الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
ایس ٹی پی آئی کا 35 واں یومِ تاسیس؛ ٹیکنالوجی اور اختراع کے نئے دور کی تشکیل کے لیے ٹیک سمٹ 2026 کا انعقاد
اس موقع پر وادھوانی فاؤنڈیشن کے ساتھ مفاہمت ناموں(ایم او یو) کا تبادلہ کیا گیا، جبکہ اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے اور اختراع کو تیز کرنے کے لیے اے آئی پر مبنی “سیُج ایپ” اور “اوپن چیلنج پروگرام 1.0” کا آغاز بھی کیا گیا
بھارت اختراع، انٹرپرینیورشپ اور تکنیکی خود انحصاری کے ذریعے ایک ایسے ڈیجیٹل معیشت کے قیام کی جانب بڑھ رہا ہے جو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق مکمل طور پر تیار ہے: جناب جتن پرساد
प्रविष्टि तिथि:
05 JUN 2026 10:31PM by PIB Delhi
سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس آف انڈیا، جو وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت ایک ممتاز سائنسی و تکنیکی ادارہ ہے، نے آج نئی دہلی میں اپنا 35 واں یومِ تاسیس مناتے ہوئے ایس ٹی پی آئی ٹیک سمٹ 2026: انڈیاز نیکسٹ لیپ کا انعقاد کیا۔اس سمٹ میں اعلیٰ سرکاری حکام، وینچر کیپیٹلسٹس اور ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے والے ماہرین نے شرکت کی، جس کا مقصد بھارت میں ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور اختراع کے نئے مواقع کو فروغ دینا تھا۔

اس تقریب کی صدارت وزیر مملکت برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی جناب جتن پرساد نے بطور مہمانِ خصوصی کی۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ایس ٹی پی آئی (سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس آف انڈیا) کا 35 سالہ سفر بھارت کے ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کی شاندار تبدیلی اور اس کے ایک عالمی ڈیجیٹل پاور ہاؤس کے طور پر ابھرنے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن وکست بھارت@2047 کی رہنمائی میں بھارت ایک ایسے مستقبل کے لیے تیار ڈیجیٹل معیشت تشکیل دے رہا ہے جو اختراع، کاروباری جذبے اور تکنیکی خود انحصاری پر مبنی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن اور انڈیا اے آئی مشن جیسے فلیگ شپ اقدامات تحقیق، مینوفیکچرنگ اور اختراع پر مبنی ترقی کے نئے دروازے کھول رہے ہیں۔ حکومت ایک سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے اصلاحاتی پالیسیوں، کاروبار میں آسانی اور ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے بھارت عالمی ٹیکنالوجی اور اختراع میں قیادت کی جانب بڑھ رہا ہے، ایس ٹی پی آئی جیسے ادارے کاروباری مواقع پیدا کرنے، اختراع کو فروغ دینے، ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی ایکو سسٹمز کو مضبوط بنانے اور عالمی معیار کے حل تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے‘‘۔

سیکریٹری، وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، جناب ایس کرشنن نے کہا کہ ایس ٹی پی آئی کے 35 سال مکمل ہونے پر ہمیں ان مواقع کی نشاندہی کرنی چاہیے جو مستقبل میں موجود ہیں، اور اپنی مضبوط وراثت کو بروئے کار لاتے ہوئے ترقی کو نئی سمت دینی چاہیے، خاص طور پر ابھرتے ہوئے خطوں میں۔انہوں نے کہا کہ ایس ٹی پی آئی کی سب سے بڑی طاقت اس کی اجتماعی صلاحیت ہے، یعنی کاروباری افراد، سرپرستوں، وینچر کیپیٹلسٹس اور صنعت سے وابستہ ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کر کے اختراع کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرنا۔انہوں نے بتایا کہ ایس ٹی پی آئی نے ملک بھر میں، شمال مشرق سے لے کر بنگلورو، حیدرآباد اور چنئی جیسے بڑے ٹیکنالوجی مراکز تک مضبوط روابط قائم کیے ہیں، جس کے ذریعے نئی ریاستوں اور خطوں تک رہنمائی، مہارت اور سرمایہ منتقل ہو رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسٹارٹ اپس کی معاونت، اختراع کے فروغ اور مختلف علاقوں میں ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کے ذریعے ایس ٹی پی آئی بھارت کے نوجوانوں کی امنگوں کو نئی سمت دے سکتا ہے، کاروباری مواقع بڑھا سکتا ہے، اور خاص طور پر مصنوعی ذہانت (اےآئی) کے میدان میں اعلیٰ معیار کی ملازمتیں پیدا کر سکتا ہے۔
استقبالیہ خطاب میں ایس ٹی پی آئی کے ڈائریکٹر جنرل جناب اروند کمار نے بھارت کے ڈیجیٹل اور اختراعی ماحولیاتی نظام میں ادارے کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 35 برسوں میں ایس ٹی پی آئی بھارت کی ڈیجیٹل معیشت کا ایک اہم ستون بن کر ابھرا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں 73 مراکز، 1,700 سے زائد اسٹارٹ اپس کو معاونت اور آئی ٹی برآمدات میں نمایاں کردار کے ذریعے ایس ٹی پی آئی نے میٹرو شہروں سے باہر بھی ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کو فروغ دیا ہے اور ٹائر-2 اور ٹائر-3 علاقوں میں مواقع پیدا کیے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سینٹرز آف انٹرپرینیورشپ، نیکسٹ جنریشن انکیوبیشن اسکیم اور لیپ اہیڈ پروگرام جیسے اقدامات کے ذریعے ایس ٹی پی آئی جدت طرازوں کو بااختیار بنانے، اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مضبوط کرنے اور بھارت کو ایک عالمی ٹیکنالوجی پاور ہاؤس بنانے کے وژن کو آگے بڑھا رہا ہے۔
افتتاحی سیشن میں محترمہ دیب جانی گھوش (ڈسٹنگوشڈ فیلو، نیتی آیوگ اور چیف آرکیٹیکٹ، نیتی فرنٹیئر ٹیک ہب) اور جناب دیپک باگلا (مشن ڈائریکٹر، اٹل انوویشن مشن، نیتی آیوگ)نے بھی خطاب کیا۔
اس موقع پر ایس ٹی پی آئی نے اپنے 35 سالہ سفر پر مبنی ایک یادگاری کمپینڈیم جاری کیا، جس میں ادارے کی کامیابیوں اور ترقی کی تفصیل درج ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس برآمدات میں نمایاں کردار ادا کرنے والے اداروں کو اعزازات سے نوازا گیا۔تقریب میں وادھوانی فاؤنڈیشن کے ساتھ ایک مفاہمت نامہ(ایم او یو) کا تبادلہ بھی کیا گیا، جس کا مقصد اختراع، کاروباری ترقی اور اسکل ڈیولپمنٹ کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
ایونٹ کی ایک اہم پیش رفت “سییُج” نامی اے آئی پر مبنی موبائل ایپ کا آغاز تھا، جو اسٹارٹ اپس، جدت کاروں، انکیوبیٹرز، مینٹورز اور دیگر ایکو سسٹم اسٹیک ہولڈرز کے لیے ایک متحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد اسٹارٹ اپس کی تلاش، نیٹ ورکنگ، تعاون کے مواقع، انکیوبیشن سپورٹ اور اختراعی نظام میں آسان رابطہ فراہم کرنا ہے۔
مزید برآں، علاقائی اختراعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایس ٹی پی آئی نے اوپن چیلنج پروگرام (او سی پی)1.0 کا آغاز کیا، جس میں ناگپور میں قائم ہونے والے ایس ٹی پی آئی این ای آر وی ای سی او ای اور چھتیس گڑھ کے اسمارٹ ایگری سی ای او کے تحت اقدامات شامل ہیں۔ ان پروگراموں کا مقصد جدید ٹیکنالوجی حل تلاش کرنا، اسٹارٹ اپس کو رہنمائی اور مارکیٹ تک رسائی دینا اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں کاروباری مواقع کو فروغ دینا ہے۔
سمٹ میں کلیدی خطابات اور پینل مباحثوں کے ذریعے بھارت کے اس سفر پر گفتگو کی گئی کہ کس طرح ملک ایک عالمی ٹیکنالوجی “ایگزیکیوٹر” سے بڑھ کر ٹیکنالوجی کا “موجد” بن رہا ہے۔ گفتگو کے دیگر اہم موضوعات میں اختراع پر مبنی ترقی کے لیے حکمرانی ، ریاستی سطح پر ٹیکنالوجی ایکو سسٹمز کی تشکیل، ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس کے لیے سرمایہ تک رسائی، اور ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز کے مواقع شامل تھے۔ان مباحث کی قیادت مختلف ممتاز رہنماؤں نے کی، جن میں اروند گپتا،راجن آنندن، اتُل دھون، راجیو گپتا، نتن جین، امت کمار گپتا، وشال گاندھی ،ونسیٹ لیو اور امیش دیدھیا شامل تھے۔اس کے علاوہ اسٹارٹ اپ رہنماؤں نے بھی اپنے تجربات شیئر کیے، جن میں انکت مہتا، سرشٹی بترا، سمت مہاپاترا اور ایمی دیسائی شامل تھے، جنہوں نے بھارت سے عالمی معیار کی ڈیپ ٹیک مصنوعات بنانے کے تجربات اور چیلنجز پر روشنی ڈالی۔مباحثوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں اور سرمایہ کاروں کے درمیان مضبوط اشتراک ہی اگلی نسل کے اختراع کاروں کی پرورش کا بنیادی ذریعہ ہے، اور اسی تعاون کے ذریعے بھارت تیزی سے ایک عالمی ٹیکنالوجی، اختراع اور انٹرپرینیورشپ ہب کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کر رہا ہے۔
ایس ٹی پی آئی کے بارے میں
سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس آف انڈیا وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت ایک ممتاز سائنسی و تکنیکی ادارہ ہے، جو آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس صنعت، اختراع، تحقیق و ترقی، اسٹارٹ اپس اور پروڈکٹ/آئی پی تخلیق کو فروغ دینے کے لیے کام کرتا ہے۔یہ ادارہ جدید ٹیکنالوجیز جیسے آئی او ٹی، بلاک چین، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، مشین لرننگ(ایم ایل)، کمپیوٹر وژن، روبوٹکس،آر پی اے، اے آر/ وی آر، اینیمیشن اور ویژول ایفیکٹس، ڈیٹا سائنس اور اینالیٹکس سمیت مختلف شعبوں میں جدت کو فروغ دے رہا ہے۔ ان ٹیکنالوجیز کا اطلاق گیمنگ، فِن ٹیک، ایگریکلچر ٹیک، میڈ ٹیک، آٹونومس کنیکٹڈ الیکٹرک اینڈ شیئرڈ موبیلیٹی(اے سی ای ایس)،ای ایس ڈی ایم، سائبر سیکیورٹی، انڈسٹری 4.0، ڈرون ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں کیا جا رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح –ش ت-ع ن)
U. No. 8092
(रिलीज़ आईडी: 2270209)
आगंतुक पटल : 4