جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پینے کے پانی اور صفائی کے محکمے (ڈی ڈی ڈبلیو ایس) کے زیراہتمام نئی دہلی میں دیہی پینے کے پانی کی خدمات کے پائیدار آپریشن اور دیکھ بھال (او اینڈ ایم) پر وزارتی سطح کے“پالیسی ڈائیلاگ” کا انعقاد کیاگیا


مرکز اور ریاستوں نے جل جیون مشن کے تحت دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کی طویل مدتی پائیداری پر غور و خوض کیا

یہ پالیسی ڈائیلاگ دیہی پینے کے پانی کی خدمات کیلئے آپریشن اینڈ مین ٹیننس کے فریم ورک کو مضبوط بنانے پر مرکوز رہا

प्रविष्टि तिथि: 27 JAN 2026 9:49PM by PIB Delhi

1.jpeg

وزارت جل شکتی کےپینے کے پانی اور صفائی کے محکمے (ڈی ڈی ڈبلیو ایس) نے آج نئی دہلی میں جل جیون مشن (جے جے ایم) کے تحت دیہی پینے کے پانی کی خدمات کے پائیدار آپریشن اور دیکھ بھال (او اینڈ ایم) پر وزارتی سطح کا پالیسی ڈائیلاگ منعقد کیا۔اس مکالمے میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے وزراء، سینئر افسران اور شعبے کے ماہرین نے شرکت کی اور پورے ملک میں دیہی پائپڈ پانی کی فراہمی کے نظام کی طویل مدتی پائیداری کو مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔

یہ پالیسی ڈائیلاگ جل جیون مشن کے دوبارہ تشکیل دیئے گئے مرحلے میں ایک اہم سنگ میل ہے، جہاں اب توجہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے ہٹ کر قابل اعتماد اور شہری مرکوز پینے کے پانی کی خدمات کی فراہمی پر دی  جا رہی ہے۔مذاکرات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ محفوظ اور وافر پینے کے پانی کی مسلسل فراہمی کے لئے مضبوط ادارہ جاتی نظام، یقینی مالی وسائل، بااختیار مقامی حکومتیں اور مضبوط ڈیجیٹل نگرانی کا نظام ضروری ہے۔ یہ بھی دہرایا گیا کہ جل جیون مشن کے تحت پانی کی حکمرانی بھارت کے آئینی اور انتظامی ڈھانچے کے مطابق ہے، جس میں دیہی سطح پر گرام پنچایتوں اور کمیونٹی اداروں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

اس اجلاس میں نائب وزیر اعلیٰ، صحتِ عامہ انجینئرنگ، پنچایتی راج اور دیہی ترقی کے وزراء، اعلیٰ سیکرٹریز، مشن ڈائریکٹرز اور مرکز و ریاستی حکومتوں کے سینئر حکام سمیت 150 سے زائد شرکاء نے حصہ لیا۔ شرکاء نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ (پی ایچ ای ڈی)، پنچایتی راج اور دیہی ترقی کے شعبوں پر تفصیلی گفتگو میں حصہ لیا، جس سے بین الاداراتی تعاون اور مربوط فیصلہ سازی کو فروغ ملا۔

2.jpeg

معزز وزیر برائے پنچایتی راج جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ جل جیون مشن نے دیہی بھارت میں محفوظ پینے کے پانی تک رسائی کو ممکن بنایا ہے، لیکن اب توجہ کو بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے ہٹا کر مستقل آپریشن اور مینٹیننس (او اینڈ ایم) پر مرکوز کرنا ضروری ہے۔انہوں نے ایک طویل مدتی او اینڈ ایم  فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا جس کے مرکز میں گرام پنچایتیں سروس ڈیلیوری اور پائیداری کی ذمہ داری سنبھالیں۔ انہوں نے کہا کہ جل جیون مشن کی عملی ضروریات کو 16ویں فنانس کمیشن کے چکر کے دوران باضابطہ طور پر حل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے (وی ڈبلیو ایس سی) کی تشکیل اور مضبوطی، مؤثر نگرانی کے نظام اور او اینڈ ایم کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر پر بھی مساوی توجہ دینے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ دیہات کی جانب سے یوزر چارجز ادا کرنے کی آمادگی اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ قابلِ اعتماد خدمات پر اعتماد کر رہے ہیں۔ مزید کہا کہ پینے کے پانی کی خدمات کو گرام پنچایت ڈیولپمنٹ پلانز (جی پی ڈی پی) میں واضح جوابدہی، گرام سبھا کی نگرانی اور شفاف ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے ساتھ شامل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مرکز اور ریاستیں مل کر ہر دیہی شہری کو محفوظ اور قابلِ اعتماد پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے کام جاری رکھیں گی۔

3.jpeg

وزارتِ جل شکتی کے وزیر جناب سی آر پاٹل نے پائیداری اور جوابدہی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جل جیون مشن کے اگلے مرحلے میں عملدرآمد کے نظم و ضبط اور مالی احتیاط کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ مفاہمت نامے  پر دستخط کے بعد ہی ریاستوں کو فنڈز جاری کیے جائیں گے اور ہر اسکیم کو ایک مخصوص اسکیم آئی ڈی کے ذریعے منسلک کیا جائے گا۔ مزید فنڈز کی اگلی قسط 15 دن تک مسلسل پانی کی فراہمی کی کارکردگی سے مشروط ہوگی۔انہوں نے ریاستوں کو ہدایت دی کہ حد سے زیادہ بڑے ڈی پی آر کی دوبارہ جانچ اور معقولیت کی جائے اور واضح کیا کہ صرف 31 مارچ 2024 یا اس سے پہلے منظور شدہ اسکیموں پر ہی غور کیا جائے گا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جی-رام جی فنڈز کے تحت 65فیصد-30فیصد (جہاں قابلِ اطلاق ہو) رقم کو پانی کے ذرائع کی مضبوطی، آبی تحفظ اور ریچارج ڈھانچوں کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے۔وزیر موصوف نے آسام کے آئی ٹی آئی پر مبنی اسکل ٹریننگ ماڈل کی تعریف کی اور تریپورہ کی اس تیاری اور اعتماد کو بھی اجاگر کیا جس کے تحت پنچایتیں او اینڈ ایم ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں سنبھالنے کے لئے تیار نظر آتی ہیں۔

4.jpeg

اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے، ریاستی وزیر جناب وی سومنا نے طویل مدتی خدمات کی فراہمی کو سپورٹ کرنے کے لیے نگرانی کے نظام کی ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ جل جیون مشن کے تحت مانیٹرنگ نظام کو بتدریج مرکزی رہنمائی والے ماڈل سے ریاستی مرکزیت پر مبنی نظام کی طرف بڑھنا چاہیے، جس میں حقیقی وقت نگرانی اور کارکردگی کی جانچ کے لئے آئی او ٹی پر مبنی آلات کا زیادہ استعمال کیا جائے۔انہوں نے پانی کی فراہمی کے منصوبوں میں مقامی سطح پر ملکیت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا، جو مستقبل میں جوابدہی اور پائیداری کو مزید مضبوط کرے گی۔

پانی کے نظامِ حکمرانی میں آپریشن اینڈ  مین ٹینینس (او اینڈ ایم) کا مرکزی کردار

5.jpeg

پینے کے پانی اور صفائی کے محکمے کے سیکریٹری جناب اشوک کے .کے مینا نے دیہی پینے کے پانی کی خدمات کے پائیدار آپریشن اور مینٹیننس (پر منعقدہ وزارتی سطح کے پالیسی ڈائیلاگ کا حوالہ پیش کیا۔اپنے ابتدائی خطاب میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جل جیون مشن کے تحت پانی کی حکمرانی میں اب “آپریشن اور مینٹیننس” مرکزی کردار اختیار کر چکا ہے۔انہوں نے ریاستوں کو درپیش اہم چیلنجز کی نشاندہی کی، جن میں گرام پنچایت سطح پر محدود تکنیکی صلاحیت، کمزور مالی منصوبہ بندی، ناکافی ریئل ٹائم نگرانی اور پانی کے ذرائع کی پائیداری کے لیے منظم انتظامی نگرانی کی کمی شامل ہے۔

انہوں نے ایک مضبوط پالیسی، قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا، جو گرام پانی و صفائی کمیٹیوں کو باقاعدہ قانونی حیثیت دے، گرام پنچایتوں کو دیہی سطح پر پانی کی فراہمی کے اثاثوں کی ملکیت فراہم کرے اور مقامی اداروں کو او اینڈ ایم کے اخراجات پورے کرنے کے لئے صارف فیس لگانے اور اسے محفوظ رکھنے کے قابل بنائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ گرام پانی و صفائی کمیٹیوں کو متعلقہ ریاستی پنچایتی راج ایکٹ کے تحت اور جہاں قابلِ اطلاق ہو وہاں خود مختار ضلع کونسلوں، پہاڑی کونسلوں اور دیگر مقامی اداروں کے ذریعے قانونی طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔

سکریٹری نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ گرام پنچایتوں کے ذریعے گاؤں کے اندر پائپ سے پانی کی فراہمی کے اثاثوں کی ملکیت، جیسا کہ کابینہ سے منظور شدہ دفعات اور جل جیون مشن کے رہنما اصولوں میں تصور کیا گیا ہے،براہ راست آئینی مینڈیٹ سے پیدا ہوتی ہے جو پینے کے پانی کی خدمات کی مقامی حکمرانی سے متعلق ہے۔انہوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے اپیل کی کہ وہ اسی آئینی فریم ورک کے اندر اپنی پالیسیوں کو تشکیل دیں یا اپڈیٹ کریں، اور زمینی سطح پر قابلِ عمل او اینڈ ایم نظام کو مضبوط بنانے کے لیے متعلقہ پنچایتی راج ایکٹ کے ذیلی قواعد بھی شیئر کریں۔

انہوں نے مزید ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی اہمیت پر زور دیا، جس میں مربوط ڈیٹا بیس، جی آئی ایس پر مبنی نگرانی اور ریئل ٹائم رپورٹنگ ٹولز شامل ہیں۔ یہ نظام دیہی پانی کی فراہمی کے شفاف، جوابدہ اور ڈیٹا پر مبنی انتظام کو ممکن بناتے ہیں۔

6.jpeg

پنچایتی راج وزارت کے سکریٹری جناب وویک بھاردواج نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کا آپریشن اور مینٹیننس صرف محکمانہ کوششوں کے ذریعے مستقل طور پر ممکن نہیں ہے۔انہوں نے جل جیون مشن کے تحت بنائے گئے اثاثوں کی جوابدہی، کمیونٹی ملکیت اور طویل مدتی مؤثریت کو یقینی بنانے میں پنچایتوں اور منتخب نمائندوں کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔انہوں نے مزید امید ظاہر کی کہ 16واں فنانس کمیشن پائپ سے پانی کی فراہمی کے نظام کے  او اینڈ ایم کی حمایت کے لئے مخصوص وسائل مختص کرے گا، جس سے پنچایتی راج ادارے اپنی ذمہ داریاں زیادہ مؤثر طریقے سے ادا کر سکیں گے۔

7.jpeg

اس مکالمے میں پائیدار آپریشن اور مینٹیننس (او اینڈ ایم) کے طورطریقوں کو ادارہ جاتی شکل دینے کے مقصد سے کئی قومی اقدامات کو اجاگر کیا گیا:

  • ‘‘جل ارپن’’ان منصوبوں کے لیے جو پہلے ہی مکمل یا منتقل کیے جا چکے ہیں، “جل ارپن” سالانہ مرمت اور کمیونٹی انگیجمنٹ پروگرام کو ممکن بناتا ہے۔ اثاثوں کو باضابطہ طور پر گرام پنچایتوں کے حوالے کیا جاتا ہے، جس میں حتمی منتقلی سے پہلے مسائل کی نشاندہی اور حل کے لیے 15 دن کی آزمائشی مدت شامل ہوتی ہے۔
  • ‘‘جل اُتسو / جل مہوتسو’’8 مارچ (بین الاقوامی یومِ خواتین) سے 22 مارچ (عالمی یومِ آب) تک جاری رہنے والی 15 روزہ سالانہ قومی مہم، جس میں ریاستیں ایک مشترکہ قومی فریم ورک کے تحت اپنی سرگرمیوں کو مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالتی ہیں۔
  • ‘‘جل سیوا اسیسمنٹ’’گرام پنچایت کی قیادت میں کیا جانے والا ایک خود تشخیصی نظام، جس کا مقصد سروس ڈیلیوری میں کمیوں کو جلد شناخت کر کے مقامی سطح پر ان کا حل نکالنا ہے۔
  • ‘‘سورس اسٹیبلٹی ’’دیہی ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے پانی کے ذرائع کو مضبوط کرنا  تاکہ ریچارج اور سورس پروٹیکشن سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
  • ‘‘سجَل گاؤں آئی ڈی” اور جی آئی ایس پر مبنی اثاثہ میپنگ:پی ایم گتی شکتی فریم ورک کے مطابق پانی کے نظام کو سورس سے لے کر گھر تک نقشہ بند کرنا۔

او اینڈ ایم اصلاحات سے متعلق 19 نکاتی مشاورت

قومی جل جیون مشن(این جے جے ایم) کے ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر جناب کمَل کِشور سون نے او اینڈ ایم اصلاحات پر حکومت کی جانب سے جاری 19 نکاتی مشاورت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ اب تک صرف پانچ ریاستوں نے اسے اختیار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مشاورت میں پالیسی اور قانونی ڈھانچہ، ادارہ جاتی کردار، انسانی وسائل، مالی پائیداری، سروس ڈیلیوری کے معیارات، اثاثہ جاتی انتظام، ڈیجیٹل نظام اور شکایات کے ازالے جیسے اہم اصلاحی ستون شامل ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ یہ 19 نکات ایک مربوط اور باہم مربوط اصلاحاتی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں، اور کسی بھی ایک ستون میں کمزوری پورے نظام کی مؤثریت کو متاثر کر سکتی ہے۔انہوں نے ریاستوں کو مشورہ دیا کہ وہ او اینڈ ایم فنڈنگ کی کمی کا جائزہ لیں اور مستقبل میں بجٹ معاونت کو یقینی بنانے کے لیے اپنے مالیاتی محکموں کی مجاز کمیٹیوں کے ذریعے اس کا معائنہ کروائیں۔

ریاستی سطح پر مذاکرات اور بہترین طریقہ کار

مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندوں نے دیہی پینے کے پانی کی خدمات کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے اپنے تجربات اور درپیش چیلنجز کو شیئر کیا۔ اس پالیسی ڈائیلاگ میں 16 ریاستوں کے 18 وزراء نے شرکت کی اور مشن کے اگلے مرحلے کو مضبوط بنانے کے لیے قیمتی تجاویز پیش کیں۔

مباحثے میں مختلف جغرافیائی، موسمی اور سماجی و اقتصادی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے لچکدار لیکن مضبوط او اینڈ ایم فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کئی ریاستوں نے پانی کے ذرائع کی پائیداری کو مضبوط بنانے، پانی کے نظام میں قابلِ تجدید توانائی کے استعمال اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے طریقہ کار اپنانے پر زور دیا۔

کمیونٹی کی شمولیت ایک مرکزی موضوع کے طور پر سامنے آئی، جس میں “گرام پانی و صفائی کمیٹیوں” کو مضبوط بنانے اور مقامی سطح کے کیڈر کو تربیت دینے پر توجہ دی گئی۔ پہاڑی، خشک سالی سے متاثرہ اور سیلاب زدہ علاقوں کے تجربات نے آفات کے خلاف لچک اور مخصوص حالات کے مطابق حل کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

کرناٹک نے اپنی کابینہ سے منظور شدہ جامع او اینڈ ایم پالیسی پیش کی، جسے 5,500 سے زائد گرام پنچایتوں نے اپنایا ہے۔ اس میں پانی کی مقدار کی بنیاد پر بلنگ، چوبیس گھنٹے ساتوں دن پانی کی فراہمی کی طرف پیش رفت، اور اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹل مانیٹرنگ جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ریاست نے ورلڈ بینک کے تعاون سے چلنے والے “کرناٹک پائیدار دیہی پانی فراہمی پروگرام” کے تحت ہونے والی پیش رفت بھی شیئر کی۔

8.jpeg

کانفرنس کا آغاز ڈوئلپمنٹ آف ڈرنکنگ واٹر اینڈ سینیٹیشن کی جوائنٹ سکریٹری (پانی) محترمہ سوَاتی مینا نائک کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ انہوں نے دیہی پینے کے پانی کی خدمات کو پائیدار بنانے کے لیے مضبوط ادارہ جاتی نظام، مؤثر معلومات، تعلیم و ابلاغ  اور شراکتی طریقۂ کار کی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ او اینڈ ایم آپریشن اور مینٹیننس نظام کو مضبوط بنانے کے لیے صرف کمیونٹی ملکیت ہی کافی نہیں بلکہ ضلع اور گرام پنچایت سطح پر منظم نگرانی اور جائزہ نظام بھی ضروری ہے۔

انہوں نے جل جیون مشن کے تحت حالیہ ڈیجیٹل اقدامات کا ذکر کیا، جن میں ڈسٹرکٹ واٹر اینڈ سینیٹیشن مشن کے لیے تیار کیے گئے ڈسٹرکٹ ڈیش بورڈ شامل ہیں، جو نگرانی اور فیصلہ سازی کے اہم پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ یہ ڈیش بورڈز ضلعی ٹیموں کو پیش رفت کی نگرانی، فیلڈ سطح کے مشاہدات کے ریکارڈ اور مسئلہ والے علاقوں کی نشاندہی میں مدد دے رہے ہیں، جس سے ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی اور بروقت اصلاحی اقدامات ممکن ہو رہے ہیں۔

محترمہ نائک نے ای-گرامسواراج لاگ ان کو جل جیون مشن ڈیش بورڈ کے ساتھ مربوط کرنے پر بھی زور دیا، تاکہ فیلڈ سطح کے عملے کو متعدد لاگ اِن سسٹمز سے بچایا جا سکے اور رسائی کو آسان بنایا جا سکے۔ اس انضمام کے ذریعے منصوبوں سے متعلق تفصیلی معلومات، تکنیکی ڈرائنگز اور اثاثہ جاتی ڈیٹا ایک مربوط پلیٹ فارم پر دستیاب ہو رہا ہے، جس سے اثاثہ جات کے انتظام، پانی کی ترسیلی نیٹ ورک کی دیکھ بھال اور فیلڈ سروس ٹیموں کی تیاری مزید مضبوط ہو رہی ہے،جو دیہی پانی کی فراہمی کے پائیدار او اینڈ ایم کے لیے انتہائی اہم ہے۔

مستقبل کی راہ

پالیسی ڈائیلاگ میں اس بات کو دہرا گیا کہ آئندہ 30 برس میں او اینڈ ایم مرحلے کو مؤثر اور پائیدار بنانے کے لیے ایک مضبوط بین القطاعی ہم آہنگی کا فریم ورک ضروری ہوگا، خصوصاً پانی کے ذرائع کی پائیداری، توانائی کی کارکردگی، گرے واٹر مینجمنٹ، ہنر مندی کی ترقی اور مالی وسائل کی فراہمی کے شعبوں میں۔اس بات پر زور دیا گیا کہ پینے کے پانی کی خدمات کی جوابدہی اور ذمہ داری انتظامیہ کے پاس ہی رہنی چاہیے اور انہیں آؤٹ سورس یا ٹھیکیداروں پر مبنی نہیں بنایا جا سکتا۔

پانی کی تقسیم، جراثیم کشی اور باقاعدہ دیکھ بھال سمیت روزمرہ دیہی سطح کے آپریشن کی ذمہ داری گرام پنچایتوں اور گرام پانی و صفائی کمیٹیوں کے پاس رہنی چاہیے تاکہ عوامی جوابدہی، کمیونٹی ملکیت اور قابلِ اعتماد سروس ڈیلیوری کو یقینی بنایا جا سکے۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ع د

U.NO. 8112


(रिलीज़ आईडी: 2270350) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी