کامرس اور صنعت کی وزارتہ
مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے عالمی دوا ساز کمپنیوں کو ہندوستان کی ترقی کی کہانی کا شراکت دار بننے کی دعوت دی؛ انہوں نے کہا- آئندہ پانچ برسوں میں دوا سازی کی صنعت کا حجم دوگنا ہو سکتا ہے
ہندوستان سستی ادویات کی فراہمی کے اپنے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے جنیرک ادویات سے آگے بڑھ کر جدت پر مبنی دوا سازی کی مصنوعات کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے: جناب پیوش گوئل
عالمی چیلنجوں کے باوجود ہندوستان نے 7.7 فیصد شرح نمو درج کی ہے، جو عالمی دوا ساز شراکت داریوں کے لیے مزید وسیع مواقع فراہم کرتی ہے: جناب گوئل
اعتماد، اختراع اور شراکت داری ہندوستان کی دوا سازی کی ترقی کی کہانی کے تین بنیادی ستون ہیں: جناب پیوش گوئل
प्रविष्टि तिथि:
08 JUN 2026 9:37PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے آج عالمی دوا ساز کمپنیوں کو ہندوستان کے اختراع پر مبنی اور جامع صحت عامہ کے سفر میں شراکت دار بننے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت تقریباً 60 ارب امریکی ڈالر مالیت کی بھارتی دوا سازی کی صنعت آئندہ پانچ برسوں میں اپنے حجم کو دوگنا کر سکتی ہے۔
آج نئی دہلی میں دوا سازی کے شعبے پر عالمی سفیروں کے اجلاس اورجی ڈی آر سی (گلوبل ڈرگ ریگولیٹرز کانکلیو) 2026 اورآئی پی ایچ ای ایکس (بین الاقوامی فارما اور ہیلتھ کیئر ایکسپو) 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ ہندوستان جنیرک ادویات سے آگے بڑھ کر اختراع پر مبنی دوا سازی کی مصنوعات کی جانب پیش رفت کرنا چاہتا ہے، جبکہ دنیا بھر کے مریضوں کو سستی ادویات کی فراہمی کے اپنے عزم کو بھی برقرار رکھے گا۔
جناب گوئل نے کہا کہ بھارت خود کو عالمی دوا سازی کی سپلائی چین کا ایک لازمی حصہ اور دنیا بھر کے ممالک کے لیے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے، خواہ وہ خریدار، اختراع کار، ٹیکنالوجی پارٹنر، کلینیکل ٹرائلز کی منزل یا مینوفیکچرنگ مرکز کی حیثیت سے ہو۔وزیرموصوف نے کہا کہ عالمی سطح پر جاری بے یقینی، جس میں یوکرین اور مغربی ایشیا کے تنازعات اور امریکہ کی جانب سے 50 فیصد محصولات (ٹیرف) عائد کیے جانے کے باوجود، بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت بنا ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مارچ 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران مستقل قیمتوں کی بنیاد پر بھارت کی معیشت نے 7.7 فیصد شرح نمو درج کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت شراکت دار ممالک کی اعلیٰ معیار کی اختراعی دوا سازی کی مصنوعات کو اپنی منڈی تک رسائی دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آزاد تجارتی معاہدوں کے تحت بھارت کو متعدد دوا سازی کی مصنوعات پر صفر کسٹم ڈیوٹی سمیت ترجیحی منڈی تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی صنعت کی عالمی موجودگی کو وسعت دینا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں بھارت نے نو آزاد تجارتی معاہدے کیے ہیں اور اب اس کے تجارتی معاہدے 50 سے زائد ممالک کا احاطہ کرتے ہیں، جن کے ذریعے ترقی یافتہ دنیا کے بیشتر حصوں میں ترجیحی منڈی تک رسائی حاصل ہے۔
بھارت کی جنیرک دوا سازی کی صنعت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں مریض بھارت کی فراہم کردہ سستی ادویات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں فروخت ہونے والی ادویات کے حجم کا 80 سے 90 فیصد حصہ جنیرک ادویات پر مشتمل ہے، لیکن ان کی مالیت صرف 10 سے 15 فیصد بنتی ہے، جو ان ادویات کی کم قیمت اور سماجی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی مسابقتی برتری صرف باصلاحیت افرادی قوت تک محدود نہیں بلکہ ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم آپریٹنگ لاگت بھی اس کا اہم فائدہ ہے۔
وزیر موصوف نے بھارت کے دوا سازی کے شعبے کی تین نمایاں طاقتوں کا ذکر کیا-اعتماد، اختراع اور شراکت داری۔اعتماد کے حوالے سے جناب گوئل نے کہا کہ بھارت نے اپنے ‘گڈ مینوفیکچرنگ پریکٹسز’ (جی ایم پی) کے نظام کو عالمی معیارات کے مطابق ہم آہنگ کر لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارۂ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کی ویکسین کی مجموعی ضروریات کا تقریباً 65 سے 70 فیصد بھارت سے پورا کیا جاتا ہے، جبکہ دنیا کی 25 بڑی جنیرک دوا ساز کمپنیوں میں سے 10 بھارت میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ سے باہر مریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (یو ایس- ایف ڈی اے) سے منظور شدہ دوا سازی کے کارخانوں کی سب سے زیادہ تعداد بھی بھارت میں موجود ہے۔
اختراع کے حوالے سے جناب گوئل نے کہا کہ حالیہ برسوں میں بھارت میں پیٹنٹ درخواستوں کی تعداد میں تقریباً 100 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے دوا سازی کے شعبے میں اختراع کو فروغ دینے کے لیے ‘بایوفارما شکتی پروگرام’ کے آغاز کا ذکر کیا اور حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں، جس میں دوا سازی میں اختراع کی حوصلہ افزائی کے لیے10 ارب امریکی ڈالر کے پروگرام کا حوالہ بھی دیا۔
جناب پیوش گوئل نے عالمی دواساز کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ بھارت میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط بنائیں اور 1.4 ارب آبادی، تیزی سے پھیلتے ہوئے متوسط طبقے، بڑھتی ہوئی آمدنی اور مسلسل معاشی ترقی سے پیدا ہونے والے وسیع مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ جناب گوئل نے صحت سے متعلق قدیم بھارتی فلسفے کا حوالہ دیتے ہوئے سنسکرت کے معروف مقولے ‘سروے سنتو نرامیا’ کا ذکر کیا، جس کا مطلب ہے‘تمام مخلوقات بیماری سے محفوظ رہیں’۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں برسوں سے ہندوستان میں صحت کو ایک مشترکہ سماجی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خصوصاً کووڈ-19 وبا کے بعد دنیا نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ دنیا کو محفوظ بنانا اور ہر فرد کو صحت کی سہولیات تک منصفانہ رسائی فراہم کرنا تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق یہی فلسفہ آج بھی بھارت کی جدید دواسازی کی صنعت کی رہنمائی کر رہا ہے۔
جناب گوئل نے کووڈ-19 وبا کے دوران بھارتی دواسازی کی صنعت کی ثابت قدمی اور مؤثر کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی کمپنیوں نے نہ صرف ملک کی ضروریات پوری کیں بلکہ دنیا کے بڑے حصے، خصوصاً گلوبل ساؤتھ، ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کی ضروریات بھی پوری کیں۔
وبا کے دوران ادویات کی فراہمی کے انتظام کا ذکر کرتے ہوئے جناب گوئل نے وضاحت کی کہ ادویات اور ویکسین کی برآمدات پر عارضی پابندیاں دوسرے ممالک کو محروم کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے لگائی گئی تھیں کہ یہ اشیا مناسب قیمت پر منصفانہ انداز میں دستیاب رہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو خدشہ تھا کہ مالی طور پر مضبوط تاجر اور ادارے بڑی مقدار میں ذخیرہ اندوزی کرکے بحران کے دوران ادویات کو غیر معمولی مہنگے داموں فروخت کر سکتے ہیں۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ وبا کے دوران بھارت نے 100 سے زائد ممالک کو مفت ادویات فراہم کیں، جبکہ جن ممالک نے بھارت سے دواسازی کے شعبے میں مدد طلب کی، انہیں کووڈ سے پہلے کی قیمتوں پر ادویات فراہم کی گئیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت نے اس امر کو یقینی بنایا کہ عالمی صحت کے بحران سے تاجر اور درمیانی کردار ادا کرنے والے عناصر ناجائز منافع نہ کما سکیں۔
وزیر نے کہا کہ بھارت ایسی دیرپا شراکت داریوں کا خواہاں ہے جو وباؤں اور جنگوں جیسے ہنگامی حالات سے کہیں آگے تک جاری رہیں۔ انہوں نے اختراع، پائیدار صحت کی مصنوعات کی تیاری اور معیاری صحت کی سہولیات تک عالمی رسائی کو فروغ دینے کے لیے طویل مدتی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔
بھارت کی 2023 کی جی-20 صدارت کے موضوع ‘وسودیو کٹمبکم’ یعنی ‘ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل’ کا حوالہ دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ بھارت تمام ممالک کو ایک عالمی خاندان کا حصہ سمجھتا ہے اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی بچہ معیاری صحت کی سہولیات اور تحفظ سے محروم نہ رہے۔
آخر میں وزیر موصوف نے تقریب میں شرکت کرنے والے ہائی کمشنروں، سفارت کاروں اور بین الاقوامی مندوبین کا شکریہ ادا کیا اور جی ڈی آر سی 2026 اور آئی پی ایچ ای ایکس 2026 کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
********
ش ح- ظ الف- ش ہ ب
UR- 8140
(रिलीज़ आईडी: 2270582)
आगंतुक पटल : 4