0 میں خدمات کی فراہمی، آبی ذرائع کے تحفظ، ڈیجیٹل نگرانی کے نظام، پالیسی اصلاحات، پائیدار مالیاتی نظام اور کمیونٹی کی شمولیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات مشن کو ایک سرکاری پروگرام سے عوام مرکز تحریک میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے، جس کا مقصد دیہی برادریوں کو محفوظ اور قابل اعتماد پینے کے پانی کی خدمات فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے جل جیون مشن 2.0 کے رہنما خطوط تیار کرنے میں وزارت جل شکتی کی کوششوں کو سراہا اور ریاستی حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اصلاحاتی ایجنڈے کے نفاذ اور مشن کے مقاصد کے حصول کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے، تاکہ معیار زندگی میں بہتری اور سب کے لیے پائیدار آبی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اپنے خطاب میں بہار کے محکمہ پی ایچ ای کے وزیر جناب سنجے کمار سنگھ نے کہا کہ بہار ہر دیہی گھرانے کو محفوظ اور مناسب پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے مسلسل پُرعزم رہا ہے۔ جل جیون مشن کے آغاز سے قبل ہی ریاستی حکومت نے 2016 میں ”ہر گھر نل کا جل“ پروگرام شروع کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت دیہی پانی کی فراہمی کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا گیا۔ تاہم، مرکزی حکومت کی معاونت نے ریاست میں جغرافیائی اور سماجی و اقتصادی چیلنجوں کے باوجود دیہی پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے میں نمایاں پیش رفت ممکن بنائی۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بہار سب کے لیے محفوظ اور پائیدار پینے کے پانی کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے حکومت ہند کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

 

بہار کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کے دوران اپنے افتتاحی کلمات میں ڈی ڈی ڈبلیو ایس کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مفاہمتی یادداشت صرف پائپ لائنوں کے بنیادی ڈھانچے کی تنصیب تک محدود نہیں بلکہ دیہی سطح پر پائیدار خدمات کی فراہمی کو ترجیح دیتی ہے۔ انہوں نے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور کمیونٹی کی ملکیت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گرام پنچایتوں اور ولیج واٹر اینڈ سینیٹیشن کمیٹیوں کو دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کے انتظام اور آپریشن کے لیے بااختیار بنایا جا رہا ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے جناب مینا نے کہا کہ یہ ایک مشترکہ عزم ہے، جس کے تحت جل جیون مشن 2.0 کے رہنما اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ دیہی گھرانوں کو محفوظ، یقینی اور پائیدار پینے کا پانی فراہم کیا جا سکے۔

پائیدار آبی خدمات کی فراہمی کے لیے ادارہ جاتی نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سکریٹری نے کہا کہ تمام ضلع کلکٹروں کو ڈسٹرکٹ واٹر اینڈ سینیٹیشن مشن کی میٹنگ باقاعدگی سے منعقد کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ بروقت اجلاسوں سے ولیج ایکشن پلان کی تیاری میں سہولت ملے گی اور پنچایتوں کو دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کے مؤثر انتظام کے قابل اداروں کے طور پر تصدیق کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ضلعی انتظامیہ عمل درآمد کی نگرانی، وقتاً فوقتاً جائزہ لینے اور ضرورت پڑنے پر گرام پنچایتوں کو ضروری تعاون فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ”ہر گھر نرنتر نل سے جل“ وژن کی تکمیل کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

منی پور کے ساتھ ایم او یو کے دوران اپنے افتتاحی خطاب میں این جے جے ایم کے ایڈیشنل سکریٹری و مشن ڈائریکٹر جناب کمل کشور سوان نے شمال مشرقی خطے کی ترقی میں منی پور کی اہمیت پر زور دیا اور گزشتہ دو برسوں کے دوران دیہی پینے کے پانی کے شعبے میں ریاست کی پیش رفت کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ جل جیون مشن کا مقصد صرف نل کنکشن فراہم کرنا نہیں بلکہ آئندہ 25 سے 30 برسوں تک محفوظ اور صاف پینے کے پانی تک قابلِ اعتماد رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس ہدف کے حصول کے لیے پانی کی فراہمی کے نظام میں موجود خامیوں اور چیلنجوں کو دور کرنا، بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، اور مشن کے تحت کی گئی سرمایہ کاری کے پائیدار استعمال کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

مشن ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ جل جیون مشن 2.0 کے تحت مرکزی وزیر برائے جل شکتی کی رہنمائی میں طویل مدتی خدمات کی فراہمی اور آبی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے ساختی اصلاحات نافذ کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ منی پور ان اصلاحات کو فعال طور پر آگے بڑھائے گا اور مشن کے مؤثر نفاذ کے لیے حکومت ہند کی جانب سے مسلسل تکنیکی معاونت، صلاحیت سازی، اور عملی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

جل جیون مشن 2.0 کے تحت 34 میں سے 33 ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے پہلے ہی حکومت ہند کے پینے کے پانی و صفائی کے محکمہ کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کر چکے ہیں۔

                                               **************

ش ح۔ ف ش ع

10-06-2026

                                                                                                                                       U: 8237

 


(रिलीज़ आईडी: 2271316) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil